طلبۂ مدارس کے اندرتحقیقی شعور کی تربیت وقت کی اہم ضرورت

0
66
طلبۂ شعبۂ دعوہ ،جامعہ عارفیہ کے تحقیقی مقالات کے خاکے منظور،جامعہ عارفیہ کاعلم وتحقیق کے میدان میں ایک نئی پیش رفت
پریس ریلیز/ سید سراواں، الہ آباد
تحقیق انسانی زندگی کا فطری داعیہ ہے ،جس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعہ حقیقت تک رسائی حاصل کرے اور نئی چیزوں کی دریافت کرتار ہے ۔ساتھ ہی اپنی قوت وفکر اور استعداد کے مطابق پوشیدہ حقائق کی معرفت کے حصول میں بھی کو شاںر ہے ۔طلبۂ مدارس کے اندر تحقیقی شعور کی تربیت اور عملی تحقیق کی مشاقی از حد لازم ہے۔ عام طور پر طلبۂ مدارس کو حفظ و نقل کا عادی بنایا جاتا ہے، جس سے ان کےتخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی شعور کی موت ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ لکیر کے فقیر اور علمی دنیا میں کسی فعال کردار کی انجام دہی سے قاصر رہ جاتے ہیں۔موجودہ زمانہ میں مدارس کو ان کا کھویا ہوا علمی وقار واپس دلانا از حد ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگاجب ہم طلبۂ مدارس کو تحقیق و تنقید کے مفاہیم سے آشنا کریں اورتعلیم کے ساتھ انہیں عملی تحقیق کی بھی مشق کرائیں۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ عارفیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا حسن سعید صفوی نے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۷ءبروزپیربعد نماز مغرب جامعہ عارفیہ میں منعقد ایک تعلیمی میٹنگ میں کیا۔یہ میٹنگ مولانا حسن سعید صفوی کی امارت اورجامعہ کے پرنسپل علامہ عمران حبیبی کی صدارت میں شعبۂ دعوہ کے تحقیقی خاکوں کی منظوری کےسلسلے میں منعقد ہوئی تھی۔
علامہ عمران حبیبی نے بتایا کہ جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں ۲۰۱۲ء سے فارغین مدارس کی دعوتی اور تحقیقی تربیت کے لیے یک سالہ کورس ’’الدبلوم العالی فی الدعوۃ والعلوم الاسلامیہ ‘‘کے نام سے بڑی کامیابی سے جاری ہے۔ سال ۲۰۱۶ء سے یہ کورس دوسالہ کردیا گیا ہے اور سال دوم میں تحقیق اور افتا کو شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کے ذیل میں طلبہ کو اصول تحقیق و تنقید سے واقف کرایا جاتا ہے اور اس کے بعد ان سے باضابطہ تحقیقی مقالہ جات لکھوائے جاتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں عصری دانش گاہوں میں رائج تحقیقی مناہج کی طرز پرپہلے تحقیقی خاکے (Synopsis) تیار کرنےہوتے ہیں اورتحقیقی خاکوں کی منظوری کے بعد کسی استاذ کی نگرانی میں ان سے تحقیقی مقالات لکھوائے جاتے ہیں۔
جامعہ کے نائب پرنسپل مفتی کتاب الدین رضوی نے بھی اس علمی پیش رفت کی تحسین فرمائی اورشعبہ دعوہ کے نوجوان اسکالرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دیگر مدارس اسلامیہ پر بھی جامعہ عارفیہ کی اس علمی پیش رفت کے مثبت اثرات پڑنےکی امید ظاہر کی۔جب کہ مولانا غلام مصطفیٰ ازہری نے سربراہ جامعہ داعی اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کے حوالے سے بتایا کہ اس سال سے شعبۂ دعوہ کے طلبہ کی طرف سے ’’دعوت‘‘ کے نام سےایک سال نامہ بھی جاری کیا جائے گا ، جس میں اس شعبہ کے اسکالرز کے اس قسم کے تحقیقی مقالات شائع ہوں گے۔ 
 واضح رہے کہ گذشتہ میٹنگ میں شریک اساتذہ نے طلبہ کے تحقیقی خاکوں کا بنظر غائر جائزہ لیا، ضروری ترمیمات فرمائیں اور بعد ازاں خاکوں کوحتمی شکل دے کر ان پر کام کرنے کے لیے طلبہ کو اذن و ترغیب دی گئی۔ جن اسکالرز کےتحقیقی خاکے منظور ہوئے ان کی تفصیل اس طرح ہے:محمد گل بہار(حضرت علی سے حسن بصری کا سماع: ایک تحقیقی مطالعہ) ، محمد اشتیاق (اسلام میں مرتد کی سزا: ایک علمی مطالعہ، بعض علمائے متاخرین کے حوالے سے) محمد اختر تابش (توسل واستعانت کے حوالے سے شیخ ابن تیمیہ کے افکار کا تنقیدی مطالعہ) محمد رئیس احمد (طلاق ثلاثہ پر پیر کرم شاہ ازہری اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تحقیقات کا تنقیدی اور علمی جائزہ) ۔ ان مقالات کی نگرانی بالترتیب مولانا حسن سعید صفوی، مفتی محمد رحمت علی مصباحی، مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی اور مولانا ذیشان احمد مصباحی فرمائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here