خاتمہ

0
38

 میرے جذب و شوق کا یہ قافلہ 
مثنوی کی شکل میں ہے برملا 
جس طرف یہ چاہتا ہے بے خطر 
کھینچ لے جاتا ہے مجھ کو سر بسر(۱)
 میں ہوں اس کے پنجہ گیرا میں یوں 
عقل پہ غالب ہو جس طرح جنوں
 عالمِ بالا سے مضمون و خطاب
 نازل ہوتے رہتے ہیں یوں بے حساب 
طالبِ صادق ہو کوئی تو کہوں 
اُس سے جذب و شوق کا رازِ دروں 
کس سے بتلاؤں میں اسرارِ نہاں 
کون سمجھے گا اشاروں کی زباں
 ما سوائے اہلِ دل اہلِ کمال
 کون سمجھے گا زبانِ حال و قال
 ذوق و حال و قال کے ہے درمیاں 
میرے جذب و شوق کا یہ کارواں 
حرف را بگذار معنی را بگیر
 دور کن از مغز قشرش ہمچوں شیر
 مثنوی نغمات ہے وہ مثنوی 
جس میں پوشیدہ ہیں اسرارِ خفی 
طالبوں کے واسطے اکسیر ہے
 اور مریدوں کے لیے یہ پیر ہے
 اعتبارات و جہات اس کے سمجھ 
اصطلاحات و لغات(۲) اس کے سمجھ
 گر سمجھ سے دور ہو یہ علم و فن 
پوچھ مردانِ خدا سے جانِ من
 پھر بھی رہ جائے اگر ژولیدگی 
تو سمجھ خود فہم کی نابالغی 
فہمِ ناقص کا سمجھ اپنے قصور 
کور چشمی ہے حجاب عینِ نور
 جو مقلد محض ہوگا بے گماں
 وہ نہ سمجھے گا محقق کی زباں
 عصبیت کی راہ سے دیکھے گا جو
 وہ نہ پہچانے گا ہر گز راست کو
 اہلِ معنیٰ سے عقیدت چاہیے 
ہر نفس صدقِ ارادت چاہیے
 جو ارادت کی نظر سے دیکھے گا 
اُس پہ کشف اسرار سب ہو جائے گا 
جو رکھے گا مثنوی سے دشمنی 
کبر و نخوت کے سبب ہوگا شقی 
علم و حکمت پیش نااہل و گنوار گ
ردنِ خنزیر میں جیسے کہ ہار(۳)
 ناسمجھ کے سامنے حکمت کی بات 
بے اثر بے سود بے جا بے ثبات 
منکرِ احوال ہوگا جو کوئی 
وہ نہ سمجھے گا حقیقت میں کبھی 
انبیا و اولیا کی راہ کو 
کب دکھائے گا خدا گمراہ کو 
مثنوی نغماتُ الاسرار ہر زماں 
جو پڑھے گا صدقِ دل سے بے گماں
 وہ سعیدؔ ہو جائے گا حق آشنا 
عارفِ باﷲ مقبولِ خدا

(۱) شیخ نے نجی مجالس میں کئی بار یہ ذکر کیا کہ انہوں نے یہ مثنوی باضابطہ پلاننگ سے نہیں لکھی ،بلکہ بارہا سیل رواں کی طرح مضامین کی آمد ہوتی اور آپ اسے نوٹ فرمالیتے یا کرادیتے۔ 

(۲)  ہر فن کی طرح تصوف کی بھی اپنی مخصوص اصطلاحات ہیں، جو لوگ بیان تصوف میں آنے والے الفاظ کو عام لغت سے یا دوسرے فنون کی اصطلاحات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ سخت غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ مسائل تصوف کو اس کی مخصوص اصطلاح میں سمجھا جائے۔ اسی طرح سے جس طرح ہر شاعر کی اپنی لفظیات اور اصطلاحات ہوتی ہیں اس مثنوی کے اندر شیخ کی بھی اپنی لفظیات اور اصطلاحات ہیں۔ بعض اشعار دوسرے اشعار کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔  اس لیے قاری وناقد کو چاہیے کہ تمام اشعار کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، شیخ کی صحیح مراد تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ خود ساختہ مفہوم متعین نہ کرے۔

(۳) حدیث پاک ہے: واضع العلم عند غیر اھلہ کمقلد الخنازیر الجوہر و اللؤلو و الذہب ’’نااہل کو علم سکھا نے والا ایسے ہی ہے جیسے خنزیر کے گلے میں ہیرے، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، کتاب الایمان و فضائل الصحابہ والعلم ، باب فضل العلماء والحث علیٰ طلب العلم،۱/۸۱، دارالفکر، بیروت)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here