شانِ علماے بر حق

0
29

 عالم باﷲ(۱) وہ کہلاتا ہے
 جس کی صحبت میں خدا یاد آتا ہے 
جس(۲) کی سیرت میں ہو بوے احمدی 
جس کی صورت میں ہو شانِ حیدری 
جو سراپا پیکرِ اخلاق ہو 
رویتِ باری کا جو مشتاق ہو
 صاحب احسان ہو جو بے ریا 
نور سے معمور ہو سر تا بپا 
ماسوا(۳) درویشِ کامل کے کوئی
دہر میں ہرگز نہیں ہے مولوی 
عالمِ برحق ہے صوفی با صفا
 در حقیقت جانشینِ مصطفی 
صوفی و صافی ہے جو مردِ ذکی
 ظاہر و باطن میں ہے عالم وہی 
حاملِ علمِ نبوت ہے وہی 
صاحب کشف و کرامت ہے وہی
 در حقیقت وہ ہے اک ایسی کتاب 
حجت و برہانِ حق ہے جو جناب
 اس کا سینہ علم و حکمت کی ہے کان
 اور حدیثِ مصطفی اس کی زبان
 نورِ حق سے دیکھنے والا ہے وہ
اور اسی سے گویا و شنوا ہے وہ 
سربسر (۴) بِی یَبْصُرُ کی شان ہے 
 بے خطر بِی یَنْطِقُ ہر آن ہے
 بے گماں بِی یَبْطِشُہے اُس کا حال
 مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ کی مثال(۵)

(۱) خیارکم الذین اذا راؤا ذکر اللّٰہ ’’تم میں اچھے وہ ہیں جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔ (شعب الایمان ۷/۴۹۴، حدیث:۱۱۱۰۰۸)

(۲) اس لیے جو نقش کف پاے رسول کے اتباع سے دور ہو وہ عالم بر حق نہیں ہو سکتا ، جبہ و دستار کا اوڑھنا اور علمائے اہل سنت میں شمار ہونا عالم بر حق ہونے کے لیے کافی نہیں۔

(۳) عارف رومی فرماتے ہیں: مولوی ہستی و آگاہ نیستی از کجا و تا کجا و کیستی (تم مولوی ہو اور تمہیں معلو م نہیں کہ تم کون ہو ؟ اور تمہارا آغاز و انجام کیا ہے؟)

(۴) حدیث قرب نوافل کی طرف اشارہ ہے۔

(۵) پوری آیت یوں ہے : وَمَا رَمَیْْتَ إِذْ رَمَیْْتَ وَلَـکِنَّ اللّہَ رَمَی( الانفال: ۱۷) ’’اے نبی! وہ خاک آپ نے نہیں پھینکی جب آپ نے پھینکی ،بلکہ اﷲ نے پھینکی۔‘‘علمائے برحق چوں کہ نبی کے نائبین ہیں ،اس لیے نبی کی طرح ان میں اس تاثیر کا ایک حصہ ضرور پایا جاتا ہے۔

Previous articleفضیلت ِ فقر و تصوف
Next articleشرائطِ شیخی و درویشی
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here