Monday, January 30, 2023

سوغات جاں: قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

بخدمت عالی
گرامی مرتبت ، لائق صد احترام ، عارف باللہ، داعی اسلام ، حضرت
شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی
زیب سجادہ : خانقاہ عالیہ عارفیہ ، سید سراواں شریف ، الٰہ آباد
بموقع جشن یوم غزالی ، منعقدہ ۲۷ ، مارچ ۲۰۱۱ ء /اتوار

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے
مکاں میں رہ کے نظر لا مکاں پہ رکھتا ہے

روایتوں کا امیںہے وہ پاسبان سلف
مگر وہ ہاتھ بھی اپنا سناں پہ رکھتاہے

کسی بھی شخص کی وہ نبض دیکھتا ہی نہیں
شفا کا ہاتھ ہی بیمار جاں پہ رکھتا ہے

ہے عصرِ نو کا مسیحا بھی خضرِ دوراں بھی
نظر وہ مردِ قلندر جہاں پہ رکھتا ہے

قریب ہے کہ زمانہ ٹھہر کے بولے گا
کہ یہ فقیر تو قبضہ جہاں پہ رکھتا ہے

شکار عقل کا کرنا ہے مشغلہ اس کا
جنوں کا تیر و ہ اپنی کماں پہ رکھتا ہے

کمند ڈالتا رہتا ہے وہ ستاروں پر
تصرفات عجب کہکشاں پہ رکھتا ہے

حیات ، قلب و نظر پاتے ہیں جہاں واعظ
غرورِ علم ، سر اپنا جہاں پہ رکھتا ہے

اسی جناب سے دل کو ہے مغفرت کی امید
جبیں کو شوق اسی آستاں پہ رکھتا ہے

(نیاز مند : ذیشان احمد مصباحی)

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

فریاد ببارگاہ خیر العبادﷺ

نتیجۂ فکر: ذیشان احمد مصباحی کس قدر مشک اور عنبر میں نہائی ہوئی ہے صبحِ میلاد...

جان ہے بےتاب

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب کب بھلا ! ناچیز...

نعتیہ کلام

صوفیانہ کلام