شکرہزار نعمت ہے

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شکر جیسی انمول نعمت دے کر اُن پر بڑا فضل فرمایا ہے ۔بندہ اگر اس نعمت کوسچے دل سے اپنا لے تو یقیناًا س کی زندگی نہایت اطمینان و راحت اور سکون کے ساتھ گزرے گی۔اس کے علاوہ اوربھی بہت ساری ایسی نعمتیں عطاکی گئی ہیں کہ بندہ چاہ کر بھی اُنھیں شمار نہیں کرسکتا ہے،خود اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَاِنْ تَعُدُّ وْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا۝۱۸(سورہ ٔنحل)
ترجمہ:اگرتم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرناچاہوتوشمار نہیں کرسکو گے۔

جس طرح بندہ اپنے رب کی نعمتوں کو گن/شمار نہیں سکتا ہے ویسے ہی ان نعمتوں کا شکر بھی نہیں اداکرسکتا ہے۔کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے ،بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کوجان کی شکل میں جوایک نعمت بخشی ہے ،صرف اسی پر غورکریں تودو باتیں صاف طور پر نظرآتی ہیں جو ہرحال میں انسان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں:
۱۔ سانس کا اندرجانا
۲۔ سانس کا باہر آنا

انسان صرف اِن ہی دونعمتوں کا شکر اداکرے تواُس کی پوری زندگی ختم ہوجائے گی لیکن وہ اِن دونعمتوں کا شکر ادانہیں کرسکے گا،چہ جائے کہ وہ دوسری نعمتوں کا شکر اداکرے ،مگر ہاں!یہ کوشش ضرور ہو کہ انسان ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر کرنے میں لگارہے۔اس سے انسان کو دوفائدے حاصل ہوں گے:
ایک یہ ہے کہ شکر اداکرنے کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کا ناشکرا بندہ نہیں کہلائے گا ۔
دوسرا یہ ہےکہ شکر جیسا محبوب عمل کرکے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا حقدار بنے گا،اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کے تعلقات مضبوط تر ہوں گے۔

 اور جب وہ اِس عمل کا عادی ہوجائے تواللہ تعالیٰ بھی اُس کی شہرت اورمقبولیت کوعام فرمادے گا ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
فَاذْکُرُوْنِی اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَاتَکْفُرُوْنِ۝۱۵۲(سورۂ بقرہ)
ترجمہ:تم مجھے یادکرومیں تمھیں یادکروںگااورمیراشکرکرو ،اور ناشکری سے بچو۔

شکر کرنے والوں کے لیے ہرلمحہ نعمتوں میں ہمیشہ اضافہ ہوتا ہے، جب کہ ناشکری کرنے والوں کے لیے سخت نقصان ہے ، کیوں کہ ناشکری اللہ تعالیٰ کو پسندنہیں ہے اور جس عمل کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرمائے،اس عمل کے کرنے والے نقصان کے علاوہ اور کس چیز کے حقدارہوسکتے ہیں؟  قرآن مقدس میں ہے:لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۝۷(سورۂ ابراہیم)
ترجمہ:اگر تم شکراداکروگے تو میں تمھیں اوردوںگا اور اگر ناشکری کروگے تو میرا عذاب سخت ہے۔

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا بے حد پسند تھا۔تمام انبیاومرسلین کے سرداراوراللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کے باوجود آپ شکر الٰہی اداکرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتےتھے۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ اکثرعبادت وریاضت میں مشغول رہاکرتے تھے ۔ جب پوچھا جاتا کہ آپ تو اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کوتمام مخلوقات پرفضیلت بخشی ہے، پھر اس قدر عبادت وریاضت کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر حضور اکرم سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے :
أفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًاشَکُوْرًا۔ (صحیح بخاری،کتاب التہجد،باب قیام النبی ﷺ حتی ترم، حدیث:۱۱۳۰)
ترجمہ: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگذاربندہ نہ بنوں؟

اس سے معلوم ہوا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ ا ورمقام پر فائز ہو جانے کے بعد بھی انسان کو شکرگزاربندہ بنناچاہیے،اسی میں بھلائی ہے،کیوں کہ یہی تمام انبیاومرسلین کا عمل رہا ہے ، نیز یہی تمام صحابہ اورتمام اولیائے کرام علیہم الرحمہ کا وظیفہ رہا ہے۔

عام طور پرانسان ،شیطان کے بہکاوے میں آکرہلکی سی تکلیف میں بھی ناشکری کر بیٹھتا ہے ،جب کہ اس کے پاس دوسری تمام طرح کی نعمتیں موجود رہتی ہیں۔دراصل شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے اوروہ ہمیشہ اسی کوشش میں لگارہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بند ے کو ناشکرا بنادے اور اُس کو اللہ تعالیٰ سے دور کردے ،لیکن جو اللہ کا نیک بندہ ہوتا ہے اورجو ہمہ وقت شکر گزاری میں لگا رہتا ہے، اُس پر شیطان کا کوئی بھی حربہ کارگر نہیں ہوتا۔ایسے ہی شکرگذار بندوں کے لیے یہ خوش خبری سناتے ہوئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اَلطَّاعِمُ الشَّاکِرُ بِمَنْزِلَۃِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ۔(صحیح بخاری،کتاب الاطعمہ، باب الطاعم الشاکر…)
ترجمہ: کھانا کھاکر اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرنے والا ،اس روزے دار کی طرح ہے جس نے کھا نے سے صبر کیا ہو۔

گویا شکر ادا کرنا بھی ایک عظیم عبادت ہےجس کا بدلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کوبے شمارعطافرماتاہے،اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر چھوٹی بڑی نعمت کے بدلے شکر ادا کرنے کی عادت ڈالے ،مثلاًگھرمیں کوئی اچھی چیز دیکھے تو شکر ادا کرے، اچھا کھانا پینا میسر ہوتو شکرادا کرے،گرمی میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا پائے توشکراداکرے ،کوئی کام پورا ہوجائے توشکر ادا کرے،سفرسےصحیح سلامت وطن لوٹ آئے تو شکراداکرے، غرض کہ ہر وہ عمل جس سے خوشی، راحت اورسکون کا احساس ہواُس پر شکر اداکرنا چاہیے ۔

یہ شکر ادا کرنے ہی کی  برکت ہے کہ تمام انبیااورمرسلین کے بہت سارے اعمال عبادت کے خانے میں رکھے گئے ہیں، مثلاً:حج کے موقع پر ’’مقام ابراہیم‘‘ میں جو دورکعت نماز ادا کی جاتی ہے،وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شکرانے کی یادگار ہے جو اُنھوں نے تعمیر کعبہ کی خوشی میں بطور شکراداکیاتھا۔ رمضان میں پورے ایک مہینے روزہ رکھنے کے بعد جو دورکعت نماز ادا کی جاتی ہے وہ بھی شکرانے والی عبادت ہے۔
اس کے علاوہ آج دنیا میں بھی جب کوئی انسان دوسرے انسان کے ساتھ کچھ بھلائی کرتاہے ،یااس کی مددکرتا ہے ،یااس کا بگڑاہوا کام بنادیتا ہے تووہ انسان فوراََاپنے بہتر سے بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے Than Youیا ’’شکریہ‘‘ کہے بغیرنہیں رہتا،توجب وہ مالک حقیقی جس نے تمام انسانوں کو پیدا فرمایا،عزت وعظمت دی ،طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا، ہر طرح سے انسان کی مددکرتارہتاہے اور تاقیامت اسی طرح مدد کرتارہے گا،پھراُس کا شکر کیوں نہ اداکیا جائے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر ادا کرنا نہ صرف مذہبی اعتبار سے اہم ہے بلکہ سماجی اور معاشرتی اعتبارسے بھی صلاح وفلاح کا بہترین ذریعہ ہے، کیوں کہ اس کے سبب جہاں اللہ تعالیٰ اپنے انعامات واکرامات سے نوازتاہے وہیں آپس میں ایک دوسرے کے لیے محبت اوربھائی چارے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ شکراداکرنے کی توفیق بخشے ۔ (آمین بجاہ سید المرسلین)

(ماہنامہ خضرراہ، شمارہ: مئی2012)

Previous articleدعوت اور عام زندگی
Next articleBeautiful Pictures of Daiye Islam Sheikh Abu Saeed Shah Ehsanullah Muhammadi
ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
ڈاکٹر محمد جہانگیر حسن مصباحی صوبہ بہار کےضلع چمپارن سے تعلق رکھتے ہیں ۔آپ کی پیدائش ۱۹۸۰ءمیں ضلع سیتامڑھی میں ہوئی ۔آپ کی تعلیم جامعہ اشرفیہ مبارکپورضلع اعظم گڑھ سے ہوئی۔وہاں سے۱۹۹۷ءمیںفراغت کے بعد آپ نے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا اوربی اے اور ایم اے سے فراغت کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔الہ آباد کے ہی ایک عظیم فکشن نگار اعظم کریوی کی ادبی خدمات پر آپ نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ موصوف دینی وعصری دونوں علو م سے آراستہ ہیں۔ عہد طالب علمی سے ہی تحریر و قلم کا ذوق رکھتے ہیں ۔اس وقت سے اب تک مسلسل لکھ رہے ہیں۔زود نویس بھی ہیں اور خوب نویس بھی ۔ فی الحال جامعہ عارفیہ،سید سراواں، الہ آباد میں درس وتدریس کے فرائض پر مامور ہیں اور ماہنامہ ’’خضر راہ ‘‘کے ایڈیٹر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here