شرائطِ شیخی و درویشی

0
27

 جو نہ ہو مستغرقِ باری تمام 
اُس سے بیعت اور نسبت ہے حرام
 اُسوۂ حسنہ کا جو حامل نہیں 
شیخ درویشی میں وہ کامل نہیں
 صاحب علم و عمل ہو شیخ دیں 
پیکرِ صدق و صفا صاحب یقیں
 اہل سنت والجماعت سے ہو شیخ
 شیخِ کامل کی اجازت سے ہو شیخ
 علم و عقل و عشق کی دولت بھی ہو 
صاحبِ دل صاحبِ ثروت (۱) بھی ہو 
علمِ ظاہر اور باطن ہو جسے 
صاحبِ ارشاد کہیے بس اُسے 
علم اتنا ہو کہ غور و فکر سے
 اختلافی مسئلے کو حل کرے
 فانی و باقی ہو جو مردِ خدا 
بس وہی صوفی ہے با صدق و صفا 
قال(۲) با حال ست نور آگہی
 قال بے حال ست دودِ گمرہی 
علم سے تقویٰ کو حاصل کر اخی 
گر نہ ہو تقویٰ تو علم ہے گمرہی 
یاد رکھ اس بات کو اے ناخلف 
ہے اصولِ دین تقلیدِ سلف(۳) 
لیکن ایماں میں تحقق(۴) چاہیے 
اس قدر فکر و تعمق چاہیے
 اختلافی مسئلہ میں سر بسر
احتیاط و تقویٰ پہ رکھے نظر
 یہ اصول ہر وقت ہو پیشِ نظر
 اے پسر خُذْ مَا صَفَادَعْ مَا کَدر(۵) 
زہد درویشی کا زیور ہے میاں
 اور تقویٰ اُس کا بستر ہے میاں
 زہد و تقویٰ سے مزین جو نہ ہو
 اس کو درویش و قلندر مت کہو
 زہد کا مقصد ہے ترکِ ما سوا
 اور تقویٰ ہر نفس خوفِ خدا 
خوف ہے قربِ خدا کا وہ مقام 
جس میں لغزش معصیت غفلت حرام
 خوف ہو اس درجہ غالب قلب پر
 اپنی ہستی سے بھی اُٹھ جائے نظر
 بس اُسی کو صاحبِ تصدیق جان 
جس کا سینہ علم و حکمت کی ہو کان
 جو کرے پابندی اکلِ حلال
 اور ہو جو پیکرِ صدق مقال 
صوفی کامل وہی ہے اے سعید!ؔ 
مثلِ شبلی و جنید و بایزید

(۱) شیخ الاسلام حضرت فریدالدین گنج شکرعلیہ الرحمہ نے شیخ کامل کی شرائط میں علم کامل ، عقل کامل اور عشق کامل کو لازمی قرار دیا ہے۔ شیخ، عصر حاضر کے احوال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں ’’ مال کامل‘‘ کی شرط کا اضافہ کرتے ہیں، تاکہ شیخ کو ہمہ دم اپنے مریدوں کی جیب پر نظر نہ کرنی پڑے۔

(۲) بقول مولانا روم : علم را برتن زنی مارے بود علم را بردل زنی یارے بود 

(۳)  تقلید ائمہ اربعہ پر ان ائمہ کے زمانے کے بعد امت کا اتفاق ہو گیا۔ تمام بڑے بڑے محدث ، فقیہ ، مفسرسب کے سب گزشتہ ہزار سالوں سے مقلد رہے ہیں اور تمام علما نے چار اماموں میں سے کسی ایک کی تقلید کے واجب ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ اس لیے بطریق اجماع امت تقلید واجب شرعی ہے۔ اگر شیخ اس سے منحرف ہو تو وہ اہل سنت و جماعت سے نہیں ٹھہرے گا۔ کیوں کہ اصول شریعت میں شیخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جمہور علمائے اہل سنت کے مسلک و موقف پر ہو۔ اصول میں تفرد گمراہی ہے۔ ہاں بعض فروعی مسائل میں اگر شیخ صاحب رائے ہے تو حرج نہیں، کیوں کہ فروعیات میں تحقیق کبھی بھی شجر ممنوع نہیں رہی ہے، ہر ذی علم صاحب نظر کو اس کا حق ہے۔

(۴) تقلید سلف صرف فقہیات فروعیات میں واجب ہے۔ ایمانیات میں ضروری ہے کہ خود کو صحیح عقائد کا یقین حاصل ہو۔ یقین کے تحقق کے بغیر کوئی اسلاف کا اصول میں مقلد نہیں کہلائے گا بلکہ یقین کے فقدان کے سبب وہ گمراہ و بد دین ہو جائے گا۔  ایمان کے اندر ایقان ضروری ہے، محض تقلید نہیں۔ البتہ یہ ایقان انہیں اصول کی روشنی میں ہو جن پر علماے سلف قائم رہے ہیں۔ اصول میں تفرد گمراہی ہے۔

(۵) ’’اچھی بات لے لو اور غیر مناسب کو چھوڑ دو‘‘ شیخ اپنی مجلس میں ذی علم و ذی شعور مریدوں کے سامنے بھی اس کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ کمال احتیاط و کمال تواضع ، نیز شخصیت پرستی کے خلاف شعوری تحریک ہے۔

Previous articleشانِ علماے بر حق
Next articleآدابِ مریدین
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here