رحمٰن کے بندے لوگوں کی ضرورت پوچھتے ہیں، ان کا دین ومسلک نہیں

0
74
سیدسراں الہ آباد میں منعقد عرس عارفی میں علما ومشائخ کا اظہار خیال
اللہ رب العزت قرآن کریم میں اپنے مخصوص بندوں کی علامات ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ’’رحمٰن کے بندے، زمین پر نرمی کے ساتھ چلتے ہیں اورجب جاہل ان سے جھگڑتے ہیں، تو ان پر سلامتی بھیج کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ‘‘اللہ تبارک وتعالیٰ کے دیگر اسمائے صفات بھی ہیں، خود رحمت کے لیے لفظ ’’رحیم‘‘ بھی آتا ہے، مگر یہاں پر صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علما فرماتے ہیں کہ صفت ’’رحمٰن‘‘ میں دیگر صفات کے مقابل زیادہ عمومیت پائی جاتی ہے۔وہ عمومیت یہ ہے کہ دنیا میں بلا تفریق مسلم و کافر ، سب اس کے رزق سے حصہ پاتے ہیں،اس کا انکار کرنے والے، اس کی خدائی کوجھٹلانے والے اور اس کی بندگی سے منھ موڑنے والے،کسی پر اس کے رزق کا دروازہ بند نہیں ہوتا، اس کی نعمتوں کا در پوری انسانیت کے لیے ہمہ وقت کھلا ہوا ہے ۔ اس کی رحمت کا یہی انداز اس کے حقیقی بندے بھی اپناتے ہیں۔ان تمام خیالات کا اظہار خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں منعقدہ عرس عارفی کے دوسرے دن مولانا سید قمر الاسلام (رسرچ اسکالر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ) نے کیا۔ 
سید صاحب نے مزید کہا: رحمٰن کے بندوں کا بھی در پوری مخلوق کے لیے ہمہ وقت کھلا ہوا رہتا ہے، جہاں پر لوگوں کی ضرورتیں اور حاجتیں پوچھی جاتی ہیں، ان کا دین ومسلک نہیں پوچھا جاتا۔خواجہ غریب نواز رحمٰن کے بندے ہیں، اسی لیے ان کے در پر مسلم وکافر سبھی جاتے ہیں اور سب کی حاجت روائی ہوتی ہے، سب کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا کہ بزرگانِ دین نے اپنی خانقاہوں، یا مجلسوں میں کسی غیر مسلم کو آنے سے روکا ہوا۔
دوسرے خطاب میں خطیب الصوفیہ مولانا عارف اقبال مصباحی نے ’’اخوان الرسول ﷺ‘‘ کی توضیح وتشریح کرتے ہوئے کہا: ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میرے کچھ بھائی ایسے ہوں گے جنھیں میں دیکھنا چاہتا ہوں، ان سے ملاقات کی میری آرزو ہے۔ صحابہ نے عرض کی: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، وہ میرے بھائی ہوں گے۔ لوگوں نے پوچھا کہ ہم انھیں کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ایسے ہی، جیسے ہزاروں کالے گھوڑوں کے بیچ وہ گھوڑا پہچان لیا جاتا ہے جس کی پیشانی یا پیٹھ پر سفید نشان ہو۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی پیشانیاں وضو کے اثرات سے چمکتی ہوں گی۔ مولانا نے حدیث پاک کی مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اخوان الرسولﷺ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی ہے، وہ مرضیِ مولا پر ہمہ وقت قربان رہتے ہیں، جس طرح ایک مردہ غسل دینے والوں کےہاتھوں میں ہوتا ہے، وہ جیسے چاہتے ہیں، اسے الٹتے پلٹتے ہیں، اخوان الرسول کا معاملہ ایسے ہی اپنے رب کے ساتھ ہوتا ہے۔ 
تقریری پروگرام کے بعد محفل سماع منعقد ہوئی جو صبح چار بجے تک جاری رہی۔ قل شریف اور داعی اسلام شیخ ابوسعید مد ظلہٗ کی دعاؤں پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ آج کے پروگرام میں سیکڑوں سامعین کے علاوہ سید ظریف مودودی چشتی، حضرت شعیب میاں(آستانہ خیرآباد شریف) سید ضیا علوی ،(دہلی)، سید درویش محی الدین عرف مرتضیٰ پاشا(حیدرآباد)، سید غلام غوث قادری(فتح پور)، حضرت محبوب اللہ بقائی(مہوبا)،حضرت غلام دستگیر میاں(کولکاتا)، حضرت مولوی عبدالقیوم صاحب(ایم پی) اور دیگر بیرونی علما ومشائخ بھی شریک تھے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here