مجمع السلوک:تعارف اور تجزیہ

0
154
 ایک قدیم صوفی مخطوطے کی بازیافت اوراس کی معنویت
 شیخ سعد الدین خیرآبادی (مولف مجمع السلوک)
شیخ سعد الدین خیر آبادی (۸۱۴ھ/۱۴۱۱ء تقریباً)لودی عہد کے ایک عظیم صوفی، فقیہ اور نحوی گزرےہیں۔آپ کے عہد میں درج ذیل سلاطین، تخت دہلی پر رونق افروز رہے:
۱۔دولت خاں لودی ۸۱۵ھ/۱۴۱۳ء-۸۱۶ھ/۱۴۱۳ء
 ۲۔خضر خاں ۸۱۶ھ/۱۴۱۳ء-۸۲۴ھ/۱۴۲۱ء
۳۔مبارک شاہ ۸۲۴ھ/۱۴۲۱ء-۸۳۷ھ/۱۴۳۴ء
۴۔محمد شاہ ۸۳۷ھ/۱۴۳۴ء-۸۴۷ھ/۱۴۴۳ء
۵۔ علاءالدین عالم شاہ ۸۴۷ھ/۱۴۴۳ء-۸۵۵ھ/۱۴۵۱ء
 ۶۔ بہلول لودی ۸۵۵ھ/۱۴۵۱ء-۸۹۴ھ/۱۴۸۹ء
۷۔ سکندر لودی ۸۹۴ھ/۱۴۸۹ء-۹۲۲ھ/۱۵۱۶ء
 شیخ کے عرصۂ حیات کے بڑے حصےمیں اودھ، سلطنت دہلی کے بجائے سلطنت شرقیہ جون پور کا حصہ تھا اورسلطنت شرقیہ پر اس دوران درج ذیل اشخاص حکم راں رہے:
۱۔سلطان ابراہیم شرقی ۸۰۴ھ/۱۴۰۲ء-۸۴۴ھ/۱۴۴۰ء 
۲۔ سلطان محمود شاہ شرقی ۸۴۴ھ/۱۴۴۰ء-۸۶۲ھ/۱۴۵۸ء 
۳۔سلطان محمد شاہ شرقی ۸۶۲ھ/۱۴۵۸ء-۸۶۲ھ/ ۱۴۵۸ء
۴۔ سلطان حسین شاہ شرقی ۸۶۲ھ/۱۴۵۸ء-۸۸۱ھ/۱۴۷۶ء
 اس کے بعد بہلول لودی نے سلطنت شرقیہ جون پور کوسلطنت دہلی سے ملالیا اور جون پور پر اپنے بیٹے باربک شاہ کوبطور گورنر مقرر کردیا۔ اس وقت شیخ سعد کے پیرو مرشد شاہ مینا بھی باحیات تھے۔شیخ سعد لکھنؤ میں ہی تھے۔ آپ کی عمر ۶۵ سے زیادہ ہوچکی تھی، تاہم اس وقت تک آپ کی مستقل علمی و دعوتی زندگی کا آغاز نہیں ہواتھا، اس وقت تک جو کچھ تھا پیرومرشد شاہ مینا کے زیر تربیت تھا۔ اس طرح یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ کی اصل عملی زندگی سلطنت شرقیہ کے زوال کے بعد والی زندگی ہے۔ ہاں شرقی عہد کے علما بطور خاص قاضی شہاب الدین دولت آبادی سے انتہائی حد تک متاثر ضرور نظر آتے ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ 
 
 تعلیم و تربیت
بچپن میں ہی آپ کے والد قاضی بڈھن کا انتقال ہوگیا۔مکتب کی تعلیم والد کی نگرانی میں ہی ہوئی۔ میر سیدعبدالواحد بلگرامی اور قاضی ارتضا علی خاں صفوی گوپاموی کے بقول آپ کے والد نے ہی آپ کو مکتب بھیجا تھا۔بعد ازاں آپ کی تعلیم و تربیت والدہ ماجدہ کے زیر سایہ ہوئی، جیسا کہ مولانا عبدالحی رائے بریلوی وغیرہ کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے۔ شیخ نے ابتدائی تعلیم کے بعد حفظ قرآن کیا اور اس کے بعد اعلی تعلیم کی تحصیل فرمائی۔
 یہ جان کر خوش گوار حیرت ہوتی ہےکہ آپ پچاس سال تک تحصیل علم میں مصروف رہے، بعد ازاں ۲۰؍ سالوں تک شیخ مینا کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد ۶؍ سال تک مزید لکھنؤ میں رہے۔ بالآخر اپنے مرشد شاہ مینا کے اشارۂ منامی کو پاکر خیرآباد گئے اور ۳۲؍ سالوں تک خلق خدا کی ہدایت و رہ نمائی کا فریضہ انجام دیا۔اس طرح آپ نے تقریباً ایک سو دس سال کی طویل زندگی پائی۔ آپ کے اساتذہ میں سب سے بڑا نام مولانا اعظم ثانی لکھنوی کا ہے۔آپ نے انھیں سے تکمیل علم فرمائی۔
 
بیعت و طریقت 
 شیخ سعد کے اندر بچپن سے ہی علمی میلان کے ساتھ روحانی مذاق بھی پایا جاتا تھا۔ ایام طالب علمی سے ہی اوراد و وظائف اور تہجدکے پابند تھے۔ جب آپ لکھنؤ آئے تو وہاں قطب اودھ شاہ مینا لکھنوی کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔آپ ہر حال میں قولاً و عملاً شیخ کا اتباع ضروری سمجھتے تھے۔ فرماتے تھے کہ جس شخص کو صدق و اخلاص کے ساتھ اتباع شیخ کی توفیق حاصل ہے، اسے در حقیقت دونوں جہان کی دولت حاصل ہے۔ فرمایا کرتے کہ اس فقیر کے پاس جو کچھ ہے وہ مرشد کے انفاس عالیہ کی برکت ہے۔
۸۶۴ھ/ ۱۴۶۰ء میں شاہ مینا لکھنوی کی وفات ہوگئی۔شیخ سعدپیرو مرشد کی وفات کے بعد بھی ۶؍ سالوں تک لکھنؤ میں مقیم رہے اور اس طرح انھیں شیخ کا ممکنہ قرب حاصل رہا۔
 
خدمات
شیخ سعد خیرآبادی ایک زبردست عالم دین اور شیخ طریقت تھے۔آپ یکساں طور پر علم شریعت کے وارث اور رمز طریقت سے واقف تھے۔ اسی لیے آپ کی ذات والا صفات سے یہ دونوں چشمے پھوٹے۔ تمام مورخین نے آپ کی عظمت شان کی گواہی دی ہے۔ میں یہاں صرف دو حوالوں پر اکتفا کرتا ہوں۔پہلا علامہ غلام علی آزاد بلگرامی کا ہے، جب کہ دوسراقاضی اطہر مبارک پوری کا:

’’والشیخ ہو السعد الأکبر علی فلک الروایۃ والدرایۃ، والنیر الأعظم علی سماء الکرامۃوالولایۃ‘‘

’’شیخ سعدالدین خیرآبادی فقہ، اصول فقہ، نحو، عربیت اور تصوف کے زبردست عالم تھے۔ ان کی تصانیف میں شرح اصول بزدوی، شرح الحسامی، شرح کافیہ، شرح مصباح اور شرح رسالہ مکیہ ہے۔‘‘ 

 لکھنؤ کے دوران قیام شاہ قوام الدین عباسی کی خانقاہ آپ کے سپرد تھی۔ اس کے علاوہ آپ نے ایک خانقاہ اور قائم کی تھی۔خیر آباد پہنچ کر آپ نے یہاں بھی خانقاہ قائم کی جہاں طالبین و سالکین کی روحانی و اخلاقی تربیت ہوتی ۔ اس کے علاوہ خیرآباد میں آپ نے ایک مدرسہ بھی قائم فرمایا۔مخدوم شاہ صفی جیسا قیمتی جوہر اسی کان علم و معرفت کی دریافت ہے۔آپ ا پنے وقت کے عظیم صوفی و مرشد ہونے کے ساتھ بلند پایہ نحوی، فقیہ اور متکلم بھی تھے۔ آپ کی شخصیت فیض بخش تھی اور آپ کا فیض متعدی تھا۔آپ کی عملی زندگی تدریس علوم، تصنیف کتب،تربیت نفوس اور تعمیر سماج جیسے گراں قدر جواہر سے آباد ہے۔
 
خلفا و تلامذہ
 شیخ سعد ایک باکمال مرشدو مربی بھی تھے۔ خلق خدا کی بڑی تعداد آپ سے فیض یاب ہوئی۔میر عبدالواحد بلگرامی نے سبع سنابل میں ذکر کیا ہے:

 ’’ مخدوم قدس اللہ روحہٗ خلفا بسیار داشت وجملہ خلفای او دانشمندانند، وبعضی دانشمند وحافظ ہم بودند۔‘‘

خواجہ کمال نے آپ کے ۲۹؍ خلفا کا ذکر کیا ہے۔ آپ کے خلفا میں شیخ عبد الصمد عرف مخدوم صفی صفی پوری اور مخدوم الہدیہ مولانا شاہ نظام الدین عرف چھوٹے مخدوم صاحب کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔
 
سفر آخرت
مخدوم صاحب نے عمر کا ایک طویل حصہ خلق خدا کی رشد وہدایت میں گزارا اور بالآخر ۱۶؍ ربیع الاول ۹۲۲ھ/ ۱۹؍ اپریل ۱۵۱۶ء کو اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ فرمایا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
شہنشاہ اکبر کے دربار کامعروف شاعرفیضی بھی آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہے۔ اس نے درج ذیل قطعہ تاریخ کہا تھا جو آپ کے روضہ مبارکہ پر مکتوب ہے:
حیف آن شاہ ولایت شیخ سعد
گشت در فردوس اعلی جای گیر
 بُد چون مخدوم کبیر او را لقب
 لا جرم شد سال مخدوم کبیر 
 ۹۲۲ھ
 
 الرسالۃ المکیۃ (مجمع السلوک کا متن)
 الرسالۃ المکیہ آٹھویں /چودہویں صدی کے عظیم عالم صوفی علامہ قطب الدین دمشقی (۷۸۰ھ) کی تصنیف ہے۔اس سے پہلے متن تصوف پر بہت سی کتابیں موجود تھیں، جن میں رسالہ قشیریہ، آداب المریدین ،فوائح الجمال اور عوارف المعارف کو خاص اہمیت حاصل ہے، مگر اس کے باوجود شیخ نے ایک الگ کتاب لکھی اور قدیم کتابوں کی عطر کشید کرنے کی کوشش کی، بطور خاص عوارف المعارف سے خوب استفادہ کیا اور ایک جامع ، مختصر، سہل اور موثر متن تیار کیا۔ بقول شیخ سعد خیرآبادی الرسالۃ المکیۃ صوفیۂ کرام کے طریقوں اورارباب حقیقت کے حقائق کو جامع ہے۔ اس میں اصحاب صفاکے معاملات اور احسان و سلوک کے بلندوبالا مقامات کوبیان کیاگیاہے اور حقائق ومشاہدات سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
 اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت اول روز سےاس کی مقبولیت بھی ہے۔ علامہ دمشقی کے معاصرین میں امام عبد اللہ یافعی، شیخ مکہ مکرمہ (۷۶۸ھ)اور امام عبد اللہ مطری، شیخ مدینہ منورہ (۷۶۵ھ) سر فہرست ہیں۔ اول الذکر نے حرم مکہ میں بعض طالبین کو اس کا درس بھی دیا ہے۔مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری فرماتے ہیں کہ شیخ عبد اللہ یافعی نے اپنے صاحبزادے اور شیخ عبد اللہ مطری نے اپنے بھائی کو مرض وصال میں وصیت فرمائی کہ سلوک کی تکمیل شیخ قطب الدین دمشقی صاحب رسالہ مکیہ کی تربیت میں کریں۔ اس سے معاصرین کی نظروں میں کتاب اور صاحب کتاب کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
شیخ شرف الدین احمد یحی منیری(۷۸۲ھ)،جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری(۷۸۵ھ) اور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی(۸۱۷ھ) کے یہاں اس عظیم کتاب کاخاص ا ہتمام نظر آتا ہے۔چنانچہ مکتوبات صدی، جامع العلوم اور لطائف اشرفی میں اس کے حوالے موجود ہیں۔ممع السلوک کے مترجم مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی رقم طراز ہیں:

 یہ رسالہ مولف کے عہدمیں ہی علما و صوفیہ کے حلقے میں بہت مقبول و متداول ہوگیااس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آداب المریدین ،عوارف المعارف اور اس طرح کے دوسرے متون تصوف کی موجودگی کے باوجود مولف کے زمانے میں ہی علما و صوفیہ اس کا درس دینے لگے۔ جن علما نے اس کتاب کے درس و تدریس کا اہتمام کیا ان میں ایک نمایاں نام حضرت امام یافعی قدس سرہ کا ہے۔ ہندوستان میں رسالہ مکیہ کی اپنی ایک خاص تاریخ اور روایت رہی ہے چنانچہ علما اور صوفیہ اپنے اپنے حلقہ درس میں اس کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے جس کے سبب تصوف کی عظیم کتابوں اور مشائخ کے ملفوظات میں اس کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسالہ مکیہ کا درس اس زمانے میں مریدین ومتوسلین اور مشائخ و صوفیائے ہند کے درمیان کافی عام تھاکہ شیخ سمنانی جیسے عظیم بزرگ اور ان کے مریدین اپنی محفلوں میں بارہا اس کا ذکر فرماتے تھے۔ مجمع السلوک رسالہ مکیہ کی واحد موجود شرح ہے، جس تک راقم کی رسائی ہوسکی ہے۔ لیکن مولانا عبدالحی رائے بریلوی نے اس کی مزید دو شروحات کا ذکر کیا ہے،ایک شیخ شرف الدین احمدیحییٰ منیری کی اور دوسری شیخ یحییٰ بن امین عباسی الہ آبادی کی۔راقم ابھی ان تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ تلاش جاری ہے۔

 قیام مدرسہ دیوبند کے بعدالرسالۃ المکیہ حلقہ علمائے دیوبند میں بھی مقبول رہی ہے۔ اس کا ایک تابندہ ثبوت یہ ہے کہ مولانا رشید احمد گنگوہی (۱۹۰۵ء)نے اپنے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی(۱۸۹۹ء) کے حکم سے الرسالۃ المکیہ کی بعض فصلوں کا فارسی میں ترجمہ کرکے امداد السلوک کے نام سے کتابی شکل میں جمع کیاتھا،جس کا اردو ترجمہ ان کے شاگرد ومرید مولانامحمد عاشق الٰہی میرٹھی(۱۹۴۱ء) نے ارشاد الملوک کے نام سے کیا۔
 
مجمع السلوک (شرح رسالہ مکیہ)
جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری، شیخ سعدالدین خیرآبادی کے مشائخ میں آتے ہیں۔شیخ سعد کا سلسلۂ تلقین شاہ مینا لکھنوی ، شیخ سارنگ اور شیخ یوسف ایرچی کے واسطے سے مخدوم جہانیاںتک پہنچتا ہے۔اسی سند سے آپ کا سلسلۂ طریقت بھی ہے، البتہ اس میں شیخ یوسف ایرچی کی جگہ مخدوم جہانیاں کے برادر اصغر شیخ راجوقتال ہیں۔گمان غالب بلکہ یقین ہے کہ انہی واسطوں سے شیخ سعد تک رسالہ مکیہ پہنچا ہوگا۔
حضرت جہانیاں جہاں گشت نے ایک طویل مدت تک حرمین شریفین میں قیام کیا اور عرصے تک عبد اللہ مطری اور عبداللہ یافعی کی صحبتیں اٹھائیں اور ان کے دروس رسالہ میں شریک ہوئے۔شیخ بخاری نے ہندوستان واپس آکر خود بھی رسالے کا درس دیا، جس کا ذکر ’’ جامع العلوم‘‘ میں کثرت سے ملتا ہے۔
حضرت جہانیاں جہاں گشت سےالرسالۃ المکیہ سے استفادہ اور اس کے دروس کا سلسلہ ان کے خلفا سے ہوتا ہوا شیخ سعد تک پہنچا۔ آپ نے بھی درس رسالہ کا آغاز کیا۔ دوران درس حضرت شاہ مینا کے ملفوظات کثرت سے بیان کرتے اور ان کی روشنی میں رسالے کے اسرار کو کھولتے۔یہ دروس بہت کامیاب ہوئے اور پھر طلبہ و سامعین کے مسلسل اصرار کے بعد باضابطہ شرح رسالہ کا آغاز کردیا اورآٹھ سو صفحات سے زائدپر مشتمل ایک جامع عالمانہ و عارفانہ شرح لکھی جس میں اپنے شیخ کے اقوال وافادات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ درج فرمایا اور اسے ’’ مجمع السلوک والفوائد ‘‘کے نام سے موسوم کیا۔
 
تعارف مخطوطہ
مجمع السلوک اب تک غیر مطبوع ہے۔تلاش بسیار کے بعد راقم کو اب تک اس کےصرف دو مخطوطے حاصل ہوسکے ۔ایک مخطوطہ رضا لائبریری رام پور کا ہے جب کہ دوسرا خانقاہ کاظمیہ کاکوری کا ہے۔دونوں کا اجمالی تعارف حسب ذیل ہے:
 
(الف) نسخۂ رضا لائبریری ، رامپور 
 یہ ایک قدیم اور مکمل نسخہ ہے۔ جہازی سائز کے ۳۵۹ ؍اوراق (۷۱۸ صفحات) پر مشتمل اس ضخیم نسخے کی کتابت ایک سے زائد کاتبوں نے کی ہے۔ ہر صفحہ پر ۲۳ /۲۴ سطریں ہیں۔خط کہیں تو بہت صاف ، واضح اور صحت کے مکمل اہتمام کے ساتھ ہے اور کہیں شکستہ اور سرعت کتابت کی وجہ سے بعض الفاظ بادی النظر میں ناقابل قراءت سے ہیں۔ اکثر مقامات پر متن سے شرح کو ممتاز کرنے کے لیے سرخ روشنائی سے متن پر خط کھینچ دیا گیا ہے۔نسخے کے اختتام پر کاتب کا ترقیمہ ہے، مگر اس میں سن کتابت اور کاتب کا نام درج نہیں ہے۔
 
(ب) نسخۂ تکیہ کاظمیہ ، کاکوری
یہ نسخہ بھی مکمل ہے، اس میں بڑی تقطیع کے ۳۸۰ ؍اوراق (۷۶۰صفحات) ہیں۔ہر صفحے پر ۲۳/۲۵ سطریں ہیں۔خط نستعلیق ہےاور صحت کا خاص اہتمام بھی ہے۔ متن پر خط کھینچنے کے علاوہ خاص خاص مقامات پر بھی سرخ روشنائی استعمال کی گئی ہے۔ اس نسخے کے اختتام پر کاتب کا ترقیمہ نہیں ہے۔البتہ کتاب سے پہلے ایک صفحے پر شاہ حبیب حیدر قلندرکاکوروی مرحوم نے ایک تعارفی تحریر قلم بند فرمائی ہے، جس میں کتاب کی حصول یابی اور کتابت وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں۔
 
تعارف کتاب
مجمع السلوک شیخ سعد الدین خیرآبادی کی سب سے اہم اور معروف علمی یادگار ہے۔ یہ بنیادی طور پر الرسالۃ المکیہ کی شرح ہے اور اس کا موضوع احسان و سلوک ہے، مگر اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولف علام نے ضمنی طور پر دیگر علوم اسلامیہ پر خاصی گفتگو کی ہے۔خصوصاً علم کلام اور علم فقہ کے مسائل پر جب شیخ گفتگو کرتے ہیں، تو ان کی گفتگو طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔دیگر علوم میں گاہےبہ گاہےحسب ذیل علوم پر بطور خاص اجمالی یا تفصیلی گفتگو کی ہے:
 (۱) حدیث وعلوم حدیث، (۲)تفسیر وعلوم تفسیر، (۳) اصول فقہ، (۴) سیرت، (۵) تاریخ، (۶) نحو، (۷) صرف، (۸) بلاغت، (۹-۱۰) منطق وفلسفہ، (۱۱) لغت اور(۱۲) ادب وشعر وغیرہ۔
اس فہرست سے علوم ومعارف میں آپ کی گہرائی وگیرائی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کتاب کے مطالعے سے اس کی درج ذیل خصوصیات سامنے آتی ہیں:
(۱)عربی متن کا ترجمہ اور بسااوقات ترجمانی کی گئی ہے۔ یہ ترجمانی کبھی مختصر تو کبھی مطول ہے۔
(۲) بعض الفاظ کی لغوی تحقیق اور بعض جملوں کی نحوی تحقیق بھی فرمائی گئی ہے۔
(۳)اکثر و بیشتر شارح نے مصنف کے منشا کو دلائل و شواہد اور مثالوں سے واضح کرکے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
(۴)بعض مقامات پر شارح محقق نے مصنف سے علمی اختلاف بھی کیا ہے، لیکن یہ اختلاف کمال ادب اور حسن تحقیق کا نمونہ ہے۔ 
(۵)کتاب کا بنیادی موضوع تصوف ہے، اس لیے یہ کتاب بنیادی اعتبار سے تصوف پر ہی مرکوز ہے۔ اسرار و آداب تصوف کو جس کمال و جمال کے ساتھ حضرت شارح نے بیان کیا ہے، یہ صرف انھیں کا حصہ ہے۔ یہاں اس بات کا اظہار بلا مبالغہ کیا جا سکتا ہے کہ مجمع السلوک کی علمیت نے شرح کتاب سے آگے بڑھا کر ایک طرح سے اسے مستقل تصنیف کا درجہ دے دیا ہے۔
(۶)اس عہد کا ہندوستانی صوفی ادب اکثرو بیشترملفوظاتی اور مکتوباتی ادب سے متعلق ہے،ایسے میں مجمع السلوک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ اس عہد کے ایک مقبول متن کی شرح ہونے کے ساتھ ہندوستان میں علمی نہج کی لکھی جانے والی اولین تصنیفات میں سےہے۔ 
(۷)مجمع السلوک بنیادی اعتبار سے تصوف میں ہونے کے باوجود ضمنی اعتبار سے بے شمار کلامی ، فقہی، نحوی، صرفی بحثیں فرمائی ہیں۔ مسائل فقہیہ سے خصوصاً اعتنا فرمایا ہے۔
 (۸)شرح رسالہ کا انداز یہ ہے کہ شیخ توضیح متن کے ساتھ بیچ بیچ میں مختلف الفاظ و مباحث کو حل فرماتے جاتے ہیں۔ حل مباحث میں کثرت کے ساتھ حوالے دیتے ہیں۔ خصوصاً فقہی اور کلامی مباحث میں۔ ساتھ ہی ساتھ کثرت کے ساتھ اپنے پیرو مرشد قطب اودھ حضرت شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ کے اقوال و اعمال بھی نقل کرتے جاتے ہیں۔
(۹)نقل حوالہ میں شیخ کا منہج یہ ہے کہ زیر بحث مسئلے سے متعلق کثیر حوالے نقل کرتے ہیں، بسا اوقات نفی و اثبات ہر دو سے متعلق حوالے نقل کرتے ہیں، حوالوںکا بالعموم تحلیل و تجزیہ نہیں کرتے ، البتہ آخر میں وہ حوالے نقل کرتے ہیں جن کی طرف ان کا اپنا میلان ہوتا ہےاور بعض مقامات پر اولی و اظہر یا اس طرح کے ترجیحی الفاظ ذکر کرکے بھی اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں۔
 (۱۰) شرح کتاب کا ابتدائی اور انتہائی منہج مختلف ہے۔ شروع کتاب میں جس طرح تفصیل و تشریح فرمائی ہے، آخر میں پہنچ کر وہ منہج تھوڑا سا تبدیل ہوگیا ہے۔ چنانچہ آخر میں بہت سی عبارتوں کے تشریحی ترجمہ پر ہی اکتفا کرلیا ہے۔
 
ایک تسامح 
 شیخ عبد الحق محدث دہلوی مجمع السلوک کے منہج واسلوب کےتعلق سے رقم طراز ہیں:

’’بر رسالہ مکیہ شرح نوشتہ است مسمٰی بمجمع السلوک بر طرز خزانہ جلالی کہ از ملفوظات مخدوم جہانیان ست، بسی از ملفوظات و حالات شیخ مینا را دروی درج کردہ در وقتی کہ ازوی نقل میکندمیگوید قال شیخی شیخ مینا أدام[مہ ]اللہ فینا وہرجا کہ می گوید شیخ شیخی مراد ازوی شیخ قوام الدین لکھنوی است‘‘ 

 مجمع السلوک کے اسلوب کے حوالے سے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی یہ بات قابل غور ہے۔ خزانۂ جلالی ، حضرت جہانیاں جہاں گشت کے ملفوظات کا مجموعہ ہے، جب کہ مجمع السلوک ایک معروف متن تصوف الرسالۃ المکیۃ کی شرح ہے۔ہاں! یہ ضرور ہے کہ اس شرح کے اندر جابجا شیخ سعدنےاپنے پیرو مرشد حضرت شاہ مینا کے ملفوظات نقل کیے ہیں، لیکن صرف اتنے سے اشتراک کے باعث دونوں کے اسلوب کو ایک نہیں کہا جاسکتا، مستقل طور سے ملفوظات جمع کرنا امردیگر ہے اور کسی کتاب کی شرح کے درمیان کسی کے ملفوظات توضیح و استدلال کے لیے نقل کرنا چیزے دیگر۔
اسی طرح مجمع السلوک کے اسلوب کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’[جب مخدوم صاحب کو] شیخ مینا کا کوئی ملفوظ نقل کرنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں:قال شیخی شیخ مینا أدامہ اللہ فینا ‘‘خلاف واقعہ ہے۔ مجمع السلوک کے اندر نہ ایسا واقع ہے اور نہ ایسا واقع ہونا ممکن ہے؛ کیوں کہ یہ وہ کلمات دعا ہیں، جو کسی زندہ کی درازی عمر کے لیےاستعمال ہوتے ہیں ، جب کہ مجمع السلوک حضرت شاہ مینا کی وفات کے بعد لکھی گئی ہے۔یہی خطا غلام علی آزاد بلگرامی کی مآثرالکرام میں بھی راہ پاگئی ہے۔غالباً انھوں نے بھی شیخ محقق کی تحقیق پر اعتماد کرلیا ہوگا اور براہ راست کتاب دیکھنے کی زحمت نہ کی ہوگی۔ نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے اس خطا پر مستزاد کیا اور کہا کہ انھوں نے اپنے شیخ کے رسالہ کی شرح کی۔
 
جامعیت
مجمع السلوک کی خصوصیات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں کثرت حوالہ کا اہتمام کیا گیاہے۔مجمع السلوک کی کتابیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدم مواصلات کے اس دور میں کس قدر کتابیں شیخ نے جمع کی تھیں اور مطالعہ فرمایا تھا۔ یہیںسے کتاب کی ایک دوسری خوبی یہ سامنے آتی ہے کہ یہ تصوف کی کتاب ہوتے ہوئے دوسرے مختلف علوم ومعارف کا خزانہ بھی ہےاور اس کتاب میں صرف اہلِ تصوف کی دل چسپی کا سامان نہیں ہے بلکہ مختلف علوم اسلامیہ سے وابستگان کی دل بستگی کا سامان بھی ہے۔ ان کی کچھ تفصیل اس طرح ہے: 
 ۱۔ تفسیر:- 
اس کتاب میں اچھا خاصا تفسیری مواد موجود ہے اور اس کا اندازہ ان تفسیری کتابوں کی فہرست سے بھی لگایا جاسکتا ہے جن سے شارحِ علام نے استفادہ کیا ہے۔ چناں چہ بعض تفسیری مآخذ جن سے آپ نے تفسیری مباحث تحریر فرمائے ہیں ان میں سے چند کے اسما یہ ہیں: 
(۱) تفسیر کبیر رازی (۲) تفسیر نسفی (۳) معالم التنزیل (۴) الجامع الکبیر فی معالم التفسیر، از امام بستی (۵) بحر مواج (۶) تفسیر الاملاء (۷) تفسیر زاہدی (۸) تفسیر کشاف (۹) لطائفِ قشیری (۱۰) لباب التفسیروغیرہ 
 ۲۔ حدیث:-
 صاحبِ نزہۃ الخواطرکا خیال ہے کہ دسویں/سولہوں صدی میں ہندوستان کے اندر علم حدیث کا فروغ ہوا۔ اس سے پہلے مشارق الانوار، مصابیح السنۃ اور مشکاۃ المصابیح کتب حدیث کی منتہی کتابیں سمجھی جاتی تھیں،({ FR 314 })لیکن مجمع السلوک کے مطالعے سے اس خیال کی تردید ہوجاتی ہے۔ مجمع السلوک کے حدیثی مآخذ سے پتہ چلتا ہے کہ عدمِ مواصلات کے اس دور میں حضرتِ شارح کے پاس حدیث کی کتنی اہم کتابیں موجود تھیں اور کتبِ حدیث پر آپ کی نظر کیسی وسیع تھی۔ شیخ سعد نے مجمع السلوک میں جن کتب حدیث کے حوالے دیے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
(۱) صحیح بخاری (۲) صحیح مسلم (۳) ابودائود (۴) سننِ نسائی (۵)سنن ابن ماجہ (۶) شرح صحیح البخاری، ازابن بطال مالکی (۷) شرح مسلم ،ازنووی (۸) مشکاۃ المصابیح (۹) نوادر الاصول (۱۰) شرح مشکاۃ ،ازطیبی (۱۱) حلیۃ الاولیا (۱۲) مشارق الانوار (۱۳) کتاب الزہد ،ازاحمد بن حنبل وغیرہ۔
اس عہد کے بارے میں ایک عام تاثر یہ بھی دیا جاتا ہے کہ وہ فقہ وفتاویٰ کے غلبے کا عہد تھا اور لوگ درجاتِ احادیث اور احکامِ احادیث کے حوالے سے وسعتِ نظری نہیں رکھتے تھے، لیکن مجمع السلوک کے بعض مقامات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بعض مرویات پر حکم بھی لگایا گیا ہے۔چناں چہ ایمانِ ابوین اور ایمانِ ابوطالب کےتعلق سے ایک مشترکہ روایت نقل کرنے کے بعد ام المعانی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ روایت غریب ہے، کسی دوسری کتاب میں مذکور نہیں۔
۳۔ کلام:- 
الرسالۃ المکیۃ میں چوں کہ اعتقادی و کلامی مباحث بھی کافی آئے ہیں، اس لیے اس کی شرح میں بھی اعتقادی و کلامی مباحث کا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ کلامی مباحث پر گفتگو کرنے کے لیے درج ذیل مصادر کا بطور خاص استعمال کیا گیا ہے:
 (۱) اصول الصفار/ ابو القاسم صفار حنفی (۲) تبصرۃ الادلۃ /اوحد الدین نسفی (۳) تمہید /ابو شکور سالمی (۴) شرح عقائد تفتازانیہ (۵) عقیدۂ حافظیہ/ابو البرکات نسفی وغیرہ ۔ 
 ۴۔ فقہ واصول:- 
شارحِ مجمع السلوک ابتدائی عہد میں اعلیٰ درجہ کے ایک فقیہ واصولی کی حیثیت سے متعارف تھے۔ آپ نے اصولِ فقہ میں ’’اصولِ بزدوی‘‘ کی شرح بھی لکھی ہے، لیکن وہ اس وقت ناپید ہے، لیکن اس کتاب کی عدمِ موجودگی کی صورت میں خود مجمع السلوک ان کی فقہی اور اصولی عظمتوں پر گواہ ہے۔ مجمع السلوک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شارح کی فقہ واصول پر کیسی گہری نظر تھی اور اس کا اندازہ سب سے پہلے تو مصادر ومراجع کی اس طویل فہرست سے ہوتا ہے جن کو آپ نے ان مباحث کے بیان کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ ان کتابوں کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے۔ چند کتب کے اسما درج ذیل ہیں: 
 فقہ میں (۱) جامع صغیر (۲) خانیہ (۳) خزانۃ الفقہ (۴) فتاویٰ سراجیہ (۵) کتاب السیر (۶) مجموع النوازل (۷) مضمرات (۸) ملتقط (۹) نصاب الاحتساب (۱۰) نہایہ (۱۱) ہدایہ (۱۲) جامع برہانی (۱۳) تبیین الحقائق وغیرہ۔
اصولِ فقہ میں (۱) اصولِ بزدوی (۲) امالی صدر الاسلام بزدوی (۳) تلویح (۴) شرح اصول بزدوی قاضی شہاب الدین دولت آبادی(۵) شرح بزدوی حسام الدین حنفی (۶) شرحِ منار (۷) کشف بزدوی وغیرہ۔
مجمع السلوک میں فقہی جزئیات بکثرت حوالے کے ساتھ نقل کیے گئے ہیں اور اصولی گفتگو کی گئی ہے۔ جب نقلِ جزئیات کا سلسلہ شروع ہوتا ہےتو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فقہ کی ہی کتاب ہے۔
 ۵۔ تصوف:-
جہاں تک تصوف کی بات ہے تو یہ کتاب تو اسی فن کا شاہکار ہے اور تصوف وسلوک کا خزانہ ہے۔ علمِ تصوف پر یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے جس میں صرف نقل مباحث پر اکتفا کیا گیا ہو بلکہ اس میں اقوال کی توضیح، تاویل، ترجیح اور صحیح وضعیف اقوال کے درمیان تفریق وتمییز بھی پائی جاتی ہے۔ علمِ تصوف پر یہ کتاب کتنی اہم ہے اس کا اندازہ اس کے مصادر ومراجع سے لگایا جاسکتا ہے جن کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ علم تصوف میں اس کی جامعیت کے نمونے دیکھنے کے لیے خود کتاب کا مطالعہ بہت ہی ذوق افزا اور ایمان پرور ثابت ہوگا۔
 
اصلاح تصوف
مباحث تصوف میں جو اصلاحی اورتجدیدی پہلو ہے، وہ بطور خاص کتاب کو امتیازی حیثیت عطا کرتا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احیاے تصوف، جاہل اور بے شریعت صوفیہ کی اصلاح اور تصوف کی تفہیم صحیح کے حوالے سے شیخ کے جوافکار ہیں، ان کی چند مثالیں پیش کردی جائیں۔اس سیاق میں شیخ کے بعض اقوال بلا تبصرہ ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔ تفصیل کی فی الوقت گنجائش نہیں ہے۔
 الف: معیار شریعت ہے 
پیردست گیرنے یہ بھی فرمایا کہ اگرتم کسی کوہوامیں اڑتے یاپانی پرچلتے دیکھواور اسے کوئی فرض یا سنت ترک کرتا ہوا پاؤ، تو جان لوکہ وہ جھوٹاہے اوراس کایہ فعل کرامت نہیں بلکہ جادو اوراستدراج ہے۔
ب:طریقت لباب شریعت ہے
طریقت خلاصۂ شریعت ہے۔طریقت غیرشریعت کانام نہیں ہے ۔لہٰذا جوشخص طریقت کی راہ اپنے لیے کھولنا چاہتا ہے اورحق کی حقیقت کودیکھناچاہتاہے اس کو چاہیے کہ شریعت کاحق ادا کرے ، اوامر ونواہی میں ذرہ برابر کوتاہی نہ کرے، شریعت کی تعظیم اوراوامر ونواہی کی حفاظت کرے۔
ج:شریعت و طریقت کا تمثیلی فرق
معاملات کی نگہبانی کانام شریعت ہے اور بری خصلتوں سے باطن کوپاک کرنے کانام طریقت ہے۔مثال کے طور پرظاہری نجاست سے پاک رہناشریعت ہے اورکدورت بشریت سے دل کی نگہبانی کانام طریقت ہے،منہ قبلہ کی جانب کرنا شریعت ہے اور دل بارگاہ الٰہی میں حاضررکھناطریقت ہے۔انبیا علیہم السلام امت کے حق میں شریعت کی تعلیم فرماتے ہیں اوراپنے حق میں طریقت کی راہ اختیار فرماتے ہیں۔امت میں اگرکسی کی ہمت بلندہواوروہ حقائق و معارف تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تواسے چاہیے کہ طریقت کی راہ میں قدم رکھے،تاکہ عوام کے زمرے سےنکل کر زمرۂ خواص میں شامل ہوجائے۔ 
د:شریعت و طریقت کا مقصد
 اے عزیز!تم کومعلوم ہے کہ شریعت ،طریقت اورحقیقت کامقصود کیاہے؟سب کامقصود یہ ہے کہ انسان راست گفتار،راست کردار، کم آزار،دانش مند،با اخلاق اورصاحب معرفت بن جائے۔
ہ: نااہلوں کو خلافت نہ دی جائے۔
خلافت پیروں کی امانت ہے اسے نااہلوں کونہیں دیاجاتااوراہل کودینے میں دریغ نہیں کیاجاتا۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے:اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا(النساء:۵۸) (اللہ تعالیٰ حکم فرماتاہے کہ تم امانت اس کے مستحقین کودے دو ۔)
و:خواب والی خلافت بے اعتبار ہے
کچھ ایسے لوگ بھی گزرے اورآج بھی موجود ہیں،جنہوںنے خواب کی حالت میں خلافت کا دعویٰ کیا کہ میرے پیرنے مجھ کوخواب کی حالت میں خلافت عطاکی ہے،جب کہ معلوم ہے کہ خواب سے کوئی بھی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا،پھر خلافت کا ثبوت ،جو ظاہری امور سے متعلق ہے، اس کا ثبوت خواب سےکیسے ہوجائے گا؟
 ز :خلافت کی کثرت اور مدعیان طریقت کی آفت
 ایسے زمانے میں جب کہ دین کے نام پرمحض چند رسمیں رہ گئی ہیں ،اولیائے دین ،ہادیان صراط مستقیم اور داعیان ہدایت مآب نے اپنے چہروں پر نقاب ڈال لیاہے،ہرگوشہ اورہرمحلہ میں خلافت کی جتنی کثرت اس زمانے میں ظاہر ہوئی ہے ایسے میں کسی پراعتماد کیسے کیا جاسکتا ہے؟ یہ لوگ انتشار قلب اورجمعیت خاطر سے کوئی حصہ نہ رکھنے کے باوجود خود کو جنید و شبلی کی طرح سمجھتے ہیں اورمخلوق کے سامنے اپنے آپ کو انھیں کی طرح ظاہرکرتے ہیں ،یہ محض گمراہی اورخطاہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی صحبت سے اپنی پناہ میں رکھے۔ 
ح:دنیا کے طلب گار پیر دجا ل ہیں
 احیاء العلوم میں امام غزالی فرماتے ہیں:جودنیا کی رغبت رکھتا ہو، اور جاہ و حشم کادل دادہ ہواور آخرت سے منہ موڑے ہو، وہ دین کے لیے دجال ہے،اس لیے کہ امام وہ ہے جس کی دنیاسے روگردانی اوراللہ کی جانب توجہ میںپیروی کی جاتی ہے ،جیسے انبیاے کرام ،ان کے اصحاب اورعلماے اسلاف،اوردجال وہ ہے جس کی اللہ سے روگردانی اور دنیا سے لولگانے کے معاملے میں پیروی کی جاتی ہے۔
 
 علما کی التفات
مجمع السلوک جیسی جامع کتاب، جسے بجا طور پر تصوف کا دستور العمل بھی کہاجانا چاہیے، جس طرح سے عوام تک پہنچنی چاہیے تھی، اس طرح نہیں پہنچ سکی۔ تاہم ہر دور کے اہل علم نے اس کے ساتھ اعتنا ضرورفرمایا۔سبع سنابل کے مصنف میر عبدالواحد بلگرامی (۱۰۱۷ھ /۱۶۰۸ء) نے اپنی تصنیف میں جگہ جگہ اس کے حوالے دیے ہیںاور مباحث نقل فرمائے ہیں۔اسی طرح محمد علی تھانوی (بعد ۱۱۹۱ھ)نے کشاف اصطلاحات الفنون میں اور تکیہ کاظمیہ کاکوری کے صاحب سجادہ حضرت مولانا شاہ تراب علی قلندر کاکوروی (۱۲۷۵ھ /۱۸۵۸ء)نے مطالب رشیدی میں متعدد مقامات پر مجمع السلوک کے حوالے دیے ہیں اور ان کے توسط سے تصوف کی اصطلاحات کی تشریح فرمائی ہے۔
قاضی ارتضا علی خان صفوی گوپاموی (۱۷۸۴-۱۸۵۴ء) نے اپنے عہد میں باضابطہ اس کی ضرورت محسوس کی کہ اس کی تلخیص کی جائے چنانچہ انھوں نےفوائدسعدیہ کے نام سے ایک عمدہ تلخیص تیار کی جوجون ۱۸۸۵ء میں مطبع نول کشور لکھنؤ سے چھپ کر مقبول عام ہوئی۔اس کے بعد اسی سال نومبر ۱۸۸۶ء میں اس کا اردو ترجمہ از ابوالحسن علی صاحب اسی مطبع سے شائع ہوا۔ مذکورہ ترجمے کی طبع جدید سید ضیا علوی نے دہلی سے۲۰۰۲ء میں کی ہے۔یوں ہی بیسویںصدی عیسوی کےایک عظیم صوفی ادیب و شاعر شیخ محمد عزیزاللہ صفی پوری (۱۳۴۷ھ/ ۱۹۲۸ء) نے بھی اپنی کتاب ’’عقائدالعزیز ‘‘ میں رسالہ مکیہ اور مجمع السلوک سے خصوصی استفادہ کیا ہے۔
 
مرحلۂ شوق کی تکمیل
داعی اسلام شیخ ابوسعیدشاہ احسان اللہ محمدی صفوی زیب سجادہ آستانہ عالیہ عارفیہ ، سید سراواں ، الہ آباد نے سالوں پیشتر مجمع السلوک کی غائبانہ عقیدت میں یہ شعر کہا تھا: ا
گر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوک
 تو بس فقط ابو سعید شیخ سعد شیخ سعد
یہ سادہ طور پر مدحیہ شاعری نہیں تھی، بلکہ مجمع السلوک کی عظمت بے پایاں کےاظہارکے ساتھ اس کی تحصیل و اشاعت کی آرزؤں کا شعری پیکر تھا، جو شعر کہے جانے کے کئی سالوں بعد عملی شکل میں سامنے آیا ہے۔ تلاش بسیار کے بعدخدا خدا کرکے رضا لائبریری رام پوراور خانقاہ کاظمیہ کاکوری سےاس کے دو مخطوطات حاصل کیے گئے اور ترجمہ، تصحیح، تحقیق، تحشیہ اور اشاریہ کے طویل مراحل طے کرنے کے بعد ۱۴۰۰ صفحات پر مشتملیہ تاریخی ، علمی، روحانی اور تربیتی مرقع اس وقت پریس کے حوالے ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے کیا ہے ، جب کہ مراجعت ،تحقیق ، تخریج اور حواشی کا فریضہ مولانا حسن سعید صفوی اور مولانا غلام مصطفیٰ ازہری کے ساتھ راقم السطور نے انجام دیا ہے۔واضح رہے کہ شاہ صفی اکیڈمی الہ آباد نے آج سے دو سال قبل اس کا متن الرسالۃ المکیہ بھی پہلی بار ۶مخطوطات کے تقابل ،تحقیق اور تحشیہ سے آراستہ نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کردیا ہے۔فللّٰہ الحمد علیٰ ذالک
 
 کتابیات
(درج ذیل کتابوں کے حوالے اس مقالے میں شامل ہیں)
 ابجد العلوم،صديق بن حسن قنوجي، الکتب العلمیۃ، بیروت ،۱۹۷۸ء
 اخبار الاخیار،شیخ عبد الحق محدث دہلوی، کتب خانہ رحیمیہ دیوبند
 ارشاد الملوک ترجمہ امدادالسلوک،مولانا رشید احمد گنگوہی/مولانا عاشق الٰہی میرٹھی،دارالکتاب، دیوبند،۲۰۰۵ء
الدر المنظوم اردو ترجمہ جامع العلوم، مطبع انصاری، دہلی،۱۳۰۹ھ
بحر زخار،وجیہ الدین اشرف ،مرکز تحقیقات فارسی، دانشگاہ علی گڑھ،۲۰۱۲ء
تحفۃ السعداء(عکس مخطوطہ)،خواجہ کمال ،ترجمہ: سید محمد یوسف ،پھلواروی، خدا بخش لائبریری، پٹنہ،۱۹۹۱ء
 الثقافۃ الاسلامیۃ فی الہند=معارف العوارف فی انواع العلوم والمعارف،عبد الحی حسنی، مجمع اللغۃ العربیۃ، دمشق، ۱۴۰۳ھ/ ۱۹۸۳ء
جامع العلوم=ملفوظ حضرت جہانیاں جہاں گشت، مرتب: علاؤ الدین قرشی، تدوین:قاضی سجاد حسین، انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ،نئی دہلی،۱۹۸۷ء
حدائق الحنفیہ، فقیر محمد جہلمی،مطبع و سن ندارد
دیار پورب میں علم اور علما،قاضی اطہرمبارک پوری ،البلاغ پبلی کیشنز،جامعہ نگر، نئی دہلی، ۲۰۰۹ء
ذکر سعد، سید ضیا علوی،جامعہ نگر ، نئی دہلی،۲۰۱۰ء
سبع سنابل،میر عبدالواحد بلگرامی،مکتبہ قادریہ، لاہور، پاکستان،۱۹۸۲ء 
سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان، غلام علی آزاد بلگرامی، دار الرافدین، بیروت ۲۰۱۵ء
طبقات اکبری،خواجہ نظام الدین احمد،ترجمہ:محمد ایوب قادری،اردو سائنس بورڈ،اپر مال،لاہور،۲۰۰۸ء
فوائد سعدیہ(فارسی) ،قاضی ارتضا علی خاں،منشی نول کشور،۱۸۸۵ء فوائد سعدیہ(اردو)، قاضی ارتضا علی گوپاموی،شارپ پرنٹنگ ایجنسی،دریاگنج، دہلی 
 مآثرالکرام تاریخ بلگرام ،غلام علی آزاد بلگرامی، مترجم:یونس رضااویسی ،جامعۃ الرضا، بریلی ،ـ۲۰۰۸ء
مجمع السلوک،سعد الدین خیرآبادی، مخطوطہ رضا لائبریری رام پور /خانقاہ کاظمیہ، کاکوری/عکس مخطوطہ:مکتبۃ الاحسان، الہ آباد 
 مجمع السلوک،سعد الدین خیرآبادی، شاہ صفی اکیڈمی، الہ آباد، زیر طبع
منتخب التواریخ، عبدالقادر بدایونی، مترجم:محمود احمد فاروقی، شیخ غلام علی اینڈ سنز، چوک انار کلی، لاہور
 نزہۃ الخواطر،مولانا عبدالحی رائے بریلوی،دار ابن حزم، بیروت،۱۹۹۹ء
Previous articleTime to get united against uniform civil code : Shaikh Abu Saeed
Next articleخیرآباد کا ایک یادگار سفر
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here