وحدت کا بیان

2
71

(۲)گوشِ دل سے سن موحّد کا کلام
عالمِ لاہوت ہے جس کا مقام
گر ہے توحیدِ خدا تو بس یہی
کچھ نہیں ہے اور سب کچھ ہے وہی
احدیت کا نور ہے وحدت میں گم (۳)
اور وحدت پردۂ کثرت میں گم
جلوہ گر خود آپ ہے جلوہ میں گم
پردہ اُس میں اور وہ پردہ میں گم (۴)
ہر زماں اُس کی نئی پوشاک ہے
شرکتِ شرک و دوئی سے پاک ہے (۵)
آمد و شد کا یہی اعلان ہے
ہر نفس اس کی نرالی شان ہے (۶)
کون کہتا ہے کہ وہ پردہ نشیں
پردہ کے اندر ہے اور باہر نہیں
پردہ کے اندر بھی وہ پردہ نشیں
کس قدر بے پردہ ہے پوچھو نہیں (۷)
خود ہی پردہ اور پردہ میں وہی
خود ہی جلوہ اور جلوہ میں وہی
از زمیں تا آسماں ہے اس کا نور
ذرّہ ذرّہ میں اسی کا ہے ظہور
جوش میں ہے اس قدر بحرِ وجود (۸)
موجِ دریا سے ہے دریا کی نمود
آدمِ خاکی میں ہے اس کا ظہور
ریشے ریشے میں ہے ساری اس کا نور (۹)
نورکے پردے میں پنہاں ہے وہی
اور اُس پردے سے عریاں ہے وہی
ہر طرف ہر سمت ہے جلوہ نما
بس اُسی کی ذات بے چون و چرا
حور و غِلماں جن و انساں اور پری
سب ہیں اُس کے نور کی جلوہ گری
گلشن و دشت و بیاباں کو ہسار (۱۱)
طوطی و طاؤس و قمری(۱۰) و ہزار
ماہ و خورشید و نجومِ آسماں
مشتری زہرہ ثریّا کہکشاں
اسپ و فیل و مرغ و ماہی گاؤ خر (۱۲)
کثرتِ وحدت سے آتے ہیں نظر (۱۳)
غور سے دیکھو تو کوئی بھی نہیں
ما سوائے ذاتِ ربُّ العالمیں
از زمیں تا آسمانِ کبریا
بس خدا ہے بس خدا ہے بس خدا
عرش سے تا فرش ہے اس کا ظہور
جوشِ وحدت میں ہے موجِ بحرِ نور (۱۴)
معنیِ مسجود و مسجد ہے وہی (۱۵)
احمد و محمود و حامد ہے وہی (۱۶)
خود شہود و شاہد و مشہود ہے (۱۷)
خود وجود و واجد و موجود ہے (۱۸)
آپ اپنی خود نمائی کے لیے
دونوں عالم میں خدائی کے لیے
خود حریمِ ناز سے باہر ہوا
آپ اپنے نور میں ظاہر ہوا
آپ اپنے نورپر شیدا ہوا
عاشق و معشوق کا غوغا ہوا (۱۹)
خود ہی اپنی ذات میں حامد ہوا

(۱)شیخ کے نزدیک وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود معنوی طور پر ایک ہی ہیں۔ دونوں میں حقیقی تضاد نہیں ہے۔ نظر اس منبع نور و وجود پر ہو تو وجود ایک نظر آتا ہے کیوں کہ اس کے ماسوا کچھ نظر ہی نہیں آتا، بلکہ ماسوا کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ اور اگر اس کی تجلیوں پر ہو تو کل عالم کثرت اس ذات یکتا کی شہادت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ شاہ ولی اللہ عارف دہلوی وغیرہ کا موقف بھی یہی رہا ہے اور بات بھی یہی معقول ہے۔ دراصل وحدۃ الوجود ایک حال ہے، جب سالک ایک خاص مقام پر پہنچتا ہے تو وہ لاموجود الا ھو کی ضرب لگاتا ہے، کیوں کہ جتنے عارضی و ظلی موجودات ہیں اس وقت سب اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں، اسے صرف ایک وجود نظر آتا ہے، ورنہ وحدۃ الوجود کے یہ معنی قطعی کسی نے نہیں لیے کہ وجود واحد کے علاوہ کسی طرح کا کوئی عارضی وجود بھی نہیں ہے۔ اسی لیے یہ کہاجاتا ہے کہ جو ذات حق میں فنائیت کے اس مقام تک نہ پہنچا ہو وہ صحیح طور پر وحدۃ الوجود کو نہیں سمجھ سکتا، کیوں کہ اس پر ماسویٰ اللہ سے غفلت کی وہ کیفیت ہی پیدا نہ ہوگی۔ ہاں! عام حالات میں نگاہ حق بیں کے لیے وحدۃ الشہود کا مفہوم سمجھ میں آنے والا ہے، کیوں کہ اسے پوری کائنات وجود واحد کی شہادت دیتی نظر آتی ہے۔

(۲)فنا فی التوحید کا رشتہ لا شعور ی طور پر عالم ناسوت سے کٹ کر عالم لاہوت سے جڑ جاتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے غافل اور خلق میں ہوتے ہوئے حق سے واصل ہوتا ہے۔

 (۳)کم و بیش اٹھارہ ہزار مخلوقات اس سلیقے سے منظم و مربوط ہیں کہ کائنات ایک سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور اسی وحدت میں خلاق عالم کی شان احدیت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔ کائنات عالم کثرت ہے، جو اپنے حسن نظم سے اپنے اندر وحدت کو سموئے ہوئے ہے ، جو اس کی ضد ہے۔ شیخ کے بقول خدا کی یکتائی Oneness of God عام نگاہوں سے کائنات کی اسی وحدت و کثرت میں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ یہاں ممکنہ طور پر گم ہونے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ (۱ ) حلول:خدا کائنات میں حلول کیے ہویے ہے۔ (۲)اتحاد و عینیت : خدا کا وجود عین وجود کائنات ہے۔ (۳) اتصال : خدا کا وجود کائنات کے وجود سے متصل و مربوط ہے۔ (۴) حجاب: کائنات نے انسانی نظر و ں اور عقلوں کے سامنے حجاب اور پردہ بن کر خدا کے شعور و ادراک کو مشکل کر دیا ہے۔ (۵)انسان کائنات کی کثرت میں کھو کر خدا کی احدیت سے غافل ہو گیا ہے۔ لیکن یہاں ابتدائی تینوں معانی کا مراد لیاجانا درست نہیں ، کیوں کہ شیخ نے ’’ مثال ‘‘ کے ذیل میں اپنے ۹ اشعار کے ذریعے بطور خاص ان تینوں معانی کی تردید کر دی ہے۔ فر ماتے ہیں: بے حلول و اتحاد و اتصال حاصل ہے اس کو وصال ذو الجلال یہی وہ تین باطل معانی ہیں جن کا شبہ ناقدین تصوف کے ذہن میں نظریۂ وحدۃ الوجود کو مشکوک ٹھہراتاہے۔

(۴)ارشاد خداوندی ہے : کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَأْنٍ(الرحمن:۲۹)ہر دن اس کی ایک نئی شان ہے۔

 (۵)ہر سانس جو آتی ہے اور جاتی ہے خالق و مالک کے وجود کی شہادت دیتی ہے۔ یہ اس حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَأْنٍ۔ فلسفے کی زبان میں ہر آن حدوث و تغیر ہے جس کے لیے محرک و محدِث لازم و ضروری ہے …ع-کوئی توہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ،وہی خدا ہے۔

(۶) آنکھ والے سورج کو اس وقت بھی برہنہ دیکھتے ہیں جب وہ بادلوں کی اوٹ میں ہو یا وہ گھر کے اندر بیٹھے ہوں ، مگر بے نور نگاہیں تو ہمیشہ شاکی رہتی ہیں۔  انہیں صرف پردہ نظر آتا ہے ، اس کے پیچھے سے چھنتی ہوئی روشنی اور ان تجلیات کا منبع نظر نہیں آتا ۔ ایسے لوگ لا شعوری طور پر خدا کی صفت ظاہریت( ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِن۔ الحدید: ۳)کے منکر ہیں۔

(۷)کائنات اسی کے نور سے تخلیق پائی ہے۔ یہ اسی کا نور و ظہور ہے۔ ظاہر و باطن اسی کی شان ہے۔

(۸)دریا کا وجود موج دریا سے ظاہر ہے۔ موج دریا،دریا نہیں ہے اور یہ بھی عجیب ہے کہ موج سے ہٹ کر الگ سے دریا کا کوئی اپنا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ وجود حقیقی اور وجود ظلی کی یہ نہایت بلیغ تشبیہ ہے۔

(۹) ارشاد ربانی ہے : اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ الزُّجَاجَۃُ کَأَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیّ(النور:۳۵)’’ اللہ آسمان و زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ ہو، چراغ فانوس میں ہو اور وہ فانوس ایک چمکتے موتی کے ستارے کی مانند ہو۔  ‘‘چراغ کے چاروں طرف روشنی ہے۔ وہ اس روشنی میں گھرا ہوا معلوم ہو رہا ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ جو روشنی چاروں طرف بکھری پڑی ہے یہ اسی نور (چراغ)کا عکس ہے۔ نور الٰہی کی یہ حقیقی تشبیہ نہیں ہے بلکہ تقریب فہم کے لیے ایک سادہ مثال ہے۔  ویسے یہ حقیقت تو واضح اور متعین ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کسی پیش افتادہ قدیم مادے سے نہیں ہوئی ہے جیسا کہ گمراہ فلاسفہ کا مذہب ہے۔ متکلمین اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تخلیق عدم سے ہستی کی طرف ایک ناقابل تصور سفر ہے جس کا محرک صرف اور صرف منشائے الٰہی ہے۔ وجود کی ایک نئی کرن اسی کے نور سے پھیلی۔ کائنات کا نور وہی ہے۔ لیکن کائنات کو خالق کے ساتھ مادی نسبت نہیں ہے، کیوںکہ اس کی ذات غیر مادی ہے۔ تقریب فہم کے لیے سورج اور اس کی کرنوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ وادی و کہسار، ہر جگہ سورج کی جلوہ فرمائی ہے مگر درحقیقت سورج زمین پر کہیں بھی نہیں ہے۔ لوگ سورج کی تپش سے سائے کی طرف بھاگ رہے ہیں ، حالاں کہ جہاں سے وہ بھاگ رہے ہیں در حقیقت وہاں سورج کا مادی وجود نہیں ہے۔

(۱۰)ایک قسم کی فاختہ۔

(۱۱)بلبل ۔

(۱۲)اس عالم کثرت کا منبع نور، وحدت ہے۔ روشنی ایک نکلتی ہے مگر چیزیں مختلف رنگ کی نظر آتی ہیں۔

(۱۳)تمام موجودات فانی، عارضی، ممکن، چند لمحاتی،وجود حقیقی کا مظہر،اس کی تخلیق، عکس،ظل اور اس کی ثنا خواں ہیں۔ تعمق نظر سے واضح ہوتا ہے کہ وجود حقیقی صرف رب العالمین کا ہے، بس!صحابی رسول اور جاہلی شاعر حضرت لبید بن ربیعہ فرماتے ہیں: الا کل شیٔ ما خلا اللہ باطل۔

(۱۴)مسجود بھی اسی کی ذات ہے اور سجدہ گاہ اور جہت قبلہ سب اسی کے وجود کا پرتو، ظل اور اسی کے تعینات و مظاہر میں سے ایک تعین اور مظہر ہے۔

(۱۵)اپنی ذات کی سب سے زیادہ حمد کرنے والی فقط اسی کی ذات ہے اوراسی کی ذات محمود بھی ہے۔ قرآن کی پہلی آیت الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن کو سامنے رکھیے تو بات پوری طرح واضح ہو جائے گی۔ اس آیت میں ذات باری خود اپنی حمد بیان کر کے خود ہی حامد اور محمود بن گئی ہے۔ پھر یہ دیکھیے کہ اس کی ذات کی حمد اس سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا، نیز یہ کہ یہ کلام اس کی ذات کی صفت اور اس کی دوسری صفات کی طرح ازلی اور قدیم ہے۔ اس طرح و ہ ذات اقدس اس وقت بھی اپنی حامد تھی جب کچھ بھی نہ تھااور اس وقت بھی اپنی حامد رہے گی جب کچھ بھی نہ رہے گا۔ ثابت ہوا کہ احمد یعنی سب سے زیادہ حمد کرنے والی ذات اسی کی ہے۔ جل جلالہ پھر حمد کرنے والی مخلوقات جن و بشر، حور و ملک اور شجر و حجر کی بات کیجیے تو ان کی طرف سے ہونے والی حمد بھی در حقیقت اللہ کی طرف سے ہی ہے، کیوں کہ لفظ و معنی سے لے کر قوت بیان تک ان کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ سب اللہ کا، اللہ کی طرف سے اور اللہ کے لیے ہے۔

(۱۶)اس کی ذات خود اپنی شہادت ہے، وہی شاہد ہے اور وہی مشہود۔ شَہِدَ اللّہُ أَنَّہُ لاَ إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ (آل عمران:۱۸)اللہ شاہد ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

 (۱۷)اس کا وجود اس کی ذات کا غیر نہیں ہے۔  اس کی ذات بذات خود موجود ہے، اس کی نہ کوئی علت ہے اور نہ ہی کوئی اس کا سبب ہے۔لہٰذا اسی کی ذات وجود مطلق ہے، وہ بالذات موجودہے اور اس کو وجود دینے والا کوئی غیر نہیں،اسی کی ذات منبع وجود مطلق و متعین ہے۔

(۱۸)حدیث قدسی کنت کنزاً مخفیاً کی طرف اشارہ ہے، جس پر گفتگو ہو چکی۔

 (۱۹)شیخ کی اپنی تشریح کے مطابق اس سے مراد لفظ محمد کے لغوی معنی ہیں، یعنی وہ ذات جس کی سب سے زیادہ تعریف ہو۔ ظاہر ہے اس معنی میں خدا کی ذات کے سوا محمد کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہاں محمد سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک نہیں، جیسا کہ اول نظر میں اس کا گمان ہوتا ہے۔لیکن نظریہ ٔ وحدۃ الوجود کے ضمن میں صوفیہ نے تعینات کی جو بحث کی ہے، اس کو سامنے رکھیے تو اس امکان کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے مطابق حقیقت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم اس ذات کے تعینات و مظاہر میں تعین اول اور مظہر کامل ہے۔ لیکن اس بحث کو صوفیہ نے احوال میں شامل کیا ہے جسے اقوال سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ تقریب فہم کے لیے یہاں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کے اندر جناب محمد رسول ا ﷲ ﷺ کو نور خدا کہا گیا ہے۔ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ ہی خدا کی اولین تخلیق اور اس کی صفت خالقیت کے مظہر اول ہیں۔ یہ بات بھی طے ہے کہ یہ تخلیق کسی پیش افتادہ مادے سے نہیں ہوئی ، لہٰذا ثابت ہوا کہ حقیقت محمدیہﷺ نور حق ، مظہرحق اور جلوۂ حق ہی ہے۔ حقیقت محمدی کا وجود جلوہ ٔ ذات حق سے الگ نہیں ہے۔ اسی بات کو صوفیہ نے احوال و مکاشفات سے سمجھنے کے بعد اپنی مخصوص اصطلاح میں بیان کیا ہے۔ اس تشریح کی روشنی میں ’’ وحدت‘‘ کے ذیل میں کہے گئے دوسرے اشعار کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

2 COMMENTS

  1. حاشیہ نمبر 4 مزید تشریح طلب ہے، پردہ اس میں اور وہ پردہ میں گم،کی مزید تشریح ہونی چاہیے۔

    • جی! درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔رموز نغمات کے بعد نیا ایڈیشن بھی جلد منظر عام پر آ رہا ہے جس میں حضرت مولانا غلام مصطفیٰ ازہری صاحب نے مزید اضافے درج کیے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here