سوغات جاں: قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

0
134

بخدمت عالی
گرامی مرتبت ، لائق صد احترام ، عارف باللہ، داعی اسلام ، حضرت
شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی
زیب سجادہ : خانقاہ عالیہ عارفیہ ، سید سراواں شریف ، الٰہ آباد
بموقع جشن یوم غزالی ، منعقدہ ۲۷ ، مارچ ۲۰۱۱ ء /اتوار

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے
مکاں میں رہ کے نظر لا مکاں پہ رکھتا ہے

روایتوں کا امیںہے وہ پاسبان سلف
مگر وہ ہاتھ بھی اپنا سناں پہ رکھتاہے

کسی بھی شخص کی وہ نبض دیکھتا ہی نہیں
شفا کا ہاتھ ہی بیمار جاں پہ رکھتا ہے

ہے عصرِ نو کا مسیحا بھی خضرِ دوراں بھی
نظر وہ مردِ قلندر جہاں پہ رکھتا ہے

قریب ہے کہ زمانہ ٹھہر کے بولے گا
کہ یہ فقیر تو قبضہ جہاں پہ رکھتا ہے

شکار عقل کا کرنا ہے مشغلہ اس کا
جنوں کا تیر و ہ اپنی کماں پہ رکھتا ہے

کمند ڈالتا رہتا ہے وہ ستاروں پر
تصرفات عجب کہکشاں پہ رکھتا ہے

حیات ، قلب و نظر پاتے ہیں جہاں واعظ
غرورِ علم ، سر اپنا جہاں پہ رکھتا ہے

اسی جناب سے دل کو ہے مغفرت کی امید
جبیں کو شوق اسی آستاں پہ رکھتا ہے

(نیاز مند : ذیشان احمد مصباحی)

Next articleنغمات الاسرار فی مقامات الابرار – مع حواشی رموز نغمات
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here