علماو صوفیہ، انصار و مہاجرین کی طرح ہیں

0
31

۲۴؍دسمبر۲۰۱۲،بعدنماز عصرعلماوصلحاکے ساتھ مجھے بھی حضورداعی اسلام ادام ظلہ علیناکی بارگاہ میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔درمیان گفتگو آپ نے فرمایاکہ جب دوشخصوںکے درمیان کسی مسئلے میں اختلاف ہوجائے تو انھیں اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا چاہیے:فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْئٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُولِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ۔(نسا:۵۹)
اگر تم میں کسی بات پراختلاف ہوجائے تو اُسے اللہ و رسول کی بارگاہ میں پیش کرو ،اگر اللہ اورقیامت پر ایمان رکھتے ہو۔ آج جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود نہیں، اگر دو شخصوں کے درمیان کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے توانھیں نائب رسول کی طرف رجوع کرنا چاہیے: أَطِیعُوا اللّٰہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ۔(نسا:۵۹)ترجمہ:اللہ کی اطاعت و فرماںبرداری کرو اور رسول کی اور اپنے امیرکی ۔
الگ الگ اپنی جماعت نہیں بنانی چاہیے اورقوم کو فرقوںمیں تقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ کسی متقی اورمصلح کو اپنا فیصل تسلیم کرنا چاہیے۔کیا تمھیں نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعدمسئلۂ خلافت میں انصارو مہاجرین کاجب اختلاف ہواتو انصارومہاجرین نے الگ الگ جماعت نہیں بنائی بلکہ سب نے مل کر مہاجرین میں سے ایک ایسے شخص کو اپنا امیربنایااور فیصلہ بھی اسی کے سپردکردیاجس نے اللہ کے لیے ہجرت کی تھی۔
جان لوکہ علمائے اسلام انصارکی طرح ہیں،دین کی مددمیں یہ کمربستہ ہیں اورصوفیائے کرام مہاجرین کی طرح ہیں انھوں نے اللہ کی رضا کے لیے دنیااورخواہشات نفس سے ہجرت کرلی ہے۔ہروہ چیز جو اللہ سے غافل کرے وہ دنیاہے اورقرآن کریم کے مطابق غفلت سے ذکرکی طرف آنے والے ہی عاقل ہیں وہی امیرہیں،انھیں سے سوال کرنے کا حکم بھی دیاگیاہے۔تم لوگ بھی تنازع کے وقت کسی ایسے شخص کو اپنافیصل بنالوجس نے اللہ کے لیے غفلت اورخواہشات کو ترک کردیاہو اورذکروفکرسے اپنے قلب وجگرکو آبادکرلیاہو۔

خضرِ راہ ، فروری / مارچ ۲۰۱۳ء

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here