طلوع صبح نو

0
279

مدارس سے جامعات کی طرف کاروان شوق کا سفر میمون

پس منظر
علامہ ارشد القادری (۱۹۲۵ء- ۲۰۰۲ء) بریلوی مسلک کے وہ روشن دماغ عالم تھے جنھوں نے مدارس کو عصری جامعات اور عالم عرب سے جوڑنے کے لیے ۱۹۸۹ء میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیا کی شکل میں ایک Bridge کی تعمیر کی جس کا افتتاح ۲۴؍ اپریل ۱۹۹۵ء کو کیا گیا۔ گذشتہ دنوں اس جامعہ کے ڈائریکٹر جناب مولانا محمود احمد غازی، جو خیر سے علامہ کے پوتے بھی ہیں، کی طرف سے جامعہ سے شائع ہونے والے سالانہ مجلہ ’’کاروان رئیس القلم‘‘ کےلیے لکھنے کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ میرے لیے دو عناوین تجویز کیے گئے تھے، جن میں ایک آپشن یہ تھا: ’’طلبۂ مدارس کی عصری جامعات تک رسائی، ایک خوش آئند اقدام‘‘۔ مجھے یاد آیا کہ ۲۰۰۵ء میں اسی موضوع پر ایک مختصر تحریر ’’فضلائے مدارس نئی جہتوں کی تلاش میں‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی، جو ماہ نامہ کنز الایمان دہلی میں شائع ہوئی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں مدرسے سے پڑھ کر تازہ تازہ دہلی وارد ہوا تھا اوروہاں مدارس سے مختلف علم کی ایک نئی دنیا کو ایک نو مولود بچے کی طرح تجسس، حیرت اور اشتیاق سے دیکھ رہا تھا۔ اب ایک عشرہ سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد پھر یہی موضوع میرے سامنے تھا۔ مجھے لگا کہ اس موضوع پر شاید میںپہلے سے بہتر رائے پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ مولانا محمود غازی کے حکم پر لبیک کہا اور دیگر مشاغل کو کنارے رکھتے ہوئے زیر نظر موضوع پر لکھنے کی تیاری شروع کردی۔ اس کے لیے میں نے عصری مدارس اور جامعات سے فیض یاب متعدد اصحاب نظر سے تبادلۂ خیال کیا۔ فیس بک پراس موضوع سے متعلق ۲۰ سوالات کے ذریعے مختلف الخیال افراد کی آرا حاصل کیں۔ اس حوالے سے پروفیسر ابراہیم موسی کی کتاب What is a Madrasa?کا اردو ورژن دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے کوبھی پیش نظر رکھا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے تعلیمی نظام کے حوالے سے مختلف اردو، انگریزی مضامین بھی استفادہ کیا۔ ان سب کے ساتھ، میں نے اپنے تجربات، خیالات اور احساسات کو سپرد قرطاس کرنے کی کوشش کی ہے۔
پہلا سوال
پیش نظر موضوع پر پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ عصری جامعات میں فارغین مدارس کا آنا کیا واقعی خوش آئند قدم ہے؟جب میں نے اس پر اپنے احباب کی رائے جاننا چاہی تو اس کا نوے فیصد جواب اثبات میںآیا۔ البتہ دہلی کے جناب قمر عالم جو پیشے سے ویب ڈیزائنر ہیں، ان کا سوال ہے کہ ہم عصری جامعات میں کیوں آئیں؟ کیا ہم اپنے مدارس کو عصری جامعات نہیں بنا سکتے؟ جہاں ہم اپنے اسلامی تشخص کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں اوراپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکیں۔ ساتھ ہی کتاب وسنت کی روشنی میں سائنس کو سمجھیں اور سمجھائیں۔ قمر عالم صاحب کی اس رائے میں پوشیدہ خلوص اور اس کی عظمت اپنی جگہ، لیکن اس کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ عملی سطح پر دور دور تک اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ اگر چہ عالم ممکنات میں کچھ بھی محال نہیں ہے۔ اس کے لیے سر سید جیسے کسی جنونی کی ضرورت ہے جو دیوبند اور علی گڑھ کے ماڈل کو منظم کرکے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک تیسرا تعلیمی ماڈل عطا کرے۔ 
مغربی بنگال کے مولانا عبد الرحیم مقیم حال ممبئی معارضاتی انداز میں فرماتے ہیں: کوئی صاحب یہ بھی فرمادیں کہ عصری جامعات کے فارغین دینی مدارس کی طرف رخ کریں۔ دینی جامعات کے فاغین کی عصری جامعات میں شمولیت اورعصری جامعات کے فارغین کی دینی جامعات میں شمولیت میری نظر میں دونوں باتیں اشد ضروری ہیں۔ مولانا عبد الرحیم کی طرف سےضرورت کا یہ بیانیہ طابق النعل بالنعل کے مصداق ہے۔ لیکن اس ضرورت کا عقلی جواز کیا ہے کہ عصری جامعات کے فارغین بھی دینی مدارس کی طرف رخ کریں، مولانا عبد الرحیم صاحب نے اس کی توجیہ نہیں کی ہے اور نہ ہی نفس الامر میں اس کی توجیہ آسان ہے۔ ہاں! یہ تو ہوسکتا ہے کہ اہل مدارس تربیت دین کے نام پر بعض شارٹ ٹرم کورسیزشروع کریں، جس میں عصری جامعات کے متعلمین یا فارغین داخل ہوکر اپنی دینی معلومات اور اسلامی تربیت کا سامان کریں۔اس طرف جزوی کوششیں ہمارے جامعہ عارفیہ میں بھی جاری ہیں، لیکن اب تک اس کا باضابطہ نظم و نصاب تشکیل نہیں پاسکا ہے۔ 
بدایوں کے مولانا سید محمد ظفر امام جو منظر اسلام بریلی کے ساتھ جامعہ اردو علی گڑھ کے بھی فیض یافتہ ہیں، فرماتے ہیں: فارغین مدارس کا عصری جامعات میں جانا خوش آئند ہے بھی اور نہیں بھی۔ جو علما مدارس میں حاصل کردہ علوم اور تہذیب و تمدن کے ساتھ ہیں اور رہیں، ان کا آنا یقیناً خوش آئند ہے، ورنہ نہیں ہے۔ گویا سید ظفر امام صاحب کے نزدیک مدارس کے بعد عصری جامعات میں جانے کے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ طالب علم مدارس سے حاصل کردہ دینی علوم کو بھی محفوظ رکھے، جنھیں اس نے مدارس سے حاصل کیے ہیں اور اس مذہبی تشخص کو بھی باقی رکھے، جو اسے مدرسے میں بطور وراثت حاصل ہوا ہے۔ سید ظفر امام کی یہ بات تقریباً نوے فیصد ذمہ داران مدارس کے جذبوں کی ترجمانی ہے، جس پر تفصیلی گفتگو آگے آتی ہے۔
فوائد ونقصانات
عصری جامعات میں فارغین مدارس کی آمد کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں؟ اس سوال پرمحترم نوشاد عالم چشتی صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔انھوں نے اس کی ایک لمبی فہرست میرے سامنے رکھ دی، جس کے بعض نکات حسب ذیل ہیں:
فوائد
الف:افہام و تفہیم کا مزاج بنتا ہے
ب:سوچ کا کینوس وسیع ہوتا ہے
ج: اجتماعیت کا احساس جاگتا ہے
د:حالات حاضرہ کا عرفان ہوتا ہے
ھ: بہت ساری غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے
و:فکر و نظر میں سائنٹفک اپروچ پیدا ہوتا ہے
ز: انفرادی واجتماعی احتساب کا ذہن بنتا ہے
ح:عصری مسائل میں تفکروتدبر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے
ط:ماضی کا تجزیہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا شعور ملتا ہے
ی:مختلف الخیال لوگوں سے ملاقات اور استفادے کی راہ کھلتی ہے
نقصانات
الف:مدرسے کی وضع قطع میں تبدیلی آتی ہے
ب:مدرسی روایت کے خلاف بغاوت کا ذہن بنتا ہے
ج: مدارس کی تحقیر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اخلاقیات ودینیات میں گراوٹ آتی ہے
د:فکری آزادی اور بسا اوقات نظری تشکیک اور فکری بے راہ روی شروع ہوجاتی ہے
ہ:ان کی بہت سی غلطیوں اور نادانیوں کے سبب لوگ براہ راست اہل مدارس کو مطعون کرتے ہیں
مذکورہ سوال کے جواب میں کان پور کے جناب مشتاق، فارغ التحصیل یونیورسٹی آف الٰہ آبادنے، اس کے پانچ فوائد اور دو نقصانات شمار کیے ہیں۔ 
فوائد 
الف: قبول و برداشت کی صلاحیت بڑھتی ہے
ب: اعلی سے اعلی تعلیم کے راستے نظر آتے ہیں
ج: صحافتی مقتضیات اور ابلاغ و ترسیل کے عصری و بین الاقوامی رویوں سے شناسائی ہوتی ہے
د: ذہن میں کشادگی آتی ہے، فکر میں توسع پیدا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنا حقیقی قد معلوم ہوتا ہے
ہ: لسانی اعتبار سے عربیت زدہ اردو اور اردوئیت و فارسیت زدہ عربی کے خول سے باہر نکلنے کی سبیل پیدا ہوتی ہے
نقصانات
الف: اگر ظرف وسیع نہ ہو تو مدارس کو جہالت کی فیکٹری سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ وہاں تک پہنچانے میں مدارس ہی سہارا بنتے ہیں
ب: اگر احساس کمتری کا شکار ہو تو اپنا تعارف بحیثیت عالم کرانے کے بجائے غیر عالمانہ وضع قطع کا اسیر ہوجاتا ہے۔
وضع قطع کا مسئلہ
محترم جناب جلیس اختر نصیری پی ایچ ڈی جے این یو دہلی کو مشتاق صاحب کی آخری شق پر سخت اعتراض ہے۔ وہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر غیر عالمانہ وضع قطع کی توضیح ہوجاتی تو مجھ جیسے کم پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا۔ میری معلومات کے مطابق مدارس میں علامہ اقبال کو علامہ صرف اس لیے نہیں کہا جاتا کیوں کہ وہ باریش نہیں تھے۔ ان کو ڈاکٹر اقبال کہنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ عصری درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والے حضرات کو روایتی درس گاہوں کے تعلیم یافتہ اس وقت تک عالم نہیں مانتے جب تک وہ باریش و با کلاہ نہ ہوں۔ 
جناب جلیس نصیری صاحب نے یہاں ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے جو کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ سوال حل ہوجائے تو عالم کی تعریف اور اس کی شناخت دونوں مسئلے حل ہوجائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عالمانہ وضع قطع واضح طور پر لفظوں میں منضبط نہیں ہوسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم علما کی وضع قطع کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اختلافات بلکہ تناقضات کا سامنا ہوتا ہے۔ بریلوی علما کی کلاہ، مونچھ اور ازار کی سائز کسی قدر طویل ہوتی ہے ، جب کہ دیوبندی علما ان امورمیں صاف اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ شمالی ہند کے علما بالعموم کرتا پاجامہ زیب تن کرتے ہیں، جب کہ جنوب خصوصاً کیرالا کے علاقے میں لنگی اور شرٹ کے ساتھ رومال کا چھوٹا عمامہ علما کی شناخت ہوتا ہے۔ سعودی کا غترہ (رومال) ایرانی عماموں سے مختلف ہوتا ہے۔ ترکی کا طربوش یمن کی عمامہ نما ٹوپی سے جدا نظر آتا ہے۔ مصر میں اخوان کی داڑھی کافی طویل ہوتی ہے اور ازاہرہ کا چہرہ کلین شیو یا خشخشی داڑھی والا ہوتا ہے۔ مشرق میں جبہ، عبا، توپ اور شیروانی کے جلوے ہوتے ہیں، تو مغرب میں کوٹ پتلون، شرٹ اور ٹائی کی حکمرانی۔ المختصر اس پورے منظر نامے پر نظر ڈالنےسے اندازہ ہوتا ہے کہ علما کی وضع قطع عالمی سطح پر ایک نہیں ہے، البتہ مقامی اعتبار سے الگ الگ وضع سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ اس کے ایک معنی یہ بھی ہوئے کہ عالمی سطح پر علما کی وضع قطع میں یکسانیت کی تلاش اور مقامی سطح پر اس کی عدم رعایت دونوں باتیں مناسب نہیں ہیں۔ 
یہ تو مسئلے کی ثقافتی نوعیت ہوئی جس کی کلی حفاظت اس گلوبل دنیا میں آسان نہیں ہے۔ رہی بات مسئلے کی شرعی تحقیق کی تو داڑھی اور لباس کی سنیت کا تعین تو کیا جاسکتا ہے، البتہ اس میں شرعی وجوب کی کوئی شق متعین کرنا ایک انتہائی مشکل امر ہے۔ لباس کے حوالے سے شریعت صرف ستر پوشی کو واجب کرتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص لباس کو۔ اسی طرح ایک مشت داڑھی کے سلسلے میں وجوب، سنت ہدیٰ اور سنت زوائد جیسے مختلف اقوال معاصر علما کے یہاں پائے جاتے ہیں۔اس لیے زیادہ سے زیادہ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ ثقافتوں کی مقامی قدروں کی رعایت کی جائے تو عوام بلاوجہ ذہنی خلجان سے محفوظ رہیں گے۔
فکری تبدیلی
عصری جامعات میں جانے والے فارغین مدارس کے حوالے سے اس خدشے کا بارہار اظہار کیا جاتا ہے کہ وہاں پہنچ کر ان کے دینی رجحانات اور مسلکی تصلب میں کمی آجاتی ہے۔ اس سلسلے میں محترم مشتاق صاحب مختلف الرائے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عصری جامعات میں جانے سے فضلائے مدارس کے دینی رجحان میں کمی نہیں آتی، البتہ مختلف اسباب کی ستم ظریفی سے مدارس کے اندر دین کا جو محدود تصور ورثے میں ملتا ہے، اس میں وسعت آجاتی ہے، جو بعض مہربانوں کو دینی تقصیر نظر آتی ہے۔ مشتاق صاحب مسلکی تصلب کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے، البتہ مسلکی تشدد و تطرف میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بعض حضرات عصری جامعات میں پہنچ کر دین و مسلک دونوں ہی بیچ ڈالتے ہیں، مگر قابل غور ہے کہ ایسے حادثات عصری جامعات کے ساتھ ہی خاص نہیں، ایسا سانحہ تو کسی بھی فیلڈ میں رونما ہوسکتا ہے۔ 
پورنیہ کے جناب شمیم مصطفیٰ مصباحی اس پر اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عصری جامعات میں دینی رجحانات میں کمی ہونے کے بجائے اضافے کی متعدد مثالیں ہیں۔ ایسے بے شمار علما ہیں جو عصری علوم کی تحصیل کے بعد نہ صرف یہ کہ مکمل طور سے دین پر کاربند ہیں بلکہ دین کی مکمل پاسبانی بھی فرمارہے ہیں۔ ہاں عصری جامعات میں جانے سے مسلکی تشدد میں ضرور کمی آجاتی ہے، جو حالات کے پیش نظر صحیح بلکہ ضروری ہے۔
مولانا حید رضا مصباحی شعبہ عربی علی گڑھ فرماتے ہیں کہ جہاں تک دینی رجحانات میں کمی آنےکی بات ہے تو وہ یونیورسٹیوں کا رخ کرنے کے بعد ہی کیا، پہلے سے ہی بہتوں میں یہ بلا رہتی ہے۔ مولانا ایک خاص نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صرف کرتا پاجامہ زیب تن کرنا اور سر پر ٹوپی سجا لینا جس طرح دین پر کار بند ہونے کی سند نہیں، اسی طرح محض پینٹ شرٹ پہننا کسی بھی طرح دینی رجحانات میں قلت کا غماض قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس سلسلے میں بیشتر اہل علم دینی رجحان اور مسلکی تصلب میں کمی ہونے کے خیال سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ وہ آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ اگر بعض حضرات میں دینی رجحان کم ہوتا ہے تو بہتوں میں زائد اور وسیع بھی ہوتا ہے اور جہاں تک مسلکی تصلب کی بات ہے تو تصلب کے نام پر تعصب کے جو اسباق طلبہ، مدارس سے لے کر آتے ہیں، عصری جامعات کی برکت سے وہ سارے اسباق ذہن و فکر سے ضرور محو ہوجاتے ہیں۔ 
ایک دوسرے مصباحی عالم جو علی گڑھ میں زیر تعلیم ہیں، جناب جاوید عالم کا ماننا ہے کہ عصری جامعات میں بعض مثالیں ایسی بھی ہیں کہ بعض طلبہ کے اندر مسلک کے حق میں اور بعض میں مسلک کے خلاف لبرل ازم کے حق میں تعصب و تشدد کا گراف مزید بلند ہوجاتا ہے۔
دہلی کے قمر صاحب اس قسم کے خیالات پر معترض ہیں کہ عصری جامعات میں پہنچ کر فضلائے مدارس سے مسلکی تعصب و عناد رخصت ہوجاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو لازمی طور پر ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ مدارس میں مسلکی تعصب و عناد کے اسباق ازبر کرائے جاتے ہیں۔ جناب قمر عالم صاحب کے اس سوال کی حساسیت اپنی جگہ، مگر صورت حال کی سنگینی اپنی جگہ ایک مستقل مسئلہ ہے، ارباب مدارس کو جس کا کھلے ذہن و دماغ سےجائزہ لینا ہوگا۔ یہ ان کے لیے لمحۂ فکریہ بھی ہے اور دعوت احتساب بھی۔
میرے فیس بک فرینڈ مولانا عبد الحق مصباحی فرماتے ہیں: مسلک اگر عقائد کا نام ہے تو عصری جامعات میں جانے کے بعد عقیدے میں کمی نہیں آتی، ہاں! رہی بات اعمال کی تو اس میں کمی مدرسے کے اندر و باہر ہر جگہ ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدرسہ میں اتنا پابند شرع نہ رہا ہو جتنا عصری جامعات میں پہنچ کر ہوجائے۔
مسلکی تشدد میں کمی؟
میں اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہاں چند وضاحتیں ضروری سمجھتا ہوں:
۱۔ مسلک عقیدے کا نام ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ لیکن بنیادی عقیدے کا نام نہیں، جس پر اسلام کی بنا ہو۔ میں اپنے تجربات کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسی فیصد یا اس سے زائد فضلائے مدارس پر، خصوصاً بریلوی مدارس کے فارغین پر یہ واضح نہیں ہے کہ دین کے ضروری عقائد الگ ہیں اور سنیت یا مسلک کے ضروری عقائد الگ۔ دین کے کسی ضروری عقیدے کے انکار سے آدمی دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے، لیکن مسلک کے کسی ضروری عقیدے کے انکار سے آدمی مسلک سے تو نکلتا ہے، تاہم دائرۂ اسلام میں داخل رہتا ہے۔ 
۲۔ عصری جامعات میں مغرب سے درآمد شدہ لادینی افکار و رجحانات سے مسموم ہوائیں سائنس کی موہوم اور افسانوی صورت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ان گزرگاہوں سے فضلائے مدارس بالعموم ناک بند کرکے گزرجاتے ہیں، جب کہ بعض اس زہر کا شکار ہوکر مشتبہ اور مشکوک ہوجاتے ہیں اور بعض کی پورے طور پر ایمانی موت بھی ہوجاتی ہے، مگر ان میں کسی کے پاس بھی وہ علمی فلٹر نہیں ہوتا جس کی مدد سے وہ اس زہریلی گیس سے اپنی اور دوسروں کی حفاظت کرسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں جدید مغربی فلسفے پر صرف لاحول پڑھا جاتا ہے جب کہ عصری جامعات میں جدید فلسفےسے ایسی مرعوبیت ہوتی ہے کہ جدید ٹیکنیکل سائنس کی طرح مغرب کے تمام تر تخیلاتی اور افسانوی فلسفے کو بھی تجرباتی اور یقینی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال مدارس اور عصری جامعات دونوں کو احتساب اور نئی منصوبہ بندی کی دعوت دیتی ہے۔ مدارس چوں کہ حفاظت دین کے نام پر قائم ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس دعوت کے اول مخاطب ہیں۔ 
۳۔ عصری جامعات میں پہنچ کر فضلائے مدارس مسلکی تعصب و عناد کے خول سے باہر آجاتے ہیں۔ یہ بات اب تک میرے لیے ناقابل فہم یا کم از کم مبہم ہے۔ میرے خیال سے مسلکی تعصب کی دو سطحیں ہیں؛ ایک عملی اور دوسری نظری۔ عملی سطح کی بھی دو قسمیں ہیں؛ ظاہری اور حقیقی۔ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مدارس سے فیض یاب عصری جامعات کے طلبہ تعصب کے صرف ظاہری مظاہر سے نکل پاتے ہیں۔ مدارس میں رہتے ہوئے اپنے مخالف مسلک کے ساتھ جو ان کا ظاہری برتاؤ ہوتا ہے، اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے علیک سلیک شروع کردیتے ہیں اور اخلاق و افکار اورمال و اسباب کا تبادلہ خندہ پیشانی کے ساتھ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کسی شعبہ میں داخلہ، ملازمت یا اس طرح کے جب بڑے مواقع سامنے آتے ہیں تو پھر ان کا مسلکی عفریت جاگ جاتا ہے اور پھرصلاحیت اور عدل کے بجائے مسلکیت کو وجہ ترجیح بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں تبلیغی جماعت سے وابستگان کی مثال نمایاں طور پر ہمارے سامنے ہے۔ موثوق ذرائع کے مطابق انجینئرنگ اور دوسرے شعبوں میں طلبہ کو تعلیم سے زیادہ چلہ لگانے پر زور دیا جاتا رہا ہے اور چلہ لگانے والے طلبہ کو حاضری فیصد اور مارکنگ لسٹ دونوں میں پیش پیش رکھا گیا ہے۔ ان کے برخلاف وہ طلبہ سخت ابتلا اور تعصب کا شکار ہوئے ہیں جنھوں نے چلہ لگانے سے انکار کردیا ہے۔ یہ ان کا حال ہے، جو اپنی پیشانیوں پر سجدوں کا نشان لیے پھرتے ہیں۔
مسلکی تعصب کی نظری سطح پر بات کریں تو دو جماعتیں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ سلفی اور بریلوی۔ سلفی اپنے متصوف حریفوں پر شرک کی تہمت رکھتے ہیں، جب کہ بریلوی اپنے مخالف طبقات کو گستاخی اور ضروریات دین کے انکار کا مجرم بتاتے ہوئےان پر کفر کاحکم لگاتے ہیں۔ سلفیوں سے قریب ہونے پر معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ان کی ہے جو شرک سے شرک حقیقی مراد لینے کے بجائے شرک صوری مراد لیتے ہیں۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب موقع ملتا ہے تو وہ متصوفین کے پیچھے نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔ ان کے برعکس بریلوی فضلا کفر کو بالعموم حقیقی معنی پر محمول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ترک نماز کو تو گوارہ کرلیتے ہیں، لیکن دیگر مسالک کے پیچھے اقتدا کو گوارا نہیں کرتے، اگرچہ بصورت رضا یا اکراہ اب یہ برف بھی دھیرے دھیرے پگھلنے لگی ہے۔ لیکن اس کی رفتار بہت سست ہے۔ شاید پانچ فیصدیا اس سے کچھ کم و بیش۔
میں نےعلی گڑھ میں زیر تعلیم ایک نسبتاً باصلاحیت اور روشن دماغ مصباحی سے جب یہ سوال کیا کہ کیا عصری جامعات میں پہنچ کر مسلکی تعصبات کا خاتمہ ہوجاتا ہے؟ تو انھوں نے بہت ہی پر جوش انداز میں اثبات میں جواب دیا اور مثال میں خود کو پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں مبارک پور سے علی گڑھ آیا تھا تو یہاں کسی بھی وہابی، دیوبندی سے سلام و کلام درست نہیں سمجھتا تھا، لیکن اب میں الحمدللہ! اس نفرت انگیز تعصب سے نکل چکا ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بریلوی مدارس میں یہ عام تصور ہے کہ اکابر دیوبند کافر ہیں اور ان کی عبارتوں سے واقفیت کے بعد جو کوئی ان کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ علی گڑھ پہنچ کر مسلک کے اس نظری فہم میں کیا فرق آیا اور آپ کے نزدیک حسام الحرمین کے معیار پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کتنے مسلمان رہتے ہیں؟ میرے اس سوال کے جواب میں حضرت موصوف سراپا حیرت و استعجاب بنے رہے اور باہمہ علم و آگہی ایک لفظ نہیں بول سکے۔ 
عصری جامعات میں زیر تعلیم مدارس کے فاغین کی اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں ان سے مسلکی منافرت کے خاتمہ اور ملی اتحاد کے قیام کے حوالے سے کس حد تک امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ یہاں حافظ دلشاد حسین، استاذ جامعہ عارفیہ الٰہ آباد کے اس خیال سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ عصری جامعات میں زیر تعلیم فضلائے مدارس سے مسلکی منافرت کا خاتمہ نہ سہی، اس میں کمی ضرور آئے گی۔ کیرالہ کے محمد مستقیم ثقافی بھی اس حوالے سے کافی حد تک پر امید ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ میں اپنے تمام دوستوں میں کسی قدر یہی محسوس کررہا ہوں۔ جو کل تک مسلک بازی کے حوالے سے ممتاز تھے، آج اب انہی کو صلح کلی کہا جارہا ہے۔
بہر کیف! اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ عصری دانش گاہوں میں مسلکی منافرت میں کافی کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ عصری جامعات میں جانے سے دیگر فوائد کے ساتھ بڑے پیمانے پر مسلکی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ بریلوی مدارس کے علما عصری جامعات میں بہت تاخیر سے پہنچے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اس مملکت کے دوسرے درجے کے شہری محسوس کیے جاتے ہیں۔ تمام اعلی مناصب پر ان کے فکری حریف جلوہ افروز ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات انھیں متعصبانہ رویوں کا شکوہ رہتا ہے۔ تاہم دیر یا سویر جب وہ پہنچے ہیں تو وہاں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ مسلکی سرگرمیوں کو بھی بڑی حد تک زندہ کر رکھا ہے۔ یہی حال دیگر مسالک کے وابستگان کا بھی ہے۔ عصری جامعات میں اپنی مسلکی سرگرمیوں سے وابستگی، فکر و عمل کی آزادی کا حصہ ہے۔ البتہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے، جب بعض اوقات یہ مسلکی سرگرمیاں ملی سرگرمیوں سے متصادم نظر آتی ہیں۔
بریلوی علما کی تاخیر
رہا یہ سوال کہ بریلوی علما عصری دانش کدوں میں تاخیر سے کیوں پہنچے؟ اس کے جواب میں استاذ گرامی مفتی ارشاد احمد ساحل سہسرامی فرماتے ہیں کہ اس کے کئی اسباب ہیں۔ بڑا سبب یہ ہے کہ تقسیم پاکستان کے وقت سنی (بریلوی) علما مسلم لیگ کے حامی تھے، جب کہ دیوبندی کانگریسی تھے۔ کانگریس پوزیشن میں آنے کے بعد اپنے حامی دیوبندیوں کو نوازتی رہی اور دیوبندیوں نے بھی اہل سنت کو مسلم حکومتی شعبوں میں نہیں آنے دیا۔
مفتی صاحب کا یہ جواب شاید بہت سے دیگر سوالوں کو حل کرتا ہو۔ تاہم پیش نظر سوال اس سے یکسر غیر متعلق ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ کے یوم تاسیس سے صبح آزادی تک اور اس سے اب تک ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملے گا کہ حکومت نے یا دیوبندی علما نے بریلوی علما کو عصری جامعات میں آنے سے روکا ہو۔ اس کی وجہ میری نظر میں بریلوی علما کی وہ حساسیت ہے، جو انھیں کسی بھی مسلک مخالف سے ملنے ملانے سے آخری حد تک روکتی ہے۔ عصری دانش کدوں میں مسلکی حریفوں کے ساتھ مذہبی حریفوں بلکہ مخالفین مذہب کا بھی ہمیشہ ایک ہجوم رہا۔ ایسے میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ بریلوی علما اپنی مسلکی حساسیت کے پیش نظر اپنے فضلا کو ان اداروں میں جانے دیتے۔
علی گڑھ میں زیر تعلیم جناب عقیل اختر جن کا تعلق بنیادی اعتبار سے بریلوی مسلک سے ہے، وہ اس کے اسباب میں بریلوی علما کی عصریات سے ناواقفیت کو بھی شمار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بریلوی علما کی یہ عدم معرفت، عصری جامعات سے بریلوی مدارس کے معادلے اور طلبہ کے اندر تحریک و تشویق سے مانع رہی۔ عقیل صاحب کی اس بات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بریلوی علما میں عصریات کا شعور سب سے پہلے علامہ ارشد القادری کو ہوا۔ ان کے ادارہ جامعہ حضرت نظام الدین اولیا کے قیام (۱۹۹۵) کے بعد ہی سے بریلوی مدارس کے فضلا نے عصری جامعات میں قدم رکھنا شروع کیا، جس میں تیزی ۲۰۰۴ء کے بعد آئی۔ جامعہ ملیہ کے بعض اساتذہ کو یہ تبصرہ کرتے سناگیا ہے کہ جب سے مولانا ارشد القادری نے جامعہ نظام الدین قائم کیا ہے ، تب سے بریلوی یونیورسٹی میں آنے لگے۔ ۱۹۹۵ء سے پہلے بعض بریلوی علما کا اکے دکے عصری جامعات میں پہنچنا جزوی بلکہ استثنائی واقعات ہیں۔
مقاصد مدارس پر اثر
یہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ آج جب کہ تمام مدارس کے نو فارغین بڑی تعداد میں عصری جامعات کا رخ کررہے ہیں، اس وقت بھی علامہ ارشد القادری جیسا کھلا ذہن ، ذمہ داران مدارس میں شاید وباید ہی ہے۔ اس قافلے کا رہ نما آج بھی بالعموم طلبہ کا اپنا ذوق و شوق ہے۔ مدارس کے بہت کم ہی اساتذہ ہیں جو اپنے طلبہ کو عصری جامعات میں جانے کی ترغیب دیتے ہیں اور ان کی رہ نمائی کرتے ہیں۔ بالعموم مدارس کے اندر یہ تصور ہی حاوی ہے کہ فضلائے مدارس عصری جامعات میں پہنچ کر قیام مدارس کے مقاصد کو فوت کررہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ نوجوان علما اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتے۔ نور الدین محمد مصباحی، مقیم حال جامع ازہر مصر کا کہنا ہےکہ بہت سے علما عصری جامعات میں نہ جاکر بھی مدارس کے مقاصد کو فوت کررہے ہیں، بلکہ سچ کہوں تو بیشتر نہ جانے والے ہی نقصان کررہے ہیں۔ گذشتہ ستر سالوں سے اکثر مدارس نے قوم کی ایک بڑی تعداد کو علم دین کے نام پر جکڑ رکھا ہے۔ جہاں ان کو دنیا اور ملت کے بارے میں شاید کنویں کے مینڈک سے بھی کم آگاہی رہی۔ اور اس طرح نہ جانے کتنے دماغ ابھرنے سے رہے۔
جناب محمد مشتاق کہتے ہیں: اگر مدارس کے قیام کا مقصد موذن اور امام بنانا ہو تورسم امامت و اذان کی ادائیگی کے لیے مسجدوں کی تعداد سے زیادہ حفاظ و علما پیدا ہوچکے ہیں۔ مقصد قیام اگر پیشہ ور مقرر بنانا ہے تو اس کے لیے مکاتب کافی ہیں۔ نقل فتاوی کرنے والے مفتی یا فرسودہ مضامیں پر نئے نئے ٹائٹل کے ساتھ کتابیں لکھنے والا مصنف بنانا ہو تو یہ کوشش بھی خوب ہورہی ہے۔ تعویذ گنڈہ کرنے والوں کی فوج تیار کرنی ہو تو اس کے لیے نہ مدارس نہ جامعات کی ضرورت ہے، بلکہ محض خود کو حیاداری سے باہر لانا کافی ہے۔ مشتاق صاحب کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قیام مدارس کے پیچھے اگر مذکورہ مقاصد کارفرما ہیں تو عصری جامعات میں جانے سے ان کی تکمیل نہیں ہوتی اور نہ ہی فوت ہوتے ہیں، البتہ اگر قیام مدارس کے مقاصد میں دین و دنیا کا عرفان اور زمانی بصیرتوں کے ساتھ علم و دین کی خدمت ہے تو یہ مقاصد عصری جامعات میں جانے سے فوت نہیں ہوتے بلکہ ان کا حصول مزید سہل ہوجاتا ہے۔
ممبئی کے مولانا عبد الرحیم اس کے برخلاف یہ رائے رکھتے ہیں کہ عصری جامعات میں جانے سے مقاصد مدارس کا فوت ہونا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہے کہ اس کا سد باب کیسے ہوگا؟ مولانا نےاپنے اس منطقی نقطۂ نظر پر کوئی دلیل پیش کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ ہمیں ان کی جگہ اپنے کشمیری دوست محمد یاسر کی بات زیادہ معتدل اور منصفانہ معلوم ہوتی ہے کہ فضلائے مدارس کے عصری جامعات میں جانے سے بعض دفعہ قیام مدارس کے مقاصد یقیناً فوت ہوتے ہیں، مگر نہ جانے سے ملت کو اس سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
مدارس پر تنقید
فضلائے مدارس میں ایک بات قدر مشترک کی حد تک پائی جاتی ہے کہ وہ جب تک مدرسے میں ہوتے ہیں مدارس کا قصیدہ اور یونیورسٹیز کی ہجو پڑھتے نہیں تھکتے مگر جوں ہی عصری جامعات میں پہنچتے ہیں، ان کے توپ کا دہانہ مدارس کی طرف کھل جاتا ہے۔ پھر وہ عام طور سے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ مدارس کا تصور علم محدود ہے اور وہاں کا نظام و نصاب واجب الاصلاح ہے ۔ اس حوالے سے جن اصحاب علم و نظر کی آرا موصول ہوئیں، ان میں سے تقریباً سب نے اس تنقیدی رائے سے اتفاق کیا۔
عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد میں زیر تعلیم مولانا شمیم مصطفی مصباحی لکھتے ہیں: عہد وسطیٰ اور اس سے پہلے کے دور کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کے فارغین دعوت و تبلیغ اور تحریر و تقریر تک محدود نہ تھے، بلکہ یہ سیاست، عدالت، ملکی نظامت، طبابت بلکہ زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں نہ صرف پیش پیش تھے بلکہ قیادت و سیادت کی باگ ڈور انھیں کے ہاتھوں میں تھی۔ آج کیا وجہ ہے کہ مدارس کے فارغین تدریس و تقریر اور دعوت و تبلیغ کے لیے بھی کما حقہ اہل نہیں ہو پارہے ہیں۔ آٹھ دس سال مدارس میں گزارنے کے بعد بھی عصری جامعات کی طرف رخ کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور ملازمت کے لیے انھیں در بدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں نظام مدارس اور نصاب مدارس کی اصلاح اور اس کی مکمل منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
مدارس میں اصلاح
مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کے حوالے سے پچھلے سو سالوں سے مسلسل آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور نہ صرف آوازیں اٹھتی رہی ہیں بلکہ اصلاحات و ترمیمات کا سلسلہ بھی جزوی طور پر ہی سہی تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ ان آوازوں نے یہ تو ثابت کردیا ہے کہ مدارس کے نصاب و نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے مگر یہ تبدیلی کیا ہو، کیوں ہو، کسیے ہو اور کن وسائل کے تحت ہو، یہ وہ سوالات ہیں جن کی تنقیح ،تنقیدات مسلسل کے باوجود واضح نہیں ہوسکی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں چند نکات کی وضاحت ضروری ہے:
۱۔ ایک انتہائی متطرفانہ رائے یہ ہے کہ یہ مدارس آؤٹ ڈیٹیڈ ہوچکے ہیں، ان سے نجات حاصل کرلینے میں ہی امت کی نجات ہے۔
۲۔ اس کے بالمقابل دوسرا متطرفانہ نظریہ یہ ہے کہ ان مدارس کو اپنے حال پر چھوڑ دیاجائے۔ یہ اپنے اسی ہیولیٰ اور صورت کے ساتھ دین کی حفاظت کرتے آئے ہیں اور اسی نہج پر کرتے رہیں گےء۔ ان کو چھیڑا گیا تو دین کی حفاظت خطرات سے دوچار ہوجائے گی۔ 
۳۔ ایک تیسری انتہا پسند نگاہ، ان مدارس سے ڈاکٹروں اور انجینئروں کی کھیپ نکلتی ہوئی دیکھنے کی متمنی ہے۔ ظاہر ہے تمناؤں اور آرزؤں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
۴۔ اہل مدارس کے یہاں ایک غالب اور مقبول رائے یہ ہے کہ نصاب میں انگلش شامل کردیا جائے، باقی درس نظامی حسب حال جاری رکھا جائے۔ مدرسے کا معادلہ عصری جامعات سے کرادیا جائے، جو فارغین درس نظامی کی تکمیل کے بعد عصری جامعات میں جانا چاہیں ،وہ جائیں اور وہاں زبان و ادب، مذہب و ثقافت اور تاریخ و سماجیات جیسے شعبہ جات میں اعلی تعلیم حاصل کریں۔
۵۔ بعض خوردبین نظر رکھنے والے اصحاب فکر اس سے راضی نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مدارس کو دین کا مرکز ہونے کے بجائے علم کا مرکز ہونا چاہیے اوران کے اندر بلا تخصیص قدیم و جدید جملہ علوم و فنون کوپڑھایا جاناچاہیے۔ اس فکر کے حاملین کی ایک بڑی تعداد ہے، لیکن یہ حضرات نظری اور لفظی سطح پر جس طرح سے پرزور اور پر جوش ہیں، عملی اور انطباقی سطح پر اسی طرح خاموش اور متحیر ہیں۔ یہ بات اب تک میں نہیں سمجھ سکا کہ دین و دنیا کے قدیم و جدید علوم کا بوجھ ایک طالب علم پر کیسے ڈالا جائے گا اور اگر بالفرض ڈال دیا گیا تو اس بیچارے کی کیا درگت بنے گی؟مجھے لگتا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تواس بوجھ سے اس کا ذہن ماؤف ہوجائےگا اور قدم ڈگمگاجائیں گے۔ 
۶۔ پروفیسر اختر الواسع صاحب کا کہنا ہے کہ مدارس کو اگر ہم یونیورسٹیز کا شعبۂ دینیات یا شعبۂ اسلامیات باور کرلیں تو پھر اس میں تبدیلی کے آدھے سے زیادہ مطالبات از خود پادر ہوا ہوجائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ عصری جامعات، جہاں سیکڑوں شعبہ جات ہوتے ہیں، وہاں پر ادب کے طلبہ کو سائنس، تاریخ کے طلبہ کو طب، اور فلسفے کے طلبہ کو جغرافیہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا، بلکہ شعبۂ دینیات میں بیٹھنے والے اساتذہ جو عام طور سےمدارس میں تمام علوم کی تدریس کی وکالت کرتے رہتے ہیں، آخر وہ اپنے شعبے میں طب، جغرافیہ، ریاضی اور تکنیکی سائنس جیسے مضامین کو شامل کیوں نہیں کرتے؟ یہ عجب تماشا ہے کہ جامعات میں رہنے والے اپنے لیے تخصص کی بات کرتے ہیں اور علما کو جملہ علوم و فنون کا ماہر دیکھنا چاہتے ہیں۔
۷۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ مدارس کو دینیات اور شرعیات کا ہی متخصص ادارہ سمجھا جائے، لیکن کیا ان مدارس سے پڑھ کر نکلنے والے دین و شریعت کے حوالے سے متوقع صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں؟ کیا مدارس اپنے نصاب و نظام سے ایسے علما پیدا کررہے ہیں جو دینی عرفان اور زمانی بصیرت کے ساتھ عصر حاضر میں مطلوبہ رول پلے کرسکیں۔ اگر نہیں تو اس کے لیے جو اصلاحات و ترمیمات لازمی ہیں، اہل مدارس کو کھلے دل ودماغ سے انہیں قبول کرنا چاہیے اور بلا تاخیر کرنا چاہیے؛ کیوں کہ زمانے کی رفتاربہت تیز ہوچکی ہے۔ 
۸۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں اور ان کے رجحانات کی تشخیص سے پہلے ان کو عالم دین بنانے کے لیے بٹھا دینا کسی بھی طرح انصاف ہے، نہ دانش مندی۔ ابتدائی بنیادی تعلیم ہر مسلم بچے کی ایک ہونی چاہیے اور اپنے پانچ بچوں میں سے چار کو اسکول اور ایک کو مدرسہ بھیجنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ دینیات کے مضمون کی شمولیت کے ساتھ ہر مسلم بچے کی ابتدائی تعلیم ایک ہو تاکہ ہر بچہ معاصر علوم و فنون کے مبادیات سے آشنا ہوجائے۔ اب دسویں کے بعد جس طرح کوئی ڈاکٹر بنتا ہے اور کوئی انجینئر بنتا ہے، اسی طرح جس کا شوق ہو، وہ علم دین کا متخصص بنے۔ ایسا متخصص چوں کہ مروجہ علوم و فنون سے آشنا ہوگا، اس لیے اس کے لیے زمانی احوال کا ادراک اور بدلتے حالات میں شریعت کا فہم و انطباق آسان ہوجائے گا۔
راقم السطور آخر الذکر رائے کو زیادہ مناسب تصور کرتا ہے، تاہم اس کا عملی اور انطباقی مرحلہ کیسے طے ہوگا؟ یہ سوال گہری تفکیر و تدبیر کا متقاضی ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ جامعہ عارفیہ اور بعض دیگر اداروں میں لوگ اس سمت پرسوچنے لگے ہیں۔
مدارس کا تصور اخلاق
عصری جامعات میں زیر تعلیم بعض فضلائے مدارس، مدارس کے تصور دین اور تصور اخلاق پر بھی معترض نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے جناب محمد مشتاق رقم طراز ہیں کہ مدارس کا تصور دین و اخلاق ہرگز محدود نہیں، ورنہ رازی و غزالی اور ماضی قریب میں حافظ ملت کسی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ و اخلاق یافتہ نہ تھے۔ بلکہ صوفیۂ کرام میں تو کوئی بھی ایسا نہیں جو عصری جامعات میں پڑھا ہو، گوکہ صوفیہ نے تزکیہ و ریاضت شیخ کے آئینۂ خانہ میں حاصل کی مگر شیخ بھی مدرسے کے ہی پروردہ رہے۔ ہاں! یہ حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد برصغیر ہند و پاک کے مدارس تصور دین کے بجائے لاشعوری طور پر مسلک کے پابند ہوگئے اور جس طرح مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں گراوٹ آئی، اس کی زد سے مدارس اسلامیہ کا نظام اخلاق بھی نہ بچ سکا۔ 
مشتاق صاحب نے بظاہر مذکورہ اعتراض کا جواب دینے کی کوشش کی ہے، لیکن غور سے دیکھیے تو آخر آخر انھوں نے بھی مذکورہ اعتراض کی کسی حد تک ہم نوائی فرمادی ہے۔ اس کے بر عکس پروفیسر ابراہیم موسی استاذ اسلامیات نوٹرڈیم یونیورسٹی امریکا اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا میں شاید اخلاقی تعلیمات کا سب سے بڑا قلعہ یا مرکز یہ مدارس ہی رہ گئے ہیں۔
پروفیسر صاحب کے اس خیال کو سختی سے رد کرتے ہوئے علی گڑھ کے جناب عبید رضا قادری رقم طراز ہیں: یہ بات بالکل جھوٹ ہے۔ اگر مدارس میں انھوں نے وقت گزارا ہوتا (واضح رہے کہ پروفیسر موصوف نے دار العلوم دیو بند اور ندوۃ العلما لکھنؤ میں رہ کرتقریبا ًچھ سالوں تک اکتساب فیض کیا ہے) تو انھیں پتہ ہوتا کہ یہ باتیں صرف نظری ہیں، عملی سطح پر مدارس کے اکثر اساتذہ بغض، حسد، کینہ اور غیبت جیسی بیماریوں کے شکار ہوتے ہیں۔ سالوں اپنے ساتھی مدرس کے ساتھ ہم کلام نہیں ہوتے۔ صرف سیاست ان کا مشغلہ ہوتا ہے اور گروپ بندی ایسی کہ الامان و الحفیظ۔ اس میں سارے مدارس شامل ہیں، وہ کسی بھی مکتبۂ فکر کے کیوں نہ ہوں۔ عبید رضا قادری صاحب نے مدرسوں میں حاوی چندہ خوری، رشوت ستانی، عدم رواداری اور دیگر بد اخلاقیوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ انھیں مستزاد سمجھا جائے۔
عبید رضا قادری کے برخلاف جناب مشتاق صاحب کا فی حد تک پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسا کہ ہوائیں چل رہی ہیں، اگر تصوف کی نشاۃ ثانیہ ہوسکی تو ایک بہتر متبادل سامنے آئے گا، ورنہ مساجد کو ٹیکنیکل سجدوں اور خانقاہوں کو مجاوری اور گور کنی میں تبدیل کردینے کے بعد فی الحال مدارس ہی قلعہ، مرکز، امید گاہ اور آماجگاہ ہیں۔
بات ذرا پیچ دار ہوگئی۔ خلاصہ یہ کہ مدارس کے فارغین جرات، حق گوئی، ایمان داری، وعدہ وفائی، راست بازی، رواداری، حسن تبسم، مروت اور سماجی اخلاقیات میں یقیناً پست ہوتے ہیں جس کا احساس انھیں عصری جامعات میں پہنچ کر ہوتا ہےاور مدارس سے اپنے ساتھ لائے ہوئے ایک خاص نفسیات سے نکلنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ اہل مدارس کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ میرے استاذ پروفیسر حبیب اللہ خاں ندوی، صدر:شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بی اے کی ہماری آخری کلاس میں کہا تھا کہ اگر خدا نخواستہ آپ میں سے کسی کو پھر سے مدرسہ یا مسجد میں جانا پڑے تو ایک کام ضرور کیجیے گا۔ مسجد کے سیمنٹ کے لیے دوسری جیب سے پیسہ نکالیے گا اور مرغا منگانے کے لیے دوسری جیب سے۔ استاذ موصوف نے مدرسے میں جاری اخلاقی بحران کو ایک جملے میں بڑی خوب صورتی سے ادا کردیا۔
اس کے ساتھ پروفیسر ابراہیم موسیٰ کی بات اپنی جگہ سو فیصد مسلم ہے کہ تصور خدا، آخرت اور روحانیت و انسانیت سے کوئی ادارہ مربوط ہے تو وہ صرف مدارس ہیں۔ باقی تمام اداروں کی تعلیم صرف اور صرف شکم سے مربوط ہے۔ اس تناظر میں مدارس کی عظمت و انفرادیت اور اہمیت و ضرورت اپنی جگہ مسلم ہے۔
طلوع صبح نو
رہا یہ سوال کہ فارغین مدارس عصری جامعات میں پہنچ کر دین کے حوالے سے عصری تقاضوں کی تکمیل کس حد تک کرسکے ہیں اور مستقبل میں مزید ان سے کیا توقعات رکھی جاسکتی ہیں؟ اس کے جواب میں جامعۃ الرضا بریلی سے آنے والے جناب محمد علی ریسرچ اسکالر شعبۂ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ عصری جامعات میں اب تک جو فضلائے مدارس پہنچے ہیں ان کا نوے فیصد عربی، اردو، اسلامیات اور فارسی جیسے شعبہ جات سے ہی فیض یاب ہوا ہے۔ تاریخ، سماج، مذہب، سیاسیات، فلسفہ، قانون، میڈیا، نظم حکومت اور سماجیات وعمرانیات جیسے شعبہ جات میں بہت کم فضلائے مدارس پہنچے ہیں۔ پھر جو طلبہ مدارس سے عصری جامعات کی طرف رخ کرتے ہیں ان میں ۹۵ فیصد وہ ہوتے ہیں جو عصری تقاضوں کے مطابق دین کی خدمت کے جذبات سے سرشار ہوتے ہیں، لیکن سال دو سال گزرتے ہی دین اور خدمت دین جیسے الفاظ بیشتر کے لاشعور میں پہنچ جاتے ہیں اور معاش، کریئر اور ملازمت جیسے الفاظ ہی ہمہ دم ذہنوں پر چھائے رہتے ہیں۔
میرا اپنا اذعان یہ ہے کہ بڑا نقلاب جب آئے گا کہ مدارس میں رہتے ہوئے دین اور خدمت دین کے تصور میں وسعت آئے گی۔ میری رائے میں تعلق باللہ اور حسن اخلاق دین کے بنیادی عنصر ہیں، جن کی تربیت اور تکمیل کسی بھی شعبۂ حیات میں رہ کر کی جاسکتی ہے اور دوسروں کو بھی آسانی سے اس سے جوڑا جاسکتا ہے۔ رہی بات خالص مذہبی پیشوائی کی ،مثلاً فتویٰ نویسی، امامت اور مذہبی رنگ کی دعوت یا خطابت کی تو یہ کام مدرسےکا ہر فارغ التحصیل کرے کوئی ضروری نہیں۔ اس تصور کےساتھ اگر فضلائے مدارس عصری جامعات میں پہنچتے ہیں اور علوم و فنون کے جملہ شعبوں میں حسب ذوق جاتے ہیں تو اس کے دور رس اور انقلابی اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ ہائی اسکول کی سطح تک جملہ مروجہ علوم و فنون کی مبادیات سے آشنا ہوچکے ہوں۔ 
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابل فراموش ہے کہ اب تک جو فضلا عصری جامعات میں پہنچے ہیں اور وہاں سے نکل کر مختلف مناصب پر فائز ہوئے ہیں، وہ تمام باستثنائے معدودے چند، دینی جذبات سے سرشار ہیں۔ ان میں نصف سے زائد ظاہری تدین سے بھی آراستہ ہیں۔ ان کی اکثریت قومی اور ملی درد سے آشنا ہیں ۔ قوم و ملت اور دین ومسلک کے حوالے سے بھی ان کے ایجابی جذبات میں گہرائی آئی ہے۔ وہ دین کے حوالے سے عام مجالس میں جب بات کرتے ہیں تو ان کی گفتگو بیشتر علما کی گفتگو سے زیادہ معقول اور مؤثر ہوتی ہے۔یہ سب عصری جامعات کے فیوض ہیں۔اگر مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی تعلیمی اور فکری تربیت و توسیع کی جاتی رہی، تو عصری جامعات میں پہنچ کر وہ مستقبل میں امت کے لیے مزید مفید ثابت ہوں گے، ان کی کوششوں سے امت کا تعلیمی گراف بھی بلند ہوگا اور معاشی، فکری، تمدنی جہات میں بھی ترقی و اصلاح پیدا ہوگی اور کیا عجب کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد دوبارہ مدارس کے نظم و تدریس اور قضا و افتا کی طرف متوجہ ہو۔ ایسا ہوتا ہے تو دین کی پیشوائی ایسی شخصیات کے ہاتھوں میں آئے گی جو تعلیمی و تربیتی لحاظ سے مجمع البحرین کی حیثیت رکھتی ہوں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور ہونا ہی چاہیے تو قومی،ملی،مذہبی، مسلکی،دعوتی، تبلیغی اور سماجی و معاشرتی زندگی میں اک نئی صبح طلوع ہوگی اور ضرور طلوع ہوگی۔
دیکھ کر رنگِ چمن ہو نہ پریشاں مالی
کوکبِ غُنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گُلستاں خالی
گُل بر انداز ہے خُونِ شُہَدا کی لالی
رنگ گردُوں کا ذرا دیکھ تو عُنّابی ہے
یہ نِکلتے ہوئے سُورج کی اُفُق تابی ہے
Previous articleخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
Next articleجامعہ عارفیہ میں تعلیمی افتتاحی پروگرام
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here