پیش لفظ

0
87

داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی عمت فیوضھم سے میری پہلی ملاقات ۲۰۰۷ء میں ہوئی تھی۔ یہ ملاقات اگرچہ حضرت کی ہی خانقاہ میں ہوئی لیکن یہ اتفاقی اس لیے تھی کہ میں حضرت سے ملنے نہیں، حضرت کے مدرسے کے استاذ اپنے دوست مولانا امام الدین سعیدی کی دعوت پر مدرسے کے طلبہ کی طرف سے منعقد ہونے والے پہلے یوم غزالی میں شرکت کے لیے حاضر ہوا تھا۔ اس اجلاس میں میرے احباب مولانا ظفرالدین برکاتی، مولانا ارشاد نعمانی اور مولانا شہباز مصباحی بھی مدعو تھے جو عرس حافظ ملت میں شرکت کے بعد مبارک پور سے الہٰ آباد آگئے تھے۔ دہلی سے میرا سفر تنہا ہوا تھااور وہ بھی اس حال میں کہ میں کئی دنوں سے بخار اور کھانسی سے پریشان تھا۔ مولانا امام الدین سعیدی بذریعۂ فون مسلسل مجھ سے رابطے میں تھے،ان کا اصرار اتنا شدید تھاکہ اس کے سامنے عذر کے جائز بہانے بھی بے سود تھے- پھر یہ سوچ کر رخت سفر باندھ لیا کہ بہت ممکن ہے کہ جگہ کی تبدیلی کے سبب طبیعت بھی بحال ہو جائے۔ ا لہٰ آ باد سے اپنے مذکورہ احباب کے ساتھ مولانا امام الدین کی رہنمائی میں خانقاہ عارفیہ/ جامعہ عارفیہ، سید سراواں الہٰ آ باد حاضر ہوا۔ حضرت سے ملاقات اور عصر کے بعد کی مجلس کا اثر یہ ہوا کہ مجھے تقریر میں یہ کہنا پڑا : 

’’میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ جگہ کی تبدیلی کے سبب طبیعت بحال ہوجائے اور الہٰ آباد کا سنگم جو دنیا بھر میں مشہور ہے، اسی بہانے اس کو بھی دیکھ لوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کل سنگم دیکھ پاؤں گا یا نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ میں نے اس خانقاہ میں ایک دوسرا سنگم دیکھ لیا۔ شریعت و طریقت کا سنگم، علم اور ادب کا سنگم، اخلاق اور روحانیت کا سنگم اور وہ سنگم ہے حضرت صاحب سجادہ کی ذات بابرکات۔‘‘

گنگا اور جمنا کے سنگم کو تو واقعی نہیں دیکھ سکا، اس کی نوبت الٰہ آ باد (سید سراواں) کے تیسرے یا چوتھے سفر میں آئی، البتہ شریعت و طریقت کے اس مرج البحرین سے مل کر رخصت ہوا تو خانقاہ عارفیہ سے متعلق چند کتابوں کے ساتھ وہ کتاب بھی تھی جس کا تازہ ایڈیشن آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی پہلے سفر میں میں نے یہ رائے قائم کی کہ حضرت کی شخصیت ایک جہت سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی سی ہے، کیوں کہ وہ ایک طرف جہاں تمام تر صوفیانہ روایتوں کے محافظ و امین ہیں تو دوسری طرف جب فقہ و افتا کی بات آتی ہے تو کبھی کبھی نگاہ کوتاہ بیں کو تقلید کی زنجیریں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اسی سفر میں مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ غیر صحابی لاکھوں مجاہدوں کے بعد بھی مقام صحابیت کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا- سچ ہے ’’شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘- اسی سفر میں اس بات کا حق الیقین حاصل ہوا کہ تصوف اور صوفیہ اب بھی اس دنیا میں زندہ ہیں- مہینوں دوستوں کی محفل میں اس سنگم کے دل آویز مناظر و محاسن کا ذکر کرتا رہا اور قند مکرر کا لطف لیتا رہا۔ احباب کبھی خوشی اور شوق سے میری باتیں سنتے تو کبھی رشک و تمنا سے اور کبھی حیرت و استعجاب سے۔بعض کرم فرماؤں کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ غائبانہ انہوں نے مجھ پر ’’ترس‘‘ بھی کھایا کہ نہیں معلوم جناب کس کے چکرمیں پھنس گئے اور اب میں غالب کا یہ شعر پڑھا کرتا ہوں۔

 ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
 بن گیا رقیب آخر تھا جو راز داں اپنا
………………..

سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کی ایک مرکزی خانقاہ صفی پور اناؤ یوپی سے حضرت شیخ عبد الصمد عرف مخدوم شاہ صفی قدس سرہ(۹۴۵ھ) خلیفہ مخدوم شیخ سعد خیرآبادی (۹۲۲ھ) خلیفہ حضرت مخدوم مینا شاہ لکھنوی (۸۸۴ھ) کی ایک کڑی شاہ محمد خادم صفی صفی پوری (۱۲۸۷ھ) اور حضرت قل ھوا للہ شاہ بارہ بنکوی (۱۳۲۴ھ) سے ہوتے ہوئے سلطان العارفین حضر ت خواجہ شہنشاہ عارف صفی محمدی (۱۹۰۳ء/۱۳۲۰ھ)تک پہنچی- آں موصوف نے ۱۸۸۵ء میں سید سراواں (الٰہ آباد شہر سے تقریباً۲۰؍کلو میٹر کے فاصلے پر مغرب کی سمت میں دہلی کولکاتا ریلوے لائن کے کنارے ایک قدیمی قصبہ) میں خانقاہ عالیہ عارفیہ کی بنیاد رکھی اور اپنے میکدۂ عرفا ن کے توسط سے چشتی نظامی صفوی فیضان سے خلق خدا کو خوب خوب سیراب کیا۔

اس میکدے کی نیابت حضرت سلطان شاہ عارف صفی سے ان کے خلف اکبر حضرت صفی اللہ شاہ عرف شاہ نیاز احمد (۱۳۷۴ھ) اور ان سے ان کے برادر گرامی مخدوم شاہ احمد صفی عرف شاہ ریاض احمد (۱۴۰۰ھ) کو ملی۔ یہ حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مدظلہ النورانی کے والد کے عم محترم ہیں- یہ نبوی وراثت انہی سے آپ تک منتقل ہوئی- 

………………..

حضرت شیخ ابو سعید اس دینی وروحانی خانوادے میں ۱۹۵۸ء میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں پروان چڑھے- آپ مسلکاسنی حنفی، مشربا چشتی قادری، نقش بندی و سہروردی اور نسبا عثمانی ہیں، اور ان سب سے پہلے آپ مسلم اور محمدی ہیں – آپ اس پر ہمیشہ زور دیتے ہیں- اسلامی اخوت پر یقین رکھتے ہیں اور انا اول المسلمین اکثر ورد زبان رکھتے ہیں-رشتۂ اسلام و ایمان کے علاوہ زمانے میں جتنی پنپنے کی باتیں وضع کر لی گئی ہیں، آپ ان سب سے بیزار رہتے ہیں- آپ کے والد کا نام حکیم آفاق احمد اور والدہ کا نام شاہدہ بی بی تھا- والد محترم نے دونوں ناموں کو ملاکر آپ کا نام شاہد الآفاق رکھا جو آپ کی شخصیت کا صحیح معنوں میں عکاس ہے – والد ماجد کو حضرت شیخ ابو سعید ابو الخیر جو چوتھی صدی ہجری کے بڑے باکمال اور صاحب کشف و کرامت بزرگ گزرے ہیں، سے قوی نسبت تھی، اسی نسبت کے زیر اثر آپ نے صاحب زادے کی کنیت ابو سعید تجویز فرمائی -بعد میںحضرت نے اپنے تینوں صاحب زادوں کے نام میںاسماے اہل بیت کے ساتھ لفظ سعیدکو شامل کردیا ؛آپ کے صاحب زادوں کے نام بالترتیب حسن سعید، حسین سعید اور علی سعیدہیں-اسی کنیت کی وجہ سے الٰہ آباد اور اطراف میں حضرت ابو میاں کے نام سے جانے جاتے ہیں-

حضرت شیخ کی ولادت سے قبل آپ کے والد حکیم آفاق احمدرحمہ اللہ نے خواب دیکھا کہ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ سے ایک نوران کے قلب میں داخل ہوا، پھر وہی نوران کی اولاد میں سے کسی میں منتقل ہوگیا- اس خواب کے کچھ دنوں بعد ہی حضرت کی پیدائش ہوئی – حضرت کے خالو جناب شکیل احمد عثمانی جن کا شمار سید سراواں کے رؤسا میں ہوتا ہے، اولاد سے محروم تھے، انہوں نے سال بھر کی عمر میں ہی حضرت کو اپنی کفالت میں لے لیا اور تعلیم وتربیت کا پورا فریضہ بطریق احسن خود ہی ا نجام دیا- حضرت کی ابتدائی تعلیم گھر کی چہار دیواری کے اندر ہوئی، بعد ازاں جناب علی ظہیر عثمانی علیگ نے آپ کو فارسی اور جناب درویش نجف علیمی نے انگریزی کی کتابیں پڑھائیں ، لالہ پور ضلع الٰہ آباد سے ہائی اسکول پاس کیاپھر اعلیٰ تعلیم کے لیے ۱۹۷۵ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے پہلے P.U.C.پاس کیا پھر فارسی سے بی اے کرنے لگے- 

حضرت کی تعلیم ا بھی جاری ہی تھی کہ شاہ احمد صفی عرف شاہ ریاض احمدقدس سرہ جو زندگی کے آخری ایام سے گزررہے تھے، سلسلے کے بعض احباب کے مشورے پر اپنی خلافت و سجادگی کے مسئلے پر غور کرنے لگے- حاضرین نے یکے بعد دیگرے خاندان کے سبھی بڑوں اور جوانوں کا نام لیا لیکن حضرت کسی کے نام سے مطمئن نہیں ہوئے- آخر میں خود ہی کہا کہ اس کو بلواؤ جو علی گڑھ میں زیر تعلیم ہے – چنانچہ حضرت شیخ ابو سعید جو ابھی بانکے جوان تھے ، کو بلوا یا گیا-سلطان العارفین حضرت شاہ عارف صفی کے عرس بابرکت کے حسین موقع سے ۱۷؍ذی قعدہ ۱۳۹۸ھ/ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۷۸ء کو غیر متوقع طور پر بعد نماز مغرب حضرت کو بیعت کیا اور بعد نماز عشا عرس کی تقریب کے دوران خلافت وسجادگی سے سرفراز فرمایا- اس وقت آپ کی عمر صرف بیس سال تھی- یہ ایک غیر متوقع واقعہ تھا جس نے آپ کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا-آپ کے اندر ایک انقلاب برپا ہوگیا- بیعت کے وقت سے ہی آپ کی آنکھوںسے آنسوؤں کا سمندر رواں ہوگیا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا -فیضان نظر نے کتاب و مکتب سے بے نیاز کردیا- سلسلۂ تعلیم رک گیا- اس کے بعد ایک سال دو مہینے اپنے شیخ کی صحبت پائی- حضرت کے شیخ پر ان دنوں استغراقی کیفیت کا غلبہ تھا-حضرت ان کے قریب ہوتے جب بھی وہ خاموش رہتے-خاموشی میں ہی راز ونیاز کی ساری گتھیاں سلجھتی رہیں- بالآخر۱۵؍محرم ۱۴۰۰ھ کو حضرت کے شیخ مخدوم شاہ احمد صفی عرف شاہ ریاض احمد قدس اللہ سرہ العزیز اپنے مالک حقیقی سے جاملے-حضرت کو اپنے شیخ کے علاوہ مولانا حاٖفط شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر کاکوروی علیہ الرحمہ (۱۴۳۱ھ/۲۰۱۰ء)سے بھی سلاسل سبعہ کی اجازت و خلافت حاصل ہے- 

حضرت شیخ ابو سعید کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی رہی- شیخ کی وفات کے بعد تنہائی اور راہ سلوک میں بے یاری کابھی احساس رہا-آپ نے ریاضت و مجاہدہ شروع کیا ، مختلف اور ادو وظائف کیے-خانقاہ کے ایک حجرے میں چٹائی بچھا کر سوتے اور سر کے نیچے اینٹ لگاتے- ایک دور وہ بھی گزرا جب آپ مغلوب السماع تھے- نماز اور ضروریات کے علاوہ ہروقت آپ کا قوال نغمۂ حق سناتا رہتا- بسا اوقات قوال اکیلا ہی گانے والا اور حضرت اکیلے سننے والے ہوتے-ایک دور وہ بھی گزرا جب قریب کے جنگل میں چلے جاتے اور ذکر وفکر میں غرق رہتے – اس وقت آپ کے ساتھ مولوی عبد القیوم صاحب ہوا کرتے جو حضرت کے ساتھ خود بھی مستقل روزے رہتے – ہفتوں ہفتوں صرف ایک پیالی چائے سے افطار پر کٹ جاتے – مولوی عبد القیوم صاحب کبھی وہ بھی نہ لیتے-کبھی کبھار آپ اطراف کی بستیوں میں چلے جاتے جہاں آپ کے یا آپ کے شیوخ کے متوسلین ہوتے- آپ ان بستیوں میں ہفتوں قیام فرماتے اور ذکر و فکر اور سماع کی محفل گرم رکھتے۔

کچھ سالوں بعد آپ اپنی استغراقی اور نیم جذبی کیفیت سے باہر آئے – اس دوران شیخ ابو سعید ابو الخیر ، خواجہ غریب نواز ، مولانا روم ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا، مخدوم شاہ مینا، شیخ سعد خیرآبادی،مخدوم شاہ صفی، حضرت وارث پاک اور کئی دوسرے بزرگوں سے مختلف اوقات میں قوی نسبتیں رہیں- افاقے کے بعد علم الکتاب کی کمی کا شدید احساس ہوا، چنانچہ آپ مطالعہ وتحقیق کی طرف مائل ہوئے اورامام محمد غزالی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا،مخدوم شیخ سعد خیرآبادی، شیخ عبد الحق محدث دہلوی ، مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی، مخدوم اشرف کچھوچھوی،حضرت شیخ شرف الدین یحیٰ منیری اور دوسرے علما ومشایخ کی کتابوں اور ملفوظات کا خوب مطالعہ کیا اور بھرپور حظ اٹھایا- 

اس دوران عام مشایخ چشت کی طرح حضرت کی طبیعت میں بھی تجرد پسندی پیدا ہوگئی تھی- از دواجی زندگی کا تصور ذہن و فکر سے محوہونے لگا تھا -جب اس بات کا احسا س آپ کے خالو اور خالہ کو ہوا تو وہ ناراض ہوئے اور شادی کے لیے بضد ہوگئے- خالو اور خالہ کی رضا جوئی کے لیے بمشکل تمام اس شرط کے ساتھ شادی کے لیے تیار ہوئے کہ میری ہی طرح، بیوی بچوں کا خرچ بھی آپ لوگوں کو اٹھا نا ہوگا- انہوں نے شرط منظور کرلی اور اس طرح آپ کا عقد مسنون ۲۳؍جولائی ۱۹۸۹ء کوموضع اودھن الٰہ آباد کے شیخ ریاض احمد صاحب کی صاحب زادی مخدومہ نسیمہ بی بی کے ساتھ کردیا گیا جو نہایت خوش اخلاق ، دین دارو فاشعار اور عاشق رسول خاتون ہیں- 

ریاضت ومجاہدہ ، مطالعہ و تحقیق اور شادی خانہ آبادی کے بعد پورے انہماک اور توجہ کے ساتھ ارشاد وہدایت کی طرف مائل ہوئے- حضرت کی صحبتیں اٹھانے والے اہل نظر اس امرسے واقف ہیں کہ حضرت کی روحانی ، علمی اور فکری سطح میں کون سی زیادہ بلند ہے، یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوجاتاہے- آپ نے شریعت وطریقت کے جامع افراد تیار کرنے کے لیے نہایت منصوبہ بندی اور پلاننگ کے ساتھ ۱۹۹۳ء میں خانقاہ عارفیہ کے احاطے میں جامعہ عارفیہ کی بنیاد رکھی – یہ تعلیمی ادارہ ۲۰۰۴ء تک سست رفتاری کے ساتھ چلتارہا- حفظ وقراء ت اور درس نظامی کی ابتدائی درجات کی تعلیم ہوتی رہی- اچھے اساتذہ اور طلبہ کی تلاش جاری رہی-۲۰۰۴ء سے تعلیمی سرگرمی تیز ہوئی، رفتہ رفتہ نصاب میں اصلاح اور نظام میں باضابطگی لائی گئی ،اصلاح و ترمیم کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے او ر اس وقت جامعہ عارفیہ کا تعلیمی معیار و منہاج اترپردیش کے مدارس میں کئی جہتوں سے منفردونمایاںہے -طلبہ ہر طرف سے ٹوٹے پڑرہے ہیںاور جگہ ہے کہ تنگ پڑتی جارہی ہے- اس لیے مزید تعمیر و توسیع کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے- تقریبا ۲۵۰ طلبہ اس وقت زیر تعلیم ہیں- عصری ضرورتوں کے پیش نظر سائنس ، انگریزی ، حساب اور ہندی کی باقاعدہ تعلیم ہورہی ہے – اخلاقی تربیت کے لیے کتب تصوف کو بھی داخل درس کیا گیا ہے -خود حضرت شیخ طلبہ کی اخلاقی وروحانی تربیت کے علاوہ گلستان سعدی، مثنوی معنوی،مرج البحرین اور کیمیائے سعادت جیسی کتابوں کا درس دیتے ہیں – حضرت شیخ نے خانقاہ کی چہار دیواری میں جامعہ قائم فرما کر شریعت و طریقت ، تعلیم و تربیت ، قال وحال اور فقہ و تصوف کوصحیح معنوں میں یکجا کردیا ہے- قدیم خانقاہی طریق اور جدید تعلیمی نظام کا یہ حسین سنگم سید سراواں کے علاوہ ملک میں کہیں اور نظر نہیں آیا-حضرت جامعہ عارفیہ کی تعمیرو ترقی کے علاوہ دیگر درجنوں مدارس کی سرپرستی، اعانت اور مشاورت میں شامل ہیں-مختلف مقامات پر مساجد کی تعمیر وسرپرستی اور ائمہ ومدرسین کی تقرری سے بھی خاص شغف ہے- جگہ او رماحول کے مطابق مختلف مقامات پر اپنے تربیت یافتہ ائمہ و معلمین اور دعاۃ ومبلغین کو بھیجتے ہیں تاکہ ابتدائی اور بنیادی سطح پر تعلیمی ، تعمیری، اصلاحی اور دعوتی مشن کا میابی کے ساتھ آگے بڑھ سکے- 

حضرت شیخ کی شخصیت ایک دوراندیش صاحب نظر، مدبرو مربی اور حکیم داعی و مصلح کی ہے – اللہ کریم کی توفیق سے بے ایمانوں کو دولت ایمان عطا کرنا ، بے عملوں کو عامل وپارسا بنانا، ناکاروں کو برسرکار اور ناپختہ لوگوں کو پختہ بنانا حضرت کا مشن ہے – وہ دوسروں کی ہدایت، اصلاح ، کامیابی اورسرخروئی کے لیے حریص واقع ہوئے ہیں اور اس کے لیے وہ شرعی حدود میںرہتے ہوئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں-ان کی بارگاہ میںہندو مسلم، مومن کافر،سنی شیعہ،حنفی شافعی،دیوبندی بریلوی اور امیر وفقیر، عالم و جاہل،گورے کالے ، ہر طرح کے پیاسے آتے ہیں اور حضرت صوفی مشرب پرعمل کرتے ہوئے بلا تفریق سب کو سیراب کرتے ہیں-وہ سب کی اصلاح چاہتے ہیں اور ایک حکیم دانا کی طرح جس کے لیے جو دو ا اور جیسا پرہیز مناسب سمجھتے ہیں تجویز فرمادیتے ہیں-وہ سب کی دل جوئی کرتے ہیںاور سب کے لیے سعادت دارین کے متمنی رہتے ہیں-وہ پورے معنوں میں دل بدست آوری کو حج اکبر تصور کرتے ہیں- وہ پکے مسلم ہیں مگر غیر مسلموں کی فریادرسی، دست گیری اور عیادت سے شغف رکھتے ہیں، پورے سنی ہیں مگر غیر سنیوں سے منہ نہیں پھیر سکتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں صحیح طور سے قبلہ رخ کر سکیں، وہ حنفی ہیں مگر ان کی تقلید میں جمود نہیں، عصر حاضر میں دعوتی اور تبلیغی مقاصد کے پیش نظر نومسلموں پرحسب ضرورت مال زکوٰۃ خرچ کرنے کوبھی بہتر سمجھتے ہیں – 

حضرت کے دست حق پرست پر اب تک سیکڑوں افراد ایمان کی دولت سے سرفراز ہوچکے ہیں اور ہزاروں بد عمل تائب ہوکر صراط مستقیم سے لگ چکے ہیں -آپ کے دربار سادہ ورنگین کی یہ کرامت ہے کہ اس میں ہر مغرور کی پیشانی جھکتی نظر آتی ہے- ان سے مل کر بچوں کو ایک دوست، بڑوں کو ایک سرپرست ، بوڑھوں کو ایک دست گیر، عالموں کو ایک مربی اور اہل نظر کو ایک دور اندیش مفکر ومدبر کی ملاقات محسوس ہوتی ہے-آپ کی دعوت کا رنگ دل کش اور اصلاح کا طریقہ انوکھا ہے-آپ جس سے گفتگو کرتے ہیں اس کی زبان، اصطلاح، نفسیات اور مزاج کا بھرپور خیال رکھتے ہیں-سکھوں سے بات کرتے ہوئے گروبانیوں کا استعمال، ہندؤں سے گفتگو کے دوران دیومالائی قصوں اور ہندی اصطلاحوں سے استفادہ ،مخاطب کو حد سے زیادہ قریب کردیتا ہے- حضرت کی دعوتی اور اصلاحی انداز میں ،حکمت و موعظت، ترتیب و تدریج ، انفاق و بے لوثی، انذاروتبشیراور دل جوئی و خیر خواہی کے عناصر بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں-گفتگو میں تعلیاور ادعائیت بالکل ہی نہیں ہوتی، مگر وہ شک و ریب سے بھی مکمل پاک ہوتی ہے-وہ مقام ایمان سے گفتگو فرماتے ہیں اور وہ بھی اس دل نشیں انداز میں کہ’’ از دل خیزد بر دل ریزد ‘‘ کی پوری مثال صادق آتی ہے-بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دلوں پر شیخ کی گرفت ہے وہ جیسے چاہتے ہیں انہیں الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور بعض دفعہ چند لمحے میں بے ایمانوں، گم راہوں اور بد کاروں کو سپر انداز ہوتے اور اپنے پچھلے کرتوتوںپر احساس ندامت میں آہ وزاری کرتے دیکھ کر خود اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا- ایسی آنکھیں جو کبھی رونا نہیں جانتیں، جب موسلادھار برسنے لگتی ہیں، اور ایسے دل جنہیں پتھر سمجھا جاتا ہے، جب وہ موم کی طرح پگھلتے نظر آتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی دست مسیحائی کو چوم لینے کو دل بے قرار ہوجاتا ہے- 

ان کی محفل میں دل کو سکون ، عقل کو روشنی، قلب کو اخلاص، ذہن کو پختگی ، فکر کو سمت اور علم کو توانائی ملتی ہے – کج کلاہان عصر اپنا تاج ان کے قدمو ںمیں ڈالتے ہیں ، ارباب فقہ و فتاویٰ باب اجتہاد کے سامنے خود کو سجدہ ریز پاتے ہیں ، اہل علم ودانش کو اپنی تنگ دامانی کا احساس ہوتاہے اورمسند نشینان خانقاہ اس جناب میں پہنچ کر تصوف اور طریقت کی بھیک لیتے ہیں -بارہا یہ بھی دیکھا گیا کہ جو لوگ مغرور پیشانی کے ساتھ حاضر دربار ہوئے پہلی اور دوسری ملاقات کے بعد ایسے جھکے کہ کبھی گردن سیدھی نہ کرسکے، ان کی انا کے بت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئے -وہ لوگ بھی ہمارے سامنے ہیں جو علم وآگہی کے غر ور سے چور تھے اور اب ان کے سر سے دستار علم ہمیشہ کے لیے اتر گئی ہے-اب وہ صرف خاموش طالب اور سوالی بن کر رہ گئے ہیں – ہم ا ن سے بھی واقف ہیں جو مولانا روم کی طرح علمی اسناد و شہادات کو درنار کرچکے ہیں اور اب ہاتھوں میں کشکول لیے روئے جاناںکو تکے جارہے ہیں- وہاں ہر منگتا کی مرادیں پوری ہوتی نظر آتی ہیں، وہ منگتا کسی بھی سطح کا اور اس کا سوال کسی بھی نوعیت کا کیوںنہ ہو- آپ کی محفل کأنّ علٰی رؤسہم الطیور کا نمونہ معلوم ہوتی ہے اور خاص بات یہ کہ گفتگو جہاں سے بھی شروع ہو ،بات مطلوب ومقصود حقیقی تک ہی پہنچتی ہے- محفل پر کبھی انذار کا غلبہ ہوتا ہے تو کبھی تبشیر کا- اس میں غم دنیا کا رونا نہیں ہوتا، فکر آخرت میں ہی آنکھیں برستی نظر آتی ہیں اور کبھی دنیا کی بات بھی ہوئی تو اس میں دین کا پہلوتلاش کرلیا گیا اور اس طرح دنیا دین بن گئی – 

حضرت کے شب وروز کو جن لوگوں نے قریب سے دیکھا ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حضرت کے اخلاق و کردار ناقابل یقین حد تک اسوہ حسنہ کی تصویرہیں- بزرگوں کے اخلاق و عمل اور کشف و کرامات کے تعلق سے جو واقعات کتابوں میں ملتے ہیں ان کی صحبت اٹھانے والے سر کی آنکھوں سے ان کا مشاہد ہ کرتے ہیں – وہ اس دور زوال میں صحیح معنوں میں نمونہ اسلاف ہیں – نماز باجماعت کا اہتمام ، احکام شریعت کی پابندی وپاسداری، خوشی اور غم میں صبر وشکر ،ہر حال میں مسکرانا اور مسکراتے ہوئے سب کا استقبال کرنا،ہر شخص کی دل جوئی ، سب کا خیال ، اپنے چاہنے والوں کو ٹوٹ کر چاہنا اور دشمنوں کے دل کو بھی محبت سے جیت لینا ،آپ کی دل آویز شخصیت کے خاص عناصرہیں- 

………………..

Dreams make reality.’’خواب حقیقت کی تعمیر کرتے ہیں‘‘ ایک مقولہ ہے جس پر حضرت شیخ کو کامل یقین ہے- اسی یقین کے تحت انہوں نے ایک خواب سجایا ہے، اور وہ خواب ہے شریعت وطریقت، مدرسہ و خانقاہ، جدید و قدیم ، تحقیق و تفکیر، جذب وسلوک، قال وحال اور دعوت واصلاح کے اجتماع اور جسم و روح کے علاج کا- اللہ کریم بندے کے گمان کے قریب ہے انا عند ظن عبدی بی پر انہیں کامل ایمان ہے اور وہ اسی ایمان کے سہارے اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں-سفر جاری ہے، لوگ آرہے ہیں اور کارواں بڑھتا جارہا ہے- حضرت کا ایک بڑا وصف حب اہل بیت بھی ہے ، اللہ نے چاہا تو وہ سنت حسنین کریمین ادا کرتے نظر آئیں گے- یہ سیہ کار بھی حضرت کی چاکری کا متمنی ہے اور اسی چاکری میں جینا اور مرنا چاہتا ہے- میں نے بہت یقین کے ساتھ یہ بات کہی ہے کہ 

قریب ہے کہ زمانہ ٹھہر کے بولے گا 
 کہ یہ فقیر تو قبضہ جہاں پہ رکھتا ہے
 اور
 اسی جناب سے دل کو ہے مغفرت کی امید
جبیں کو شوق اسی آستاں پہ رکھتا ہے

 اللہ ان کا حامی و ناصر ہو- 

………………..

نغمات الاسرار فی مقامات الابراراسم با مسمیٰ ہے۔عارف باللہ حضرت شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ کے قلبی واردات نہایت سلاست و فصاحت اور سادگی و بے ساختگی کے ساتھ مثنوی کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ یہ واردات یقینا ایک سالک کے لیے دستورالعمل اور صاحب نظر علما و صوفیہ کے فکری و عملی اعتدال و توازن کے لیے مرشدو رہنما ہیں-اس میں علمی نکات بھی ہیں، فکری و اعتقادی اصول بھی ہیں اور سب سے بڑھ کر روحانی احوال، صوفیانہ فلسفوں اور روایتوں کو نہایت سلیقے سے بیان کردیا گیا ہے-ہر بات کتاب و سنت ، آثار سلف اور منطقی و عقلی دلائل سے مبرہن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اشعار اول نظر میں قابل اعتراض ٹھہرتے ہیں، بعض اشعار ایسے بھی ہیںجو مجھ جیسے کوتاہ فکروں کے سر سے گزر جاتے ہیں، مگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو خود بعض اشعار بعض کی شرح و تفصیل کر تے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہی بات رموز نغمات کے نام سے اس کے حواشی لکھنے کا باعث ٹھہری- اللہ کا شکر ہے کہ اس سعادت کا قرعۂ فال اس سیہ کار کے نام نکلا- لیکن نغمات الاسرار کے رموز و اسرار کے فہم سے قاصر، مقامات و احوال صوفیہ سے بے خبر اور علوم اسلامی میں کوتاہ دست حاشیہ نگار کو دوران تحشیہ جو مشکلات درپیش ہوئیں، وہ اس کا پتّہ پانی کردینے کے لیے کافی تھیں، مگر صاحب مثنوی کی خصوصی توجہات اور علمی نکات آفرینیاں میری یاوری کرتی رہیں-اس لیے میںدوٹوک لفظوںمیں اس اعتراف میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا کہ رموز نغمات میں اگر کچھ کام کی باتیں آگئی ہیں، تووہ سب شیخ کی ہیں اور اس کی جملہ خامیاں بحق حاشیہ نگار محفوظ ہیں-اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ حقائق و معارف اور رموز و اسرار کا یہ وسیع قلزم اجمالی حواشی نہیں، تفصیلی شرح و بیان کا متقاضی ہے- اگر شیخ کی توجہات فہم و شعور کی آنکھیں کھول دیتی ہیںاورتوفیق خداوندی شامل حال ہوتی ہے، تو ان شاء اللہ یہ کار عظیم بھی اس گنہ گار کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچے گا۔

………………..

حواشی لکھتے وقت بارہا یہ خیال آیا کہ میں اس کام کی نسبت صحیح کام کے لیے غلط انتخاب ہوں- کئی بار چاہا کہ اس سے دست بردار ہوجاؤں مگر پھر صاحب مثنوی کی توجہات نے یاوری کی-حضرت ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ جہاں ضرورت پڑے تبادلۂ خیال کر لیں اورمیں تبادلۂ خیال کرتا رہا- کبھی فون پر تو کبھی مجلس میں بیٹھ کر- بعض اشعار ایسے پیچیدہ تھے جو پہلے میرے لیے کسی طور بھی قابل تاویل نہ تھے لیکن جب گفتگو ہوئی تو ایسے کھلے جیسے ان میں کبھی کوئی پیچیدگی تھی ہی نہیں – بعض اشعار کی تشریح کے وقت میں نے صاف محسوس کیا کہ حضرت کے ذہن میں اس سے مختلف تشریح بھی موجود ہے مگر وہ ہم ’’فتویٰ بکف‘‘ مولویوں کو اس تشریح کا متحمل نہیں پاتے، اس لیے اس سطح کی تشریح کر رہے ہیں جو ہمارے علم و فکر کے مطابق ہے- اشعار کوناقص طور پر ہی سہی، سمجھنے کے بعد یہ فکر دامن گیر رہی کہ اسے کم لفظوں میں آسان اور قابل فہم اسلوب میںکیسے سپرد قرطاس کیا جائے- نغمات الاسرار میں صاحب مثنوی نے آیات و احادیث اور اقوال و روایات کو کثرت کے ساتھ نظم کیا ہے، جن کی تخریج ضروری تھی، چوں کہ فن حدیث میں میں یکسر تہی دست ہوں، اس لیے یہ کام بھی میرے لیے مشکل تھا-خیر کسی طرح کام شروع ہوا- بعض اشعار کی ضروری تشریح اور حوالوں کی تخریج کا تقریباً ۷۰فی صد کام مکمل ہو گیا- لیکن اس کام سے میں اس لیے مطمئن نہیں تھا کہ اس میں نہ شرح کی تفصیل تھی اور نہ حواشی کا اجمال تھا- اگر وہ چھپے تو اس کی شکل کیا ہو فٹ نوٹ کی ہو ـ، یا شرح کی؟ میں اسی کشمکش میں تھا کہ ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا- چند ماہ قبل میں الہٰ آباد جا رہا تھاـ- جلدی جلدی میں وہ بیگ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے باہر آٹورکشا میں چھوٹ گیا جس میں ’’نغمات الاسرار‘‘ کے حواشی والی کاپی تھی- جب میں خانقاہ پہنچا اور حضرت نے مجھ سے میرے کام کے تعلق سے سوال کیاتو میں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سرگزشت سنادی-حضرت نے بغیر کسی تردد و تامل کے فوراًآیت کریمہ مَا نَنسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَوْ نُنسِہَا نَأْتِ بِخَیْْرٍ مِّنْہَا أَوْ مِثْلِہَا (البقرہ:۱۰۶) (ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے یا بھلاتے نہیں مگر اس سے بہتر یا اس کی مثل آیت لاتے ہیں) تلاوت فرمادی- اس سے میری ڈھارس بندھی- میں نے کام دوبارہ شروع کیا اور اب میں صاف طور سے کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اپنے بیگ کے گم ہونے کا کوئی افسوس نہیں ہے، کیوں کہ میرے گمان کی حد تک حواشی کا یہ نقش ثانی نقش اول سے یقینا بہتر ہے-

………………..

مرشد اعظم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ آپ انسان کامل ہیں- آپ کی حیات طیبہ دین ودنیا کی امامت و ہدایت کا مکمل سرچشمہ ہے- آپ کے بعد ’’علم دین‘‘ کی تین شاخوں الاسلام، الایمان اور الاحسان کو تین گروہ علما لے کر آگے بڑھے ،کیوں کہ بالخصوص عہد صحابہ کے بعد ایسی جامع الصفات شخصیتیں کم ہوئی ہیں جو تمام دینی و علمی اوصاف و کمالات کی جامع ہوں- ایسے میں اسلام کے ظاہری احکام و معاملات کی تحقیق و تشریح کا کام فقہا نے کیا- ایمان کی تحقیق و تشریح کا کام متکلمین نے کیا جب کہ احسان و سلوک اور تزکیۂ نفوس کا عظیم ترین فریضہ صوفیۂ کرام نے انجام دیا- اسلام کی اساس اول یعنی کتاب اللہ چوں کہ ہر تغیرو تبدل اور تحریف سے پاک رہی البتہ اساس ثانی یعنی احادیث رسول کی روایت و اسناد میں مختلف غیر صالح مقاصد کے تحت الحاق و تلبیس کا کام بڑے پیمانے پر ہوا- اس لیے اب علماے اسلام کا ایک گروہ ایسا بھی سامنے آیا جس نے صحیح حدیثوںکو الحاقی اور موضوع حدیثوں سے چھانٹ کر الگ کر دیا- ایسے میں حدیث کی ایک تیسری قسم یعنی حدیث ضعیف بھی سامنے آئی جس کی نہ صحت قطعی تھی اورنہ موضوعیت- محدثین نے اس الجھن کو اس طور سے رفع کیا کہ ایسی حدیثوں کو احکام حلال و حرام کے اثبات کے لیے غیر معتبر قرار دیا کیوں کہ یہ حدیثیں معیار صحت پر پوری نہیں اتر رہی تھیںاور فضائل و مناقب میں ان حدیثوں کو معتبر مانا کیوں کہ ان کا حدیث نہ ہونا قطعی نہیں تھا،لہٰذا ان کا اقل ترین مقام یہ تھا کہ انہیں کم از کم فضائل میں معتبر مانا جائے- علماے اسلام کے یہ چاروں گروہ تاریخ اسلام میں موجود رہے ہیں، لیکن علما کی اس درجہ بندی (Categorization) سے یہ سمجھنا کہ جو فقہا تھے وہ متکلم، صوفی، محدث نہیں تھے، جو متکلم تھے وہ فقیہ، صوفی اور محدث نہیں تھے، جو صوفی تھے وہ فقیہ، متکلم اور محدث نہیں تھے یا جو محدث تھے وہ فقیہ، متکلم اور صوفی نہیں تھے، سخت نادانی اور غلط فہمی ہے- یہ تمام نفوس قدسیہ بیک وقت چاروںمیدان کے شہسوار تھے البتہ اختصاص اور Specializationجن کا جس شعبے میں تھا، طبعی میلان جن کا جس میدان کی طرف زیادہ تھا، وہ اسی میدان کے حوالے سے زیادہ مشہور ہوئے اور اکثر یہ ہوا کہ ایک میدان کار کے عالم نے اسی میدان میں زیادہ خدمات انجام دیں- کسی دوسرے میدان علم کی طرف اس کی توجہ کم رہی-متکلمین کی پوری توجہ عقیدے کی اصلاح پر ، فقہا کی مسائل کی تخریج پر، محدثین کی حدیث کی صحت و سقم پراور صوفیہ کی اصلاح و ارشاد پر مرکوز رہی-

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ علماے اسلام کے ان چاروں طبقات کا یکساں احترام کیا جائے اور جس عالم کا جو میدان اختصاص ہے اس عالم سے اس میدان کے حوالے سے بھرپور استفادہ کیا جائے- کسی ایک گروہ علما کی طرف مائل ہو جانا اور دوسرے سے منحرف یا متنفر ہو جانا سخت احمقانہ عمل اور باعث گمراہی ہے- اسی طرح فقیہ سے عقیدہ، متکلم سے احسان و سلوک، صوفی سے حدیث اور محدث سے فقہ حاصل کرنے کی بات بھی خالص غیر دانش مندانہ ہے- جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ سخت الجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں- ایسے لوگوں کے لیے ہی عربی کا مقولہ ہے کہ اعط القوس باریھا ’’کمان ماہر کمان گرکو دو‘‘ ایسے حضرات کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ لکل عمل رجال ’’ہر کام کے خاص مردان کار ہوتے ہیں-‘‘ واضح رہے کہ میری یہ گفتگو ان علماے فحول سے متعلق نہیں ہے جن کے میدان اختصاص بیک وقت ایک سے زائد رہے ہیں-

………………..

احادیث رسول کے سلسلے میں صوفیہ کا مذاق و منہج کیا ہے؟ یہ ایک مستقل موضوع بحث ہے جس کا نہ میں اہل ہوں اور نہ ہی یہ مقام اس کا متحمل ہے – البتہ یہاں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ حواس خمسہ کے سوا حاسۂ سادس جو وحی و الہام کا مہبط ہے، پر جن لوگوں کا ایمان و یقین ہے وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ حاسہ زمانۂ رسالت کے بعد کند نہیں ہو گیا- ختم نبوت محمدی کے بعد صرف یہ ہوا کہ وحی کا تسلسل رک گیا البتہ الہام و منام کا سلسلہ جاری رہا جسے ایک حدیث میں نبوت کا ۴۶ واں حصہ قرار دیا گیا ہے-(بخاری، کتاب التعبیر، باب الرؤیا الصالحۃ جزء من ستۃ و اربعین جزء ا من النبوۃ)یہ حصہ بعد کے ادوار میں صالحین و متقین اور اولیاے کاملین کو تسلسل کے ساتھ ملتا رہا ہے- جو لوگ اس تسلسل کی نفی کرتے ہیں در اصل ان کی مثال اس مرد ناکارہ کی ہے جو لذت جنس سے محروم ہے اور وہ اس کا انکار کرتا ہے ، ورنہ علمی طور پر ایسے لوگوں کے پاس کتاب و سنت اور اجماع بلکہ عقل و قیاس سے بھی کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے جس سے الہام و منام کے تسلسل کی نفی ہو سکے- اور جب الہام و منام اور کشف کی حقیقت حدیث رسول سے ثابت ہے تو پھر یہ ماننے میں بھی کوئی قیامت نہیں آجاتی کہ کسی حدیث کی صحت و ضعف کے بارے میں کسی عبد صالح کو من جانب اللہ الہام ہو یا بذریعہ کشف اللہ کریم جل شانہ اسے کسی حدیث کی صحت وضعف سے واقف کرادے- البتہ علماے عقاید نے جب کشف کا دائرہ کار متعین کیا ہے تو یہ کہا ہے کہ ’’الکشف دلیل لاھلہ لا لغیرہ‘‘ (یعنی کشف صاحب کشف کے لیے دلیل ہے، دوسروں کے لیے نہیں) اور ایسا اس لیے تاکہ ہر بوالہوس حسن پرستی شعار نہ کرنے لگے- اس کو مطلقاً حجت مان لیا جاتا تو ہر دوسرا شخص اپنے توہمات وخرافات کو ثابت کرنے کے لیے درجنوں جھوٹے کشف کاانبار لگا دیتا اور اس طرح شریعت بازیچۂ اطفال بن کے رہ جاتی- 

اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ جہاں ایک طرف حدیث کے سلسلے میں کسی عارف کامل کی رائے کو مطعون نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عارف کی وہ رائے اس کے کشف کی بنیاد پر ہو اور علمی وشرعی طور پر اس کا کشف اس کے لیے دلیل و برہان کا درجہ رکھتا ہے تو دوسری طرف جب عام حالات میں نقد حدیث کی بات آئے تو حدیث کی پرکھ کے سلسلے میں محدثین کا جو معیار و منہاج ہے اس کے مقابل کسی صوفی کا قول پیش کرنا بھی علمی نقطۂ نظر سے غلط ہوگا- جس کا جو مقام ہے وہ مقام اسے دیا جانا چاہیے اور جس فن کے جو حدود اور تقاضے ہیں انہیں ملحوظ رکھا جاناچاہیے -سخن فہمی لازم ہے، بے وجہ غالب کی طرف داری اچھی نہیں-

………………..

’’نغمات الاسرار فی مقامات الابرار‘‘ کے اندر ایسے بہت سے افکار و معانی نظم کیے گئے ہیں جن کو اگر حدیث کہا جائے تو ان پر تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے- بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو حدیث ماننے کی صورت میں محدثین کے معیار و منہاج پر وہ ضعیف ٹھہریں گی اور شاید ایک دو موضوع بھی نکلیں، لیکن صرف اس وجہ سے اس مثنوی کی فکر و تعلیم پر اعتراض ایک غیر منصفانہ عمل ہوگااور اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب مثنوی نے ایسی باتوں کے سلسلے میں کہیں بھی یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ یہ حدیث رسول ہیں-انہوں نے ان باتوں کو اپنے مخصوص اسلوب میں شعری قالب عطا کر دیا ہے اور پوری مثنوی میںکوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جسے قرآن و حدیث کے خلاف کہا جا سکے- مثال کے طور پر ایک قول ہے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ اس پرحدیث ہونے یا نہ ہونے کے سلسلے میں تو گفتگو ہو سکتی ہے لیکن اس مفہوم کی صداقت پر کوئی گفتگو نہیں ہوسکتی اور اس کی وجہ قرآن کی یہ آیت ہے: الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی (روح میرے رب کا امر/ معاملہ/ راز ہے-الاسراء:۸۵) اب ظاہر ہے جو شخص بھی رب ذوالجلال کے امر، معاملہ یا راز سے واقف ہوگا، وہ بالواسطہ اپنے رب سے واقف ہو جائے گا- یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جو شخص وہائٹ ہاؤس کو سمجھ لے گا وہ امریکی نظام حکومت کو سمجھ لے گا- یہ ایک سادہ سی بات ہے، بلا وجہ لوگ اس کا افسانہ کرتے ہیں- اسی طرح مثنوی کا ایک شعرہے:

  شیخ ہے اپنے مریدوں میں یونہی  جس طرح سے اپنی امت میں نبی

اس کے حدیث ہونے کا دعویٰ کیا جائے تب تواس پر حدیث ہونے یا نہ ہونے کی جہت سے فنی گفتگو ہوسکتی ہے لیکن اگر اس کے نفس مفہوم کو کوئی غیر اسلامی یا نادرست کہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ، کیوں کہ ایسا شخص یا تو یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ انبیاے کرام کا جو کار دعوت و تبلیغ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہی یاپھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کام کو علما و اولیا نہیں کر تے یا نہیں کرسکتے ، یا اسے قرآن کی اس آیت پر یقین نہیں کہ فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ(اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے- النحل:۴۳) یا وہ اولیا کو اہل الذکر نہیں سمجھتا یا پھر وہ جہالت و ناواقفیت کے باوجود اہل ذکر کی اطاعت کو واجب نہیں سمجھتا اور’’ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ ‘‘ (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور امیر کی اطاعت کرو-النساء:۵۹) کا اسے کامل ایقان نصیب نہیں ہے- بہر کیف! یہ فکری کج روی ہے جو اسے جہالت کی حوصلہ افزائی اور گمراہی کی حمایت پر آمادہ کررہی ہے-

………………..

مثنوی’’ نغمات الاسرار‘‘ عام شاعری نہیں، حضرت شیخ مدظلہ کی قلبی واردات اور روحانی وجذبی احوال ہے- یہ شاعری اس زمانے کی ہے جب حضرت استغراقی اور نیم جذبی کیفیات سے دوچار تھے- یہی وجہ ہے کہ اس کے بعض اشعار جو مشاہدۂ حق سے تعلق رکھتے ہیں، ظاہری طور پر ناقابل فہم یا شرعی طور پر قابل گرفت ہیں، جیسا کہ احوال و مشاہدات سے متعلق صوفیہ کے کلام میں بالعموم یہ وصف پایاجاتا ہے، کیوں کہ قال سے حال کی صحیح تعبیر لاکھ چاہنے کے بعد بھی ممکن نہیں ہے- متقدمین میں شیخ ابن عربی اور متاخرین میں حضرت آسی غازی پوری کی شاعری اس کی بہترین مثال ہے- اس مثنوی کی پہلی اشاعت ۱۹۸۸ء میں ہوئی، پھر ترمیم و اضافے کے بعد دوسری اشاعت ۲۰۰۴ء میں ہوئی اور اب تیسری اشاعت مزید حذف و اضافہ اور بعض اشعار کی ضروری تشریح ’’رموز نغمات‘‘ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں حاضرہے- حضرت شیخ نے یہ بات تاکیداََ کہی کہ یہی اشاعت مکمل اور صحیح تر ہے- پچھلی دونوں اشاعتیں اس کے بالمقابل ناقص اور نامعتبر ہیں،کیوں کہ یہ اشاعت خودشیخ کے قلم سے کافی حذف و اضافے کے بعد سامنے آئی ہے- پچھلی اشاعتوں کے جو اشعار اس میں شامل نہیں ہیں، انہیں منسوخ سمجھا جائے- یہ اب تک کا آخری ایڈیشن ہے- اس لیے اس کی حیثیت پچھلی اشاعتوں کے لیے ناسخ کی ہے- 

اہل دین و دانش خصوصاََ صوفیانہ کلام سے محظوظ ہونے والے اہل شوق سے گزارش ہے کہ اس گنجینۂ معانی اور خزینۂ اسرار سے حتی الوسع خوب خوب مستفید اور محظوظ ہوں- اس مثنوی کے حواشی ’’رموز نغمات‘‘ کا مطالعہ کریں اور اپنی آرا سے نوازیں – جو اشعار خلاف عقل یا خلاف شرع نظر آئیں حضرت شیخ سے براہ راست ان کی تفہیم کرلیں- اسی طرح ’’رموز نغمات‘‘ میں اگر کوئی بات خلاف واقعہ نظر آئے تو مخلصانہ طور سے حاشیہ نگار یا ناشر کو مطلع کریںاور اچھی باتوں پر اپنی مخلصانہ دعاوں سے نوازیں- 

ان اللہ لا یضیع اجر من احسن عملا 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here