Monday, January 30, 2023

شریعت ، طریقت، حقیقت اور معرفت

یوں شریعت اور طریقت کا امام
 دے رہا ہے دعوتِ حق کا پیام
 اے عزیز من شریعت قال ہے
 اور طریقت فعل، حقیقت حال ہے
 معرفت (۱) اس حال کا انجام ہے 
جو خدا کا فضل اور انعام ہے
 فضل گر خواہی ازو غافل مشو و
ز علومِ معرفت جاہل مشو 
بس یہی تخلیق کی بنیاد ہے(۲)
 زندگی بے معرفت برباد ہے
جو حقیقت سے ہے اپنی بے خبر
 زندگی اس کی ہے مثلِ گاؤ خر 
گاؤ خر سے بھی ہے بدتر وہ بشر
 جو حقیقت سے ہے اپنی بے خبر


(۱) شریعت ، طریقت ، حقیقت اور معرفت کی شیخ نے بہت ہی مختصر اور واضح تشریح فرمائی ہے-امام احمد رضا فاضل بریلوی نے فتاویٰ رضویہ میں اسی سے ملتی جلتی تشریح فرمائی ہے، لکھتے ہیں: ’’ شریعت ، طریقت، حقیقت ، معرفت میں باہم اصلاً کوئی تخالف نہیں، اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نرا جاہل اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بددین- شریعت حضور اقدس ﷺ کے اقوال ہیں اور طریقت حضور کے افعال اور حقیقت حضور کے احوال اور معرفت حضور کے علوم بے مثال-‘‘ ( فتاویٰ رضویہ : ۲۱/۴۶۰)

(۲) ارشاد خدا وندی ہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ(الذاریات: ۵۶) ’’میں نے جناتوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیداکیا-‘‘ حافظ ابن کثیر اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: یعنی میں نے انہیں اس لیے پیدا کیا تاکہ میں انہیں اپنی عبادت کا حکم دوں، نہ اس لیے کہ ان کی مجھے ضرورت ہے- اور علی ابن ابی طلحہ نے إِلَّا لِیَعْبُدُون کے تعلق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے: ’’تاکہ اس لیے کہ وہ بخوشی یا بالاکراہ میری عبادت کا اقرار کریں- یہ ابن جریر کا مختار ہے جب کہ ابن جریج نے اس کے معنی الا لیعرفون (تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں) بتائے ہیں- (ابن کثیر:۴/۲۱۷، بیروت)

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles