شانِ اولیا ء اﷲ

0
64

 ہو چکے ہیں ذاتِ حق میں جو فنا(۱)
 خود بقائے حق سے ہے ان کی بقا(۲)
 کون کہتا ہے خدا سے ہیں جدا
 انبیا و اولیا و اصفیا 
مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ(۳) را ببیں 
ہم یَدُاﷲ فَوْقَ اَیْدِیْھِم(۴) چنیں 
چونکہ مردِ حق فنا فی اﷲ شد 
رفت بشریت بقا باﷲ شد(۵)
 قطرہ دریا سے ملا دریا ہوا 
بندہ مولیٰ سے ملا مولیٰ ہوا 
جب قلم(۶) تخمی میں قلمی کالگا 
بے خطر تخمی سے قلمی ہو گیا 
انبیا سے اولیا تک اے اخی
بس قلم لگتی چلی آئی یونہی
 دستِ بیعت اور نسبت اے پسر
 صورت و شکلِ قلم ہے سر بسر
 انبیا و اولیا سر تا بپا 
نفس کی خواہش سے ہوتے ہیں جدا

(۱) جن کی اپنی خواہشات فناہوچکی ہیں۔

(۲) اب وہ مرضی مولیٰ کے بغیرکچھ نہیں کرتے۔ انبیا،اولیااوراصفیاکی شان امتیاز ہی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بشری خواہشات کوفناکردیا۔ ان کے حرکات وسکنات کی محرک مشیت الٰہی کے سوا کچھ اورنہیں ہوتی۔ 

(۳) وَمَا رَمَیْْتَ إِذْ رَمَیْْتَ وَلَـکِنَّ اللّہَ رمیٰ(الانفال:۱۷)’’وہ خاک آپ نے نہیں پھینکی جب آپ نے پھینکی،بلکہ اﷲ نے پھینکی‘‘ 

(۴) إِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللَّہَ یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ (الفتح:۱۰) ’’جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں یقینا وہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔‘‘ 

(۵) بشریت سے مرادانسان کی فطرت خطاہے۔ فنافی اللہ ہونے کے بعدمردحق کی خواہشات کے بت ٹوٹ جاتے ہیں۔اب حق کی مرضی اس کی مرضی بن جاتی ہے۔ یایہ مطلب ہے کہ اسے اپنے وجودکی خبرنہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ یاد خدامیں ڈوباہوتاہے۔ اسے اپنے وجود کااحساس تک نہیں رہتا۔ یااس کااشارہ اس مشہور حدیث کی طرف ہے، جس میں کہا گیاہے کہ بندہ نوافل کے ذریعے خداسے اتناقریب ہوجاتاہے کہ خدا اس کادست وبازو اورنگاہ بن جاتاہے،جس سے وہ پکڑتا اور دیکھتا ہے۔ صوفیہ اپنی مخصوص اصطلاح میں اس قرب کو قرب نوافل کہتے ہیں۔ اس میں بندے کے عمل کو اسی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا ذکر بطور سبب و آلہ ہوتا ہے جس کے توسط سے بندہ اپنا عمل کرتا ہے۔ مقام قرب کا ایک درجہ اس سے بھی بلند ہے۔ اسے قرب فرائض کہتے ہیں۔ اس میں بندے کے عمل کو براہ راست خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور بندے کا ذکر بطور آلہ کے ہوتا ہے، جیسا کہ وَمَا رَمَیْْتَ إِذْ رَمَیْْتَ اور یَدُ اللَّہِ فَوْقَ أَیْْدِیْہِمْ جیسی آیات میں ہے۔ یہ آیات نبی کریم ﷺ کی بلندی قرب کے سلسلے میں وارد ہیں ، جس کا ایک حصہ آپ ﷺکے نائبین کو بھی عطا ہوتا ہے۔

(۶) شاخ ،ٹہنی،جو ایک درخت سے کاٹ کر دوسرے درخت میں لگاتے ہیں، یا کاٹی ہوئی وہ ہری شاخ جسے زمین میں پودا تیار کرنے کے لیے لگاتے ہیں، مثلاآم کاپودا جوآم کی گٹھلی سے زمین سے نکلتاہے،اس کوبارآوربنانے کے لیے اس کی ایک شاخ تراشتے ہیںاوراسے آم کے درخت کی کوئی شاخ تراش کر اس کے ساتھ ملادیتے ہیں۔ اب تخمی پودا قلمی پودا میں تبدیل ہوجاتاہے اوراس طرح اس میں پھل آنے لگتے ہیں۔ اولیاے کرام بیعت ونسبت کے ذریعہ اپنے اسلاف سے ہوتے ہوئے پیغمبرعلیہ السلام سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس طرح ان کی مثال تخمی پودے سے تبدیل ہوکر قلمی پودے کی ہوگئی ہے۔ وہ بظاہر اپنے عہد کی پیدا وار ہوتے ہیں لیکن بیعت و نسبت کے توسط سے سر چشمہ ٔ نبوت سے سیراب ہوتے ہیں اور پھر ان سے وہی چشمۂ شیریں آگے کی طرف جاری ہو تا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here