نورِ ظہورِ ذات کا بیان

0
50

ہر طرف ہر سمت ہے جلوہ نما
 بس اسی کا نوربے چون و چرا
 شوقِ اظہارِ خدائی ہے وہ نور 
اور جوشِ خود نمائی ہے وہ نور
 احدیت کے راز کا پردہ ہے نور
 اور اس کی ذات کا جلوہ ہے نور 
از زمیں تا آسمانِ پُر غرور (۱)
نور ہی ہے نور ہی ہے نور نور (۲)
نور ہی خود جلوہ گاہِ طور ہے
 رَبِّ اَرِنِیْ نور سے معمور ہے 
لَنْ تَرَانیْ اک غرورِ نور ہے
 خَرَّ مُوْسٰی میں سرورِ نور ہے 
نور جوشِ سینۂ منصور ہے (۳)
خوداَ نَا الْحَق میں وہی مستور ہے 
خود اسی کا کھیل ہے دار و رسن 
حق ہی حق ہے نور خود باطل شکن (۴)
قُمْ بِاِذْنِیْ کا تماشا نور ہے (۵)
شمسؔ تبریزی کا پردہ نور ہے 
خود محیطِ ہر دو عالم ہے وہ نور
 آیتِ قطعی و محکم ہے وہ نور 
نور ہی سے ہم ہیں ظاہر اور تم 
نور ہی میں ہم سبھی ہیں محو و گم
 نور ہی سے ہیں زمین و آسماں
 نور سے ہثردہ ہزار عالم عیاں
 نور ہی کے عشق کا ہے یہ ظہور 
عشق ہی کے نور کا ہے یہ غرور
 بس یہی تخلیق کی بنیاد ہے
 دو جہاں جس کے سبب آباد ہے

(۱) اللَّہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(النور :۳۵)اﷲ آسمانو ں اور زمین کا نور ہے۔

 (۲)قرآن مقدس میں واقعہ ٔ طور بڑے ہی دل نشیں انداز میں بیان ہوا ہے۔ ’’اور جب موسیٰ ہمارے وقت معین پر آیا اور اس کے رب نے اس سے کلام فرمایا ، موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! تو مجھے اپنے آپ کو دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ اس کے رب نے کہا : تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا ، لیکن پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہر جائے تو تو مجھے دیکھ لے گا۔ تو جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی ، اسے پاش پاش کر دیااور موسیٰ مدہوش ہو کر گر پڑا۔ ‘‘(الاعراف : ۱۴۳)شیخ اس پورے واقعے کو واقعہ ٔ ظہور نور حق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ طور، جلوہ گاہ نور ،حضرت موسیٰ کی طلب ، مطالبہ ٔ دیدار نور ،خدا کی طرف سے انکاررویت ،نازواداے نور اور زیارت جلوہ ٔ نور کے بعد حضرت موسیٰ کی مدہوشی، سرورِ نور ہے۔

 (۳)صوفیہ نے منصور کے قول انا الحق کی ایک بلیغ توجیہ یہ کی ہے کہ وہ نور الٰہی کا ایک جلوہ تھا جس کے مشاہدے کے بعد منصور بے خود ہو کر انا الحق پکار اٹھے۔ جس طرح شجر طور سے یہ آواز آئی تھی إِنَّنِیْ أَنَا اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا (طٰہٰ:۱۲) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ طور کے اس شجر پر ذات باری تعالیٰ متحیز ہو گئی تھی، بلکہ وہ اس کے نور کی ایک معمولی جھلک تھی اور اگر نورحق کی ایک جھلک درخت پر آسکتی ہے تو کسی انسان پر کیوں نہیں آسکتی جو اشرف المخلوقات ہے؟ صاحب گلشن رازشیخ محمود شبستری کا شعرہے : روا باشد انا اللہ از درختےچرا نہ بود روا از نیک بختے
 دیوبندی مسلک کے مشہور عالم مولانا انور شاہ کشمیری نے واقعہ طور(القصص: ۳۰) کے ذیل میں لکھا ہے : ’’ دکھائی یہ دے رہا تھا کہ درخت کلام کر رہا ہے ، پھر اﷲ تعالیٰ نے اس کلام کی اپنی طرف نسبت فرمائی، کیوں کہ اﷲ جل مجدہ نے اس درخت میں تجلی فرمائی تھی اور ا ﷲ تعالیٰ کی معرفت کے لیے وہ درخت واسطہ بن گیا تھا، تو جس میں تجلی کی گئی تھی اس نے تجلی کرنے والے کا حکم لے لیا اور ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ تجلی میں صرف صورت نظر آتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضرورت کی وجہ سے آگ میں (یا درخت میں) تجلی فرمائی تھی اور جب تم نے تجلی کا معنی سمجھ لیا تو سنو !جب درخت کے لیے یہ جائز ہے کہ اس میں یہ ندا کی جائے کہ بے شک میں اﷲ ہوں توجو نوافل کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کر لیتا ہے، وہ اﷲ کی سمع و بصر کیوں نہیں ہو سکتا ؟ وہ ابن آدم جو صورت رحمن پہ پیدا کیا گیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درخت سے کم تو نہیں ، یعنی جب شجر موسیٰ اﷲ کی صفت کلام کا مظہر ہو سکتا ہے تو سیدنا محمد ﷺ کی امت کا ولی جو اﷲ کا محبوب ہو جائے ،وہ اﷲ کی صفت سمع و بصر کا مظہر کیوں نہیں ہو سکتا ؟‘‘ (فیض الباری: ۴/ ۴۲۹، بحوالہ تبیان القرآن: ۵/۴۱۹ ،فرید بک اسٹال، لاہور، ۲۰۰۳)  حضرت منصور کے قول اناالحق کی طرح ہی حضرت بایزیدبسطامی کاقول سبحانی مااعظم شانی بھی اہل علم کے بیچ متنازع رہاہے۔ یہ بھی صوفیہ کے اسی قسم کے اقوال سے ہے جس کاظاہرخلاف شریعت ہے۔ اعلیٰ حضرت مولاناشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی اس طرح کے اقوال پر گفتگوکرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’حضرت سیدنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال ونظائر رضی اللہ تعالیٰ عنہم وقت ورود تجلی خاص ،شجرہ موسیٰ ہوتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو درخت میںسے سنائی دیا: یَا مُوسیٰ إِنِّیْ أَنَا اللَّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ اے موسٰی!بے شک میں اللہ ہوں رب سارے جہاں کا۔ کیا یہ پیڑ نے کہا تھا؟ حاشا ﷲ!بلکہ واحد قہار نے جس نے درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی۔ کیا رب العزت ایک درخت پرتجلی فرماسکتاہے اوراپنے محبوب بایزید پر نہیں؟ نہیں نہیں وہ ضرور تجلی ربانی تھی ،کلام بایزید کی زبان سے سناجاتاتھا، جیسے درخت سے سناگیا اور متکلم اللہ عزوجل تھا۔ اسی نے وہاں فرمایا: یَا مُوسیٰ إِنِّیْ أَنَا اللَّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (اے موسٰی!میں اللہ ہوں رب سارے جہاں کا۔ ت) اسی نے یہاں بھی فرمایا:سبحانی مااعظم شانی(میں پاک ہوں اور میری شان بلند ہے۔ ت)اور ثابت ہو تویہ بھی کہ لوائی ارفع من لواء محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (میرا جھنڈا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جھنڈے سے بلند ہے۔ ت)بے شک لواء الٰہی لواء محمد ی سے ارفع واعلیٰ ہے۔ حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی نے مثنوی شریف میں اس مقام کی خوب تفصیل فرمائی ہے اور تسلط جن سے اس کی توضیح کی ہے کہ انسان پر ایک جن مسلط ہوکر اس کی زبان سے کلام کرے اور رب عزوجل اس پر قادر نہیں کہ اپنے بندے پر تجلی فرماکر کلام فرمائے جو اس کی زبان سے سننے میں آئے ،بلاشبہ اللہ قادرہے او رمعترض کا اعتراض باطل، اس کا فیصلہ خود حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ہوچکا۔ ظاہربینوں بے خبروں نے ان سے شکایت کی کہ آپ سبحانی مااعظم شانی کہا کرتے ہیں، فرمایا: حاشا میں نہیں کہتا ،کہا آپ ضرور کہتے ہیں ،ہم سب سنتے ہیں ،فرمایا: جو ایسا کہے واجب القتل ہے۔ میں بخوشی تمہیں اجازت دیتاہوں جب مجھے ایساکہتے سنو بے دریغ خنجر ماردو، وہ سب خنجر لے کر منتظر وقت رہے یہاں تک کہ حضرت پر تجلی وارد ہوئی اوروہی سننے میں آیا سبحانی مااعظم شانی مجھے سب عیبوں سے پاکی ہے میری شان کیا ہی بڑی ہے۔ وہ لوگ چار طرف سے خنجر لے کر دوڑے اور حضرت پر وار کیے، جس نے جس جگہ خنجر ماراتھا خود اس کے اسی جگہ لگااور حضرت پر خط بھی نہ آیا، جب افاقہ ہوا دیکھا لوگ زخمی پڑے ہیں، فرمایا: میں نہ کہتاتھا کہ میں نہیں کہتا وہ فرماتا ہے جسے فرمانا بجا۔ (فتاویٰ رضویہ:۱۴/۶۶۵،۶۶۶،برکات رضاپوربندر)۔

 (۴)حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا مشہور معجزہ مردے زندہ کرنا ہے۔ مگر کیا سچ مچ مردوں کو حضرت عیسیٰ زندگی بخشتے تھے؟ اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو اس سے بڑا مشرک کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ زبان ان کی ہوتی تھی کلام اللہ کا ہوتا تھا۔ وہ آلہ تھے، فاعل حقیقی اللہ تھا۔ دست مسیحائی کے پیچھے نور الٰہی کی جلوہ فرمائی تھی۔

 (۵)حضرت شمس تبریزی کی محویت ،مشاہدۂ تجلیات نور حق کے باعث تھی اور اسی کا اثر تھا کہ زبان شمس سے نکلے ہوئے الفاظ حقیقت واقعہ میں تبدیل ہو جاتے۔ شمس تبریزی کی زبان میں اپنی ذاتی تاثیر نہیں تھی بلکہ وہ ربانی تاثیر تھی۔ جو ذاتی تاثیر کا قائل ہو وہ موحد نہیں، مشرک ٹھہرے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here