تصوف کی فضیلت

0
25

مذہب و ملت ہے مثلِ تن جواں
 اور تصوّف مذہب و ملت کی جاں 
بے تصوف معرفت ممکن نہیں 
فکر چاہے جس قدر بھی ہو حسیں 
پس تصوف دین کی بنیاد ہے 
 جس سے باغِ معرفت آباد ہے
 اصل اس کی کلمۂ احسان(۱) ہے
 جو رسول اﷲ کا فرمان ہے
 غور سے اس کو سمجھ اے بے یقیں
 بے تصوّف دین و ملت کچھ نہیں
 جو تصوّف سے مبرّا ہو گیا
 زندقہ میں وہ یقینا کھو گیا 
خاتمہ بالخیر ہے اس کا محال
 مرد حق ہرگز نہیں وہ مردِ ضال
 ہر کہ غافل شد زِ مولیٰ یک نفس
 در حقیقت کافر(۲) است و بو الہوس

(۱)  حدیث جبریل میں الاحسان کے بارے میں ہے : ان تعبد اﷲ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، باب : بیان الایمان و الاسلام والاحسان)’’احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اوراگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

(۲) یہ بطور ترہیب و تشدید ہے ،جیسے اس حدیث میں کہا گیا : بین العبدو بین الکفر ترک الصلوٰۃ ’’ بندہ کو کفر سے جوڑنے والی چیز ترک نماز ہے۔‘‘ (ترمذی، الایمان، ترک الصلوٰۃ، حدیث: ۲۶۲۰) یا لغوی اطلاق ہے، یعنی یہاں کافر منکر کے معنی میں ہے۔  اگر کوئی شخص اپنے مولیٰ سے غافل ہے تو اس کا حال مولیٰ کا انکار ہے۔ یا بطور تشبیہ ہے کہ جس طرح کافر زندگی بھر اپنے رب سے غافل ہوتا ہے اسی طرح یہ لمحہ بھر کے لیے ہی سہی کافر کی طرح اپنے رب سے غافل تو ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here