شیخ کی تحکیم اور مشائخ کی تعظیم

0
52

۶؍دسمبر ۲۰۰۹ ء/ ۲۰؍ ذی الحجہ ۱۴۳۰ھ بروز اتوار بعد نماز ظہرمرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی،محب محترم مولانا اشتیاق عالم مصباحی ، حضرت قاری بشیرقادری اور دیگر چند نووارد علما بھی تشریف فرما تھے۔مرشد گرامی نےمختلف مسائل پر گفتگو فرمائی،درمیان گفتگویہ بات بھی آئی کہ بعض بزرگوں نے اپنے مریدوں سےیہ فرمایا کہ دوسرے شیخ کی محفل میںنہ جائو، اپنے شیخ کو کافی جانو اور اپنے شیخ کی محفل کو ہی لازم پکڑو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مرید اپنے شیخ کے علاوہ دوسرے شیخ کی محفل میں جائے گا اور دوسرے شیخ کے اندر اپنے شیخ کے اعمال و عادات کے خلاف کوئی عمل یا عادت دیکھے گا تو بدظن ہوگا،اعتراض کرے گا ،ممکن ہے کہ دوسروں سے اس کاذکر کرے اور غیبت کا شکار ہو،اس طرح سے خود بھی گناہ گارہوگا اور دوسروں کو بھی مشائخ کے تعلق سے بدگمان کرے گا، ایسا بھی ہوسکتاہے کہ دوسرے شیوخ کا امتحان ہی لینے لگے یا اپنے شیخ کی محبت میں مغلوب ہونے کی وجہ سے کوئی ایسا سلوک کر جائے جو شریعت وطریقت میں مذموم ہو،کبھی اس کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے کہ دوسرےشیخ کی عظمت کو دیکھ کر اپنے شیخ کوہی حقیر جاننے لگےاور شرائط شیخی کے جامع اپنے ہی شیخ سے بدظن ہوجائےیا اس کی ارادت میں کمی آجائے،جو اس کے حق میں سخت محرومی کا باعث ہوگا۔ اس طرح کی خرابیوںسے بچانے کے لیے ہی بعض مشائخ نے اپنے مریدوں کودوسرے شیخ کی خدمت میںجانے سے منع کیاہے،ان کا منع کرنا حکمت اورتربیت پر مبنی ہے ،نہ کہ بغض وحسد پر۔
مقصدیہ ہے کہ اپنے شیخ کی تحکیم اور دوسرے تمام مشائخ کی تعظیم ضروری ہے،یعنی اپنے شیخ کو اپنے معاملات کافیصل اور حاکم بنایا جائے اور دیگر تمام مشائخ کا احترام کیا جائے، جس طرح ایک امام کی تقلید کی جاتی ہےاور دیگر سبھی اماموں کی تعظیم کی جاتی ہے۔مگر افسوس کہ کچھ لوگ مشائخ کی اِس حکمت سے واقف نہیں اور مشائخ کے اس طرح کے اقوال پر زبان دراز کرتے ہیں ۔ طریقت میں دوسرے مشائخ کے پاس جانا، اگر مطلقاً منع ہوتا تو اس میں طلبِ بیعت کا کوئی باب ہی نہ ہوتا۔اللہ مشائخ کے احوال و اقوال کی حقیقت سے آگاہ فرمائے ۔(آمین)

خضرِراہ ، جون ۲۰۱۴ء

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here