قرآن سابقہ تمام ہدایات کو جامع ایک ابدی معجزہ ہے : شیخ خامس ازہری

0
766

ــــــــــخانقاہ عارفیہ کی ماہانہ محفل مولاے کائنات میں شیخ محمد خامس ازھری اور علامہ عمران حبیبی خلافت و واجازت سے سرفراز ہوئے۔

ـــــــ خانقاہ عارفیہ کی ماہانہ محفل مولاے کائنات کے موقع پر جامعہ عارفیہ کے شعبۂ حفظ سے قرآن کریم مکمل

 

 یاد کرلینے والے طلبہ کے اعزاز میں جشن تکمیل حفظ قرآن کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی ابتدا حافظ و قاری نظام الدین صاحب نے قرآن پاک کی تلاوت سے کی ۔ حمد و نعت کے سلسلہ کے بعد جامعہ کے مہمان استاذ شیخ مصباح عوض اللہ سالم الیمانی (مصر) نے عربی زبان میں قرآن کی تعلیم وتعلم کی فضیلت و اہمیت پر مختصر سی گفتگو فرمائی اور اس حوالے سے حضرت داعی اسلام کی محنتوں، کاوشوں اور قربانیوں کو خوب سراہا جس کی اردو ترجمانی جامعہ کے استاذ مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی نے فرمائی ۔ 


سوڈان سے آئے ہوئے مہمان محدث حضرت شیخ محمد خامس بن سلیمان ازہری نے اعجاز قرآن کے موضوع پر عالمانہ گفتگو فرمائی اور کتب سماویہ کے بیچ قرآن کے امتیازات کو واضح فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے ، اس کے بعد اللہ کی جانب سے بندوں کی ہدایت کے لیے کوئی کتاب نہیں آنے والی بلکہ جس کو بھی ہدایت اور نور علم کی طلب ہے تو وہ اسی قرآن کا مطالعہ کرے اور اس کے احکامات و ارشادات پر عمل پیرا ہو ۔ مزید کہا کہ جو احکامات قرآن سے پہلے اللہ نے بندوں کو دیے تھے ان سابقہ کتابوں کے مضامین اور ارشادات کو اللہ رب العزت نے اس آخری کتاب میں جمع کر دیا ہے ، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن سے ہی اپنا رشتہ مضبوط کریں اور اس کی نورانیت سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرنے کی کوشش کریں ۔ جامعہ کے استاذ مولانا محمد ذکی نے آپ کی گفتگو کا اردو زبان میں خلاصہ پیش کیا۔
جامعہ کے نائب پرنسپل مفتی محمد کتاب الدین رضوی نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن ہمیں اللہ کی راہ دکھاتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تصدیق کریں ، اس کی تلاوت کریں ، اس کو سمجھیں ، اس پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں تک قرآنی احکامات کی تبلیغ بھی کرتے رہیں۔ تاکہ اللہ کی مرضی پر ہم کھرے اتر سکیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اللہ کے حضور سرخرو بنا سکیں ۔
اس محفل میں صاحب سجادہ خانقاہ عارفیہ داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی نے علامہ محمد عمران حبیبی (پرنسپل جامعہ عارفیہ) کی مقراض رانی اور شربت نوشی فرما کر سلاسل اربعہ (چشتیہ، قادریہ، سھروردیہ اور نقشبندیہ) کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ یوں ہی آپ نے ان مراسم کی ادائیگی فرماکر علامہ شیخ محمد خامس بن سلیمان ازہری کی خلافت و اجازت کا بھی اعلان فرمایا۔ واضح رہے کہ داعی اسلام نے ۲۰۱۷ کے دورۂ مصر پر ہی شیخ خامس کو خلافت و اجازت مرحمت فرما دی تھی ۔ اخیر میں صد ر شعبۂ حفظ صوفی سلیم صاحب کی نگرانی میں طلبہ حفظ کی جانب سے لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here