علماے سوء کا بیان

0
34

بے خبر غفلت پرستی تا کجا 
جو عدم ہے اس کی ہستی تا کجا 
کیوں تکبر اور خودی میں چور ہے 
کس لیے تو راہِ حق سے دور ہے
 اے گرفتارِ مجاز اے بے شعور 
علمِ رسمی پر تجھے اتنا غرور
علمِ رسمی کام آسکتا نہیں
 جب تلک پیدا نہ ہو کامل یقیں
 نزدِ اہلِ معرفت اہلِ عقول
 بے یقیں ہے علم بس کار فضول
 گر یقیں پیدا نہ ہو تو سر بسر 
علم ہے بے نور، بے برگ و ثمر
 علم سے پیدا نہ ہو تقویٰ اگر 
بے گماں وہ علم ہے نا معتبر
 مدرسے میں کیا دھرا ہے بے یقیں
 جز بدن، جس میں کہ جاں ہے ہی نہیں
 عالم و فاضل ہوا تو کیا ہوا 
دل اگر غفلت میں ہے ڈوبا ہوا 
دل کی غفلت دور کر اے بے حیا 
چھوڑ کر بغض و حسد کبر و ریا 
غور سے اس کو سمجھ اے بے یقیں
 دل اگر مومن نہیں تو کچھ نہیں
 فقہ واستدلال و منطق اور اصول 
بے تصوف سب خرافات و فضول
 علمِ ناقص قالبِ بے جان ہے
 در حقیقت دشمنِ ایمان ہے
 عالم سوء نائب ابلیس ہے
 جس کا مذہب مکر اور تلبیس ہے
 ماسواے طالب دنیاے دوں
 عالم سو کون ہے کس کو کہوں

(۱) علماے سوء سے مراد لوگ با لعموم بد عقیدہ علما سمجھتے ہیں۔ شیخ نے یہاں واضح کیا ہے کہ عقاید کے اعتبار سے ہی نہیں جوعملی اعتبار سے بھی پیچھے ہیں اور اپنے مولیٰ کی یاد سے غافل ہیں ، جن کی تحریر و تقریر اور گفتار و کردار کا محور دنیاوی مفادات ہیں ، وہ سب کے سب علمائے سوء ہیں۔ اس کی تائید امام غزالی کی اس بات سے بھی ہوتی ہے:’’علمائے دنیا سے ہماری مراد علماے سوء ہیں علم سے جن کا مقصود دنیاوی آسائش کا حصول اور دنیاداروں کے جاہ و منصب تک پہنچنے کی کوشش ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس عالم کو ہوگاجس کو اﷲ نے اس کے علم سے کوئی نفع نہیں دیا۔ ‘‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا ’’ آدمی اس وقت تک عالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے علم پر عامل نہ ہو۔‘‘ ( احیاء علوم الدین: ۱/۶۴،ابنا مولوی غلام رسول ، ممبئی)

Previous articleفقیہانِ خشک اور صوفیانِ جاہل و مکار کا بیان
Next articleفضیلت ِ فقر و تصوف
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here