طالب صادق کے لیے ضرورت شیخ اورآداب بارگاہ شیخ کا بیان

0
135

شرع و دیں بے پیر راہِ پرُ خطر
 الحذر اے مردِ ناداں الحذر
 جس(۱) کا کوئی مرشد و رہبر نہیں
اس کا رہبر نفس و شیطاں بالیقیں 
گر(۲) ہے تیرے پاس علم موسوی
 جستجو کر پھر بھی خضر وقت کی
 اس حقیقت کو سمجھ اے بے یقیں 
خضر سے خالی نہیں کوئی زمیں
 تو سمجھتا ہے جسے عام آدمی 
ممکن ہے کہ خضر دوراں ہو وہی
 اس لیے تو یاد رکھ اس بات کو 
فوقیت ہے نفی پر اثبات کو (۳)
 تونے جو سمجھا ہے تیرا ہے گماں
 اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ(۴)را بخواں
 یاد رکھ اس بات کو اے مردِ ضال
 آیتِ محکم نہیں تیرا خیال(۵)
 بد گمانی اور تکبر بے گماں
 قاطع راہِ طریقت ہے میاں 
جس کسی درویش کو دیکھ اے اخی 
یہ سمجھ شبلی دوراں ہے یہی(۶)
 واصلِ عینِ شریعت اس کو جان 
مرشد و پیرِ طریقت اس کو مان 
اس کی ہر اک بات کو تسلیم کر 
خلق کی بیجا ملامت سے نہ ڈر
 اعتراض و شک و انکار و کلام 
 شیخ کی صحبت میں ہے مطلق حرام 
دل کی کشتی کو شکستہ جو کرے 
طفلِ نفسانی کو مردہ جو کرے 
فی سبیلِ اﷲ خضرے رہبرے(۷)
 دین کی دیوار مستحکم کرے
 دیکھتا رہ تو بہ تسلیم و رضا 
شیخ فاعل ہے بہ الہامِ خدا 
گو سمجھ میں تیرے آئے یا نہ آئے 
تجھ پہ لازم ہے کہ تو ایمان لائے 
اس کی جو بھی بات سن اے بے خبر 
رد اور انکار میں جلدی نہ کر(۸)
 اور نہ ہی تقلید میں جلدی دکھا 
بلکہ ساکت رہ کہ مَنْ سَکَتَ نجا(۹)
 جب تلک کہ حکم مرشد کا نہ پا
 اتباعِ حال سے خود کو بچا 
جس سے وہ روکے تو رک جا باخدا 
جس طرف وہ حکم فرمائے تو جا 
یہ اشارہ یاد رکھ ہر لحظہ تو
 َمَا نَہَاکُمْ عَنْہ اے دل فَانتَہُوا(۱۰)
 صدقِ دل سے بے محابا اے پسر
 امر و نہیِ شیخ کو تسلیم کر
 اختلافی(۱۱) مسئلہ میں ہر گھڑی 
پیروی واجب ہے اپنے شیخ کی
مبتدی و معتقد پر ہر زماں 
اتباعِ شیخ ہے واجب میاں 
منتہی و صاحبِ حال و نظر
 اس سے مستثنیٰ ہیں(۱۲)بے خوف و خطر
 کیست کافر (۱۳) منکر از فرمانِ شیخ
 کیست مرتد (۱۴) مرتد از عرفانِ شیخ
 مرشدِ بر حق سے جو ہے بد گماں 
وہ ہے مردودِ طریقت بے گماں
 بدگمانی اور حضورِ شیخِ دیں 
جس کے دل میں ہو ،مرید ہر گز نہیں(۱۵)
 صحبتِ مرشد میں بے چون و چرا 
 بد گمانی سے بچ اے مردِ خدا 
تاکہ حاصل ہو تجھے فضل خدا
 بارگاہِ شیخ سے بے انتہا 
شیخ ہے وہ آلۂ برحق میاں 
جس میں فاعل ہے خداوندِ جہاں
 خود سے فانی ہے وہ یوں سر تا بپا 
حق ہی حق ظاہر ہے اس میں باخدا 
شیخ کی روحانیت کو ہر زماں 
حاضر و ناظر سمجھ تو اے جواں 
جس طرح سے روح کی روحانیت
 رکھتی ہے اعضاسے اپنے قربیت
 دور و نزدیک اس طرح سے شیخِ دیں 
ہر مریدِ با صفا سے ہے قریں
 دستِ شیخ از غائباں کوتاہ نیست
 دستِ او(۱۶) جز قبضۂ اﷲ نیست 
برزخِ شیخ ہر گھڑی رکھ درمیاں
 تاکہ شجرِ طور ہو تیری زباں 
شیخ ہے وہ آئینہ سر تا بپا 
جلوہ گر ہے جس میں ذاتِ کبریا 
شیخ کا مقبول مقبولِ خدا 
شیخ کا مردود مردودِ خدا 
جو تصور میں رہے گا شیخ کے
 فیض پائے گا وہ اس کی ذات سے
 اے پسر اس راہ میں بس اوّلیں
 شرط ہے توحیدِ مطلب بالیقیں 
یہ سمجھ جو بھی عطا ہوگا مجھے 
وہ عطا ہوگا ہمارے شیخ سے 
غوثِ صمدانی سراپا شیخ ہے 
قطب ربّانی سراپا شیخ ہے 
ظلِّ سبحانی سراپا شیخ ہے 
نورِ ربّانی سراپا شیخ ہے 
سب سے یکتا بے مثال و بے نظیر 
پیر ہے ایسا کہ ہے پیروں کا پیر گ
ر چہ عالم میں بہت سے ہیں ولی
 پر نہیں ہے شیخ سا کامل کوئی(۱۷)
 گر کسی سے فیض پائے تو کبھی
 تو سمجھ اس کو کرامت شیخ کی 
تیری نظروں میں نہ آئے کوئی بھی 
عین معراجِ ارادت ہے یہی 
صدقِ دل سے بس عقیدہ رکھ یہی
 شیخ سے بڑھ کر نہیں کوئی ولی 
اس کا یہ مطلب نہیں اے بے خبر
 دوسرے ولیوں کا تو انکار کر 
یاد رکھ اس بات کو تو اے جواں
 اولیا سے پُر ہے یہ سارا جہاں
 جس(۱۸)  کسی کو دیکھ اپنا شیخ جان 
غیریت کو تو مٹا دے میری جان 
غیریت اس راہ میں مردود ہے 
عینیت ہی اصل اور مقصود ہے 
تو کہ غفلت میں پڑا ہے بے خبر 
جادہ و منزل سے کوسوں دور تر 
جاکے اربابِ تصوف کے قریں 
لے سبق علم الیقیں کا اوّلیں 
بعدہٗ عین الیقیں را ہم ببیں 
تا ترا حاصل بود حق الیقیں(۱۹)
 معرفت حق الیقیں کا نام ہے 
جو یقینا مقصدِ اسلام ہے


شیخ با یزید بسطامی علیہ الرحمہ کا قول ہے : من لا شیخ لہ فشیخہ الشیطان جس کا کوئی مرشد نہ ہو اس کا مرشد شیطان ہوتا ہے۔ ( الرسالۃ القشیریہ ، باب الوصیۃ للمریدین)

(۲) حضرات موسیٰ و خضر علیہماالسلام کے واقعہ میں ان مدعیان علم و حکمت کے لیے عبرت ہے جن کو غرور علم نے تلاشِ مرشد کامل سے بے پروا کر دیا ہے۔ یہی بے پروائی جب انتہائی درجے پر پہنچتی ہے تو انسان یہ کہنے لگتا ہے کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے، سنت کی رہبری کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ یہ دراصل جناب محمد رسول اﷲ ﷺ کا خاموش انکار ہے۔ پیغمبر اسلام جناب محمدرسول اللہ ﷺ نے اسی لیے فرمایا کہ میں تمہارے بیچ دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں،اگر تم اسے تھامے رہوگے توکبھی گم راہ نہ ہوگے، اﷲ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ (مستدرک،کتاب العلم، حدیث:۳۱۸،بیہقی، کتاب آداب القاضی، باب ما یقضی بہ قاضی و یفتی بہ،حدیث: ۲۰۸۳۴) ایک دوسری روایت میں سنت کی جگہ ’’عترت ‘‘ کا لفظ آیا ہے (ترمذی، باب مناقب اہل النبی صلی اللہ علیہ وسلم/نسائی، کتاب المناقب، فضائل علی)جسے اگر توسع کے ساتھ لیں تو وہ تمام رجال حق عترتِ رسول ٹھہریں گے جو رسول گرامیﷺ کے سچے متبع ہیں اور ان کے پیغام کو زبان وحال سے دوسروں تک پہنچانے والے ہیں۔

(۳) فقہا کا اصول ہے کہ اشیا میں اصل اباحت ہے۔ حرمت کے لیے دلیل چاہیے۔ اسی لیے اہل اسلام کو حسن ظن کا حکم دیا گیا ہے کہ جب تک کسی کے فسق و فجور اور شر و فساد پر دلیل شرعی قائم نہ ہو ، اصلاً اسے صالح ہی تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح عصر حاضر کے مسلمانوں میں ایک برا تخیل یہ پیدا ہوگیا ہے کہ مسلمان میں ــ’’سنیت‘‘ کی تلاش کی جاتی ہے، جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ جو شخص بھی اہل قبلہ ہو، اپنے آپ کو مسلمان کہتاہو، جب تک اس میں گم رہی کی علامات نہ پائی جائیں اسے سنی مسلمان ہی سمجھا جائے، اس لیے کہ اصل سنیت ہے،اس لیے اس کے ثبوت کے لیے دلیل کی حاجت نہیں ہے، عدم سنیت خلاف اصل ہے جس کے لیے دلیل درکار ہے۔

(۴) اِجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ( الحجرات: ۱۲)زیادہ بد گمانی سے بچو کیوں کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہو ا کرتی ہیں۔

(۵) اپنی رائے اور خیال کو وحیِ ربانی سمجھنا سخت گمراہی ہے۔ عصر حاضر میں اختلافی مسائل میں اصرار کا جو رویہ پیدا ہوا ہے وہ اسی وجہ سے کہ بعض افراد اپنی اجتہادی رائے کو حرفِ قطعی اور سب کے لیے واجب التسلیم گمان کر بیٹھے ہیں۔ یہ بہت بڑی نادانی، سخت گمرہی اور باعث افتراق امت ہے۔

(۶) تمام مشائخ کے ساتھ حسن ظن ضروری ہے۔ اگر یہ بات آج ہم میں پیدا ہو جائے تو ہمارے بیچ سے بہت سی مشربی بو العجبیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔

(۷) واقعہ ٔ موسیٰ و خضر علیہما السلام میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ا س کشتی میں سوراخ کر دیا جس پر سوار ہو کر دونوں نے دریا عبور کیا تھا، آگے چل کر ایک بچے کو قتل کر دیا ، اس سے آگے بڑھے اور ایک بستی میں پہنچے ، اہل بستی سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے انکار کر دیا، بستی میں ایک ٹیڑھی کمزور دیوار تھی جسے حضرت خضر علیہ السلام نے بغیر کسی اجرت کے درست کر دیا۔ ان تینوں واقعات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعتراض کیا جنہیں اعتراض نہ کرنے کی شرط کے ساتھ حضرت خضر نے اپنی صحبت میں رکھا تھا۔ تیسرے اعتراض کے بعد تینوں واقعات کی حکمتیں بتا کرحضرت خضرحسب شرائط حضرت موسیٰ سے علاحدہ ہو گئے۔ اس واقعہ سے تفسیر اشاری کے طور پر شیخ نے یہ معنٰی لیے ہیں کہ مرشد کا کام یہ ہے کہ وہ دل کی کشتی کو توڑے تاکہ شیطان اس پر قابض نہ ہونے پائے ،نفس امارہ کو قتل کرے جو طفل شریر کی مانند ہے، جو انسان کی گم راہی اور تباہی کا سبب بنتا ہے اور دین کی گرتی دیوار کو بغیر کسی اجرت کے درست کرے، تبلیغ کے اجرکا امیدوار اللہ سے ہو، بندوں سے نہیں۔ ایسا جو کرتا ہے وہی مرشد کامل اور خضر وقت ہے اور اس کے بظاہر خلاف درست افعال و اشغال پر جو خاموش رہے وہی طالب صادق ہے۔ حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کایہ پورا واقعہ سورۃ الکہف(۶۰-۸۲)میں ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔

(۸) محقق علی الاطلاق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی مشائخ کے بظاہر خلاف شریعت امور سے متعلق فرماتے ہیں :’’وہ حضرات جو افراط و تفریط سے الگ راہ اعتدال پر گام زن ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ ایسے اقوال و افعال فی الواقع درست ہیں مگر شرعاً قبیح ہیں اور اس شرعی قباحت کی وجہ ضبط و اختیار کا فقدان اور غلبۂ حال ہے۔ اس کی مثال عالم ظاہر میں ایسے ہی ہے جیسے جب کسی ذی ہوش اور عقل مند آدمی کے اوپر فرحت و غضب کی حالت طاری ہوتی ہے تو اختیار کھوبیٹھتا ہے اور بے خودی میں عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ لہٰذا ایسے اقوال و افعال کو فقط تسلیم کیا جائے جیسا کہ کہاگیا ہے اسلم تسلم۔‘‘ (مرج البحرین، فارسی، ص: ۳۳، ایجوکیشنل پریس، کراچی)

(۹) حدیث پاک ہے: من صمت نجا ’’جو خاموش رہا نجات پایا۔‘‘ (احمد ابن حنبل، عن عبداللہ ابن عمرو، حدیث:۶۰۴۸۱/ ترمذی، صفۃ القیامۃوالرقاق و الورع، باب:۵۰)

(۱۰) ارشاد ربانی ہے :وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا( الحشر: ۷) ’’ رسول جو دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جائو‘‘ علماے ربانیین چوں کہ رسول کے بعد نائبین رسول ہیں ، اس لیے اب امت کے عام افراد پر علماے ربانیین اور اولیاے کاملین کا اتباع لازم ہے ، اس لیے کہ یہی لوگ اولوالامر ہیں۔

(۱۱) موجودہ امت میں فقہی اختلافات سے جو مشربی اور گروہی جنگیں شروع ہیں ان کا حل اس شعر میں موجود ہے۔ ہر شخص مختلف فیہ مسائل میں اپنے شیخ، معتمد شریعت اور قبلۂ طریقت کا اتباع کرے اور دوسروں سے تعرض نہ کرے ، ایسی صورت میں اختلاف امت واقعی رحمت نظر آئے گایا کم ازکم زحمت نہیں بنے گا۔

(۱۲) شیخ نے اس شعر کے ذریعے شخصیت پرستی کی وہ جڑ کاٹ دی ہے جس نے موجودہ دور میں تحقیق و تفکیر کے آلے کو کند کر رکھا ہے ، جس کے نتیجے میں ہر چہار جانب مشربی بوالعجبی اور گروہی عصبیت کا بازار گرم ہے۔ اب علم و تحقیق کے نام پرکنبہ پروری اور گروہ بندی کی قبیح روایت چل پڑی ہے ۔ اے کاش ! علمائے فحول اس گروہی عصبیت ، مشربی بوالعجبی اور شخصیت پرستی کے تعفن زدہ ماحول سے خود کو باہر لانے کی کوشش کرتے ۔ جس طرح ایک عامی اور متوسط پر اپنے بڑے کا اتباع لازم ہے اسی طرح علماے فحول اور فقیہان وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خامۂ تحقیق کو جیب سے باہر لائیں اور نئے دور میں نفاذ شریعت کے لیے قلم اٹھائیں نہ کہ کورانہ تقلیدی روایت کو آگے بڑھانے، ممدوحین وقت کو خوش کرنے اور نفع عاجل کو سمیٹنے کے لیے ۔ شیخ نے جو بات کہی ہے یہی اہل حق کا علمی موقف ہے ،معاصر علما اسی پر قائم ہیں لیکن کاش علما اس موقف کو بیان کرنے کی جرات کر سکتے !

(۱۳) منکرو انکاری ۔یہاں لغوی معنی مراد ہے شرعی و اصطلاحی نہیں۔ یایہاں صوفیہ کی اپنی اصطلاح میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ شیخ نائب رسول ہے ، اس لیے متبعین اور با لخصوص غیر کاملین پر لازم ہے کہ وہ شیخ کا اتباع کریں۔حکم شیخ سے روگردانی بالواسطہ طور پر اس شریعت مطہرہ سے روگردانی ہے جس کی دعوت و اشاعت میں شیخ نیابت رسول کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے عمداً ترک نماز کو کفر کہا گیا ہے، کیوں کہ عمداً ترک نماز بالواسطہ طور پر شریعت محمدی کا خاموش انکار ہے یا بظاہر ایک کافرانہ عمل ہے۔

(۱۴) لَوٹنے والا۔ وعدہ کر کے مکرنے والا ۔ یہاں بھی لغوی معنی مراد ہے یا ارتداد طریقت مراد ہے جس کے بارے میں ایک مقام پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی لکھتے ہیں: ’’پیر پر طعنہ و تشنیع ارتداد طریقت ہے۔ اس سے خلافت در کنار بیعت سے بھی خارج ہو جاتا ہے ۔‘‘( فتاویٰ رضویہ: ۶/۵۵۱،پوربندر گجرات۲۰۰۳ء)

(۱۵) کیوں کہ بد گمانی ارادت کی ضد ہے ۔

(۱۶) قرب نوافل کی روایت میں یہ بات آئی ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے اس بندے کا ہاتھ ، پاؤں اور آنکھ بن جاتا ہے جو بندہ نوافل کے ذریعے حق کا قرب حاصل کر لیتا ہے ۔

(۱۷) ایک عاشق صادق کا شعر ہے : ہمہ شہر پر ز خوباں منم و خیال ماہے چہ کنم کہ چشم بدخو نکند بکس نگاہے

(۱۸) کاش یہ مزاج موجودہ تمام مشائخ اور ان کے تمام مریدوں میں پیدا ہو جائے ! اگر ہر پیر کے تمام مرید اپنے شیخ کو اپنے لیے افضل و برتر مانتے ہوئے دیگر مشائخ کو بھی اپنا شیخ تصور کرنے لگیں تو اس کے جو خوش گوار نتائج سامنے آئیں گے اس کے تصور سے ہی روح جھوم اٹھتی ہے ۔ آج حیرت ہوتی ہے کہ جو لوگ تصوف اور احسان کا نام لے رہے ہیں وہ عام محبت کی بجائے غیریت و تفریق اور تعصب و نفرت کا سبق پڑھ اور پڑھا رہے ہیں۔ کاش نفرت و غیریت کی ان دیواروں کو زمیں بوس کرنے کا ہم حوصلہ کرپاتے !

(۱۹) علامہ سید شریف جرجانی لکھتے ہیں: ’’حق الیقین بندے کا حق میں فنا ہوجانے اور علم و مشاہدہ اور حال کے رو سے حق کے ساتھ باقی رہنے کا نام ہے۔ موت کے بارے میں ایک عاقل کو جو علم ہوتا ہے وہ علم الیقین ہے اور جب وہ موت کے فرشتوں کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کا وہ علم عین الیقین بن جاتا ہے اور پھر جب وہ موت کا مزہ چکھ لیتا ہے تو وہ علم حق الیقین میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ علم الیقین ظاہر شریعت ہے، عین الیقین اخلاص فی الشریعہ اور حق الیقین مشاہدہ فی الشریعہ ہے۔‘‘ (التعریفات)

Previous articleآدابِ شیخ کامل
Next articleسالکین راہِ طریقت کے مابین اختلاف کا بیان
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here