شانِ بشریت کا بیان

0
27

ہے بشر لیکن مبشر اور بشیر 
مثلِ قرآں بے مثال و بے نظیر
 وہ بشر ہے اس طرح سے اے اخی 
اژدہا جیسے عصاے موسوی 
وہ(۱) بشر عینِ تجلّی ہے یونہی 
حضرتِ جبریل جیسے آدمی 
گر چہ ظاہر میں ہیں کلبی بالیقیں 
پر حقیقت میں تو وہ کلبی نہیں
 وہ بشر ایسا بشر ہے بالیقیں
جس کے آگے سر بہ خم روح الامیں
 وہ بشر ہے با خدا بے شک بشر
 پر حقیقت میں نہیں مثلِ دگر
 اس کا کوئی مثل اور ثانی نہیں 
وہ سراپا نورِ ربُّ العالمیں 
گر چہ سر تا پا ہے مخلوقِ خدا 
پر حقیقت میں ہے نورِ کبریا 
حامل ہر دو جہت اُس کا وجود 
مجمع البحرین ہے جس کی نمود 
اک جہت اس کی بشر ہے با خدا 
دوسری اس کی جہت نورِ خدا 
گر بشر کی شکل میں آتا نہ وہ 
ابنِ عبد اﷲ بن جاتا نہ وہ 
کون پھر نورِ خدا کو دیکھتا 
کون اسرارِ حقیقت جانتا 
کون بے دیکھے خدا کو مانتا 
کون اس کی ذات کو پہچانتا 
دیکھنے کے بعد الفت ہوتی ہے
 اور الفت سے محبت ہوتی ہے 
بے محبت معرفت ممکن نہیں
 مقصدِ تخلیق ہے جو بالیقیں
 اس لیے وہ نور بے چون و چرا 
صورتِ بشری میں ظاہر ہو گیا

(۱) شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:’’انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃو السلام حق تبارک وتعالیٰ کے اسمائے ذاتیہ سے پیداکیے گئے ہیںاور اولیائے کرام اسمائے صفاتیہ کی مخلوق ہیں-بقیہ ساری کائنات صفات فعلیہ سے پیداہوئی ہے-سیدالمرسلین صلوۃ اللہ تعالیٰ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین ذات حق سے مخلوق ہیں اور ظہورحق آپ میں بالذات ہے-‘‘(مدارج النبوۃ:ـ۲/۱۰۵۰)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here