نسبت و بیعت کی مثال

0
32

جس طرح بجلی کے اک کھمبے سے تار 
مل کے ہو جاتا ہے بجلی میں شمار
 یونہی نسبت اولیاے حق سے جوڑ 
عالمِ وہم و گماں سے منھ کو موڑ 
اولیا کھمبے کی صورت ہیں سبھی 
اور مثالِ پاور ہاؤس ہیں نبی
 جس میں بجلی کی طرح سر تا بپا 
جاری و ساری ہے نورِ مصطفی
 مصطفی نورِ ظہورِ کبریا 
روشن ہیں جس کے سبب ارض و سما 
بلب کی صورت ہے قلبِ با صفا 
اور نسبت ہے کنکشن حق نما 
بے کنکشن روشنی ممکن نہیں
 بلب چاہے جس قدر بھی ہو حسیں
 نسبتِ مرشد ہے شرطِ اوّلیں
بعدہ‘ شرطِ دگر، کامل یقیں 
جو اگر چاہے کہ روشن ہو ضمیر
 تو ادب سے تھام پہلے دستِ پیر 
تاکہ روشن ہو ترا سینہ تمام
 نورِ حق سے صورتِ بیت الحرام 
تاکہ آ جائے کرنٹ تجھ میں وہی 
بلب کی صورت ہو حالت قلب کی 
جس سے کفر و شرک کی تاریکیاں
 دور ہوں دنیاے ہستی سے میاں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here