Monday, January 30, 2023

صدقہ نافلہ سب کے لیے جائز ہے

یکم اکتوبر ۲۰۱۳ ءمطابق۲۵ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ھ بروز منگل
 محب مکرم مولانا جہاں گیر حسن مصباحی کے والد مرحوم کے ایصال ثواب کے موقع پرمرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کے سامنےجلیبی لائی گئی،جامعہ عارفیہ کی ساتویں جماعت (اولیٰ)کے تقریباً چالیس طلباانجمن بنائے ہوئےسرکارکے سہ جانب بیٹھے تھے،سرکارنے طلباکی جانب مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا :بچو! جلیبی کھائی یا نہیں؟بتاؤ کہ پہلے کھالے اوربعدمیں فاتحہ پڑھے تو کیاکوئی حرج ہے؟ ایک طالب علم نے عرض کیا:حضور!کوئی حرج نہیں ہے۔ سرکارنے فرمایا:شاباش،دونوں دو فعل ہیں ، کھلانے کا ثواب الگ اور قرآن کی تلاوت کا ثواب الگ۔ شیرینی کو سامنے رکھ کرفاتحہ پڑھنامباح ہے،واجب نہیں۔فاتحہ کا سامان خودکھاؤاوردوسروںکو کھلاؤ،امیرہو یا غریب،سادات ہوں یا غیرسادات سب کے لیے جائز ہے،یہ صدقہ نافلہ میں آتاہے اور صدقہ نافلہ سادات کرام کے لیے بھی بلا کراہت جائز ہے۔

(خضرراہ ،دسمبر۲۰۱۳ء)

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

اہل عقیدہ کے پانچ طبقات

حضور داعی اسلام دام ظلہ العالی کی خدمت میں علما کی ایک جماعت کے...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں...

اللہ جیسے چاہے اپنا دیدار کرائے

۲۷؍اگست ۲۰۱۶ء بعد نمازِ مغرب حضرت داعی اسلام دام ظلہ کی ہفتہ واری عرفانی...

عوام اور خواص کے عمل میں فرق

سلطان العارفین حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۷؍ویں عرس کے موقع پر...