Monday, January 30, 2023

علماے سوء کا بیان

بے خبر غفلت پرستی تا کجا 
جو عدم ہے اس کی ہستی تا کجا 
کیوں تکبر اور خودی میں چور ہے 
کس لیے تو راہِ حق سے دور ہے
 اے گرفتارِ مجاز اے بے شعور 
علمِ رسمی پر تجھے اتنا غرور
علمِ رسمی کام آسکتا نہیں
 جب تلک پیدا نہ ہو کامل یقیں
 نزدِ اہلِ معرفت اہلِ عقول
 بے یقیں ہے علم بس کار فضول
 گر یقیں پیدا نہ ہو تو سر بسر 
علم ہے بے نور، بے برگ و ثمر
 علم سے پیدا نہ ہو تقویٰ اگر 
بے گماں وہ علم ہے نا معتبر
 مدرسے میں کیا دھرا ہے بے یقیں
 جز بدن، جس میں کہ جاں ہے ہی نہیں
 عالم و فاضل ہوا تو کیا ہوا 
دل اگر غفلت میں ہے ڈوبا ہوا 
دل کی غفلت دور کر اے بے حیا 
چھوڑ کر بغض و حسد کبر و ریا 
غور سے اس کو سمجھ اے بے یقیں
 دل اگر مومن نہیں تو کچھ نہیں
 فقہ واستدلال و منطق اور اصول 
بے تصوف سب خرافات و فضول
 علمِ ناقص قالبِ بے جان ہے
 در حقیقت دشمنِ ایمان ہے
 عالم سوء نائب ابلیس ہے
 جس کا مذہب مکر اور تلبیس ہے
 ماسواے طالب دنیاے دوں
 عالم سو کون ہے کس کو کہوں

(۱) علماے سوء سے مراد لوگ با لعموم بد عقیدہ علما سمجھتے ہیں۔ شیخ نے یہاں واضح کیا ہے کہ عقاید کے اعتبار سے ہی نہیں جوعملی اعتبار سے بھی پیچھے ہیں اور اپنے مولیٰ کی یاد سے غافل ہیں ، جن کی تحریر و تقریر اور گفتار و کردار کا محور دنیاوی مفادات ہیں ، وہ سب کے سب علمائے سوء ہیں۔ اس کی تائید امام غزالی کی اس بات سے بھی ہوتی ہے:’’علمائے دنیا سے ہماری مراد علماے سوء ہیں علم سے جن کا مقصود دنیاوی آسائش کا حصول اور دنیاداروں کے جاہ و منصب تک پہنچنے کی کوشش ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس عالم کو ہوگاجس کو اﷲ نے اس کے علم سے کوئی نفع نہیں دیا۔ ‘‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا ’’ آدمی اس وقت تک عالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے علم پر عامل نہ ہو۔‘‘ ( احیاء علوم الدین: ۱/۶۴،ابنا مولوی غلام رسول ، ممبئی)

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles