نعتِ حقیقت محمدی

0
86

اﷲ اﷲ جلوۂ ذاتِ خدا 
مظہرِ نورِ ظہورِ کبریا 
کون ہے آئینۂ ذاتِ خدا 
جز محمد ﷺ مصطفی و مجتبیٰ 
جو سراپا پیکرِ انوار ہے 
جس کی ہستی مخزنِ اسرار ہے 
جس کے آگے ہیں ملائک با ادب 
جو ہے خود تخلیقِ آدم کا سبب 
جس کی ہستی نورِ ربُّ العالمیں
 جس کی صورت رحمۃٌلِّلْعٰلمیْں 
کون ہے جز رحمۃٌ لِّلْعٰلمیں 
قبلہ گاہِ اوّلین و آخریں (۱)
فخر موجودات ہے کس کا وجود ک
ون ہے فرماں رواے ہست و بود 
صاحبِ لولاک ہے کس کا وجود(۲)
صورتِ آدم میں ہے کس کی نمود 
کس کی ہستی ہے شفیعُ الْمُذْنِبِیْں 
کون ہے محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِیْں 
حامد و محمود و احمد کون ہے م
اسواے حق محمدﷺ کون ہے 
خود محمد ﷺ حامد و محمود ہے
خود محمدﷺ ساجد و مسجودہے (۳)
خود محمدﷺ صورتِ رحمن ہے (۴)
خود محمدﷺ جلوئہ سبحان ہے 
خود محمد ﷺ مصحف قرآن ہے (۵)
خود محمدﷺ حجت و برہان ہے(۶)
خود محمدﷺ کاشفِ اسرار ہے 
خود محمدﷺ پیکرِ انوار ہے
 خود محمدﷺ سرِّ سرُّ اﷲ ہے
خود محمدﷺ روحِ رُوح اﷲ ہے (۷)
گو بظاہر ہے سراپا عبدہ‘
 پر حقیقت میں ہے نور وحدہ‘ 
اول و آخر محمد ﷺ مصطفیٰ(۸)
باطن و ظاہر محمدﷺ مصطفی
 کلمۂ توحید سے ثابت ہوا 
خود محمدﷺ ہے ظہور کبریا 
کلمۂ توحیدہے شرکِ خفی(۹)
بر خلاف اس کے اگر تشریح کی 
نیست معبودے بجز ذاتِ خدا
 نیست مقصودے جز اُو در دو سرا 
نیست مطلوبے بجز دیدارِ او 
نیست محبوبے بجز آں ذاتِ ھُوْ 
نیست موجودے بجز ہستی او 
نورِ او در عَبْدُہ‘ وَ رَسُوْ لُہ‘ 
عین ظاہر میں رسولِ کبریا 
یعنی ذاتِ پاک کا بھیجا ہوا 
غیب سے سوے شہادت بر ملا 
جس کو بھیجااس(۱۰) نے وہ خود آگیا(۱۱)
 جلوئہ ہستی میں بے چون و چرا 
کس کو بھیجا اس نے یہ سوچو ذرا
ما سوائے ذات جب کوئی نہ تھا (۱۲)
کس کو بھیجا اس نے مخلوقات میں
 کون ظاہر ہے یہ موجودات میں
 اوّل و آخر اسی کی ذات ہے 
باطن و ظاہر اسی کی ذات ہے
 ذاتِ واجب آپ ہے جلوہ نما
 نور کے پردہ میں بے چون و چرا
 بالیقیں قَدْ جَاء کُمْ نورٌ مُبِیں 
جلوہ گاہِ اوّلین و آخریں
 آگیا اﷲ کی جانب سے نور 
جس سے روشن ہو گئی بزمِ ظہور 
مصطفی ﷺ کی شکل میں سر تا بپا 
ہو گیا نورِ خدا جلوہ نما
 بالیقیں وہ نور ہے نورِ مبیں 
ظاہر و باطن میں ختم المرسلیں 
شکل و صورت سے منزّہ ہے جو ذات 
خود وہی ظاہر ہے از نورِ صفات 
عالمِ تنزیہہ سے نورِ خدا(۱۳)
شانِ تشبیہی میں ہے جلوہ نما 
شکلِ احمد میں ہے مُتَشَکِّل احد 
ہر تجلی میں ہے مُتَجَلّی صمد(۱۴)
مشرک ست آنکہ نہ خواند ایں سبق
در وجودِ احمدی موجود حق (۱۵)

(۱) اولین و آخرین کے لیے محترم۔ یا یہ مطلب ہے کہ فرشتوں کا مسجودالیہ نور محمدی تھاجیسا کہ اس کی طرف بعضمفسرین گئے ہیں۔ یا ممکن ہے یہ مفہوم ہو کہ خانۂ کعبہ جو اولین و آخرین کا قبلہ ہے یہ خود حقیقت محمدی کے مظاہر سے ایک مظہر ہے جیسا کہ امام احمد رضا بریلوی نے اپنے ایک فتویٰ میں لکھا ہے کہ ’’حقیقت کعبہ مثل حقائق جملہ اکوان ،حقیقت محمدیہ علی صاحبھا افضل الصلوٰۃ و التحیۃ کی ایک تجلی ہے۔ کعبہ کی حقیقت وہ جلوہ ہے مگر وہ جلوہ عین حقیقت محمدیہ نہیںصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، بلکہ اس کے غیر متناہی ظلال سے ایک ظل۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ: ۳۰/ ۸۵)۔

 (۲)عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال: اوحی اللّٰہ الیٰ عیسیٰ علیہ السلام: یا عیسیٰ آمن بمحمد و امرمن ادرکہ من امتک ان یومنوا بہ فلولا محمد ماخلقت آدم و لولا محمد ما خلقت الجنۃ و لا النار ’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: اللہ تعا لیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:اے عیسیٰ!محمد پر ایمان لاؤ اور تمہاری امت میں جو ان کا زمانہ پائیں ان کے لیے حکم دو کہ وہ بھی محمد پر ایمان لائیں، کیوں کہ اگر محمد نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا،بلکہ محمد نہ ہوتے تو میں جنت و دوزخ کو بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ (مستدرک، کتاب تواریخ المتقدمین، ذکر اخبار سید المرسلین،حدیث: ۴۲۲۷) عن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم: لما اقترف آدم الخطیئۃ قال یا رب اسالک بحق محمد لما غفرت لی۔ فقال: یا آدم وکیف عرفت محمداً و لم اخلقہ؟ قال: یا رب لانک لما خلقتنی بیدک و نفخت فی من روحک، رفعت راسی فرایت علی قوائم العرش مکتوباً لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ فعلمت انک لم تضف الیٰ اسمک الا احب الخلق الیک۔ فقال اللّٰہ:صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الی، ادعنی بحقہ فقد غفرت لک و لولا محمد ما خلقتک ’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم سے لغزش سرزد ہوگئی تو انہوں نے کہا: اے مولیٰ! میں محمد کے وسیلے سے تجھ سے اپنی معافی کا طلب گار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد کو کیسے جاناجب کہ میں نے تو انہیں ابھی پیدابھی نہیں کیا؟ آدم نے عرض کیا:اے مولیٰ! جب تونے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھا یا۔ اس وقت میں نے عرش کے ستونوں پر یہ لکھا ہوا دیکھا:لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یقیناً تو نے اپنے سب سے بڑے محبوب کا نام ہی اپنے نام کے ساتھ ملایا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آدم تم نے سچ کہا۔ یقینا محمد کائنات میں مجھے سب سے زیادہ عزیزہیں۔ ان کے وسیلے سے دعا کرو تو میں بخش دوںگا۔ اگر محمد نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔ (ایضاً، حدیث: ۴۲۲۸) حدیث لولاک کواختلاف الفاظ کے ساتھ بے شمار علما نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے، جس کے بعد اس میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں رہ جاتاکہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور خاتم النبیین ہی نہیں باعث تخلیق عالمین بھی ہیں۔

 (۳)مسجود الیہ اور قبلہ، جیسا کہ سجدہ آدم کے باب میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اصل مسجود الیہ نور محمدی تھا۔ نیزسجدہ کے لغوی معنی اطاعت و خضوع کے ہیں۔ اس اعتبار سے مسجود کے معنی مخدوم و مطاع کے ہوئے۔ امام احمد رضا بریلوی نے اپنے ایک فتویٰ میں لکھا ہے:’’ مسجود بمعنٰی مخدوم و مطاع ، یہ خود مشہور معنٰی ہیں اور عام محاورہ میں مستعمل، مگر عناد کا کیا علاج؟‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۲۲/۴۹۵،برکات رضاپوربندر) ۔

 (۴)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من رآنی فقد رأی الحق (صحیح مسلم، کتاب الرؤیا) جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کو دیکھا۔

 (۵)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت قرآن ناطق ہے۔ حضرت عائشہ سے کسی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا:’’رسول کریم ﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ ‘‘ فان خلق نبی اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کان القرآن (صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین، باب جمع صلوٰۃ اللیل ومن نام عنہ)۔ (۶)قَدْ جَاء کُم بُرْہَانٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکُمْ نُوراً مُّبِیْناً(النساء:۱۷۵) تحقیق کہ تمہارے پاس تمھارے رب کی طرف سے برہان آیا اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل فرمایا۔

 (۷)حضرت مسیح علیہ السلام کا لقب روح اللہ ہے اور ان کی تخلیق بھی حقیقت محمدی کی رہینِ منت ہے۔ اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات روح روح اللہ ہوئی۔

 (۸)ہُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ۔ (الحدید:۳) اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ اسی کو اقبال نے کہا ہے: نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰس وہی طٰہٰ۔

 (۹)محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو اگر مستقل و بالذات وجود باور کر لیا جائے تو پھر دو متوازی وجود کا ثبوت ہوگا، جو شرک جلی ہے۔ حقیقی وجود صرف ایک وجود ہے۔ کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍ وَیَبْقَی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ(الرحمٰن:۲۶،۲۷) زمین کی ساری چیزیں فانی ہیں، باقی صرف ذات ذوالجلال والاکرام ہے۔ لاالٰہ الا اللہ در حقیقت لا موجود الا اللہ کا اعلان ہے، کیوں کہ اگر دو متوازی وجود ہوں تو لازمی طور پر ان میں سے ہر ایک معبود ہونے کا مستحق ٹھہرے گا۔ وجود دو مستقل ہوں اور معبود صرف ایک ہو ،ترجیح بلامرجح اور نا قابل فہم منطق ہے۔ اس لیے کلمہ ٔ توحید میں ایک معبود کے سوا سارے معبودوں کی نفی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ایک وجود حقیقی کے سوا تمام حقیقی موجودات اور وجودات کی نفی ہے۔

 (۱۰)یعنی خدا نے۔

 (۱۱)یعنی نور محمدی ۔

 (۱۲)رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نور من نور اللہ ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ نور الٰہی اور نور محمدی میں جزئیت کا رشتہ ہے اور نہ کوئی ایسا رشتہ جس کا ادراک عقل انسانی کر سکے۔

 (۱۳)نور خدا مقام تنزیہ میں ہے۔ وہ ہر مثال و مثالیت سے پاک ہے۔ اس کی تفہیم کے لیے جو مثالیں قرآن وحدیث میں وارد ہیں وہ صرف برائے تفہیم ہیں۔ ان کی حیثیت واقعی مثال کی نہیں ہے۔ نور الٰہی سے نور محمدی کا ظہور ہوا، یہ تشبیہی ظہور تھا۔ اس کے اندر مخلوقیت اور شکل و صورت تھی۔ یہ دونوں باتیں اپنی جگہ محکم اور قطعی ہیں۔ غلط فہمی اور گمراہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم نور الٰہی اور نور محمدی کے درمیان عقلی نسبت یا مادی رشتہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ عقل غیر مادی امور کے ادراک سے عاجز و حیران ہے۔ امام ابوالحسن اشعری کا ارشاد ہے : انہ تعالیٰ نور لیس کالانواروالروح النبویۃ القدسیۃ لمعۃ من نورہ والملائکۃ شرر تلک الانوار’’اﷲتعالیٰ نور ہے مگر وہ عام انوار کی طرح نہیں ہے اور روح قدس نبوی اﷲ کے نور کی ایک چمک ہے اور فرشتے انہی انوار کے شرارے ہیں۔ ‘‘ (مطالع المسرات، الحزب الثانی، ص: ۲۶۵، بحوالہ فتاویٰ رضویہ:۳۰/۶۶۰) ۔

 (۱۴)اللہ کی شان باقی ہے۔ وہ بالذات باقی ہے اور کائنات کی بقا بھی اسی کی بقا سے وابستہ ہے۔ کائنات کا کوئی ذرہ تجلی ربانی اورارادۂ باری کے بغیر قائم و باقی نہیں ہے۔ خدا کائنات کا صرف خالق Creater نہیں ہے بلکہ قیوم Sustainer بھی ہے۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ پوری کائنات خالق کی تجلیات ہے اور ہر تجلی میں متجلی کا ظہور ہوتا ہے، جیسے دھوپ میں سورج کا جلوہ ،حرارت میں آگ کا ظہور اوربرودت میں برف کا اثر،اس طرح صورتِ احمدی بھی اﷲ کی ایک تجلی ہے بلکہ کامل ترین تجلی ہے اور جس طرح ہر تجلی میں متجلی کا ظہور ہوتا ہے اس میں بھی ہے۔ یہ شعر دعویٰ با لدلیل ہے۔ پہلے مصرع میں عظمت رسالت کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا گیا ہے جس کی دلیل دوسرے مصرع میں فراہم کر دی گئی ہے۔  خاص بات یہ ہے کہ دعویٰ جزوی ہے اور دلیل کلی ، جس کے اندر تمام جزئیات شامل ہوتی ہیں، ایسی صورت میں دعویٰ کی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔

 (۱۵)وجود محمدی کا قیام اگر حق تعالیٰ کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اس کے وجود و بقا کے پیچھے غیر اللہ کی کارفرمائی ہو یا وہ بالذات موجود ہو تو اس عقیدے سے بڑا شرک اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس شعر کے یہ معنی قطعاً نہیں کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ خدا ہیں۔ تنگ نظر یہی معنی سمجھ لیتے ہیں اور صوفیہ پر طعن کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آنے والے اشعار میں’’مثال‘‘ کے ذیل میں اس قسم کے شبہات کا بھرپور ازالہ کر دیا گیا ہے۔ خصوصاً وجود احمدی میںحق کے موجود ہونے کے تصور کو اس شعر میں علمی و کلامی نقطۂ نظر سے بالکل واضح کر دیا گیا ہے: یوں ہی احمد میں احد ہے خود نمابے گماں، بے کیف، بے چون و چرا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here