باسمہٖ تعالیٰ جل مجدہٗ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا عرصے سے نظروں کو ’’مجددِ قرنِ عاشر، حافظِ حدودِ شریعت وآدابِ طریقت‘‘ کی اس تحریر کی تلاش تھی جسے اکابرین کی تعریف وتوصیف اور ان کا اعتماد حاصل تھا، لیکن کبریت احمر جلد کب ہاتھ آتا اور جب پردۂ تقدیر سے وہ نمودار ہوا تو ایسا معلوم ہوا کہ ’’یار در خانہ ومن گرد جہاں می گردم‘‘ کا معاملہ ہوا۔

للہ الحمد ہر آں چیز کہ خاطر می خواست

آخر آمد زپس پردۂ تقدیر پدید

اب اس کے ترجمے کا انتظار ہونے لگا اور یہ انتظار شدید سے شدید تر ہوتا گیا، حتی کہ ’’یارانِ وفا شعار‘‘ کو شک وتردد کا سامنا ہوا کہ کہیں یہ ’’دشمن کی اڑائی ہوئی بات‘‘ تو نہیں !! لیکن شاید کاتبِ تقدیر کو اس مدت کو طویل کرنے سے اور ہی کچھ منظور تھا اور ایسا کچھ ہوا کہ قصد وارادے کے بغیر اس ترجمے کی پیش کش تاریخی ہوگئی۔ وہ اس طرح کہ صاحبِ کتاب کی وفات ۱۵۱۶ء میں ہوئی اور یہ کتاب ۲۰۱۶ء میں رو پذیر ہوئی۔ اس طرح پانچ صدیاں مکمل ہو گئیں گویا کہ ایک صدی کا کام ایک سال کے عرصے میں مکمل کیا گیا اور کتاب مستطاب کی تقریبِ رونمائی آپ کے دیار میں آپ ہی کی بارگاہ میں رونق پذیر ہوئی۔

حضرت پیر ومرشدگرامی کو جو تعلق خاطر کتاب اور صاحب کتاب سے ہے اس کی ایک جھلک آپ کے اس کلام سے ظاہر ہےجو حضرت وارث الانبیاء والمرسلین قدس سرہ کی شان میں ہے۔جس کا مطلع ہے:

مراد قلب ہر مرید شیخ سعد شیخ سعد

سکون وراحتِ مزید شیخ سعد شیخ سعد

اورمقطع ہے:

اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوک

تو بس فقط ابو سعید شیخ سعد شیخ سعد

مقطع میں جس خوبی سے کتاب اور صاحب کتاب کی عظمتوں کا اعتراف کیا گیا ہے وہ اہل نظر پر پوشیدہ نہیں۔اس عظیم الشان کتاب کی اشاعت آپ کے اس خواب کی تعبیر ہے جو کتاب کی دستیابی سے سالوں قبل آپ نے رمزو کنایہ میں بیان فرمایاتھا۔

ویسے تو جملہ محبانِ صوفیہ کوبے پناہ مسرت و شادمانی ہوئی لیکن ان لوگوں کی کیفیت کا صحیح اندازہ لگانا دشوار ہوگا، جنھوں نے مسلسل ۵؍۶ سال اس کتاب کے ساتھ گزارے۔ ترجمہ کیا، ترجمے کا اصل سے مقابلہ کیا، افادات لکھے اور تخریج وتحقیق وغیرہ کے تمام مراحل سے گزارا اور اس کام میں شب وروز ایک کیے۔ مولیٰ تعالیٰ ان مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مزید کی توفیق عطا فرمائے۔

زیرِ نظر رسالہ انھیں اہلِ دل کے جذبات دروں کی عکاسی ہے، جسے برادرم مولانا ذیشان احمد مصباحی حفظہ اللہ نے اپنے جادو نگار قلم سے سپردِ قرطاس کیاہے۔ مثل مشہور ہے کہ ’’مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید‘‘ لہٰذا اس پر مزید کچھ کہنا آفتاب کو چراغ دکھانے کے مثل سمجھتا ہوں۔

وارث الانبیاء والمرسلین مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس اللہ روحہٗ کے عرس مبارک میں خصوصی حاضری ،مجمع السلوک شریف کی رونمائی اور دیگر کوائف و حالات کو آپ نے جس خوبی سے قلم بند کیا وہ آپ ہی کا خاصہ ہے۔یہ تحریر جب حضرت پیر و مرشد گرامی مد ظلہ العالی کی نظر سے گزری تو آپ نے اس قدر تحسین فرمائی کہ اسے مستقل ایک رسالہ کی شکل دینے کا حکم صادر فرمایا اور اس بے مایہ کو اس پر چند سطریں تحریر کرنے کا بھی حکم ہوا۔چنانچہ حسب حکم اب یہ رسالہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

مزید دو تحریریں اس فقیر نے اس میں شامل کرنے کی گذارش کی ۔ایک تو حضرت پیر و مرشد کے محبوب و مسترشد خاص حضرت شاہ محبوب اللہ بقائی صاحب (نبیرہ حضرت مولانا شاہ بقاء اللہ صفی پوری رحمہ اللہ تعالیٰ) اور دوسری برادر طریقت، پیر و مرشد کے جاں نثار مولانا محمدمدبر سعیدی کی۔ اس کے ساتھ ہی ناظرین کی ضیافتِ طبع کے لیے ان متبرک ویادگار لمحات کے وہ مناظر بھی جنھیں کیمرے کی نظروں نے قید کرلیا تھا ، شاملِ کتاب ہیں۔ امید ہے کہ اسے بھی قبولیت کی نظروں سے دیکھا جائے گا۔

حق تبارک و تعالیٰ ہمیں مزید کار خیر کی توفیق عطا فرمائے، انہیں شرف قبولیت سے نوازے اور حاسدین کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ سید الاولین والآخرین علیہ أفضل الصلاۃ وأکمل التسلیم!

فقیر ابو سعد حسن الصفوی غفرلہ ۲۸؍ربیع الاول ۱۴۳۸ھ

Previous articleخیرآباد کا پانچ سو سالہ سفر
Next articleجشن یوم غزالی کے علمی و ثقافتی مسابقہ میں کامیاب طلبہ کو سرٹیفیکٹ اور شیلڈ سے نوازا گیا
حسن سعید صفوی
دورِ حاضر کے خانقاہی شہزادگان میں علم وفضل، فکر وتدبر، لطف وعنایت، خدمتِ خلق اور حسنِ عمل کے حوالے سے ہمارے ’’حسن بھیا‘‘ایک بڑا مقام رکھتے ہیں، جس کا اظہار ان کے کردار وعمل سے ہوتا رہتا ہے۔آپ خانقاہِ عالیہ عارفیہ کے زیب سجادہ حضرت داعیِ اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مد ظلہٗ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ نام ’’حسن‘‘ اور کنیت ’’ابو سعد‘‘ ہے۔ ولادت ۶؍رجب المرجب ۱۴۱۲ھ کو آبائی وطن سید سراواں شریف میں ہوئی ۔ آپ کا سلسلۂ نسب تین واسطوں (۱) پیر ومرشد گرامی عارف باللہ حضرت مخدوم شاہ احسان اللہ محمدی صفوی معروف شیخ ابوسعید حفظہ اللہ تعالیٰ (۲) جد محترم حضرت حکیم آفاق احمد نور اللہ مرقدہٗ (۳) محتسب العارفین بندگی مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی رحمہ اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہوا سلطان العارفین حضرت خواجہ شاہ عارف صفی محمدی قدس اللہ سرہٗ سے جا کے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم خانقاہ ہی میں ہوئی۔ جامعہ عارفیہ سےعالمیت کی سند لینے کے بعد۲۰۰۸ء میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیا، دہلی تشریف لے گئے اور ۲۰۱۰ء تک حصولِ تعلیم کی خاطر وہاں مقیم رہے۔ ۲۰۱۱ء کے اوائل سے ۲۰۱۵ء کے اواخر تک عالمِ اسلام کی عظٰیم الشان درسگاہ جامعہ ازہر ، قاہرہ مصر میں ’’کلیۃ الدراسات الاسلامیۃوالعربیۃ‘‘ کے تحت تعلیم حاصل کی۔ اس وقت جامعہ عارفیہ کے ایک مؤقر استاذ، سالنامہ ’’الاحسان‘‘ کے مدیر اعلیٰ اور شاہ صفی اکیڈمی کے نگراں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لوح وقلم سے بھی رشتہ استوار رہتا ہے۔ آپ کے مضامین میں ’’آیاتِ جہاد کی صوفیانہ تفسیر‘‘ اور’’حضرت مخدوم شیخ سارنگ: حیات وتعلیمات‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here