آنحضرت ﷺ پر علوم غیبیہ کے انکشاف کا بیان

0
60

عارف کامل کا ایماں ہے یہی 
مرشدِ برحق کا فرماں ہے یہی
 عالم الغیب ہے وہی ذاتِ خدا 
کاشفِ اسرار نورِ مصطفی 
جس پہ روشن ہیں امورِ غیب سب 
لوح و کرسی و قلم لاریب سب 
عقلِ اوّل غیب دان و غیب بیں 
شہرِ(۱) علم اوّلین و آخریں
 وہ نبی حکمِ خدا سے سر بسر
 غیب کے اسرار سے ہے باخبر
 جس قدر(۲) چاہا خدائے پاک نے 
 اُس قدر واقف ہوا وہ غیب سے 
جس قدر(۳) چاہا رسول اﷲ نے 
 اُس قدر بخشا اُسے اﷲ نے
 جو(۴) ہمارے فہم کے قابل نہ تھا 
اُس کو ہم سے اُس نے پوشیدہ رکھا 
اس کا یہ مطلب نہیں ہرگز کبھی 
رازِ مخفی سے تھا ناواقف نبی 
حاملِ وحی رحمۃٌ لِّلْعٰلَمِیں
 اپنی خواہش سے کبھی کہتا نہیں(۵)
 جو خدا کا حکم ہوتا ہے وہی
 اپنی امت کو بتاتا ہے نبی
 خود نبی کا ہے یہی معنی پسر
 دیکھ’’مصباح اللغات‘‘(۶) اے بے خبر
 اﷲ اﷲ کیا نرالا معنی ہے 
غیب کی باتیں بتانے والا ہے 
وہ نبی ہے شاہدِ غیب و شہود 
مخبر صادق امام ہست و بود
 اس کی ہر اک بات ہے وحیِ خدا
 اس کی ہر مرضی ہے مرضیِ خدا
 ذاتِ غیب الغیب کا مظہر ہے وہ 
دو جہاں کا حاصل(۷) و مصدر(۸) ہے وہ 
اس حقیقت(۹) کو سمجھ سر تا بپا 
مصطفیﷺ مَظھر ہیں مُظْہِرہے خدا 
جس نے دیکھا مصطفی کو باخدا 
اس نے دیکھا حق کو بے چون و چرا 
من رآنی(۹) سے یہی عقدہ کھلا 
حق کی صورت ہے وجود مصطفی 
پردۂ مخلوق میں سرتابپا 
سب سے اعلیٰ ہیں وہی بعد از خدا
 اہلِ سنت کا عقیدہ ہے یہی 
ماسوا معبود سب کچھ ہیں وہی 
صرف احمد اور احد کے درمیاں 
میم(۱۱) کا اک پردہ حائل ہے میاں 
گر الوہیت میں یکتا ہے خدا 
 توعبودیت میں یکتا مصطفی ﷺ 
مرتبہ کیا سمجھے گا اس کا کوئی
 جس کی امت کے ولی گویا نبی(۱۲)
 اس خدائے پاک و برتر کے سوا 
کون کر سکتا ہے مدح مصطفی ﷺ 
مصطفیﷺ کو بس خدا جانے فقط(۱۳)
 اور خدا کو مصطفیﷺ جانے فقط(۱۴)
 فہم اور ادراک سے ہے ماوریٰ 
مصطفی کی ذات بے چون و چرا 
بس کہ خاموش اے سعید بے نوا 
فہم سے بالا ہے ذات مصطفی

(۱) فعلمت ما فی السمٰوات والارض ’’تو میں نے زمین و آسمان کی ساری باتیں جان لیں‘‘(ترمذی، کتاب التفسیر:۲/۱۵۵) فعلمت ما بین المشرق والمغرب ’’تو میں مشرق و مغرب کے بیچ کے سارے امور سے واقف ہوگیا۔‘‘ (ترمذی، کتاب التفسیر:۲/۲۱۰)انا مدینۃ العلم’’میں شہر علم ہوں‘‘(مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابہ، ذکر اسلام امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ، حدیث: ۴۲۳۷) (۲) علم غیب مصطفی کے تعلق سے یہ ایسی نفیس توضیح ہے کہ اگراسے نظرمیں رکھاجائے توتمام مناظرے اورجھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔ (۳) حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ !آپ ہرعیب سے پاک پیداکیے گئے ہیں،گویا جیسی آپ کی مرضی تھی آپ کے رب نے ویساہی آپ کو پیدا فرمادیا۔
خلقت مبرأ من کل عیب
کأنک قد خلقت کماتشاء 

(۴) مسئلہ اس وقت پیداہوا جب ہم نبی کے علم کواپنے خودساختہ پیرامیٹر سے ناپنے کی سعی لاحاصل کرنے لگے اوریہ بھول گئے کہ نبی وہ بشر ہوتاہے جس کا رشتہ ایک طرف عالم شہود سے ہوتاہے تودوسری طرف عالم غیوب سے۔ مگر ہمیں صرف وہی باتیں بتاتا ہے جو ہمارے لیے مفید ہوتی ہیں اور وہ باتیں نہیں بتاتا جو ہمارے لیے غیر نافع ہوں یا جن کا بتانا خلاف مصلحت ربانی ہو۔

(۵) وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی(النجم:۳،۴)’’اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، وہ تو وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘

(۶) مصباح اللغات کاحوالہ صرف اس لیے ہے کہ یہ لغت اس گروہ کے ایک فرد کی تصنیف ہے جسے علوم رسول کوناپنے کاشوق فضول ستاتارہتاہے۔

(۷) تمام ممکنہ صفات کمالیہ کا جامع 

(۸) اسی کے نور سے عالم امکاں کی تخلیق ہوئی

(۹) اس کے بعدکے جواشعارہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت و مخلوقیت کوصاف طور سے واضح کرتے ہیں اور ممکنہ اعتراضات کا دفع دخل مقدر کے طور پر جواب دے دیتے ہیں ۔

(۱۰) من رآنی فقد رای الحق(مسلم، کتاب الرویا)جس نے مجھے دیکھا اس نے یقینا حق کو دیکھا۔

(۱۱) احمدکا’’م‘‘مخلوقیت کی طرف اشارہ کرتاہے۔اسی سے خالق ومخلوق میں فرق واضح ہوجاتاہے ، ورنہ یکتائی و بے مثالی دونوں کی شان ہے، احد صفت خالقیت میں کامل و بے مثال و منفرد اور احمد صفت مخلوقیت میں کامل و بے مثال و منفرد۔ 

(۱۲) علماء امتی کأنبیاء بنی اسرائیل’’میری امت کے علما بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی طرح ہیں۔‘‘ محدثین نے لفظی طور پر اسے موضوع قرار دیا ہے، گو کہ اس کا مفہوم و معنی درست ہے، کیوں کہ دعوت دین کا پیغمبرانہ فریضہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علماے امت پر ہی عائد ہے۔ یہ اپنی دعوتی، اصلاحی، تبلیغی اور تجدیدی سرگرمیوں کے ذریعے کار نبوت انجام دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں شریعت محمدی کے داعی و مبلغ ہونے کے سبب علماے امت یقینی طور پر انبیا کے وارث ہیں اوران کی مثال بنی اسرائیل کے ان نبیوں کی سی ہے جو صاحبان شریعت نہیں تھے، بلکہ کسی صاحب شریعت رسول کے نائب اور اس کی شریعت کے مبلغ تھے۔

(۱۳) مطالع المسرات میں ہے:’’پیغمبر دوجہاں علیہ التحیۃ والثناء نے حضرت ابوبکرسے فرمایا:اے ابوبکر!مجھے صحیح طورپرمیرے رب کے سوا کوئی اورنہیں جان سکا۔ یاابابکر لم یعلمنی حقیقۃ غیرربی۔‘‘(مطالع المسرات:۱۲۹،بحوالہ فتاویٰ رضویہ:۳۰/۲۵۴)

(۱۴) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَیٰ اورقَابَ قَوْسَیْْنِ أَوْ أَدْنَی صرف محمدرسول اللہﷺ کی شان ہے۔  اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here