قرآن اور تلاوت قرآن

0
90

قرآن شریف اللہ کی کتاب ہے جس کو اس نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اور جس طرح ہمارے نبی سارے عالم کے لیے رحمت اورہدایت بن کر تشریف لائے ،ٹھیک اسی طرح قرآن مقدس کو بھی اللہ تعالیٰ نے سارے عالم کے لیے ہدایت بناکر نازل کیا ہے ۔
یہ قرآن مقدس کی انفرادیت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد بھی ’ھُدً ی لِّلنَّاسِ‘اور ’تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍکی مکمل تصویر پیش کر رہا ہے ۔ یہ وہ گنج گراں مایہ ہے جو سارے عالم انسانیت کے لیے ارجمندی اورخوش بختی کا عظیم سرمایہ ہے ۔
قرآن،ہرکتاب سے افضل
کتاب کی اہمیت اس کے لکھنے والے سے ہوتی ہے ، مصنف جس قدر بلند رتبہ والاہوگا اس کی کتاب بھی اسی طرح مقبول ومعتبر ہوگی ،یہ دنیا کی کتابوںکا حال ہے تو اندازہ لگایئے کہ قرآن مجید جواللہ کا کلام ہے اس کا رتبہ کتنا بلندہوگا، اللہ تعالیٰ کی شان سب سے عظیم اور برتر ہے تو اس کا کلام بھی سب سے اعلیٰ وافضل ہوگا ،پس واضح ہوگیا کہ قرآن مبین کلام اللہ ہونے کے سبب بقیہ تمام کتابوں پر فوقیت رکھتاہے ۔
قرآن مقدس کی عظمت اس بات سے بھی واضح ہے کہ دنیامیں کوئی ایسا نہیں جو اپنی کتاب کو دنیاکے کونے کونے میں پہنچادے اور قیامت تک اپنی کتاب کی حفاظت کرے،لیکن اللہ تعالیٰ کی واحد ذات ہے جس نے اپنی کتاب کو دنیا کے تمام گوشوںمیں نہ صرف پہنچایاہے بلکہ انگنت لوگوں کے دلوں میں اُسے محفوظ بھی کردیاہے،ارشادباری تعالیٰ ہے
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ‘ لَحَافِظُوْنَ۔(نحل)
ترجمہ:یقینا ہم نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔
قرآن کامعجزہ ہونا
دنیا میں جتنے بھی انبیاومرسلین تشریف لائے سب کو معجزہ عطاکیاگیا،تاکہ اپنی نبوت ورسالت پربطور دلیل پیش کریں، ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مقدس بطور معجزہ ملااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر۲۳سال تک نازل ہوتا رہا۔ یہ مقدس کتاب قیامت تک ہرعام وخاص کے لیے رحمت وہدایت کاسرچشمہ ہے اور ایسا معجزہ ہے جس کے سامنے عرب کے بڑے بڑے فصحا بھی دنگ ہیں اور قیامت تک کی نسل انسانی کے لیے ’فَأتُوا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلَھَاایک چیلنج کی صورت میں موجودہے۔اس حقیقت اور سچائی کے باوجود اگر کوئی حق سے انجان ہے تو یہی کہاجاسکتا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے ۔
تلاوت قرآن کی فضیلت
حدیث شریف میں ہے
’’اِنَّمَاالاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ‘‘عمل کادارومدار نیتوںپر ہے ۔کسی بھی نیک کام کا ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک نیت صالح نہ ہو، اسی لیے اگر جائز ومباح کاموں میں صالح نیت کی جائے تو وہ بھی کار ثواب بن جاتاہے ،اب اگر تلاوت قرآن صرف برکت اور مشکلوں سے بچنے کے لیے ہو تو گویا ہم نے اللہ کے حکم پرکماحقہ عمل نہیں کیا ،اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قرآن پڑھیں اور نیت کرلیں کہ تلاوت سے ہمارے دل نرم ہوں گے اور ایمان و ایقان کو تقویت پہنچے گی، قرآن شریف میں آیا ہے 
وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہ‘ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا۔‘‘(انفال)
ترجمہ:اور جب ان پر ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان وایقان کو تقویت پہنچتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ دل میںنرمی پیداہوگی اور اللہ تک پہنچنے کی راہیں ہموار ہوںگی اور ذہن کے بند دریچے کھلیں گے ۔
قرآن کریم کے آداب میں یہ بھی ہے کہ دھیرے دھیرے خوش آوازی کے ساتھ سمجھ کر تلاوت کریں،ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً ۔ (مزمل)
ترجمہ: اور قرآن کو ترتیل سے پڑھا کرو ۔
قرآنی آیات کے فیوض وبرکات بے پناہ وبے شمار ہیں جس کا احاطہ ممکن نہیں ،ہاں !آداب تلاوت میں آیا ہے کہ جس کو جو آیت یا سورہ اپنے حال کے موافق لگے، اُسے خوب دل جمعی اور خوش الحانی سے پڑھے تاکہ دل کوتسکین حاصل ہو ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here