سماع و وجد کا بیان

0
79

 آلۂ لہو و لعب مزمار و نے 
شرع میں بر وجہِ لہو ممنوع ہے (۱)
 جملہ آلاتِ لعب بالاہتمام 
لہو کے مقصد سے ہیں بے شک حرام
 لہو کی علت (۲)ہے حرمت کا سبب 
لہو گر مفقود ہو جائز ہیں سب
 اصل اشیا میں اباحت(۳)ہے جناب 
فہم کن وَاﷲْ اَعْلَمُ بِاالصّوَاب
 دہل(۴) و طنبور (۵) ہو کہ مزمار(۶) و رباب(۷)
 نیک مقصد اور غرض سے سب صواب
 بے محابا کل مشائخ اے اخی 
تہمتِ لہو و لعب سے ہیں بری
 میلِ خاطر حق کی جانب ہو اگر 
مستحب اُس کے لیے ہے بے خطر
 گر طبیعت شر کی جانب ہو تمام
 اُس کی خاطر نغمہ ہے بے شک حرام 
خیر و شر دونوں طرف ہو میل اگر
 اُس پہ ہے مکروہ و ناجائز پسر 
دیدۂ تحقیق سے کر مشورت 
چھوڑ کر تقلیدِ محض و عصبیت
 عصبیت ہی مانعِ تحقیق ہے 
 بے محابا منکرِ تصدیق ہے 
صاحب وجد و سماع کے حال پر
تو کبھی نادان مت انکار کر
 ہر گھڑی اہلِ سماع و وجد پر
رحمتِ حق نازل ہوتی ہے پسر
 روح کی معراج ہے ذوقِ سماع 
معرفت کا تاج ہے ذوقِ سماع
 طالبوں کے واسطے یہ ہے شفا
 عاشقوں کے دردِ دل کی ہے دوا

(۱) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی اپنا ایک فتویٰ ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں : ’’ مزامیر یعنی آلات لہو و لعب بر وجہ لہوو لعب بلاشبہ حرام ہیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ: ۲۴/۷۸،پوربندر) شیخ اس عبارت کی یہ کہتے ہوئے پوری توثیق کرتے ہیں کہ بغرض لہو و لعب مزامیر کو میں بھی حرام سمجھتا ہوں۔ ہاںمزامیر کو میں مطلقاً آلہ ٔ لہو و لعب نہیں مانتا ، ان آلات کا استعمال چوں کہ بالعموم لہوو لعب کے لیے ہوتا ہے، اس لیے انہیں تغلیباً آلات لہو کہہ دیا جاتا ہے۔ وہ بالذات آلات لہو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی( ۱۲۵۲ء) جیسے فقہا ان آلات کو بالذات حرام نہیں جانتے ، بلکہ ان کی حرمت کو مقصد لہو کے ساتھ مشروط سمجھتے ہیں۔ علامہ شامی لکھتے ہیں: ان آلات اللہو لیست محرمۃ لعینہا بل لقصد اللہو منہا اما من سامعہا او من المشتغل بہا و بہ تشعر الاضافۃ، الا تریٰ ان ضرب تلک الآلۃ بعینہا حل تارۃ و حرم اخریٰ باختلاف النیۃ بسماعہا والامور بمقاصدہا، و فیہ دلیل لساداتنا الصوفیۃ الذین یقصدون اموراً ھم اعلم بہا فلا یبادر المعترض با لانکارکی لا یحرم برکتھم فانھم السادۃ الاخیار، امدنا اﷲ تعالیٰ بامداداتھم واعاد علینا من صالح دعواتھم و برکاتھم۔ (رد المحتار علیٰ در المختار : ۲۴۷۵، دیوبند) ’’آلات لہو ولعب حرام لذاتہ نہیں، بلکۂ ارادۂ لہو کی وجہ سے حرام ہیں، ارادۂ لہو وتفریح خواہ سننے والے کی طرف سے ہو یا بجانے والے کی طرف سے، آلات لہو میں جو اضافت ہے اس سے بھی اسی طرف اشارہ ہوتاہے۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ایک ہی آلے کو بجانا کبھی جائز ہوتا ہے اور کبھی ناجائز، ان کے سننے کی نیت کے بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔ کیوں کہ احکام کا دارومدار نیتوں پر ہوتاہے۔ الامور بمقاصدھا۔ اور اس میں ہمارے مشائخ تصوف کے لیے دلیل ہے، جن کا مقصودان آلات سے ایسے امور ہوتے ہیں جن کو صحیح طور پر وہی جانتے ہیں۔ اس لیے معترضین کو انکار میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کہ اس میں ان کی برکات سے محروم ہونے کا اندیشہ ہے، کیوں کہ وہ ہمارے مشائخ اخیار ہیں۔ اللہ ان کی عنایتوں سے ہمیں شاد کام فرمائے اور ان کی نیک دعاؤں اور برکتوں سے حصہ عطا فرمائے۔‘‘ 

(۲) مزامیر کے تعلق سے مختلف روایات ملتی ہیں ، کہیں ان کا ثبوت ملتا ہے تو کہیں انکار۔ شیخ کی تحقیق کے مطابق انکار و حرمت کی علت ’’ لہو‘‘ ہے۔ اگر غنایا مزامیر بغرض لہو ہو تو حرام ہے، جیسا کہ اس کا اشارہ علامہ شامی اور فاضل بریلوی کے مذکورہ فتوؤں سے بھی ملتا ہے اور اگر بغرض لہو نہ ہو تو کم از کم مباح ہوگا۔ پھر مقصد جس قدر اعلیٰ ہوتا جائے گا اس کے جواز میں اسی قد ر حسن پیدا ہوتا جائے گا۔

(۳) اس لیے آلات مزمار کو اصالۃ ً نا جائز و حرام سمجھنا درست نہیں ہے، خصوصاً اس صورت میں جب کہ بعض روایات سے ان کا ثبوت بھی ملتا ہے۔

(۴) ڈھول۔ نقارہ

(۵) ایک قسم کا ستار۔تنبورہ 

(۶) بانسری۔باجا۔نے

(۷) ایک قسم کی سارنگی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here