تواضع باوجودِ رفعت و عظمتِ آنحضرتﷺ

0
27

 اﷲ اﷲ عظمتِ شاہِ رُسُل 
فہمِ مخلوقات سے بالا ہے کُل
 جلوۂ نورِ خدا ہے ان کی ذات 
اور ان کے نور سے کل کائنات
 آسمان و انجم و خورشید و ماہ
 با خدا سب ہیں انہیں کی جلوہ گاہ 
باوجود اس کے نیاز بندگی
 اﷲ اﷲ انکسار و عاجزی 
قولِ اِنِّیْ عَبْدُہ‘ گوید نبی 
 لیک(۱) سبحانی نہ گوید آں صفی
 کس قدر شانِ تواضع ہے بلند
 جو محمدﷺ مصطفی کو ہے پسند 
چوں کہ شانِ عجز میں ہے وہ کمال 
جس کی دنیا میں نہیں کوئی مثال
 اور وہ بھی مصطفی کی شانِ عجز 
جس پہ قرباں ہے سراپا جانِ عجز 
اس لیے قرآن کا اعلان ہے 
 اور خداے پاک کا فرمان ہے
 یا محمد مصطفیﷺ ہر چند تم 
صاف فرما دو کہ بَشَرٌمِّثْلُکُمْ(۲)
 اس کا یہ مطلب نہیں ہرگز کبھی
 تو بھی یہ کہنے لگے مرد شقی! 
ہم بشر ہیں اور وہ بھی تھے بشر 
مثل ہم جیسے تھے وہ بھی سر بسر 
بے ادب اُس سے مجالِ ہمسری 
جس کو بخشی ہے خدا نے برتری 
اُس کی ہستی کو تو اِس طرح سے جان 
جس طرح سے غیر مخلوق ہے قرآن
 یا تو اِس طرح سمجھ اے بے بصر 
جس طرح جبریل ہم شکل بشر 
حضرتِ کلبی کی صورت میں نہاں 
لے کے پیغامِ خداے دو جہاں
 ایک دن یوں حاضرِ خدمت ہوئے 
دے کہ وہ پیغام جب رخصت ہوئے 
مصطفی نے تب کہا اصحاب سے
تم نے پہچانا انہیں وہ کون تھے 
کہہ دیا اصحاب نے بے ساختہ
 حضرت کلبی تھے وہ یامصطفی 
تب نبی نے مسکرا کر یہ کہا 
حضرتِ جبریل تھے وہ باخدا 
صورتِ کلبی تھے جبریلِ امیں 
مثلِ جبریلِ امیں کلبی نہیں
 یوں ہی وہ ہستی ہے نورِ کبریا
 بشریت اس کی، بشر سے ہے جدا

(۱) جیسا کہ بایزید بسطامی رسول اﷲﷺ کی بہ نسبت اپنے معمولی محاسن وجمالیات کودیکھ کربول اٹھے،سبحانی مااعظم شانی جب کہ کائنات میں بعداز خدارسول کی ذات ہی سب سے زیادہ محترم،محتشم اور جامع کمالات ہے۔ وہ باعث تخلیق ، برزخِ کبریٰ اور نور اول ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی عظمتوں پر انہیں پورا ضبط رہا اور تواضع اور عبدیت کا دامن ہمہ دم تھامے رہے۔

(۲) قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوحَی إِلَیّ(الکہف:۱۱۰)آپ کہہ دیں میں تمہارے ہی طرح بشر ہوں ، میرے پاس وحی آتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here