مسائل میں اختلاف کی بنیاد پر کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی

0
95
جامعہ عارفیہ ، الہٰ آباد میں مفتی شہاب الدین اشرفی کا توسیعی خطاب
 الہٰ آباد(پریس ریلیز)
جامعہ عارفیہ ، سید سراواں (کوشامبی) میں’’اہل قبلہ کی تعریف اور احکام ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام کے توسیعی خطاب میں مفتی شہاب الدین اشرفی (شیخ الحدیث و صدر مفتی جامعہ اشرف ، کچھوچھ شریف ) نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ یہ واحد ایسا مذہب ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے مکمل اور رو بہ عمل ہے ۔ دنیا میں جو شخص بھی اللہ و رسول پر ایمان لاتا ہے اور شریعت محمدی کی تصدیق کرتا ہے اسے مسلمان جانا جائے گا ، وہ اہل قبلہ میں سے ہے اور فروعی مسائل میں اختلاف کی بنا پر کسی کی بھی تکفیر غیر اسلامی قرار دی جائے گی ۔ حدیث پاک میں ہے کہ جس نے بھی کعبہ کی طرف رخ کر کے ہماری طرح نماز ادا کی اور ہمارا ذبیحہ کھایا، وہ مسلمان ہے اور اللہ و رسول کے ذمہ پر ہے ، اس کی جان و مال کی حفاظت واجب ہے ، اس کے وہی حقوق ہیں جو تمام مسلمانوں کےحقوق ہیں۔ لہذا اس کی توہین و تضلیل اور ناروا سلوک کسی بھی طرح اسلامی نہیں۔ 

آپ نے کہا کہ ہمارے اسلاف کا یہی طریقہ تھا کہ کسی کی بات اگر کفریہ ہوتی تو اپنے علم کے مطابق اس بات کو ضرور کفر قرار دیتے تھے لیکن ایسی بات کہنے والے کو کافر کہیں گے یا نہیں، اس میں حد درجہ احتیاط برتتے تھے ۔مزید بتایا کہ تکفیر اجتہادی مسئلہ ہے تقلیدی نہیں، اس لیے یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی عالم یا مفتی کسی کی تکفیر کرے تواس کی تقلید میں دوسرے بھی اس کی تکفیر کریں۔یا یہ کہ اگر کوئی اپنی تحقیق پرکسی کی تکفیرکرتا ہے تو اللہ و رسول کے نزدیک بھی وہ شخص کافر ہی ہو، یہ ضروری نہیں۔ 
 پروگرام کی نظامت مولانا مجیب الرحمٰن علیمی(استاذجامعہ عارفیہ) نے کی جب کہ مولانا ذیشان احمد مصباحی (استاذجامعہ عارفیہ) نے مفتی صاحب کا استقبال کیا اور مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی (استاذ جامعہ عارفیہ) اخیر میں ہدیۂ تبریک پیش کیا ۔ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی سرپرستی میں یہ پروگرام مغرب تا عشا جاری رہا اور آپ ہی کی دعاؤں پر محفل اختتام پذیر ہوئی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here