سماع اور وجد ورقص کے حوالے سے مشائخ کے معمولات کا جائزہ

0
363
خانقاہِ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد اور اس کے شیخ داعیِ اسلامی شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی سے شناسائی اور وابستگی کے کل دس سال پورے ہوگئے۔ ۲۰۰۷ء میں پہلی بار پہلے یوم غزالی کے موقع پر بطور مہمان خصوصی میری شرکت ہوئی تھی۔ اس سے پہلے میرے کان سید سراواں سے آشنا نہیں تھے۔ اسی سال اپنے تیسرے یا چوتھے سفر میں شیخ سے میں نے بیعت بھی کرلی تھی۔ بیعت سے قبل اور آشنائی کے بعد کی درمیانی مدت میں اپنے احباب کے بیچ بڑے ذوق وشوق اور وارفتگی کے ساتھ اس خانقاہ اور شیخ خانقاہ کا ذکر کیا کرتا تھا، جس کا سلسلہ بیعت کے بعد تقریباً ختم سا ہوگیا؛ کیوں کہ اب میں مرید ہوچکا تھااور موجودہ زمانے میں مرید جب پیر کی تعریف وتوصیف کرتا ہے تواسے ’’پیراں نمی پرند، مریداں می پرانند‘‘ کے باب سے سمجھا جاتا ہے۔ ۲۰۱۲ء سے مستقل اس خانقاہ میں قیام پذیر اور اس کے تعلیمی اور تصنیفی اداروں جامعہ عارفیہ اور شاہ صفی اکیڈمی کا حصہ ہوں۔ اس طرح خانقاہ میں میری مستقل اقامت کے بھی پانچ سال مکمل ہوگئے۔
خانقاہِ عارفیہ اور شیخ عارفیہ کی دس سالہ صحبت،خدمت، مشاہدے اور تجربے کے بعد بھی کبھی کبھی جب میں خالی الذہن ہوکر اور خانقاہ سے اپنے رشتوں اور مشاہدوں کو بھلاکرباہر کی دنیا سے خانقاہ کے احوال وواقعات کو دیکھتا ہوں تویہاں کی بہت سی باتیںمجھے بھی افسانہ، قصۂ پارینہ، جھوٹ اور ناقابل یقین سی لگتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ایسا شخص جس نے خانقاہ اور صاحبِ خانقاہ کو قریب سے نہیں دیکھا ہے، اگر یہاں کی کسی بات یا روایت پر معترض ہوتا ہےیا اسے جھوٹ، مبالغہ اور افسانہ سازی کہتا ہے تو کیا عجب !! ایسے لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے، یہ خود میرے لیےبھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ جی چاہتا ہے کہ کچھ کہنے اور لکھنے کے بجائے ابوفراس ہمدانی کے اس شعر کے ساتھ ایسے لوگوں سے معذرت کرلوں:
ومن مذھبی حب الدیار لاھلھا
وللناس فیما یعشقون مذاھب
اور میں ہی کیا ، خسرو جیسے شہنشاہ سخن نے بھی تو یہی کیا تھا:
خلق می گوید کہ خسرو بت پرستی می کند
آری آری می کنم با خلق ما را کار نیست
اور یہ کہ
ہمہ شہر پر ز خوبان منم و خیال ماہی
چہ کنم کہ چشم بدخو نہ کند بہ کس نگاہی
آمدم برسرِ مطلب:- خانقاہ عارفیہ کی محفل سماع کی ایک تصویر گذشتہ تقریبا ًدو سالوں سے Facebook پر گردش کررہی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ دو لوگ شیخ کے قدموں میں پڑے ہوئے ہیں اور شیخ کھڑے ہیں۔ اس تصویر پر اندازوں، قیاس آرائیوں، پھبتیوں اور تنقیدات بلکہ مغلظات کاایک سلسلہ ہے، جو ختم ہونے کو نہیں آتا اور جسے دیکھ کر جرأت کا یہ شعر یاد آتا ہے:
اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
فسق ومعصیت کے اس بازار میں اپنی زہد وپارسائی کی قسمیں کھانے والوں اور دوسروں کی کھلیاں اڑانے والوں، بلکہ دوسروں کی تفسیق اورتضلیل وتکفیر تک میں جوش وعجلت کا مظاہرہ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اہلِ نظر خوب واقف ہیں کہ اس رویے نے اہل سنت کےپورے وجود کو زخموں سے چھلنی کردیا ہے۔ ایسے میں اگر اس قسم کا کوئی نیا واقعہ سامنے آتا ہے تو ہمیں ذرہ برابر حیرت نہیں ہوتی اور نہ ہی وضاحت وصفائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس قسم کا طوفانِ بدتمیزی اٹھانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو وضاحت سننا ہی نہیں چاہتے۔اس حوالے سے مثالوں کی ایک قطار ہے جس سے تقریباً ہر شخص آشنا ہے۔ اس کے باوجود حضرت داعی اسلام کی اس تصویر پر ہونے والی بدتمیزیوں کے پیش نظر وضاحت لکھنے کا خیال اس لیے پیدا ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جھنڈا برداروں کی ہنگامہ آرائیوں کےسبب بعض مخلصین بھی بدگمانیوں میں مبتلا ہوجائیں اور اس لیے بھی کہ داعی اسلام ایک حکیم صوفی ہیں۔ موجودہ تناظر میں امت ان کی حکمتوں اور بصیرتوں سے استفادے کی ضرورت مند بھی ہے اور حق دار بھی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت کی حکمت وبصیرت اور عرفان وتربیت نقار خانے کی ہنگامہ خیزیوں کی نذر ہو جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس میں حضرت کا اپنا ذاتی نقصان کچھ نہیں ہوگا؛ کیوں کہ وہ تو حسبِ قضا ہر شخص کی طرح ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہوجائیں گےاور سرخروہوجائیں گے۔ اس میں نقصان امت مسلمہ اور بالخصوص افرادِ اہلِ سنت کا ہے، جو بالعموم زندہ مشائخ کی فیض بخشیوں سے محروم اور قبروں پر چادروں کا انبار لگانے کے خوگر ہوچکے ہیں۔ حضرت داعیِ اسلام کی شخصیت کو زمانے کی روحانیت، بصیرت، حکمت، مشن اور ضرورت کہوں تو دور بیٹھے احباب یقیناً مجھے مبالغہ آرائی اور طومار بیانی کا طعنہ دیں گے، جو ان کا حق ہے، لیکن میرا اپنا وجدان یہ ہے کہ کل یہی لوگ شیخ ابوسعید کو یاد کرکے غالب کا یہ شعر پڑھیں گے:
ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا!
اقبال اکیڈمی لاہور کے سابق چیرمین جناب احمد جاوید نے شیخ کی شخصیت کے بارے میں بجا طور پر لکھا ہے کہ
آن مجری قلوب و مصفا گر نفوس
آن وارث روایت خرقانی و فرید
این جا ست سر غیب کہ از دل بہ دل رود
بی حرف و بی حکایت وبی گفت و بی شنید
این مجمع الصفات چو کبریت احمر است
ظاہر شود بہ سلسلہ در مدت مدید
اب مسئلہ زیر بحث کو بالترتیب مقدمات کی شکل میں ملاحظہ کیجیے:
[۱] ’’سماع بالمزامیر‘‘ ہمیشہ سے ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔ مشائخ کی ایک بڑی تعداد نے اسے سنا ہے، جب کہ بہت سے مشائخ نے اس سے احتیاط برتا ہے۔ محدثین وفقہا میں بیشتر عدم جواز کی طرف گئے ہیں، جب کہ ان کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اس کی اباحت کی قائل ہے۔ خانقاہ عارفیہ اور اس کے شیخ کا تعلق تصوف کے اس خانوادے سے ہے جس میں ’’سماع بالمزامیر‘‘ صدیوں سے متوارث ہے۔ تفصیل کے لیے قارئین اس موضوع پر راقم کی کتاب کا انتظار کریں۔
[۲] نفس سماع اہل اسلام کے یہاں بالاتفاق جائز، معمول بہ ومتوارث رہا ہے۔ الاماشاء اللہ! اور شاذ آرا قابلِ التفات نہیں۔ اس کے ساتھ دل چسپ بات یہ ہے کہ اہل تصوف کے یہاں جب سماع بولا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی وجد ورقص کا خیال بھی لازمًا آتا ہے۔ چوں کہ صوفیہ کے یہاں سماع کی روایت وجد ورقص کی روایت کے ساتھ مربوط رہی ہے۔ موجودہ زمانے میں جب کہ مجالسِ وعظ اور محافلِ نعت ومنقبت کا رنگ بدل چکا ہے، قدیم محافلِ سماع کا ہم صحیح تصور بھی نہیں کرسکتے، بلکہ ہمارے بعض تقویٰ شعار وہ ہیں جو اس تصور کو ہی معصیت سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس لیے یہاں چند اقتباسات ملاحظہ کریں:
الف: علم تصوف کی پہلی جامع کتاب ’’قوت القلوب‘‘ میں شیخ ابوطالب مکی (۳۸۶ھ)لکھتے ہیں:

’’احمد بن عیسیٰ خراز سماع سننے میں بہت مشہور تھے۔ سماع کے وقت وہ تڑپ تڑپ جاتے اور بے ہوش ہوجاتے۔ (ج:۲، ص:۱۰۰) —– حضرت جنید فرمایا کرتے تھے: اس گروہ پر تین مواقع پر رحمت نازل ہوتی ہے۔ ایک کھانے کے وقت ؛ اس لیے کہ یہ حضرات فاقہ اٹھانے کے بعد ہی کھاتے ہیں۔ دوسرا مذاکرہ کے وقت؛ اس لیے کہ یہ انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال اور صدیقین کے مقامات کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ تیسرا سماع کے وقت؛ اس لیے کہ ان کا سماع وجد کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ اس وقت حق کے مشاہدے میں مصروف ہوتے ہیں —– ہم نے اس کا ذکر اس وجہ سے کیا ہے کہ یہ بھی بعض اہل محبت کا طریق اور بعض اہل عشق کا مشرب رہا ہے۔ اگرکلی طور پر اس کا انکار کردیں تو گویا ہم نے امت کے نوّے بلند پایہ صادقین کا انکار کردیا۔‘‘(ج:۲، ص:۱۰۱، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۲۰۰۵ء)

ب: شیخ ابو نصر سراج (۳۷۸ھ)تصوف کی معروف اور انتہائی معتبر کتاب ’’کتاب اللمع‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ جب ذوالنون بغداد میں داخل ہوئے تو صوفیہ کی ایک جماعت ان سے ملنے آئی، جن کے ہم راہ ایک قوال بھی تھا۔ انھوں نے ذوالنون سے درخواست کی کہ قوال کو کچھ کہنے کی اجازت عطا فرمائیں۔ انھوں نے اجازت دی اور قوال نے یہ اشعار گائے۔—– —– یہ اشعار سنتے ہی ذوالنون اٹھے اور منھ کے بل ایسے گرپڑے کہ پیشانی سے خون ٹپکنے لگا۔‘‘ (ص:۲۴۶، دارالکتب الحدیثیہ، مصر، ۱۹۶۰ء)

ج: ہندوستان کی پہلی کتاب تصوف ’’کشف المحجوب‘‘ میں حضرت داتا علی ہجویری(۴۶۵ھ) رقم طراز ہیں:

’’مشہور ہے کہ حضرت جنید بغدادی کا ایک مرید تھا جو سماع میں بہت زیادہ بے قرار ومضطرب رہتا، جس سے دوسرے درویشوں کو خلل لاحق ہوجاتا۔ چناں چہ درویشوں نے شیخ کی خدمت میں اس کی شکایت کی۔ حضرت جنید نے فرمایا: اگر اس کے بعد تم نے سماع میں مضطرب ہوئے تو میں تمھیں اپنی صحبت سے نکال دوں گا۔ ابومحمد جریری کہتے ہیں کہ سماع کے وقت میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنا لب بند کیے خاموش ہے اور اس کے ہر بن مو سے سے چشمہ ابل رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگیا اور پورے ایک دن اسی طرح بے ہوش رہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا یہ حال سماع میں لذت بڑھنے کے سبب تھا یا اس کے دل میں عظمتِ شیخ میں اضافے کے سبب تھا— ایک شخص نے حالتِ سماع میں نعرہ مارا۔ اس کے شیخ نے کہا: خاموش رہو۔ اس نے سر زانو پہ رکھا۔ لوگوں نے جب اسے دیکھا اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی — شیخ ابومسلم فارس بن غالب فارسی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک درویش سماع میں تڑپ رہا تھا۔ کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا کہ بیٹھ جائو۔ وہ بیٹھا اور اسی لمحے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ (ص:۴۶۵،۴۶۶) واضح رہے کہ شریعت وطریقت میں رقص کی کوئی اصل نہیں ہے–البتہ دل میں جب لطافت پیدا ہوتی ہے اور دماغ میں خروش غالب آجاتا ہے تو غلبۂ حال کے سبب اضطراب پیدا ہوجاتا ہے اور یہ ترتیب اور ضوابط وقواعد سے آزاد ہوتا ہے۔ یہ اضطراب رقص نہیں ہے، نہ کھیل تماشا ہے، نہ ہویٰ پرستی۔ یہ تو جاں گدازی کا لمحہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اسے رقص کہتے ہیں وہ سخت خطا پر ہیں۔ یہ ایک حال ہے جسے زباں سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ من لم یذق لایدری۔ ذوقِ ایں مے نہ شناسی بخدا ،تا نہ چشی۔
(۴۷۶، باب الرقص ومایتلق بہٖ، دارالنور، لاہور،۲۰۱۳ء)

د: سید محمد مبارک کرمانی مشائخِ چشت کے احوال پر پہلی مستند تصنیف ’’سیر الاولیا‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ شیخ الاسلام شیخ قطب الدین قدس سرہ العزیز چار شبانہ روز عالم تحیر میں تھے۔ آپ کی وفات کا واقعہ اس طرح ہے کہ شیخ علی سہزی کی خانقاہ میں محفلِ سماع تھی۔ شیخ قطب الدین نوراللہ مرقدہٗ بھی اس محفل میں حاضر تھے۔ قوال نے یہ شعر گایا:
کشت گانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زمان از غیب جانی دیگر استشیخ قطب الدین قدس سرہٗ پر اس شعر نے اس قدر اثر کیا کہ آپ خانقاہ سے گھر تک مدہوش ومتحیر لائے گئے۔ بار بار قوالوں سے فرماتے کہ یہی شعر پڑھو۔ قوال یہی شعر پڑھتے۔ وہ اسی عالم تحیر اور مدہوشی میں تھے، لیکن جب نماز کا وقت آتا تو نماز پڑھتے۔ پھر یہی شعر پڑھواتے اور یہی شعر خود بھی پڑھتے۔ وہ اسی عالم تحیر ومدہوشی میں رہے ، یہاں تک کہ چار شبانہ روز اسی عالم میں گزرے۔ پانچویں شب آپ نے رحلت فرمائی۔ (ص:۱۴۲) —– ایک دن سلطان المشائخ (حضرت نظام الدین اولیا) اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے تھے اور صامت نامی قوال آپ کے سامنے گارہا تھا۔ سلطان المشائخ پر اثر ہوا اور آپ پر گریہ وحال غالب آئے۔ اس موقع پر کوئی مرید وہاں موجود نہ تھا جو رقص میں آئے۔ حاضرین مجلس متفکر ہوئے۔ اسی اثنا میں ایک شخص باہر سے آیا اور قدم بوس ہوکر رقص کرنے لگا۔ سلطان المشائخ بھی اس کی موافقت میں رقص کرنے لگے۔
(ص:۷۷۹، مترجم: خواجہ حسن ثانی نظامی، درگاہ نظام الدین اولیا، دہلی)

ہ: ’’احیاء العلوم‘‘ جسےادبیات تصوف میں ’’ام الکتب‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور جسے زاہدانہ اور فلسفیانہ اسلوب کا جامع کہا جاتا ہے، اس کی دوسری جلد میں حجۃ الاسلام امام محمد غزالی(۵۰۵ھ) نےمسئلہ سماع پر تفصیلی بحث کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ سماعِ قرآن سے ظہورِ وجد کے واقعات بےشمار ہیں۔ اہل وجد کے حوالے سے قرآن کریم کا ارشاد ہے: جب وہ رسول پر نازل شدہ وحی کو سنتے ہیں تو عرفانِ حق کے سبب ان کی آنکھیں آنسوئوں میں ڈوب جاتی ہیں۔ (المائدۃ: ۸۳) اور نبی کریم ﷺ کا حال یہ تھا کہ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ کا سینۂ مبارک اس طرح جوش مارتا جس طرح ہانڈی میں پانی جوش مارتا ہے۔ اس قسم کے واقعات صحابہ وتابعین سے بھی بہ کثرت مروی ہیں۔ قرآن سن کر بعض کی چیخیں نکل جاتیں، بعض روپڑتے، بعض بے ہوش ہوکر گرپڑتے اور بعض کی روح پرواز کرجاتی۔ زرارہ بن عوفہ، امام شافعی اور علی بن فضیل وغیرہ سے ایسے واقعات مروی ہیں۔ امام غزالی نے اس حوالے سے صوفیہ کے بھی متعدد واقعات نقل کیے ہیں،جس کے بعد انہوں نے یہ سوال قائم کیا ہے کہ سماعِ قرآن یقیناً وجد کے لیے مفید ہے، لیکن صوفیہ سماعِ قرآن کے بجائے سماعِ نغمہ کے لیے کیوں جمع ہوتے ہیں اور قاری کے بجائے قوال کو کیوں بلاتے ہیں؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا ہے کہ وجد وشوق پیدا کرنے کے حوالے سے سماعِ قرآن کے بالمقابل سماعِ نغمہ میں سات درجے زیادہ قوت وشدت پائی جاتی ہے۔ پھر امام غزالی نے تفصیل کے ساتھ ان سات وجوہ کا ذکر کیاہے۔ یہ پوری بحث پڑھنے سےتعلق رکھتی ہے۔
و: گذشتہ صدی میں ہندوستان کے اندر فقہیات کے سب سے بڑے عالم اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی (۱۳۴۰ھ) جنھیں عام طور پر سماع اور وجد ورقص کا مخالف مطلق باور کرلیا گیا ہے، ان کی تحریریں بھی اس باب میں بڑی دل چسپ ہیں، جن کا بالاستیعاب منصفانہ مطالعہ کیا جانا ضروری ہے۔ سماع بالمزامیر کے حوالے سے اپنے اس ایک جملے میںہی ختم سخن کردیا ہے کہ

’’مزامیر یعنی آلات لہو ولعب بروجہ لہو ولعب بلاشبہ حرام ہیں‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ:۲۴/۷۸، پوربندر ،گجرات)

وجد ورقص کے حوالےسے سوال ہوا کہ مجلس وعظ یا میلا دشریف میں لوگوں کو وجد آجاتے ہیں، اس میں پاگل کی طرح ہاتھ اور پائوں ہلاتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ بعض آدمی سر ہلاتے، نہ بے ہوش ہوتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ یہ کیا معاملاتِ عشق ہیں یا کیا ہیں؟ فاضلِ بریلوی اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’اس کی تین صورتیں ہیں: وجد کہ حقیقۃً دل بے اختیار ہوجائے۔ اس پر تو مطالبہ کے کوئی معنی نہیں۔ دوسرے تواجد یعنی باختیارِخودوجد کی سی حالت بنانا۔ یہ اگرلوگوں کے دکھاوے کوہوتوحرام ہے اور ریا اور شرک خفی ہے اور اگرلوگوں کی طرف نظراصلاً نہ ہو،بلکہ اہل اﷲ سے تشبّہ اور بہ تکلف ان کی حالت بنانا کہ امام حجۃ الاسلام وغیرہ اکابر نے فرمایا ہے کہ اچھی نیت سے حالت بناتے بناتے حقیقت مل جاتی ہے اور تکلیف دفع ہوکر تواجد سے وجد ہوجاتاہے، تو یہ ضرور محمودہے۔ مگراس کے لئے خلوت مناسب ہے۔ مجمع میں ہونا اور ریاسے بچنابہت دشوارہے۔ پھربھی دیکھنے والوں کو بدگمانی حرام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن انّ بعض الظن اثم۔اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔جسے وجد میں دیکھو یہی سمجھو کہ اس کی حالت حقیقی ہے اور اگرتم پرظاہرہوجائے کہ وہ ہوش میں ہے اور باختیار خود ایسی حرکات کررہاہے تو اسے صورتِ دوم پرمحمول کرو جومحمودہے یعنی محض اﷲ کے لئے نیکوں سے تشبہ کرتاہے، نہ کہ لوگوں کے دکھاوے کو، ان دونوں صورتوں میں نیت ہی کاتوفرق ہے اور نیت امرباطن[ہے] جس پر اطلاع اﷲ ورسول کوہے۔ جل وعلاوصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم، تو اپنی طرف سے بری نیت قراردے لینا برے ہی دل کاکام ہے۔ائمہ دین فرماتے ہیں:الظن الخبیث انما ینشأ من القلب الخبیث۔خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیدا ہوتا ہے (فتاویٰ رضویہ:۲۳/۷۴۵)

[۳] مذکورہ بالا تفصیلات میں قارئین کا وقت مصروف کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سماع اور وجد ورقص کی حقیقت اور اکابر تصوف کے یہاں اس کی متوارث روایت سے کسی قدر آشنائی ہوجائے۔ اب خانقاہِ عارفیہ کی محفلِ سماع اور شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہٗ کی مجلس وعظ کی حکایت سنیے۔شیخ کی مثنوی ’’نغمات الاسرار فی مقامات الابرار‘‘ کے پیشِ لفظ میں شیخ کی مجلس وعظ کے حوالے سے راقم نے یہ باتیں تحریر کی ہیں:

’’حضرت کے دست حق پرست پر اب تک سیکڑوں افراد ایمان کی دولت سے سرفراز ہوچکے ہیں اور ہزاروں بد عمل تائب ہوکر صراط مستقیم سے لگ چکے ہیں -آپ کے دربار سادہ ورنگین کی یہ کرامت ہے کہ اس میں ہر مغرور کی پیشانی جھکتی نظر آتی ہے- ان سے مل کر بچوں کو ایک دوست، بڑوں کو ایک سرپرست ، بوڑھوں کو ایک دست گیر، عالموں کو ایک مربی اور اہل نظر کو ایک دور اندیش مفکر ومدبر کی ملاقات محسوس ہوتی ہے-آپ کی دعوت کا رنگ دل کش اور اصلاح کا طریقہ انوکھا ہے-آپ جس سے گفتگو کرتے ہیں اس کی زبان، اصطلاح، نفسیات اور مزاج کا بھرپور خیال رکھتے ہیں-سکھوں سے بات کرتے ہوئے گروبانیوں کا استعمال، ہندؤں سے گفتگو کے دوران دیومالائی قصوں اور ہندی اصطلاحوں سے استفادہ ،مخاطب کو حد سے زیادہ قریب کردیتا ہے- حضرت کی دعوتی اور اصلاحی انداز میں ،حکمت و موعظت، ترتیب و تدریج ، انفاق و بے لوثی، انذاروتبشیراور دل جوئی و خیر خواہی کے عناصر بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں-گفتگو میں تعلی اور ادعائیت بالکل ہی نہیں ہوتی، مگر وہ شک و ریب سے بھی مکمل پاک ہوتی ہے- وہ مقام ایمان سے گفتگو فرماتے ہیں اور وہ بھی اس دل نشیں انداز میں کہ’’ از دل خیزد بر دل ریزد ‘‘ کی پوری مثال صادق آتی ہے-بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر شیخ کی گرفت ہے۔ وہ جیسے چاہتے ہیں انہیں الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ چند لمحے میں بے ایمانوں، گم راہوں اور بد کاروں کو سپر انداز ہوتے اور اپنے پچھلے کرتوتوںپر احساس ندامت میں آہ وزاری کرتے دیکھ کر خود اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا- ایسی آنکھیں جو کبھی رونا نہیں جانتیں، جب موسلادھار برسنے لگتی ہیں، اور ایسے دل جنہیں پتھر سمجھا جاتا ہے، جب وہ موم کی طرح پگھلتے نظر آتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی دست مسیحائی کو چوم لینے کو دل بے قرار ہوجاتا ہے-ان کی محفل میں دل کو سکون ، عقل کو روشنی، قلب کو اخلاص، ذہن کو پختگی ، فکر کو سمت اور علم کو توانائی ملتی ہے – کج کلاہان عصر اپنا تاج ان کے قدمو ںمیں ڈالتے ہیں ، ارباب فقہ و فتاویٰ باب اجتہاد کے سامنے خود کو سجدہ ریز پاتے ہیں ، اہل علم ودانش کو اپنی تنگ دامانی کا احساس ہوتاہے اورمسند نشینان خانقاہ اس جناب میں پہنچ کر تصوف اور طریقت کی بھیک لیتے ہیں -بارہا یہ بھی دیکھا گیا کہ جو لوگ مغرور پیشانی کے ساتھ حاضر دربار ہوئے پہلی اور دوسری ملاقات کے بعد ایسے جھکے کہ کبھی گردن سیدھی نہ کرسکے، ان کی انا کے بت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئے -وہ لوگ بھی ہمارے سامنے ہیں جو علم وآگہی کے غر ور سے چور تھے اور اب ان کے سر سے دستار علم ہمیشہ کے لیے اتر گئی ہے-اب وہ صرف خاموش طالب اور سوالی بن کر رہ گئے ہیں – ہم ا ن سے بھی واقف ہیں جو مولانا روم کی طرح علمی اسناد و شہادات کو درنار کرچکے ہیں اور اب ہاتھوں میں کشکول لیے روئے جاناںکو تکے جارہے ہیں- وہاں ہر منگتا کی مرادیں پوری ہوتی نظر آتی ہیں، وہ منگتا کسی بھی سطح کا اور اس کا سوال کسی بھی نوعیت کا کیوںنہ ہو- آپ کی محفل کأنّ علٰی رؤسہم الطیور کا نمونہ معلوم ہوتی ہے اور خاص بات یہ کہ گفتگو جہاں سے بھی شروع ہو ،بات مطلوب ومقصود حقیقی تک ہی پہنچتی ہے- محفل پر کبھی انذار کا غلبہ ہوتا ہے تو کبھی تبشیر کا- اس میں غم دنیا کا رونا نہیں ہوتا، فکر آخرت میں ہی آنکھیں برستی نظر آتی ہیں اور کبھی دنیا کی بات بھی ہوئی تو اس میں دین کا پہلوتلاش کرلیا گیا اور اس طرح دنیا دین بن گئی – ‘‘(نغمات الاسرار فی مقامات الابرار، پیش لفظ، ص:۱۲،۱۳)

رہی شیخ کی محفلِ سماع تو شاید میں اپنے اس دعویٰ میں حق بجانب ہوں کہ بر صغیر میں اس ذوق وشوق، کیف ومستی اور آداب کےساتھ کہیں اور محفلِ سماع منعقد نہ ہوتی ہوگی۔ شیخ کے قوال باریش اور پابندِ صوم وصلاۃ ہیں۔ بالعموم محفلِ سماع سے قبل محفلِ وعظ ہوتی ہے جس کا خود بھی اپنا رنگ وآہنگ ہوتا ہے۔ شیخ کی خواہش ہوتی ہے کہ جو لوگ سماع کا ذوق نہیں رکھتے وہ وعظ سن کر رخصت ہوجائیں۔ شیخ کے مریدین ومتوسلین میں بیشتر باوضو بیٹھتے ہیں۔ پہلی صف میں بیٹھنے والے دو زانو بیٹھتے ہیں۔ خود شیخ بھی از ابتدا تا انتہا دو زانو ہی بیٹھتے ہیں۔ عموماً پہلی صف میں انھیں بٹھایا جاتا ہے جو عالم یا بظاہر دین دار ہوں۔ آیاتِ قرآنیہ سےمحفلِ سماع کا آغاز ہوتا ہے اور آیات پر ہی اختتام ہوتا ہے۔ شیخ کا قوال ان کا پروردہ اور شاگرد بھی ہے اور خوش الحان قاری بھی۔ محفل میں اکابر اور اساتذہ کا فارسی اور اردو کلام پڑھا جاتا ہے۔ وہاں بازاری شاعری کا گزر نہیں ہوتا۔ شیخ کی شاید وباید ہی کوئی ایسی محفل ہو جس میں اہلِ دل وفورِ شوق ومستی میں کھڑے نہ ہوگئے ہوں ۔ جب کوئی اہل دل ، جذب و شوق میں سرشاررقصیدہ کھڑا ہوتا ہے تو آدابِ محافلِ سماع کی روایت کی پاس داری میں پورا مجمع کھڑا ہوجاتا ہے۔ ادھر قوال اس شعر کی تکرار کرتا جاتا ہے جس پر کسی کو وجد آیا ہوا ہوتا ہے۔کبھی کبھی شمع محفل پر نثار ہونے والے پروانوںکے کیف ومستی کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور کبھی دس دس، بارہ بارہ سوختہ جاں، شوریدہ سر میدان میں اتر آتے ہیں۔ سرمستی وسرشاری، گریہ وزاری، آہ وفغاں، نعرۂ مستانہ، رقص وضرب اور جنون و بے خودی کا عجب عالم ہوتا ہے۔ کوئی رو رو کر نیم جاں ہوجاتا ہے، کوئی مرغِ بسمل کی طرح تڑپتا ہے، کبھی کوئی گریباں چاک کرلیتا ہے، کوئی آہیں بھرتا اور کوئی زمین پر لیٹا ایڑیاں رگڑتا رہتا ہے، کوئی شیخ کا ہاتھ چومتا ہے تو کوئی پائوں، کوئی شیخ کے قدموں پر سر رکھ کر دیر تک روتا بلکتا رہتا ہے، کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جو قدم بوسی کے لیےبڑھے اور غش کھاکر گرپڑے، پھر جس کروٹ میں رہے دیر تک بے حس وحرکت پڑے رہے۔ شیخ کی حالت بھی عجیب ہوتی ہے، کبھی ان کی آنکھیں بھی ساون بھادوں بن کے برسنے لگتی ہیں، کبھی وہ اپنی جگہ پر ہی آنکھ بند کیے ہوئے جھومتے نظر آتے ہیں۔ عشق کے بیماروں کی حال پرسی کا انداز بھی نرالا ہوتا ہے۔ کسی کو سینے سے لگارہے ہیں، کسی کے سر پر دست شفقت پھیر رہے ہیں، تو کبھی زمین پر پڑےکسی بےحس و حرکت دیوانے کو تھپکیاں دے کر ہوش میں لارہے ہیں۔ ایک کو سنبھالا تو دوسرا بے حال ہوا، دوسرے کو گلے لگایا تو تیسرا چیخا، تیسرے کو تھپکی دی تو چوتھا قدم بوس ہوا، اسے اٹھایا تو پانچویں کے سینے پر ہاتھ رکھا اور اس کے جوش مارتے سینے کو ٹھنڈا کیا۔ ایسے روحانی، پرکیف، اشک بار مناظر کی عکاسی سے قلم عاجز اور زبان گنگ ہے۔
میرے جو احباب دور بیٹھے ہوئے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ وہ ان مناظر کا صحیح تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ ہاں! جن کی نگاہیں دنیا و مافیہا میں الجھی ہوئی ہیں اور جن کا شبستان تعیش،دین و آخرت کے تفکرات سے آزاد اور جدیدوسائل ابلاغ کی فیض بخشیوں سے آباد ہےاورجن کے زہد و تقویٰ کا کل سرمایہ فیس بک اور واٹس ایپ پرخدائی فوج دار بنے اپنے مشرب مخالف علما و مشائخ کے ایمان و تقویٰ کا احتساب ہے، ایسے حضرات یقیناًفیس بک کی ایک تصویر پر فسق وفجور، سجدۂ تعظیمی، بت پرستی وہوا پرستی اور ریا وسمعہ کی پوری روداد لکھ سکتے ہیں، اگرچہ ان کے نزدیک رویت ہلال کے بارے میں جدید ذرائع ابلاغ کی تمام شکلیں یکلخت ناقابل اعتبار ہی کیوں نہ ہوں۔اورمجھے ایسے ٹھیکداروں سے غرض بھی نہیں۔ ہاں! اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ حضرات دوسروں کا حساب لیتے رہنے کے ساتھ کبھی قیامت میں اپنا حساب بھی دینے کی فکر کریں۔ہاں! جو مخلصین وطالبین ہیں، ان سے گزارش کروں گا کہ شیخ ابوسعید کی صحبت بافیض سے خود کوفیض یاب کریں۔ جو حق کے متلاشی اور تحقیق کے طالب ہیں ان سے التماس کروں گا کہ ایک بار خانقاہ عارفیہ میں پہنچیں اور انتہائی تنقیدی نظر سےشیخ ابوسعید کے شب وروز کا مطالعہ کریں، پھر جو رائے بنے آزادانہ قائم کریں۔کیوں کہ دروغ بے فروغ، کردار کشی اور تفسیق وتضلیل کے اس بازار میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینا دن کے اجالے میںاصولِ روایت ودرایت کا خون کرنا ہے۔
[۴] ہندوستانی ملفوظاتی ادب میں سب سے زیادہ معتبر ومستند ملفوظ ’’فوائد الفواد‘‘ میں خواجہ قطب، بابا فرید اور حضرت نظام الدین اولیا کے یہاں سجدۂ تعظیمی کی روایت کا ذکر ملتا ہے۔چناں چہ امیر حسن علی سجزی نے حضرت نظام الدین اولیا کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’برمن خلق می آید وروئ بر زمین می آرد، چون پیش شیخ الاسلام فرید الدین وشیخ قطب الدین قدس اللہ روحہما العزیز منع نبود، من ہم منع نمی کنم‘‘۔(فوائد الفواد، ج:۴، مجلس نمبر:۳۰، درگاہ حضرت نظام الدین اولیا، دہلی، ۲۰۰۷ء)

ترجمہ: میرے پاس لوگ آتے ہیں اور اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں، چوں کہ شیخ الاسلام بابا فریداور حضرت قطب الدین بختیار کاکی کی محفل میں یہ منع نہیں تھا، اس لیے میں بھی منع نہیں کرتا۔
یقیناً یہی وہ نکتہ ہے جس کے پیش نظر مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان بریلوی نے یہ رقم فرمایا ہے:

’’قوالی مع مزامیر ہمارے نزدیک ضرور حرام وناجائز وگناہ ہے اور سجدۂ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ ان دونوں مسئلوں میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے، اگر چہ وہ لائقِ التفات نہیں۔ مگر اس نے ان مبتلائوں کو حکم فسق سے بچادیا ہے جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں۔‘‘(فتاویٰ مصطفویہ، ص:۴۵۶)

یہی نکتہ حضرت داعیِ اسلام کے پیش نظر بھی ہے اور وہ بھی مجوزین سجدۂ تعظیمی کی تفسیق وتضلیل درست نہیں سمجھتے ۔ البتہ! نصوصِ فقہا اور احوالِ زمانہ کے پیشِ نظر اسے ناجائز ہی باور کرتے ہیں۔ ہاں! خانقاہِ عارفیہ میں قدم بوسی کی روایت موجود ہے جو خود سنت نبوی، آثارِ صحابہ اور علما وصوفیہ کے تعامل سے ثابت ومتحقق ہے۔ لیکن شیخ کی طرف سے قدم بوسی ہی نہیں دست بوسی پر بھی کوئی اصرار نہیں ہے۔ نہ وہ اصرار کو روا سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جس کی دست بوسی یا قدم بوسی ہو اسے خود کو حجر اسود سمجھنا چاہیے، جسے گرچہ سید البشر نے بھی چوما ہے، مگر وہ مقامِ بشر تک بھی نہ پہنچ سکا، چہ جائے کہ مقام سید البشر تک پہنچے۔ جو لوگ دست بوسی یا قدم بوسی کرتے ہیںوہ خود کو حقیر سمجھتے ہیں اور سامنے والے کو بڑا تصور کرتے ہیں۔ یہ تواضع اور حسن ظن ان کی بلندیِ درجات کا سبب ہے، لیکن چوموانے والا اگر کبر ونخوت میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنی عاقبت برباد کرلی۔
واضح رہے کہ قدم بوسی اور سجدہ دونوں کیمرے کی نظر میں ہی نہیں عام نظر میں بھی بظاہرایک ہی جیسے ہیں۔ ان میں بڑا لطیف فرق ہے۔ اعلیٰ حضرت بریلوی فرماتے ہیں:

’’ قدم بوسی کو سجدہ سے کیا تعلق! قدم بوسی ’’سربرپانہادن‘‘ (سر پاؤںپر رکھنا ۔ ت) اور سجدہ ’’پیشانی بر زمین نہادن‘‘ (پیشانی زمین پر رکھنا۔ ت) ہے۔ مسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔قال اﷲ تعالٰی: یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۔وقال رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔ (اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہواس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے(ت) ‘‘(ج: ۲۲، ص:۵۶۶)

شیخ کے یہاں قدم بوسی ہی ہوتی ہے، سجدۂ تحیت نہیں ہوتا۔ ہاں! محفلِ سماع کی کیف ومستی میں ڈوبے ہوئے وہ بے خود وسرشار مستانے کہاں گررہے ہیں اور کیسے گر رہے ہیں، سر رکھ رہے ہیں یا پٹک رہے ہیں، جو بے خود، مدہوش اور کبھی بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں۔ یقیناً وہ ’’رفع القلم عن الثلاثۃ‘‘ کے درجے میںہوتے ہیں۔سوختہ پر اور گداختہ جان تڑپتے پروانے کو کیا خبر کہ گردِ شمع وہ زمین پرکس کروٹ گرا۔
فقہ وفتاویٰ کی اپنی دنیا ہے اور عشق و وفا کا اپنا جہان ہے۔ فقیہ پر واجب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حرام اور ارتکابِ حرام سے دور رکھے۔ وہ بسا اوقات عام مسلمانوں کو سد ذرائع کی خاطر محرمات کے قریب پھٹکنے سے بھی روکتا ہے،کہ مبادا ایک عام مسلمان اس سے آگے بڑھ کر حدودِ شریعت کو پامال کردے۔ فقہا کے یہاں یہ مسلم ہے کہ سجدۂ عبادت شرک اور سجدۂ تحیت ناجائز ہے۔ لیکن اب آئیے! عاشقوں کی واردا ت دیکھیے کہ وہ محبت والفت، عشق وارادت، کیف ومستی، جذب وشوق اور اضطرار وبےخودی کے عالم میں زبانِ حال سے کس طرح گویا ہوتے ہیں:
ہزار سجدے کریں ان کی ذات کو کم ہے
ہمیں تو باندھ دیا ان کی ہی شریعت نے
(سید نظمی مارہروی)
نہ ہو آقا کو سجدہ، آدم و یوسف کو سجدہ ہو!
مگر سدِ ذرائع داب ہے اپنی شریعت کا
(اعلیٰ حضرت بریلوی)
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
کیا کروں اذن مجھے اس کا خدا نے نہ دیا
(مفتی اعظم ہند)
اے شوق دل یہ سجدہ گر ان کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو
(اعلیٰ حضرت بریلوی)
اس میں روضے کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
(اعلیٰ حضرت بریلوی)
بے خودی میں سجدۂ در یا طواف
جو کیا اچھا کیا، پھر تجھ کو کیا!
(اعلیٰ حضرت بریلوی)
سنگِ درِ جاناں پر کرتا ہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی! سر دیتا ہوں نذرانہ
(مفتی اعظم ہند)
موسیا! آدابِ دانان دیگرند
سوختہ جان و روانان دیگرند
عاشقان را ہر نفس سوزید نیست
بر دہِ ویران خراج و عشر نیست
ملت عشق از ہمہ دینہا جداست
عاشقان را ملت و مذہب خداست
(مولانا روم)
[۵] مذکورہ تصویرجو گذشتہ دو سالوں سے سوشل میڈیا پر گشت کررہی ہے، وہ یقینا سجدے کی تصویر نہیں ہے۔ ہاں! قدم بوسی کے بعد غشی میں ڈوبے ہوئے دو دیوانے ہیں جو دنیا ومافیہا سے بے خبر ہیں۔ خانقاہِ عارفیہ کی محافلِ سماع میں شرکت کرنے والے اس قسم کے واقعات کے شاہد ہیں کہ ایک شخص شیخ کا ہاتھ یا پائوں پکڑے آدھے آدھے گھنٹے تک زار وقطار روتا چلا جارہا ہے۔ ایک شخص رقص کرتے کرتے پورے قد کے ساتھ زمین پر گرا ہے اور پھر دیر تک تڑپتے رہنے کے بعد ساکت وجامد پڑاہوا ہے۔ ایک شخص طویل وجد وکیف کے بعد قدم بوس ہوا ہے اور اسی حال میں جامد وساکت رہ گیا ہے یا پلٹ کر کروٹ کے بل گرپڑا ہے اور گھنٹہ نصف گھنٹہ اسی طرح بے حس وحرکت پڑا ہوا ہے، یہاں تک کہ شیخ اسے چھوڑ کر وجد واضطراب میں ڈوبے ہوئے دوسرے دیوانوں تک پہنچ گئے ہیں، لیکن یہ شخص اپنی جگہ پر یونہی بے خبر اور بے ہوش پڑا ہوا ہے۔ اگر ہم انصاف کا دامن تھامیں تو اس صورت کو سجدۂ تعظیمی ہرگز نہیں کہہ سکتے، بلکہ قدموں پر منھ کے بل یا کروٹ کے بل دیر تلک بے ہوش اور بے حس وحرکت پڑے رہنے کو قدم بوسی کہنا بھی صحیح معنوں میں درست نہیں ہے۔ ہاں! اس کی ابتدا وجد وکیف، بےخودی وسرشاری کے جذبات سے لبریز قدم بوسی سے ضرور ہوئی ہے۔
آخری بات:
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، خاص طور پر ہمارے ان احباب کے دلوں میں جو خانقاہ عارفیہ سے دورسیکڑوں اور ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ یہ کہ یہ کیفیات پورے بر صغیر میں صرف خانقاہ عارفیہ ہی میں ہوتی ہیں، کہیں اور کیوں نہیں ہوتیں؟ اور وہاں ہوتی ہیں تو کیوں ہوتی ہیں؟ یقیناً یہ سوال اپنی جگہ فطری ہے۔ اگر ان احباب کی جگہ میں ہوتا تو شاید میں بھی یہی سوال کرتا، مگر فیض بخشیِ قدرت کو کیا کہیےگا! جو جب اور جسے چاہے سرشار و فیض یاب کرے۔ ہم اور آپ اس میں کوئی دخل نہیں دے سکتے۔ نوادرات ہوتے بھی تو ایسے ہی ہیں۔ اکابر کی کتب تصوف سے وجد وسماع کے جتنے احوال اوپر نقل ہوئے اللہ کے فضل واحسان سے ان تمام مناظر کا مشاہدہ میری آنکھوں نے خانقاہِ عارفیہ کی چہار دیواری میں کرلیا ہے۔ سر پٹکنے والے، پوری شدت کے ساتھ فرش پر ہاتھ پیر مارنےوالے، گریباں چاک کرلینے والے، بلکہ خود کو زخمی کرلینے والے، بلکہ خود کو کنویں میں ڈال دینے والے سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ، اِلا یہ کہ اب تک کسی کی روح قفس عنصری سے پرواز نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ایک دو مواقع پر ایسا ضرور ہوا کہ کوئی عاشق جاں سوختہ روتے روتے بے حال ہوا اور پھر ایک زور کا نعرہ مارا اور اس کے ساتھ ہی جامد وساکت ہوگیا۔ اس وقت راقم الحروف کو ایسا محسوس ہوا کہ دیوانہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا ہے۔ عہد زوال کی زرپرست خانقاہوں اور دنیا پرست علما کو دیکھ دیکھ کر ماضی کی شاندار روایات کے مشاہدے سے مایوس نگاہوں اور شک گزیدہ سماعتوں کو اگر ہماری باتوں پر یقین نہ آئے تو میں اس کے علاوہ اور کربھی کیاسکتا ہوں کہ انھیں اخلاص ومحبت کےساتھ خانقاہ آنےکی دعوت دوں۔ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ بصورت دیگر یا تو وہ میری زبانِ قلم کو مشکوک سمجھیں یا میں اپنے مشاہدات کو جھٹلادوں؟؟؟
نوٹ:
(۱) یہ تحریر خانقاہِ عارفیہ میں انعقاد پذیر محافلِ وجد وسماع کی ایک اجمالی تصویر پیش کرتی ہے۔ حضرت داعیِ اسلام کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں پر قارئین راقم کی مستقل کتاب کا انتظار کریں۔
(۲) یہ مضمون تصوف سے وابستہ اہلِ سنت کے لیے لکھا گیا ہے؛اس لیے یقینا سلفی منہجِ فکر واستدلال کے حامل افراد کے لیے ناکافی ہے۔مستقبل قریب میں تصوف اور مراسمِ تصوف پر اس جہت سے شاہ صفی اکیڈمی سے کتابیں / مقالات شائع کیے جائیں گے۔ ان شاء اللہ!!
Previous articleServe the human:serve the humanity
Next articleخانقاہ عارفیہ میں حضرت سید شاہ نور علی المعروف ’’حضور عالی ‘‘(سجادہ نشیں خانقاہ سمرقندیہ)کی وفات پر اظہار تعزیت
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here