شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتما م مختلف علاقوں میں ریلیف کیمپ اور امداد کا سلسلہ جاری

0
42
بہار میں آئے سیلاب متاثرین افراد کی ا مداد 
 خانقاہ عارفیہ کی سماجی اور رفاہی تنظیم شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتما م مختلف علاقوں میں ریلیف کیمپ اور امداد کا سلسلہ جاری
پریس ریلیز(۲۵؍اگست،کوشامبی،الٰہ آباد)
قرآن حکیم میں بتایا گیا ہے:جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے تمام انسانوں کی حفاظت کی۔ انبیا علیہم السلام کی سیرت انسانوں کی خدمت اور ان کی ہدایت ہی سے عبارت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:پوری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ وہ محبوب ہے جو اس کی مخلوق کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔نیز حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالی اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائیوں کی مدد میں لگارہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ اللہ کے بندوں کی خدمت اور ہدایت ہی سے متعلق ہے۔اسی جذبے سے سرشار ہوکر داعی اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ صفوی نے بہار میں آئے سیلاب سے متاثرین افراد کی مدد کے لیے ایک ٹیم مولانا رفعت رضا نوری کے ساتھ روانہ فرمایا۔یہ ٹیم شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے ماتحت پوری تندہی کے ساتھ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ۱۹؍اگست کو خانقاہ عارفیہ سید سراواں سے روانہ ہوئی اور اب تک مصروف عمل ہے۔ اس ٹیم نے بہار کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ سیمانچل کا رخ کیااور وہاں پر پندرہ سو سے زیادہ افراد تک رسائی حاصل کی اور ان کو ریلیف کے پیکیٹس، نقد رقم، کپڑے پہنچائے، ٹیم  نے خاص طور سے ندیوں سے گھرے ہوئے علاقوں کی طرف خصوصی توجہ دی اور دوسرے علاقوں کےمستحقین تک امداد پہنچانے کی کوشش کی۔
پوری ٹیم تقریبا تیس سے زیادہ افراد پر مشتمل تھی ،جن میں خانقاہ کے افراد اور دارالعلوم تاج الشریعہ مدھوبنی کے اساتذہ و طلبہ شامل تھےیوں ہی دارلعلوم اہل سنت، جنتاہاٹ کے سربراہ بابااحسان الحق صاحب ، ان کے اساتذہ و طلبہ اور کشن گنج کے مقامی افراد نے بھرپور حصہ لیا۔ بابا صاحب نے پوری ٹیم کو اپنے مدرسے جگہ دی اور مدد کی۔ریلیف کی تقسیم کے لیے علما وطلبہ کی قیادت میں مقامی لوگوں کی مدد سے تقریبا بیس وفود مختلف علاقوں میں بھیجے گئے،مقامی افراد کے ذریعے حقیقی مستحقین کی لسٹ تیار کروائی گئی ،جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل تھے بلکہ غیر مسلموں میں ہریجن اور دلت سمیت پچھڑی ذاتیوں تک خصوصی رسائی حاصل کی۔ان میں بہت سارے وہ لوگ بھی تھے جن کا گھر بار ختم ہوچکاتھا، بیوہ اور مساکین جو پہلے سے ہی نادار تھے ان کا ہرسہارا ٹوٹ گیاتھا۔کشن ضلع میں کُرہیلی، لَوچا، ماٹیہاری، درگا پور، دوہمونی،چندوار، مالٹولا، ہلدی خورہ چندوار، روحیہ، بھورادہ، مہیارپور، گانگی،جُریل، مورمیلا، بشن پور، گنہ سمیسر، بنگواں، نٹواپارہ، بھوپلا، تیگھریا، بریجان اور دیگر علاقے قابل ذکر ہیں۔ جب کہ پورنیہ ضلع میں بَیرا، بائسی ٹولہ، بریلی، پانی سدرہ اور دیگر دورافتادہ دیہاتوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔سچی بات یہ ہے کہ ریلیف ٹیم نے جن تک رسائی حاصل کی وہ بھی بہت تھوڑے لوگ تھے البتہ خوشی اس بات سے تھی کہ کچھ مستحقین اور اہم لوگوں تک پہنچ سکے اور ان کے دکھ درد کو شیر کرسکے ۔
سیمانچل کے تمام اضلاع میں ابھی بھی متاثرین کی تعداد میں کمی نہیںآئی ہے جن تک امداد پہنچانے کی سخت ضرورت ہے، جو نقصانات ہوئےہیں اس کی تلافی کے لیے مسلم تنظیموں اور خانقاہ اور مدارس کے لوگوں کو  ٓاگے آنا چاہیے۔اب تک متاثرہ افراد ہماری مدد کرتے تھے، آج جب ان پہ ہی مصیبت آن پڑی ہے ، تو ان کے ٹوٹے  ہوئے دل اور حسرت بھری نگاہیں ہم پہ ٹکی ہوئی ہیں ،ایسے وقت میں اہل خانقاہ اور اصحاب ثروت افراد کو آگے بڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔ مبارک باد ان تنظیموں ،خانقا ہوں اور افراد کی ہمتوں کو جو اس وقت مصیبت زدوں کی دستگیری کر رہے ہیں ۔ پوری ریلیف ٹیم داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی صاحب سجادہ خانقاہ عافیہ سید سراواں، الہ ٓاباد کی شکر گذار ہے،جنھوں نےٹیم کو روانہ کیا،سرپرستی کی اور سیلاب زدگان کے حق میں دعاوں کے ساتھ مسلسل خبر گیری کرتے رہے ،دار العلوم تاج الشر یعہ کے اساتذہ ، طلبہ علاوہ دیگر تمام مقامی اور غیر مقامی رضا کا ر وں کاجو مولانا عارف اقبال مصباحی کی قیادت میں خلوص کے ساتھ کام کرتے رہے ، خاص شکریہ تمام معاونین کا جن کے تعاون سے یہ سب کچھ انجام پایا ۔اس وقت یہ ٹیم متھلانچل کے ضلع ممدھونی اور دربھنگہ کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی تقسیم کررہی ہے ،میڈیکل کیمپ بھی لگا چکی ہے اور مریضوں تک دواوں کی رسائی میں لگی ہوئی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here