Monday, January 30, 2023

ناظم اور صدر کیسا ہو؟

۲۰؍دسمبر۲۰۱۱مطابق ۲۴؍محرم الحرام۱۴۳۳ ھ بروز منگل
 صبح کے وقت قدم بوسی کی دولت میسر آئی۔ مرشدی حضور داعی اسلام حفظہ اللہنے کاغذ طلب فرمایا اور خلیفہ، امام ،نا ظم ،صدر،سجادہ نشیں(متولی)، امیر، ڈائرکٹر،یا کسی بھی تنظیم کے اہم کارکن، اصحاب حل وعقد کی صفات و شرائط بیان فرمائی اور اہم نکات کو قلمبند فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ کسی بھی دینی تحریک و تنظیم کےاصحاب حل وعقد کے اندر مندرجہ ذیل سات شرطیں ہونی چاہیے۔ 
 ۱۔مسلم ۲۔عاقل ۳۔بالغ ۴۔عالم ۵۔عادل ۶۔قرشی(بہادر) ۷۔سنی صحیح العقیدہ
ان صفات کے حامل دس لوگ ہوں جوا صحاب حل و عقد ہوں اور ان کا امیرمذکورہ صفات کے علاوہ ایک اور صفت رکھتاہو کہ اس کی صحبت واجازت کا سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک متصل ہو۔
کسی بھی دینی تنظیم کے ممبران کے انتخاب میں ان صفات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے، تاکہ صحیح طور سے دین کا کام ہوسکے ۔ کسی بھی متقی امام یا عالم کافاسق و فاجر صدر یا ناظم کے ماتحت رہنا علمِ دین کی توہین ہے۔

(خضرراہ ،نومبر ۲۰۱۳ء)

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

اہل عقیدہ کے پانچ طبقات

حضور داعی اسلام دام ظلہ العالی کی خدمت میں علما کی ایک جماعت کے...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں...

اللہ جیسے چاہے اپنا دیدار کرائے

۲۷؍اگست ۲۰۱۶ء بعد نمازِ مغرب حضرت داعی اسلام دام ظلہ کی ہفتہ واری عرفانی...

عوام اور خواص کے عمل میں فرق

سلطان العارفین حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۷؍ویں عرس کے موقع پر...