تمہید

0
64

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَانِ الرَّحِيمِ 
طائر (۱) قدسی حقیقت آشنا
لحن داؤدی میں ہے نغمہ سرا
ساز الہامی ہے جس کی ہر صدا
اور نداے غيب ہے جس کی ندا 
گفتگو ئے حق ہے جس کی گفتگو
جس کا اوّل ہی سبق ہے وَحْدَہ(۲)
نغمہ ٔ جبریل ہے جس کی صدا
صورِ اسرافیل ہے جس کی نوا
جس کو سن کر روحِ انسانی تمام
 روزِ اوّل سے ہے اب تک شاد کام
صاحب و جد و سماع ہیں سر بکف
بے خودی میں سن کے صوتِ لاَ تَخَفْ(۳)
ہوش میں آئے نہ پھر اہلِ جنوں
 سن کے نغماتِ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْں(۴)

(۱)روح انسانی، جس کا تعلق عالم ملکوت سے ہے، جس کے بارے میں ارشاد ہے :اے نبی ! آپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کے امر سے ہے- قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ(بنی اسرائیل: ۸۵) ان ابتدائی اشعار میں جو اسلوب اپنایا گیا ہے اسے شعری اصطلاح میں شاعرانہ تعلّی کہا جاتا ہے- اس کی سیکڑوں مثالیں صوفی وغیر صوفی شعرا کے یہاں تلاش کی جاسکتی ہیں- ویسے میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ یہ مثنوی ایک خاص کیفیت میں کہی گئی ہے- یہ غلبۂ حال کے تحت زبان پر آجانے والے الفاظ ہیں جن کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جسے
گفتۂ او گفتۂ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود
کا شعور حاصل ہے-یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اشعارمقام آدمیت و انسانیت سے کہے گئے ہیں – شاعر کے سامنے اپنی شخصیت نہیں ، اپنی حقیقت ہے – 

(۲) شیخ زبردست توحید پرست ہیں- وہ بیک وقت وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود پر یقین رکھتے ہیں- ان کی محفل میں بیٹھنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان کی گفتگو جہاں سے بھی شروع ہوآخرش اسی ہستی تک پہنچتی ہے جس کی شان بے مثاللَیْْسَ کَمِثْلِہِ شَیْْء ٌٔ (الشوریٰ:۱۱) ہے-

(۳)حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار ثور میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا:لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّہَ مَعَنَا(التوبہ: ۴۰)ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے- یہ توکل علی اللہ کی اعلیٰ ترین مثال ہے- صوفیہ اسی طریق پر گام زن ہوتے ہیں- ان کا سرمایہ صرف توکل علی اللہ ہوتا ہے-اللہ پر اعتماد انہیں ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے اور وہ اسی اعتماد پر رقصاں و شاداں رہتے ہیں-

(۴) نغمات َولاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ کا مطلب ہے اولیاء اللہ کی باتیں- بے خوف و بے غم ہونا اولیا کی صفت ہے -جیساکہ ارشاد خدا وندی ہے کہ اﷲ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی غم ہوتا ہے: أَلا إِنَّ أَوْلِیَاء اللّہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ(یونس: ۶۲) ان بے خوف و بے غم رجالِ قدس کی باتیں اہل دل کوفنا کی وادی سے گزارنے والی ہوتی ہیں- یہ شاعری ایسے ہی مضامین پر مشتمل ہے، جن میں سالک کے لیے بہتر سامانِ رُشد اور مجذوب کے لیے حکایات ِجنوں اور اشارات بے خودی موجود ہیں- اسے ان من البیان لسحرا کی حامل شیخ کی مجلس وعظ سے جوڑ کر دیکھیے تو کچھ اور ہی لطف آئے گا جہاں شیخ کی سحر آفریں و رقت آمیز باتیں سن کر آہ و فغاں کی مجلس گرم ہو جاتی ہے اور ایک ساتھ علما، صلحا اور عوام ہچکیاں بھرتے نظر آتے ہیں-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here