طالبانِ حق کے لیے پند و نصائح

0
56

 ہر گھڑی اس کی اطاعت ہو فزوں
 روز و شب اس کی محبت ہو فزوں
 فقر(۱) و فاقہ میں بسر کر زندگی
 بس یہی ہے عین روحِ بندگی
 ہاتھ سے ہر گز نہ سیم و زر پکڑ 
گر پکڑ تو اولیا کا در پکڑ 
طالبِ حق طالبِ دنیا نہ بن 
نفس اور شیطان کا بندہ نہ بن 
بندگی نفسِ امارہ فضول
 اس کا کچھ حاصل نہ اس کا کچھ حصول
 اہل دنیا کے لیے عقبیٰ نہیں
 اہلِ عقبیٰ کے لیے دنیا نہیں
 دین و دنیا دونوں ہاتھ آتے ہیں کب
 یہ ہوس دل میں نہ رکھ اے بے ادب! 
دنیا اک مردار اور ناپاک ہے 
جو سگ و کرگس کی ہی خوراک ہے
 تو خدا کا شیر ہے مردِ خدا 
تجھ پہ فرضِ عین زہد و اتّقا
 شیر مردوں کا یہی دستور ہے
 دونوں عالم میں یہی مشہور ہے
تین فاقہ جب تک ہو جاتا نہیں

 شیرِ حق مردار کو کھاتا نہیں
 پیر زن(۲) دنیا کو جو دے دے طلاق
 وہ ہے درویشی میں کامل اور طاق 
چھوڑ کر مکر و دغل بے قال و قیل
 شیرِ حق مردِ خدا بن زندہ فیل
 شیر کی مانند اے مردِ خدا 
ماسوا کو ایک لقمہ تو بنا 
حیدرِ کرّار کا ہے پاس اگر
 تو سراپا شیر نر بن شیرِ نَر 
شیرِ نر بن چھوڑ مکر و روبہی 
تاکہ پھر حاصل ہو علم و آگہی
 آگہی مردِ خدا کی شان ہے
 آگہی ہی حاصلِ عرفان ہے 
تو کہ غفلت میں پڑا ہے بے خبر 
جادہ و منزل سے کوسوں دور تر
 مال و زر کے واسطے اے بے حیا
 تو پھرے گا کب تلک یوں جا بجا
 باعثِ فتنہ زن و فرزند ہیں(۳)
 گو بظاہر دیکھنے میں قند ہیں
 ان کی الفت میں نہ کر خود کو تباہ 
مت سمجھ ہر گز انہیں پشتِ پناہ 
کب ہوئے ہیں یہ کسی کے واسطے 
 دشمنِ جاں زندگی کے واسطے 
با ہمہ و بے ہمہ رہ تو سدا(۴)
 تاکہ حاصل ہو تجھے فضل خدا 
صحبتِ نا اہل سے جو ہر گھڑی
 دور رہتا ہے وہی ہے متقی
 جو حسد سے پاک ہو وہ آدمی
 جنّتی ہے جنّتی ہے جنّتی 
جملہ اخلاقِ رذیلہ سے سدا 
اپنے باطن کو بچا مردِ خدا 
سب سے کمتر جان اپنے آپ کو
 تاکہ دل سے کبر و نخوت دور ہو
 انکساری ہے صفت انسان کی 
کبر و نخوت ہے صفت شیطان کی
 کبر ہی سے پیدا ہوتا ہے حسد
 اور حسد کا پوچھ مت انجامِ بد
 زاہد صد سالہ جیسا با خدا 
بس حسد ہی کے سبب رسوا ہوا 
سینہ و دل سے پس اے جانِ پدر
 کینہ و بغض و حسد کو دور کر
 دور کر دل سے تو اے مردِ خدا 
کفرو شرک و بدعت و عجب و ریا 
معصیت سے آپ اپنے کو بچا 
گر ہے تیرے دل میں کچھ خوفِ خدا 
لہو و بازی کی طرف مائل نہ ہو
 امر بالمعروف سے غافل نہ ہو
 کذب و غیبت سے زباں کو پاک رکھ 
عشقِ مولیٰ سے جگر کو چاک رکھ 
خوابِ غفلت سے اُٹھ اے مردِ خدا 
تاکہ حاصل ہو تجھے فضل خدا 
جس نے غفلت میں گزاری زندگی
 آخرش ہوگی اسے افسردگی 
جس کو دنیا میں نہ ہو دیدارِ یار 
روزِ محشر وہ اُٹھے گا شرمسار
 موت(۵) سے پہلے جو مر جائے کوئی
 اس کے قدموں پر حیاتِ دائمی 
زندۂ جاوید ہے وہ باخدا 
راہِ حق میں جو کہ ہو جائے فنا 
کیا دھرا ہے دہرِ دوں میں بے گماں
 جز فلاں ابنِ فلاں ابنِ فلاں 
ما سوا سے اور اُمید وفا 
لَیْسَ للْاِنْسَانِِ اِلَّامَاسَعٰی(۶)

(۱) ایک حدیث ہے: اللھم احینی مسکینا وامتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المساکین ’’ اے اللہ مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ، حالت مسکینی میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت میں ہی میرا حشر فرما‘‘(ابن ماجہ :۲/۴۱۲) لیکن یہ اس صورت میں ہے جب بالاختیار و بالرضا ہو ، اگر فقر بالا ختیار نہ ہو یا اس پر اطمینان قلب حاصل نہ ہو تو ایسا فقر کفر کی طرف لے جانے والا ہوگا۔ اسی تناظر میں حضرت انس سے مروی یہ حدیث ہے: کاد الفقر ان یکون کفرا(حلیۃ الاولیاء میں یزید بن ابان الرقاشی اور دیگر ابواب میں مذکور ہے۔)’’قریب ہے کہ فقر باعث کفر بن جائے۔‘‘ایک روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرمائی: اللہم اکثر مالہ و ولدہ و بارک لہ فیما اعطیتہ۔ (بخاری:۶۳۳۴، ترمذی: ۸۲۸۳)’’ اے اللہ! اسے خوب مال و اولاد عطافرما اور اور اپنی عطا میں برکتیں نازل فرما۔ ‘‘ اس لیے اس باب میں منصفانہ بات یہ ہے کہ ہر انسان اپنے لیے فقر اختیار کرے اور دوسروں کے لیے غنا پسند کرے ، جب کہ آج لوگوں کا رویہ اس کے بر عکس ہے ، اس لیے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔  فقر کا لفظ جب صوفیہ بولتے ہیں تو وہ زیادہ تر اس سے وہ فقر مراد لیتے ہیں جو رضا کے مترادف ہے، جو بندے میں ماسوی اللہ سے بے نیازی پیدا کرتا ہے اور توکل علی اللہ کا پابند بناتا ہے ، جو مال و زر کے ساتھ رہنے کو منع نہیں کرتا، مال و زر سے دل لگانے کو منع کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث الفقر فخری (فقر میراسرمایۂ افتخار ہے۔) اسی مفہوم میں منقول ہے۔ محدثین نے اسے سندا ضعیف قرار دیا ہے لیکن فقر کے مذکورہ معنی کے پیش نظر متن بالکل درست ہے اور اس کی توثیق اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے: وَاللَّہُ الْغَنِیُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء (محمد:۳۸)’اللہ بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔‘ظاہر ہے اس وصف۔ احتیاج الی اللہ۔ میں بھی سیدالاولین والآخرین جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے ، سب پر فائق اور سب سے ممتازہوں گے اور اس طور پر یہ وصف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرمایۂ افتخار ٹھہرے گا۔ اور کبھی فقر سے وہ فقر بھی مراد ہوتا ہے جو مال داری کے بالمقابل ہے۔ یہ دونوں محمود ہیں، لیکن فقر کی اصل دولت پہلا فقر ہے جس میں بندہ باہمہ و بے ہمہ رہتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مال و زر کوئی بالذات بری چیز نہیں ، اس کا غلط استعمال اور دل میں اس کے لیے جگہ کا پیدا ہوجانا یہ برا ہے۔ اگر مال و زر کے ساتھ فقر و بے نیازی کی دولت حاصل ہوجائے تو یہ سونے پر سہاگہ ہوگا۔

(۲) دنیا کو پیر زن کہا گیا ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا یہ مشہور شعر ہے: شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کش اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے

(۳) قرآن کا فرمان ہے: وَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ( الانفال: ۲۸) ’’جان لو کہ تمھاری دولت اور تمھاری اولاد یقینا فتنہ ہیں۔‘‘

(۴) یعنی دنیا میں رہو ، دنیا تم میں نہ رہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے جدا رہو۔ دنیا مٹھی میں رہے، دل میں داخل نہ ہونے پائے۔

(۵) ایک روایت ہے : موتواقبل ان تموتوا’’مرنے سے پہلے مرجاؤ‘‘امام ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے اور ملا علی قاری نے کہا ہے کہ یہ صوفیہ کا قول ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خواہشات نفس کو ترک کرکے بالرضا مرجاؤ قبل اس کے کہ حقیقی موت سے بالاضطرار مرو۔(کشف الخفاء: ۲/۲۹۲، حدیث: ۲۶۶۹)

(۶) لیس للانسان الا ما سعیٰ( النجم: ۳۹)’’ انسان کے لیے سواے اس کی کوشش کے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس آیت کی شیخ نے ایک نئی اور اچھوتی تفسیر کی ہے جہاں عام آدمی کی نظر نہیں پہنچتی۔ شیخ کے مطابق اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان اس معاملے پر یقین رکھے جو اس کے اور اس کے مولیٰ کے بیچ ہے۔ ماسوی اللہ سے امید وفا نہ رکھے۔ کیوں کہ ان سے سواے محرومی کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ انسان توکل علی اللہ کی گراں مایہ دولت سے دست بردار ہوجائے، جیسا کہ لیس للانسان الا ما سعیٰ سے بعض حضرات کو غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے۔

Previous articleاستقامت
Next articleاذکار و اشغال کا بیان
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here