اپنی مرضی کو اللہ و رسول کے قوانین کے مطابق ڈھالنے والے ہی اہل حق ہیں

0
80
خانقاہ عارفیہ میں عرس عارفی کے موقع پر علمائے کرام کا اظہار خیال
شاہ صفی اکیڈمی کی ایک تحقیقی کتاب ’’ مسئلہ اذان و اقامت: ایک معتدل نظریہ ‘‘ کا رسم اجرا 
ہر آدمی اس گمان اور خوش فہمی کا شکار ہے کہ سب سے اچھا دین اور مسلک ہمارا ہے ، ہر کوئی اس احساس برتری میں ہے کہ سب سے اچھا موقف ہمارا ہے ۔  بات یہیں تک نہیں ر ہ گئی بلکہ لوگ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ اس دین کی صحیح ترجمانی صرف ہمارے ہی ادارے اور خانقاہ سے ہوتی ہے۔ یہ وہ دعوے ہیں جس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہے لیکن جب تک دعوے کی دلیل قائم نہ ہو جائے فقط انسان کازبانی دعویٰ نہ اس زندگی میں عزت دلا سکتا ہے اورنہ ہی عذاب قبر اور عذاب جہنم سے محفوظ رکھ سکتا ہے ۔قرآن و حدیث جس کے دین کو اچھا کہے گا اس کا دین اچھا ہوگا اور جس کو اچھا نہ بتائے وہ اچھا نہ ہوگا ۔ اللہ رب العزت فرماتا ہےکہ سب سے اچھا دین اس انسان کا ہے جس نے اپنے وجود کو اللہ کی مرضی کے سامنے جھکا دیا ۔ اور اس جھکانے میں وہ مکاری نہیں کر رہا بلکہ اس احسا س و یقین کے ساتھ اس نے رب کے سامنے خود کو جھکایا ہے کہ اللہ اس سے باخبر ہےیا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار نقیب الصوفیہ مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے خانقاہ عارفیہ میں منعقد عرس عارفی کی تقریب جلسۂ دستاربندی میں کیا ۔ مفتی مصاحب نے مزید فرمایا کہ انسان بولنے ، کہنے ، دیکھنے ، چکھنے اور سننے میں اللہ و رسول کی مرضی کو مد نظر رکھے ۔ آج ایمان، اسلام اور احسان کو جدا کر کے دیکھا جا رہا ہے اور اپنی مرضی کو دین و شریعت کا درجہ دیا جا رہا ہے ، جبکہ ان تینوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے ۔انہیں تینوں کا مجموعہ اصل دین ہے اور ان سے ہٹ کر دین کا کوئی بھی تصور قابل قبول نہیں ۔ 
 خانقاہ عارفیہ ، سید سراواں میں گزشتہ تین دنوں سے بانیٔ خانقاہ عارفیہ ، سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۸ ویں عرس کی روحانی اور دعوتی تقریبات جاری تھیں جو تقریبات آج بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئیں ۔ مفتی صاحب نے عوام سے اپیل کی کہ حق پر ہونے کا دعوی کرنے کی بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنی زندگی کا لازمہ بنائیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میںبھی شرع کی پاسداری اور اطاعت خداوندی کا سبق عملی طور پر اپنی امت کو پیش کیا ہے ۔
 واضح رہے کہ عرس عارفی کا یہ تین روزہ پروگرام مختلف علمی و روحانی محافل پر مشتمل رہا جس میں پہلا دن علما و ائمہ کی مشاورتی میٹنگ اور جامعہ عارفیہ میں ختم بخاری شریف کی بابرکت محفل پر اختتام پذیر ہوا ۔ دوسرے دن جمعہ کی نماز کے بعد محفل سماع سجائی گئی اور عشا بعد تقریری پروگرام کا سلسلہ رہا۔یہ پروگرام جامعہ ازہر ، مصر سے آئے ہوئے استاذ شیخ عبد اللہ کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔اویس رضا ، گجراتی (طالب علم) نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔ اس کے بعد طلبۂ جامعہ نے دف کے ساتھ ترانۂ جامعہ پیش کیا۔ مولانا محمد ذکی (استاذ جامعہ عارفیہ ) نے خدا کے وجود اور اس کے شواہد پر مدلل اور سائنسی گفتگو فرمائی ۔ جامعہ کے ازہری استاذ شیخ مصباح الیمانی نے صالحین کی عظمت کے حوالے سے عربی زبان میں گفتگو فرمائی جس کی ترجمانی  مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے کی ۔اس کے بعد طلبہ ٔ جامعہ عارفیہ نے داعی اسلام کی شان میں مولانا ذیشان احمد مصباحی کی لکھی منقبت کے اشعار پیش کیے ۔ 
اس کے بعد جامعہ عارفیہ کے فارغین کو دستار سے نوازا گیا ۔ امسال جامعہ کے دعوہ ، فضیلت ، حفظ اور تجوید کے شعبہ جات سے کل ۶۰  طلبہ کی دستار بندی ہوئی۔دستاربندی کے پروگرام کے بعد محفل سماع منعقد ہوئی ۔ یہ محفل فجر تک چلتی رہی ، بالآخر داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی، سجادہ نشیں خانقاہ عارفیہ کی دعاؤں پر محفل کا اختتام ہوا اور پھر ملک بھر سےتشریف لائے ہزاروں زائرین نے لنگر تناول کیا ۔
تیسرے روز ظہر کی نماز کے بعد درس عقائد کی خصوصی محفل منعقد ہوئی جس میں نقیب الصوفیہ مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے عقائد اہل سنت کے حوالے سے مدلل اور ایمان افروز گفتگو فرمائی ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کا شکر بجا لانا ہی اللہ سے رشتہ مضبوط کرنے کا واحد راستہ ہے کہ شکر کا تعلق قلب اور اعضا و جوارح سے ہے اور بندہ جب قلبی طور پر اللہ کی ذات و صفات کا یقین پیدا کرلیتا ہے اور اپنے اعمال سے اس کی اطاعت بجا لاتا ہےتو یہ شکر کی عملی تصویر ہوتی ہے ۔ عرس کی تمام تقریبات کی نظامت خطیب الصوفیہ مولانا عارف اقبال مصباحی اور مولانا انیس احمد اشرفی نے انجام دیے ۔ عرس عارفی کی ۱۱۸ ویں تقریبات میں سید ڈاکٹر شمیم احمد گوہرالٰہ آباد ، سید ضیا علوی خیر آباد ، سید سیف الدین قادری کولکاتا ، سید عاطف کاظمی اجمیر ، سید عارف مسعودی باندہ ، سید غلام غوث قادری فتح پور ، مولانا نذی احمد منانی خیر اباد اور دیگر بہت سے اور مشایخ بطور مہمان خصوصی شریک تھے ۔ تقریب کے آخر میں ملک کی سالمیت اور مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here