کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیّاً فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ

0
62

حاملِ رازِ خدائی عشق ہے (۲)
 اور سرِّ مصطفائی عشق ہے ب
اعثِ تخلیقِ عالم عشق ہے
 پیکرِ آدم مجسّم عشق ہے 
حضرتِ حق کی امانت عشق ہے(۳)
 روحِ آدم کی حقیقت عشق ہے 
عشق ہے اسرارِ حق کا راز داں 
عشق ہے مقصودِ حرفِ کُن فکاں
 عشق ہے نورِ ظہورِ حسنِ ذات 
عشق ہے تکمیلِ روحِ کائنات
عشق عینیت شہادت قربیت (۴)
 ذاتِ حق میں عین حق کی محویت 
عشق کے قطرہ میں ہے دریا نہاں 
عشق کے ذرّہ میں ہے صحرا نہاں 
ذرّہ ذرّہ عشق میں سرشار ہے
 جملہ عالم عشق کا اظہارہے 
عاشقانِ حق کی دنیا عشق ہے 
عشق کے بندوں کا مولیٰ عشق ہے
 آدمی کی آدمیّت عشق ہے
 شادی و غم کی حقیقت عشق ہے
 ہادیِ راہِ شریعت عشق ہے
 مرشد و پیرِ طریقت عشق ہے
 عشق جذب و شوق کی بنیاد ہے 
عشق سے سیر و سلوک آباد ہے 
عشق کے مکتب کا ملاّ عشق ہے 
درسِ ابجد کا خلاصہ عشق ہے
 عشق سے بڑھ کر نہیں کوئی عظیم
 عشق ہے بر حق صراطِ مستقیم 
در حقیقت عشق ہے میروں کا میر
 بے محابا عشق ہے پیروں کا پیر 
عشق ہو جاتاہے جب بڑھ کر جواں
 کفر بن جاتا ہے ایماں بے گماں(۵)
 عشق کی گفتار ہے گفتارِ حق 
عشق کی رفتار ہے رفتارِ حق 
عاشقانِ حق کا یہ فرمان ہے 
جس پہ ہر پیر و جواں قربان ہے 
عشق ہی خود دین اور ایمان ہے 
عشق ہی خود مصحفِ قرآن ہے 
عشق ہی مسجد ہے اور عشق ہی اذاں
 عشق ہی سجدہ سجودِ پنجگاں 
عشق مستیِ فنا فی اﷲ ہے 
عشق ہستیِ بقا باﷲ ہے 
عشق ہے نورِ ظہورِ کبریا 
عشق ہے وجہ نمودِ مصطفی
 بالیقیں جو صورتِ رحمن ہے 
بے محابا جلوئہ سبحان ہے

 

(۱)اس حدیث کے حوالے سے گفتگو پیچھے ہو چکی ہے۔

 (۲)عشق محبت کی شدید ترین اور انتہائی شکل ہے-والذین آمنوا اشد حباً للّٰہ (اہل ایمان کو اللہ سے گہری محبت ہے- البقرہ: ۱۶۵) اسی لیے اس کا کامل تعلق اس ذات سے ہے جو جمال مطلق ہے -(ان اﷲ جمیل یحب الجمال- مسلم، ایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ/ احمد ابن حنبل، عن ابن مسعود ، حدیث :۳۷۸۹) شیخ نے اپنے کلام میں اس کو بہت ہی وسیع مفہوم میں لیا ہے- ان کے مطابق کائنات کی تخلیق جو امر الٰہی کن سے ہوئی، اس کے پس پردہ بھی عشق ہی کی جلوہ گری تھی-خدا کو اپنی خدائی کا اظہار محبوب تھا ،جس کی تفصیل حدیث کنت کنزاً مخفیاً الخ میں بیان ہوئی ہے – تمام مظاہر و کمالات کے ظہور کے پیچھے حضرت عشق کی ہی کارفرمائی ہے-پھر اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مخلوقات و مظاہر میں عشق مطلوب ہے-جب ان میں ظہور عشق ہوتا ہے تو کفر بھی ایمان بن جاتا ہے – پھر عشق کا جلوہ ہمہ گیر و ہمہ جہت ہو جاتا ہے- بقول عارف رومی: در نگنجد عشق در گفت و شنید عشق دریا ئیست قعرش نا پدید  مولانا جامی نے کہا: ہست بے صورت جناب قدس عشق لیک در ہر صورتے خود را نمود
اقبال نے اس صورت کی قدرے توضیح کی:
 عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفی عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
 اور شیخ کے لفظوں میں:  حامل راز خدائی عشق ہےاور سر مصطفائی عشق ہے۔

 (۳)ارشاد باری ہے: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَۃَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْْنَ أَن یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْإِنسَانُ-(الاحزاب: ۷۲)’’ ہم نے اپنی امانت آسمان وزمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے وہ ڈرنے لگے اور انسان نے اسے اٹھالیا-‘‘ حضرت اسماعیل حقی علیہ الرحمہ اور دوسرے صوفی مفسرین نے اس آیت میں امانت سے مراد عشق بھی لیا ہے۔

 (۴)عشق تین حروف سے بنا ہے- ع ، ش، ق-ق قربیت کی تعبیر ہے، ش شہادت کی اور ع عینیت کی – محبوب کے ساتھ قربیت سے عشق کا آغاز ہوتا ہے- یہ قربیت محبوب کی رویت و مشاہدہ میں بدل جاتی ہے اور پھر وہ مقام آتا ہے جب محبوب و محب میں غیریت کا تصور باقی نہیں رہتا- یہ مقام عینیت ہے- اس مقام پر محبوب و محب ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ذات اور اس کا وجود- ان میں کسی غیریت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

 (۵)شجر ممنوعہ کا پھل کھایا جاتا ہے ،شجر طور سے انا اﷲ کی آواز آتی ہے،بندہ انا الحق کا ورد کرتا ہے اور اہل نظر ان سب کو عین اسلام سمجھتے ہیں-ایک دوسرا معنٰی یہ ہے کہ بندہ اپنی زبان سے معبودان باطل کا انکار کرتے ہوئے لا الٰہ کا ورد کرتا رہتا ہے لیکن یہ انکار اس وقت ایمان بن جاتا ہے جب یہ ورد پورے عشق و ایقان کے ساتھ ہو ،صرف زبانی وظیفے کے طور پر نہ ہو – بغیر عشق و یقین کے لا الٰہ الا اﷲ کا ورد بظاہر ایمان اور در حقیقت کفر ہے- اور ایک تیسرا معنیٰ یہ ہے کہ عشق جب بڑھ کر جوان ہوجاتا ہے تو کفر بمعنیٰ فنائیت کی منزل آتی ہے اور بندہ ماسوی اللہ کا انکار کرکے قرب کے مقام خاص میں داخل ہوجاتاہے جوعین ایمان ہے- اقبال نے اسی مفہوم کو اس طرح اپنے مخصوص لب ولہجے میں ادا کیا ہے: اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here