مسلم قائدین یوسفی مزاج کے حامل ہوں

1
81

۲۶؍مارچ ۲۰۱۴ ءبروز بدھ بعد نماز مغرب مرشدی حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی بارگاہ میں راقم اپنے خواجہ تاش محترم ساجد سعیدی کے ہمراہ حاضر تھا کہ مولانا فہد سعیدی مصباحی اجازت پاکردومہمانوںکے ساتھ حاضر خدمت ہوئے ، دونوں مہمان صورتاً عالم تھے، اُن دونوں میں سے ایک نے مسلمانوںکی ایک سیاسی وسماجی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے عرض کیا: حضرت !اس بار الیکشن میں ہماری جماعت ایک خاص سیاسی پارٹی کی حمایت کررہی ہے ،اگر آپ کی بھی حمایت مل جاتی تو اچھا ہوتا ۔

حضورداعی اسلام نے فرمایا کہ میں نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں اور نہ کسی جماعت کی حمایت یامخالفت میں کوئی بیان دیتا ہوں، میرے پیروں نےمجھے لوگوں کی خدمت اور اُن کی اصلاح وتربیت کے لیے یہاںبٹھایا ہے اور اسی کام کو انجام دینے کی کوشش میں لگا ہوں۔
مزید گفتگو ہوتی رہی،اسی درمیان حضورداعی اسلام نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے وہی شخص سیاست کے میدان میں آئے جو یوسفی مزاج کا حامل ہواور اس کے اندریہ تین حسن ضرور ہوں؛

۱.  جن بھائیوں نے قتل کی کوشش کی ہو ،اگر اُن پر قدرت مل جا ئے تب بھی اُن کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ کرے۔

۲. اگر کوئی زلیخا کی طرح اپنی طرف اس کولبھاناچاہے تو یوسف کی طرح اپنادامن داغدار ہونے سے بچا لے جائے۔

۳.  اگر کافر ومشرک بادشاہ بھی اپنے خزانے کا نگراںبنا دے تو صداقت وامانت کا دامن ہاتھ سے نہ جانےدے۔

اگر کسی کے اندر اتنی ہمت نہ ہو تو اس میدان میں نہ آئے ،بلکہ اپنی آخرت کی فکرکرے:

بو الہوس! پاوں نہ رکھیو کبھی اس راہ کے بیچ

خضرِراہ ، مئی ۲۰۱۴ء

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here