مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات

0
162

صدق دل سے اے سعیدِ بے نوا 
مانگ ربُّ العالمیں سے یہ دُعا
 یا خدا کر صاحب صدق و صفا 
از طفیلِ انبیا و اولیا 
بندۂ عاصی ہوں میں یا ذوالجلال
 سربسر بد بین و بدخو، بدخصال
 میں ہوں اس درجہ گنہگار و شقی 
جس کے آگے ہیچ ہے ابلیس بھی
 اک گناہ اس نے کیا میں نے ہزار 
بلکہ سچ پوچھو تو بے حد بے شمار 
کس زباں سے میں کہوں بارِ الٰہ 
رحم فرما با ہمہ ذوقِ گناہ 
کس زباں سے میں کہوں ربّ غفور
 رحم فرما با ہمہ فسق و فجور 
تجھ سے پوشیدہ نہیں میرے عیوب 
بس کہ تو ہے آپ علّامُ الغیوب 
پر ادب کے ساتھ کہتا ہوں یہ بات
 چوں کہ غفار الذّنوب ہے تیری ذات
 گو سراپا بحرِ معصیت میں ہوں
 پر تیرے محبوب کی امت میں ہوں
 بس یہی ہے مدّعاے گفتگو
 رحم کر از کلمۂ لاَ تَقْنَطُوْا 
پیر و مرشد کی عنایت کے طفیل
 اور خلقت کی عقیدت کے طفیل 
شیخِ کامل کی ولایت کے طفیل
جانشینی و خلافت کے طفیل؎
شہ صفیؔ اﷲ کی حرمت کے طفیل
 عارفِؔ کامل کی عظمت کے طفیل
واقفِ سر قلؔ ھواﷲ کے طفیل
حضرت خادم ؔصفی شہ کے طفیل
شہ صفیؔ و سعدؔ و میناؔ کے طفیل
چار پیر(۱) و چودہ خواجہ کے طفیل
شجرۂ چشتی نظامی کے طفیل
رشتۂ مینائی صفوی کے طفیل
پنجگانِ پاک طینت کے طفیل
آل و اصحابِ کرامت کے طفیل
 شاہِ مرداں کی شجاعت کے طفیل
ابنِ حیدرؔ کی شہادت کے طفیل
 فاطمہ زہرا کی عصمت کے طفیل
اور محمدﷺکی شفاعت کے طفیل
یا الٰہی شانِ رحمت کے طفیل
جوشِ دریائے سخاوت کے طفیل 
کل گنہگاروں کو پہلے بخش کر 
پھر مجھے بخش اے خداے بحر و بر
 ٍٍدیدۂ خوں ناب کے صدقے طفیل
 اس دلِ بے تاب کے صدقے طفیل
 حلقۂ اوتاد کے صدقے طفیل
 زمرۂ افراد کے صدقے طفیل
 عظمتِ ابرار کے صدقے طفیل 
حرمتِ اخیار کے صدقے طفیل
 واقفِ اسرار کے صدقے طفیل
 سینۂ شطّار(۲) کے صدقے طفیل 
غوث اور ابدال کے صدقے طفیل
 سالکانِ حال کے صدقے طفیل 
حیدرِ کرّار کے صدقے طفیل
 احمدِ مختار کے صدقے طفیل
 بخش نورِ معرفت کا ایسا جام 
جس کو پی کر میں رہوں بے خود مدام
 یعنی اپنے آپ سے ہوجاؤں گم 
 پی کے صہبائے سَقَاھُمْ رَبُّھُمْ(۳)

(۱) سلسلہ ٔ صفویہ کے ممتاز شاعرو عالم حضرت منشی عزیز اﷲصفی پوری (م ۱۹۲۸ء) اپنی کتاب عقائد العزیز میں چار پیر چودہ خانوادوں کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’حضرت علی کرم اﷲ وجہہ نے پانچ آدمیوں کو خلیفہ کیا ہے، حضرات حسنین کو اور حضرت حسن بصری اور حضرت خواجہ کمیل بن زیاد کو اور حضرت قاضی شریح کو اور بعضے خواجہ کمیل بن زیاد کو چار پیر میں داخل کرتے ہیں اور بعضے قاضی شریح کو – اور حضرت حسن بصری نے دو آدمیوں کو خلیفہ کیا ہے ، حضرت حبیب عجمی کو اور حضرت عبد الواحد بن زید کو – حضرت حبیب عجمی سے نوسلسلے جاری ہوئے ، حبیبیہ، طیفوریہ، کرخیہ،سقطیہ، گاذرونیہ، سہروردیہ،طوسیہ، فردوسیہ، جنیدیہ اور حضرت عبد الواحد بن زید سے پانچ سلسلے جاری ہوئے ،زیدیہ ، عیاضیہ،ہبیریہ، ادہمیہ،چشتیہ- یہ سب چودہ خانوادے کر کے مشہور ہیں- (عقائد العزیز،ص:۱۳۳،مطبع راجا رام کمار لکھنو ٔ ، بارثالث،۱۹۵۲ء) 

(۲) حضرت عبد اللہ شطار الخراسانی (م۸۳۲ھ) ، سلسلہ شطاریہ انہی کی طرف منسوب ہے- 

(۳) وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَاباً طَہُوراً( الدھر: ۲۱) ’’ان کے رب نے انہیں پاکیزہ شراب پلائی-‘‘

Previous articleاذکار و اشغال کا بیان
Next articleخاتمہ
اڈمن
الاحسان میڈیا اسلامی جرنلزم کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے خالص اسلامی اور معتدل نقطۂ نظر کی ترویج و اشاعت کو آسان بنایا جاتا ہے ۔ساتھ ہی اسلامی لٹریچرز اور آسان زبان میں دینی افکار و خیالات پر مشتمل ڈھیر سارے علمی و فکری رشحات کی الیکٹرانک اشاعت ہوتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here