خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

0
313
ہلال رمضان ۱۴۳۹ھ کی روداد الم اورچند قابل غور پہلو
۱۶ مئی ۲۰۱۸ء / ۲۹شعبان ۱۴۳۹ھ کو ایک رفیق کے ولیمے میں شرکت کے لیے فتح پور گیا ہوا تھا۔ ساڑھے تین گھنٹے تاخیر کے ساتھ ساڑھے دس بجے رات میں ہماری ٹرین سید سراواں اسٹیشن پر پہنچی۔ خانقاہ شریف میں داخل ہوتے ہی معلوم ہوا کہ حضرت صاحب سجادہ اندر تشریف لے جاچکے ہیں اور ساتھ ہی وہ یہ فرماگئے ہیں کہ ہم کل روزہ رکھیں گے۔ کسی نے بتایا کہ وہ مجھ سے بھی رابطہ چاہ رہے تھے، لیکن میرا فون آف تھا جس کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔ ہم نے احباب سے بات کی تو پتہ چلا کہ جنوب ہند میں متعدد مقامات پر چاند ہوا ہے۔ خیر سے چاند دیکھنے اور اعلان کرنے والےبیشتر حضرات سنی، رضوی، قادری، مصباحی اور ثقافی علما ہیں۔ بہت خوشی ہوئی۔ لیکن یہ سن کر جلد ہی یہ خوشی کافور ہوگئی کہ وہ چاند جنوب سے چل کر شمال میں پہنچتے ہی دیوبندیت قبول کرچکا ہے اور کسی قیمت پر کسی سنی بریلوی کے آنگن میں طلوع ہونے کو تیار نہیں ہے۔
فیس بک پر لفظوں کی جنگ چھڑ چکی تھی۔ دیوبندی مراکز سے دھڑا دھڑ چاند کی رویت کا اعلان ہورہا تھا اور وہیں بریلوی مراکز سے اسی شدت سے اس کی نفی اور تردید ہورہی تھی اور اس کے ساتھ ہی عام مسلمان قیل و قال اور بحث و جدال میں پوری تن دہی کے ساتھ سرگرم ہوگئے تھے۔ پہلی بار علامہ کا شعر سمجھ آیا:
تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئےہیں
خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
غور کرنے سے معلوم ہوا کہ علامہ سے تسامح ہوا ہے۔ پہلے مصرع میں تیغوں کی جگہ لفظوں زیادہ موزوں تھا۔ 
جنوب میں رویت ہلال کے اعلانات
  • مرکز اہل سنت، مسجد اعظم، چترا درگہ(کرناٹک) کے لیٹر ہیڈ پر حسب ذیل اعلان سامنے تھا:
آج مورخہ ۲۹ شعبان المعظم بروز بدھ ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۶ مئی ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب ماہ رمضان المبارک کے چاند کی شہر چترا درگہ میں عام رویت ہوئی ہے۔ اس فقیر رضوی محمد فاضل احمد مصباحی خطیب و امام مرکز اہل سنت مسجد اعظم چترا درگہ کے سامنے دو شرعی گواہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی ہے۔ لہٰذا ۱۷مئی بروز جمعرات ۲۰۱۸ء ماہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے۔
ایک مصباحی کا اعلان دیکھ کرایک دوسرے مصباحی کا مچل اٹھنا فطری تھا۔ لیکن پھر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جناب فاضل مصباحی نے اپنا رابطہ نمبر نہیں دیا تھا۔ 
  • چترا درگہ کرناٹک کا ہی ایک دوسرا اعلان سامنے تھا۔ یہ سلطانی جامع مسجد مرکز اہل سنت آثار محلہ چترا درگہ کے لیٹر ہیڈ پر تھا۔ یہ اعلان قاضی سید شمس الدین جیلانی (8105094564) کی طرف سے تھا۔ مزید اس پر حسب ذیل علما و ائمہ کے دستخط مع فون نمبر بھی تھے:
۱۔ محمد آدم رضا ثقافی، خطیب و امام: سلطانی جامع مسجد مرکز اہل سنت، چترا درگہ
۲۔ سید قاسم رضوی، امام: غوث اعظم مسجد چترا درگہ7259829115
۳۔ اعجاز رضا، فاطمہ مسجد، چترا درگہ
۴۔ غلام معین الدین رضوی، امام مدینہ مسجد، چترا درگہ 9972550614
  • جمعیت علماء چترا درگہ، مسجد نور کے لیٹر ہیڈ پر مولانا بشیر احمد بستوی (9945823771)، صدر جمعیۃ علماء، چترادرگہ، اور مولانا اعجاز اللہ قاسمی(9945205647) کی طرف سے حسب ذیل اعلان سامنے آیا:
2018/05/16-محترم حضرات! تمام مسلمانوں کو اس بات کی خوش خبری دی جاتی ہے کہ الحمد للہ!رمضان المبارک کا چاند صاف نظر آیاہے۔سارے شہر کی عوام اور علماء کرام نے بھی دیکھا ہے۔ شہرچترا درگہ کرناٹک سے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چاند صاف نظر آگیاہے۔الحمد للہ! 
رفیق گرامی مولانا غلام مصطفی ازہری اور مولانا مجیب الرحمن علیمی نے درج بالا نمبرات پر رابطہ کیا اور فی الفور ان اعلانات کی تصدیق کرلی۔ میں نے کہا کہ اگر چہ اللہ کے لیے روزہ رکھنے کی غرض سے مختلف مساجد ومراکز کےاتنے سارے علما وائمہ اجتماعی طور پر جھوٹ نہیں بولیں گے تاہم یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم پیشگی طور پر واقف نہیں ہیں۔ مزید اطمینان خاطر کے لیے کچھ ایسے حضرات سے بات کرلی جائے جن سے ہم واقف ہیں۔
  •  مولانا مجیب صاحب نے حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر صلاح الدین ازہری صاحب سے رابطہ کیا، جو مدراس کے چیف قاضی ہیں۔ ان کے دفتر سے معلوم ہوا کہ وہاں عام رویت ہوئی ہے۔ مسجد کے تمام نمازیوں نے چاند دیکھا ہے ۔ دوسرے دن قاضی صاحب نے بہ نفس نفیس اس بات کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیرالا میں بہت سے لوگ سعودی کے اعلان پر اعلان کر دیتے ہیں، لیکن میں حضور کی حدیث پر عمل کرتا ہوں ۔ صُومُوا لِرُویَتِہٖ وَاَفطِرُوا لِرُویَتِہٖ۔ڈاکٹر صلاح الدین ازہری صاحب کے لیٹر ہیڈ پر حسب ذیل بیان شائع ہوا:
Mufti Kazi Dr. Salahuddin Mohammed Ayub , Chief Kazi to Govt. of Tamil Nadu announced that the new moon of the month of Ramzan has been sighted on Wednesday. 16-05-2018 
  • مولانا مجیب صاحب نے بیجاپور کرناٹک کی معروف شخصیت مولانا سید تنویر ہاشمی صاحب سے بات کی ۔ انہوں نے فرمایا: آج تقریبا پورے جنوب میں تراویح ہوئی ۔ کل سے روزہ ہوگا۔ تمل ناڈو اور کرناٹک کے متعدد مقامات پر رویت ہوئی ہے اور میں نے استفاضہ کی بنیاد پر اعلان کر دیا ہے ۔
  • جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے صدر مفتی حضرت مفتی خلیل نظامی صاحب نے پریس کانفریس کی اور میڈیا کے سامنے رویت ہلال کا اعلان کیا۔ ۱۶ مئی کی رات میں بہت جلد یہ ویڈیو بھی عام ہو گئی، جس میں انہوں نے حسب ذیل اعلان کیا:
ملک کے بیشتر علاقوں میں مطلع ابر آلود تھا جس کی وجہ سے چاند کی اطلاعات میں تاخیر ہوئی، لیکن مدراس کے نواحی میں چاند نظر آیا ہے۔ نیلور میں چاند نظر آیا اور بعض دیگر علاقوں سے بھی چاندکے نظر آنے کی اطلاع ملی۔ اسی بنا پر شرعی شہادت کی تکمیل کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی یہ اعلان کرتی ہے کہ کل ۱۷ مئی کو جمعرات کے دن سے رمضان کا پہلا روزہ شروع ہوگا۔ آپ سب کو اس کی مبارک باد دی جاتی ہے ۔
دوسرے دن بھی متعدد لوگوں سے گفتگو ہوئی۔
  • ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی صاحب سے بات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں حیدرآباد میں دیوبندی، بریلوی ، نظامی، اہل حدیث، شیعہ سب لوگ روزہ سے ہیں۔ چاند کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میں نے خود مفتی خلیل صاحب سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تک خبر مستفیض پہنچی ہے، جس کی بنیاد پر ہم نے اعلان کیا ہے۔ علیم صاحب نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ شمال میں ہمارے علما رابطے نہیں کرتے۔ ان کے پاس کوئی شہادت لےکر نہیں آتا تو فوراً عدم رویت کا اعلان کر دیتے ہیں اور خود کو بری الذمہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حیرت ہے کہ یہ کام وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جو لوگ موبائل وغیرہ کو بھی خبر مستفیض کے لیے معتبر مانتے ہیں۔ 
  •  مولاناجاوید اخترمصباحی(گلبرگہ، کرناٹک)نے بتایا کہ کرناٹک کے اکثر مقامات پر رویت نہیں ہوئی۔ کرناٹک میں ایک جگہ ہے چترا درگہ وہاں ہوئی ہے۔ اننت پور، آندھرا پردیش میں رویت ہوئی ہے۔وہاں کے ائمہ و مصلیان نے چاند دیکھا اور ان لوگوں نے اپنے لیٹر ہیڈ پر اس کا اعلان کردیا۔ پہلے ہم لوگوں کو بتایا گیا کہ اعلان دیوبندیوں نے کیا ہے۔ پھر ہم نے وہاں اپنے سنی لوگوں سے رابطے کیے۔ ایک مولانا نعمان نعیمی ہیں ان سے رابطہ کیا۔ ان لوگوں نے حلفیہ بیان دیا کہ چاند ہوا ہے اور دیکھنے والے اور اعلان کرنے والے دیوبندی بھی ہیں اور سنی بھی۔ رائچور کے لوگ وہاں سے شہادت لائے۔ ہم لوگوں نے رائچوروالوں سے شہادت لی ۔باقی جامعہ نظامیہ، حیدرآباد والوں نے استفاضہ کی بنیاد پراعلان کیا اور یہاں گلبرگہ کی رویت ہلال کمیٹی نے جامعہ نظامیہ کے اعلان پر اعلان کردیا۔
  • مولانا مظفر حسین (رانی بنور، کرناٹک)نے بتایا کہ رانی بنور کے سو کلو میٹر کے فاصلہ پر چترادرگہ ہے ۔وہاں رویت ہوئی ہے۔ وہیں کی شہادت پر ہمارے اطراف میں سب لوگ روزہ سے ہیں ۔
ان کے علاوہ بھی اس وقت اور بعد میں بھی متعدد لوگوں سے گفتگو ہوئی اور ہمیں چاند دیکھنے والوں ، اعلان کرنے والوں اور روزہ رکھنے والوں کے متعدد بیانات سننے کے بعد بطور استفاضہ رویت ہلال کا یقین ہو گیا ۔ یہ ساری باتیں آڈیو کال سے ہوئیں۔ اگر ذرا سا مزید اہتمام کرتے تو ویڈیو کال بھی کر سکتے تھے، جس پر راقم کے نزدیک خبر مستفیض کی جگہ شہادت یا شہادت علی الشہادۃ کا اطلاق بھی ہو سکتا تھا ۔
شمال میں رویت ہلال کے اعلانات
اب شمال کے اعلانات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے :
  •  خانقاہ برکاتیہ مارہرہ کے سید سبطین حیدر برکاتی کے لیٹر ہیڈ پر مجلس شرعی ممبئی کی جانب سے حسب ذیل اعلان آیا:
چترادرگہ (کرناٹک) کے مندرجہ ذیل افراد سے رمضان کے چاند[کی] بابت شرعی ثبوت حاصل کیا گیا: 
۱ ۔مشتاق نجمی 7760155435
۲ ۔مولانا عبد الحلیم نجمی 9945527173
۳۔محمد فضل اللہ رضوی 9845960732
۴ ۔ فخرالدین شیخ 9980853658
۵ ۔مولانا آدم رضا 7019951422(سلطانی جامع مسجد ) 
مذکورہ حضرات سے شرعی ثبوت حاصل کرنے کے بعد مجلس شرعی اپنے سابقہ اعلان سے رجوع کرتے ہوئے یہ خلاصہ کرتے ہیں[کرتی ہے] کہ کل بروز ۱۷ مئی ۲۰۱۸ یکم رمضان ۱۴۳۹ ہے ۔
  •  دارالعلوم برکات خواجہ کے لیٹر ہیڈ پر مولانا محمد صابر مصباحی صدر مجلس قضاادارہ شرعیہ بھروچ گجرات کی طرف سے حسب ذیل بیان آیا:
۲۹ شعبان المعظم ۱۴۳۹ ھ مطابق ۱۶ مئی ۲۰۱۸ کی شام کو ایک رمضان ۱۴۳۹ کے چاند دیکھنے کا شرعی ثبوت بطور خبر استفاضہ حاصل ہوا۔ لہٰذا یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ایک رمضان ۱۴۳۹ھ ۱۷ مئی بروز جمعرات ہے۔ لہٰذا اسی اعلان کے مطابق عوام اہل سنت تراویح پڑھیں اور کل سے روزہ رکھیں۔ 
  •  مرکزی چاند کمیٹی لکھنؤسے مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا یہ اعلان آیا:
ملک کے مختلف حصوں سے رمضان المبارک کی رویت کی شرعی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس لیے مولانا خالد رشید فرنگی محلی صدر مرکزی چاند کمیٹی فرنگی محل کی جانب سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ مورخہ ۱۷ مئی ۲۰۱۸ کو رمضان کی پہلی تاریخ ہے۔
اس کے ساتھ ہی امارت شرعیہ بہار، رویت ہلال کمیٹی لدھیانہ پنجاب، دارالقضا امارت شرعیہ پٹنہ، امارت اہل حدیث پٹنہ، خانقاہ مجیبیہ پٹنہ اور اہل حدیث رویت ہلال کمیٹی دہلی کی جانب سے بھی ان کے لیٹر ہیڈ پر رویت ہلال کا اعلان آ گیا ۔ شمال میں رویت ہلال کا اعلان کرنے والے اداروں میں دو تین کے سوا سب غیر بریلوی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بریلوی حلقہ کے تقریباً چھوٹے بڑے تمام اداروں نے عدم رویت کا اعلان کیا اور ۱۷ مئی کو ۳۰ شعبان اور ۱۸ مئی کو یکم رمضان قرار دیا ۔
دیوبندی چاند کی مذمت 
اس کے بعد سوشل میڈیا پر لفظوں کی جنگ چھڑی اور باستثناء چند پورے شمال میں ۱۶ مئی کے چاند کو دیوبندی قرار دے دیا گیا اور رویت کو تسلیم کرنے والوں کو دیوبندی ، دیوبندی نواز یا شرعی امور میں متساہل قرار دے دیا گیا ۔
  •  ایک صاحب نے کہا کہ جن حضرات نے بلا شہادت شرعی اعلان کیا ہے، انہیں چاہیے کہ شہادت شرعی گزار لیں۔ بغیر شہادت شرعی کے اعلان کرناناجائز ہے ۔ 
  • ایک صاحب نے حکم جاری کیا: تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مد نظررکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ بھارتی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو آج دن بھر کے لیے آزاد کرتے ہوئے غیر مقلد وہابی دیوبندی کو آج دن بھر بھوکا رہنے کی سزا سناتی ہے ۔
  • احمدآباد گجرات کے اعلان رویت کو رد کرتے ہوئے ایک قاضی صاحب نے کہا کہ انجار، بھچائو، کچھ وغیرہ سے شہادت لی گئی ہے۔ وہاں چاند کئی علما نے دیکھا، بات درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ۳۰۰ کلومیٹر کا یہ فاصلہ ۲۰ منٹ میں طے کس نے کیا اور کیسے کیا،شہادت شرعی کیسے حاصل کی گئی ،جب کہ احمدآباد کے اطراف و اکناف میں چاند کی کوئی خبر نہیں؟چاند کمیٹی کا بھی یہی اعلان ہے کہ شہادت کچھ سے لی گئی۔ ظاہر سی بات ہے فون یا انٹر نیٹ سے شہادت لی گئی ہوگی۔ اگر فون یا انٹر نیٹ کی شہادت پر ہی رویت کا اعلان کرنا ہے تو انجار، بھچائو ،کچھ ہی کیوں؟ سعودیہ وغیرہ سے ایک دن پہلے ہی شہادت لے کر اعلان کردیں ۔
  • ایک صاحب نے اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: شمالی ہند میں عام رویت نہیں، جنوبی ہند میں چند جگہوں پر ہونے کی خبر صحیح ہے، لیکن وہاں کی رویت کے وہاں اعلان کی خبر پر یہاں اعلان عام ؟
  • ایک عزیز نے دریافت کیا: حضور! اگر دو گروہ ہوں اور ان میں سے ایک کا کہنا یہ ہو کہ چاند دیکھا ہے اور کہنے والا عادل و ضابط ہو، فاسق و فاجر نہ ہو اور دوسرے کا کہنا یہ ہو کہ نہیں دیکھا ہے اور وہ بھی عادل و ضابط ہو، فاسق و فاجر نہ ہو ،تو کیا عمل کرنے والے کو اختیار ہو گا کہ ان میں سے کسی ایک کی جانب جائے؟ مع الدلیل وضاحت فرمائیں، کیوں کہ میں نے روزہ رکھا جس کی وجہ سے لوگ پریشان کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آج یوم الشک ہے اور اس میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ دلیل دیتے ہیں: من صام یوم الشک فقد عصی اباالقاسم۔ وضاحت فرمائیں، کیوں کہ میں پریشان ہوں ۔
یہی وہ تحریر ہے جو میری اس تحریر کے لیے محرک بنی۔ سب سے پہلے اپنے عزیز کا مختصر جواب: 
اگر دونوں فریق عادل ہیں تو نفی کرنے والوں کی بات کالعدم ہے کیوں کہ نفی اور عدم کی شہادت نہیں ہوتی، شہادت ہمیشہ کسی شے کے ثبوت کی ہوتی ہے ۔اب اگر ایک طبقہ نے چاند دیکھا ہے یا اس تک رویت کا شرعی ثبوت پہنچا ہے اور وہ طبقہ عادل ہے تو اس کی بات سنی جائے گی، یہاں تک کہ جن عادل افراد نے چاند نہیں دیکھا، وہ بھی دوسرےطبقۂ عادل کی شہادت یا اس کی طرف سے ثبوت شرعی کے فراہم کیے جانے کے بعد اس کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوں گے، کیوں کہ روزہ رکھنے کے لیے ہر عادل کا چاند دیکھنا ضروری نہیں ۔
اب اس مسئلہ سے متعلق چند اہم نکات کی وضاحت !
یوم الشک کا روزہ 
شک کا دن آسمان سے نازل نہیں ہوتا۔ شک کا دن وہ دن ہے جس میں آپ کو شک ہو۔پھر اگر آپ کو شک ہے تو وہ دن آپ کے لیے یوم الشک ہوگا، نہ کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کے لیے۔ جن لوگوں کے نزدیک اس دن یکم رمضان کا یقین ہے ان کے لیے وہ دن یوم الیقین ہے اور ان کے لیے اس دن کا روزہ رکھنا فرض ہے۔ ہاں! ۳۰ شعبان کو مجازاً یوم الشک کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسی تاریخ کے سلسلے میں عموماً شک ہوتا ہے کہ کہیں یہ یکم رمضان تو نہیں؟ اب اگر ۳۰ شعبان کو کسی کو یقین ہے کہ آج ۳۰ شعبان ہے اور اس دن وہ نفل کا روزہ رکھتا ہے تو یہ مکروہ نہ ہوگا۔احناف کے نزدیک یوم الشک یعنی ۳۰ شعبان کو نفل روزہ رکھنا درست ہے۔ فقہ حنفی کی ظاہر الروایہ کی جامع ترین کتاب مبسوط میں امام سرخسی نے یوم الشک کے روزہ کے جواز پر حسب ذیل روایت پیش کی ہے :
(وَلَنَا) حَدِيثُ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ – رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا – أَنَّهُمَا كَانَا يَصُومَانِ يَوْمَ الشَّكِّ وَكَانَا يَقُولَانِ، لَأَنْ نَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إلَيْنَا مِنْ أَنْ نُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ۔
ہماری دلیل حضرت عائشہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا یہ عمل ہے کہ آپ حضرات یوم الشک کو روزہ رکھتے تھے اور فرماتے کہ ہم شعبان کا ایک روزہ رکھیں، یہ اس سے بہتر ہے کہ رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیں ۔
یہ روایت مَن صَامَ یَومَ الشَّکِّ فَقَد عَصَی أَبَا القَاسِم والےحضرت عمار بن یاسر کے اثر سے بظاہر متعارض ہے، اس لیے اما م سرخسی دونوں کے بیچ تطبیق پیدا کرتے ہوئے فرماتے ہیں :وَإِنَّمَا كَانَا يَصُومَانِ بِنِيَّةِ النَّفْلِ۔(حضرت عائشہ اور حضرت علی اس دن نفل کا روزہ رکھتے تھے۔) احناف کا یہی مذہب ہے کہ ۳۰ شعبان کو نفل کا روزہ رکھنا درست ہے۔ اسی طرح اگر اس دن یکم رمضان ہونا طے ہو جائے تو اس دن رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے۔ اس دن روزہ کی کراہت اس صورت میں ہے کہ آدمی شک میں ہو کہ آج ۳۰ شعبان ہے یا یکم رمضان؟ اور شک کے ساتھ روزہ رکھے کہ اگر شعبان ہوگا تو یہ روزہ نفل ہے اور رمضان ہوگا تو فرض ۔ بلکہ ۳۰ شعبان کے سلسلہ میں فقہانے ایک خاص حکم اس طرح لکھا ہے: 
اگر نہ تو اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا، نہ کئی روز پہلے سے روزے رکھےتو اب خاص لوگ روزہ رکھیں اور عوام نہ رکھیں، بلکہ عوام کے لیے یہ حکم ہے کہ ضحوۂ کبریٰ تک روزہ کے مثل رہیں۔ اگر اس وقت تک چاند کا ثبوت ہو جائے تو رمضان کے روزہ کی نیت کرلیں ورنہ کھا پی لیں۔ (بہار شریعت:۵/۹۷۲،مجلس المدینۃ العلمیہ، دعوت اسلامی)
اس مسئلہ سے ایک دوسرا مسئلہ نکلتا ہے۔ وہ یہ کہ یوم الشک یعنی ۳۰ شعبان کو عوام و خواص سب کو ضحوۂ کبریٰ تک انتظار کرنا چاہیے کہ شاید کہیں سے رویت کا ثبوت فراہم ہو جائے۔ یہ نہ ہو کہ عشاء کا وقت آتے آتے آپ Shutter گرادیں اور یہ حتمی اعلان کردیں کہ کل ۳۰ شعبان ہے۔کل روزہ نہیں ہوگا۔
حیرت ہے کہ جن دارالافتائوں میں جدید ذرائع ابلاغ یکسر معتبر نہیں، تکفیر و تضلیل اور عدم رویت ہلال کے سلسلہ میں وہ حضرات بھی جدید ذرائع ابلاغ کو معتبر مانتے ہیں اور دھڑلے سے ان پر اعلان کرتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے جری ہوتے ہیں کہ عشاء بعد اگر کوئی ہلال رمضان کی رویت تلاش کرتا ہے، انتظار کرتا ہے یا شہادت یا خبر مستفیض حاصل کرنے کی بات کرتا ہے تو اسے ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ بعض اس سے بھی جری ہوتے ہیں اور وہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ پتا نہیں گیارہ بجے رات میں چاند کہاں سے نکل گیا اور بعض اس سے بھی تجاوز کرتے ہوئے یہ کہہ جاتے ہیں کہ کل یوم الشک ہے اور اس کا روزہ حرام ہے اور کل جو بھی روزہ رکھے گا اس کا روزہ ناجائز ہوگا۔ اگر یہ فتویٰ ان تک محدود رہے جن تک رویت ثابت نہیں ہوئی ہے تو ایک حد تک قابل درگذرہو، مگر افسوس کہ اس کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جن تک رویت ہلال کا ثبوت شرعی طریقہ پر ہو چکا ہو ۔
کیا ۱۷ مئی کو یوم الشک تھا ؟
یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ چترا درگہ، چنئی، اننت پوراور کچھ میں رویت ہوئی ہے۔ ان کی بنیاد پرکرناٹک، تمل ناڈو ،آندھرا پردیش، گجرات اور جنوب کے اکثر علاقوں کے تمام مکاتب فکر کے قاضیوں نے فیصلے لیے۔ چاند دیکھنے والوں اور اعلان کرنے والوں کے نام و پتا اور فون نمبر موجود ہیں۔ ان میں سے متعدد سے ہم نے رابطے کیے، آپ بھی کر سکتے ہیں۔ انہی متعدد مقامات کے متعدد طرق سے ثابت ہونے والی خبروں کی بنیاد پر ہی پورے شمال میں تمام غیر بریلوی اور بعض بریلوی اور خانقاہی افراد بھی ۱۷ مئی کو روزہ سے رہے۔ کیا اس کے بعد اب بھی یہ سمجھنا درست ہے کہ ۱۷ مئی کو یوم الشک تھا۔ اگر اس دن کسی کے لیے شک تھا بھی تو وہ اب بآسانی اپنا شک دور کر سکتا ہے۔ ذرائع کثرت سے موجود ہیں۔ہاں! جسے شک میں جینا عزیز ہو، وہ مستثنیٰ ہے ۔
یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ آج سے چند سالوں قبل مفتی اختر رضا خان ازہری صاحب نے سعودی عرب میں بیٹھ کر سائوتھ افریقہ کے ایک شخص کے بیان کو بنیاد بنا کر ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں ایک روزہ قضا کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔ اگر سائوتھ افریقہ کی رویت معتبر ہے اور بعد میں ایک شخص کے ذریعہ اس رویت کی شہادت/خبر کو بنیاد بنا کر ہندوستانی مسلمانوں کو ایک روزہ قضا کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے تو کیا جنوب کے متعدد شہروں میں عام رویت کی خبر مستفیض کے بعد ایک روزہ قضا کرنے کا اعلان ہونا چاہیے ؟علامہ اختر رضا خان ازہری اور ان کے ہم نوا علما کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے ۔
بعض حضرات کو اصرار ہے کہ امسال ۲۹ شعبان والی رویت کی خبر اب تک خبر مستفیض نہیں بن سکی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اور خبر مستفیض کا ان کے نزدیک صحیح معیار کیا ہے؟ شمال کے عام علما نےاس مسئلہ کو دیوبندی بریلوی مسئلہ بنا دیا ہے۔ میں یہ بات بھی اب تک نہیں سمجھ سکا کیوںکہ جنوب میں چاند دیکھنے والے اور اس کا اعلان کرنے والے بیشتر افراد سنی، بریلوی، رضوی، نعیمی، ثقافی اور مصباحی علما ہیں۔ پھر اس مسئلہ کو کس بنیاد پر دیوبندیت سے جوڑا گیا، میں ہنوز سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہاں ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ کیا خبر مستفیض کو دیوبندیت یا کسی مسلک سے جوڑ کر دیکھنا درست ہے؟ عدالت کی جملہ شرائط صرف خبر واحد میں ملحوظ ہیں یا خبر متواتر ومستفیض میں بھی ؟اس بات پر بھی غور ہونا چاہیے کہ جب خبر رسول کے معاملے میں مخالف مسلک کی روایت یکسر مردود نہیں، توآخر خبر ہلال کے معاملے میں مخالف مسلک کی روایت کلیۃً مردود کیوں ہے؟
خبر مستفیض کیا ہے ؟
استاذ گرامی علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی، صدر شعبہ افتا، جامعہ اشرفیہ مبارک پور فرماتے ہیں :
ایک علاقہ یا مختلف دیار و امصار کے لوگوں نے کثرت سے چاند دیکھا اور اس بات کی تحقیق ہو کہ واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا یا چاند دیکھنے والوں سے براہ راست خود سنا اور وہ خبر عام و مشہور ہو جائے تو وہ خبر مستفیض ہو جاتی ہے اور خبر کی یہ شہرت استفاضہ کہلاتی ہے۔ مختصر یہ کہ استفاضہ میں چاند جن لوگوں نے دیکھ لیا اسی کی خبر دیتے ہیں کہ میں نے چاند دیکھا یا چاند دیکھنے والے فلاں معتبر شخص نے بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا تو چاند دیکھنے کی جو خبر ہے ،وہ سچی ہے، پکی ہے، تحقیق کے مطابق ہے، افواہ نہیں ہے- افواہ کو استفاضہ نہیں کہتے ہیں- اس کو افواہ کہتے ہیں اور ٹھکانے سے ثابت ہو جائے کہ واقعی جو آدمی بول رہا ہے، دیندار ہے تو کثیر لوگوں نے چاند دیکھا اور سب کی خبر سچی پکی ہو اور وہ پھیل جائے، عام ہو جائے تو وہ استفاضہ ہے۔ 
استفاضہ کا معنی ہے مشہور ہو جانا، پھیل جانا۔پھیلنے والی دو خبریں ہیں: (۱) خبر متواتر (۲) خبر مشہور۔ خبر مشہور کا درجہ متواتر سے تھوڑا سا نیچے ہے۔ متواتر میں بے شمار لوگ ہو جاتے ہیں اور مشہور میں لوگوں کی تعداد ذرا کم ہوتی ہے اورخبر مشہور کو ہی خبر استفاضہ اور خبر مستفیض کہا جاتا ہے۔
(موبائل سے استفاضہ خبر کب اور کیسے ص:۲۵/۲۶ جامعہ قادریہ پونہ مہاراشٹر ۲۰۱۷)
علامہ ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں:
خبر مستفیض میں فقہاء کے نزدیک کم از کم دو مخبر کا ہونا ضروری ہے اور علما ےاصول کے یہاں تین سے زاید افراد کا ہونا ضروری ہے،جب کہ محدثین کے یہاں کم ازکم تین افراد کا ہونا ضروری ہے۔ اس تفصیل سے استفاضہ اور تواتر کا فرق واضح ہو گیا ۔۔۔۔اسی وجہ سے فقہاء نے کہا ہے کہ استفاضہ میں یہ شرط ہے کہ خبر اتنی بڑی جماعت سے سنی جائے کہ دل میں ان کی صداقت جم جائے اور سب کے بالاتفاق جھوٹے ہونے کا خوف نہ رہ جائے۔ اس لیے اس میں فقط دو عادل سے سننا کافی نہیں ہے۔ خبر متواتر کی طرح ہی خبر مستفیض میں بھی گواہوں کا عادل آزاد اور مرد ہونا شرط نہیں ہے۔ (الفتاوی الفقہیہ الکبری ج:۲ ص: ۶۱)
موبائل سے خبر استفاضہ کا ثبوت
علامہ سید محمد مدنی میاں کچھوچھوی رقم طراز ہیں 
اس کی شکل یہ ہے کہ ایک شہر کا قاضی یا اس کا قائم مقام (مثلاً رویت ہلال کمیٹی ) دوسرے ثبوت والے شہر کے جانے پہچانے اتنے افراد جن کو متعدد کہا جا سکے، ہر ایک سے الگ الگ ٹیلی فون پر خبریں حاصل کرے، یہ ساری خبریں مل کر خبر مستفیض ہو جائے گی اور اس پر رویت ہلال کے ثبوت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور بلا تکلف عید وغیرہ کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ قاضی یا رویت ہلال کمیٹی کا دائرہ عمل جہاں تک ہے وہاں کے رہنے والوں کو اس پرعمل کرنا لازم ہوگا ۔
(فتوی شیخ الاسلام، مشمولہ: ٹیلی فون کے ذریعہ چاند کے شرعی ثبوت سے متعلق علماء اہل سنت کے فتوے، ص:۳،جامعہ اشرفیہ حسامیہ، پونہ) 
کیا ۱۷ مئی کا روزہ خبر مستفیض سے ثابت نہیں ؟
اس سال ۱۶ مئی ۲۰۱۸ ءمطابق ۲۹ شعبان ۱۴۳۹ھ کو جنوبی ہند کے متعدد شہروں میں ہلال رمضان کی عام رویت ہوئی جس کی بنیاد پر باستثناء چند پورا جنوب ۱۷ مئی سے روزہ سے ہے۔ شمالی ہند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تقریبا پورے غیر بریلوی حلقہ نے خبر مستفیض کی بنیاد پر ۱۶ مئی کی رویت کو ثابت مانا اور ۱۷ مئی کو یکم رمضان قرار دیا،جب کہ تقریباً تمام بریلوی علما نے اسے رد کر دیا، اسے افواہ، بے ثبوت شرعی، ثبوت شرعی میں تساہل، دیوبندیوں کی سٹہ بازی اور یوم الشک کا روزہ قرار دیا، بالخصوص خبر مستفیض کے پہلو کو یکسر مسترد کر دیا۔ 
۱۶ مئی کی رات گیارہ بجے آدھے گھنٹے کی کوشش سے متعدد چاند دیکھنے والوں سے گفتگو ہوئی اور متعدد طرق سے جنوب کے کئی ایک شہروں میں معتمد علما و مشائخ کی طرف سےاعلان رویت کی خبر ملی اور راست طور سے ان سے اس کی تصدیق بھی کی گئی، جس کے بعد اس کی صحت و شہرت پر راقم الحروف اور اس کے احباب کوکامل اطمینان ہو گیا۔ اپنے آپ میں یہ ممکن ہے کہ بعض اہل علم کو واقعی یہ خبر مستفیض نہ لگی ہو، لیکن عمومی صورت حال یہی تھی کہ شمال میں اس مسئلہ کو دیوبندیت اور بریلویت سے جوڑ کر دیکھا گیا۔
راقم السطور کو چونکہ اس خبر کے مستفیض ہونے کا یقین شرعی حاصل ہے، اس لیے راقم عرض گذار ہے کہ جن علما نے خبر مستفیض ہونے کا انکار کیا ہے، انہوں نے یا تو پوری کوشش نہیں کی ہے، جس طرح ہم نے فیس بک پر شائع رضوی ،بریلوی، مصباحی علماء اہل سنت سے رابطے کیے اور اس کے بعد جنوب کے ان علما و مشایخ سے رابطے کیے جن سے ہمارا یا ہمارے احباب کا پیشگی تعارف تھا۔ یا ممکن ہے کہ ان کے یہاں خبر مستفیض کی بعض ایسی شرطیں ہوں جو ہمیں معلوم نہ ہوں اور وہ شرطیں اس موقع پر پوری نہ ہوسکی ہیں۔ 
اب تک کے رابطے کے بعد راقم السطور کو جنوب کے متعدد مقامات سےرویت عام کا یقین شرعی حاصل ہے، جن میں چنئی (تمل ناڈو)، چترا درگہ(کرناٹک)، کچھ (گجرات) اور نیلور(آندھرا پردیش) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ذمہ دار معروف و معتبر شخصیات میں مفتی ڈاکٹر صلاح الدین ازہری چیف قاضی مدراس ، مفتی خلیل نظامی حیدرآباد ، سید تنویر ہاشمی بیجا پور کرناٹک، مفتی شبیر احمد صدیقی صدر گجرات چاند کمیٹی احمد آباد اور سید علیم اشرف جائسی حیدرآباد کے اسما قابل ذکر ہیں، جن سے اس خبر کی تائید و توثیق حاصل کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں درجن بھر چاند دیکھنے والے اور اعلان کرنے والے سنی بریلوی علما کے نام اور نمبر سابقہ سطور میں گزر چکے ۔جن حضرات کے نزدیک اب تک خبر مستفیض کا تحقق نہیں ہو سکا ہے، وہ مذکورہ حضرات سے رابطہ کرکے اپنے شکوک و شبہات کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے ذرائع کا بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اگر اس کے بعد بھی انہیں جنوب ہند میںرویت ہلال کا ظن غالب نہ ہو تو پھر ہم اپنے تبصرہ کا ہر لفظ محفوظ رکھیں گے ۔
کیا جنوب ہند کی رویت اہل شمال کے لیے حجت ہے ؟
متعدد علما اور متعلمین نے یہ بات بھی اٹھائی ہے کہ اگر بالفرض جنوب ہند میں رویت ہوئی بھی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ یہاں سے کافی دور ہے اور وہاں کا مطلع الگ ہے اور یہاں کاا لگ۔ جنوب ہند کی رویت کو شمال ہند میں معتبر ماننے والوں سے بعض حضرات نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پھر وہ سعودی کی رویت پرسعودی کے ساتھ رمضان و عید ین کیوں نہیں کرتے ؟
سوال یہ ہے کہ اگر کسی ایک مقام پر رویت ہلال ہو تو اس کا اعتبار کہاں تک کیا جا سکتا ہے ؟عقلی طور پر اس کی تین بنیادی صورتیں بنتی ہیں :
(۱) بلا تخصیص و استثنا،جہاں تک اس رویت کا شرعی ثبوت شرعی طریقہ سے پہنچ جائے وہاں تک وہ رویت معتبر ہوگی، یہاں تک کہ ایک رویت شرعی کا شرعی ثبوت اگر پوری دنیا کے مسلمانوں تک پہنچ جائے تو اس کی بنیاد پر پوری دنیا میں ایک ساتھ رمضان و عید ہو ۔
(۲)رویت ہلال کا اعتبار ملک کے اعتبار سے ہو کہ کسی ملک میں کسی ایک مقام پر بھی اگر رویت ثابت ہو جائے تو اس کی بنیاد پر اس پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان و عید کا اہتما م ہو۔
(۳) رویت کا اعتبار مطلع کے اعتبار سے ہو، چنانچہ جہاں سے مطلع تبدیل ہو جائے وہاں اس رویت کا اعتبار نہ ہو ۔لہٰذا اگر متعدد ممالک کا مطلع ایک ہو تو ایک جگہ کی رویت پران تمام ممالک میں معتبر سمجھی جائے اور اگر ایک ملک میں مختلف مطالع ہوں تو اختلاف مطالع کی بنیاد پر ایک ملک میں رویت کے ثبوت کے باوجوداسے پورے ملک کے لیے معتبر نہ سمجھا جائے۔ 
جو حضرات اس مسئلہ پر سوال اٹھا رہے ہیں، انہیں مذکورہ تین مواقف میں سے پہلے کسی ایک موقف کو متعین کر لینا چاہیے اور اسی کے مطابق ہر بار فیصلہ لینا چاہیے۔
حیرت ہے کہ بریلوی جماعت کے سب سے بڑے عالم علامہ مفتی اختر رضا خان ازہری نے چند سالوں قبل سائوتھ افریقہ کی رویت کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کو اپنا ایک روزہ قضا کرنے کا حکم دیا تھا ۔اس لیے بریلوی علما کو اس مسئلہ پر گفتگو کرتے وقت علامہ اختر رضا خان صاحب کی رائے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے ، اگر وہ اس سے اتفاق رکھتے ہیں تو ۔
قاضی گجرات کا بیان
گجرات چاند کمیٹی کے صدر مفتی شبیر احمد صدیقی (احمد آباد)نے ۱۸ مئی۲۰۱۸ءکو بعد نماز جمعہ پریس کانفرنس بلائی اور پریس کے سامنے حسب ذیل تفصیلی اور دو ٹوک بیان دیا:
دیکھیے!سال کے ۱۲ مہینے ہوتے ہیںاور ہر مہینے ہمارے گجرات چاند کمیٹی کے ذمہ دار ممبران کسی عذر کی وجہ سے نہ آئیں تو نہ آئیں، لیکن آتے ہیں اور اللہ کے فضل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ اور گجرات چاند کمیٹی جو فیصلہ کرتی ہے، میں آپ کو کہوں گا کہ ہندوستان کے علاوہ بیرون ممالک؛ ساوتھ افریقہ ، لندن،کویت، دبئی، وہاں سے بھی ہمارے پاس فون آتا ہے، یہ کہہ کر کہ گجرات چاند کمیٹی کے فیصلے پرہم کو اعتمادہے۔اور اللہ کا فضل ہے میں گجرات کے تمامی مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ گجرات چاند کمیٹی کے اعلان پر وہ ہر سال عمل کرتے ہیں۔
اس سال رمضان کے موقع پر کچھ بھوج کے اندر ایک دو نہیں، بہت سے لوگوں نے اور بہت سے گاؤں میں مثلابھچائو، رافر، انجار ،کنڈلا ،گاندھی دھام اور خود کچھ، بھوج کے اندر بے شمار لوگوں نے چاند دیکھا اور ہماری گجرات چاند کمیٹی کی شاخ وہاں ہے۔ سارے ممبران اس میں ہمارے ہیں اور سب اللہ کے فضل سے عالم، سادات کرام، نمازی،پرہیزگار ، متقی ہیں۔ ان لوگوں نے چاند دیکھا اور ان لوگوں نے شہادتیں لیں۔ جب ان کی طرف سے اعلان ہوا تو ہم نے یہاں اعلان کیا ۔جب تسلی ہو گئی ۔ چوںکہ ہمارے سامنے علمائے کرام کے فتاوی ہیں۔ ہندوستان کے بہت سارے علمائے کرام کے فتاوے ہیں۔
میں نے جیساکہ تقریر میں بیان کیا ، اب میڈیا کے پاس تقریر تو نہیں کر سکتا لیکن آپ لوگ یہ سمجھ لیجیے کہ چاند کے ثبوت کے لیے یہاں تک کہ توپ کی آواز، بندوق کی آواز ،ڈھول کی آواز،نقارہ کی آواز ثابت کر سکتی ہے۔ تو آپ حضرات غور کیجیے کہ جب ڈھول، توپ کی آوز سے چاند کا اعلان ہو سکتا ہے تو اس ٹیکنالوجی کے دور میں موبائل اور ٹی۔وی۔ سے کیوں نہیں ہو سکتا؟ اعلان کے یہ سب ذرائع ہیں اور مفتی نظام الدین صاحب نے فتاوی مرکز تربیت افتا جلد اول میں یا جلد دوم میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ قاضی شرع موبائل کے ذریعہ اپنے حدود میں چاند کا اعلان کر سکتا ہے۔
میری حد جو ہے بفضلہ تعالی گجرات چاند کمیٹی کی[حد] پورا گجرات ہے۔ لہٰذا گجرات چاند کمیٹی کو حق ہے کہ ہم اعلان کریں۔
۔۔۔۔دیکھیے! کچھ بھوج سے یہ دونوں گواہ میرے پاس آکر رکے ہوئے ہیں کئی دن سے ، اور ان شاء اللہ آج رات ان کو واپس کروں گا۔ میں ان کو چھپا کر رکھے ہوئے تھا کہ احمدآباد کے چند مولویوں نے جو فتنہ مچایا ہے، وہ سراسر شریعت کے خلاف ہے۔
لہٰذا میں اعلان کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے- چاہے وہ سورت کی چاند کمیٹی ہو یا بڑودہ کے ہوں یا جہاں کہیں کے ہوں، گجرات سے ہم کو مطلب ہے – رات سے ہی یہ اعلان کیا ہے کہ آپ لوگ کل روزہ نہ رکھیں ، یہ اعلان کرنا ، ان کا ، شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے ۔بہار شریعت جو دعوت اسلامی سے چھپی ہے ، اس میں یہ سب مولوی دیکھیں کہ ۳۰ شعبان کے روزہ کے بارے میں کیا حکم ہے اور برائے مہربانی سیدھے سادھے مسلمانوں کو گمراہ نہ کریں ،برباد نہ کریں۔ شہر میں چند فتنہ خور مولویوں نے جو رات میں مسجدوں کے اندر اعلان کیا ہے، ان تک بھی آپ لوگ جاکر گواہی دیں اور آج کی رات اگر وہ لوگ روزہ قضا کا اعلان نہ کریںتو میں تو کہوں گا ،شہر کے لوگوں سے، ایسے امام کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔
صداے دل 
پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہے، جس میں تمام مسالک کے علما شریک ہیں۔ اس کی صوبائی اور علاقائی کمیٹیاں ہیں۔اگر کوئی کہیں سے چاند دیکھتا ہے تو اس کی شہادت وہاں کا ذمہ دار لیتا ہے اور وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو اس سے مطلع کرتا ہے۔ پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا صدر ٹیلی ویژن پر اعلان کرتا ہے جس کے بعد پورے پاکستان میں ایک ساتھ رمضان یا عید کا اہتمام ہوتا ہے۔
ہندوستان میں قضا کا کوئی ایسا نظام نہیں ہے۔ ہر مسلک کا الگ قضا، پھر ہر مسلک کے تین تین چار چار قاضی، ہر مدرسے اور مسجد اور خانقاہ کا اپنا الگ نظام۔ ہر گروپ کے نزدیک ثبوت رویت ہلال کے جداگانہ معیارات۔بعض بڑے بڑےقاضی اکیلے ہوتے ہیں، ان کا کوئی معاون نہیں ہوتا۔ 
ان اسباب کے پیش نظررویت کے معاملے میں ہندوستان میں اختلاف رائے ہونا فطری ہے۔اب کرنے کا کام یہ ہے کہ ہندوستانی علما بھی پاکستان اور مصر جیسے اسلامی ممالک کےپیٹرن کو اپنانے کی کوشش کریں اور جب تک یہ کام نہ ہوسکے تب تک رویت کے معاملے میں اختلاف رائے کو برداشت کریں۔ہر حلقے کے افراد اپنے معتمد علما کے فیصلے پر عمل کریں، لیکن کوئی کسی کے خلاف طعن وتشنیع اور طنز وتعریض نہ کرے۔ جس تک رویت کا شرعی ثبوت پہنچے وہ رویت کا اعلان کرے اور جس تک نہ پہنچے یا اس کے معیار پر نہ پہنچے ، وہ اعلان نہ کرے۔ان میں کا کوئی شخص بھی اپنی رائے اور تحقیق کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش نہ کرے۔
خلاصہ گفتگو
  •  اس سال ہلال رمضان کی رویت پر شمال ہند کے مسلمانوں کا مختلف الرائے ہونا اور اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لفظوں کا تیرو نشتر چلانا افسوس ناک ہے۔
  •  جو علما ٹیلی فون اور موبائل کو سرے سے معتبر ہی نہیں سمجھتے انہیں حق ہے کہ اپنے موقف پر عمل کریں ۔
  •  جو علما استفاضہ کے باب میںموبائل اور ٹیلی فون کو معتبر سمجھتے ہیں انہیں چاہیےکہ ان ذرائع کا سنجیدہ اور بہتر استعمال کرکے استفاضۂ خبر تک پہنچیں اور اگر کوشش کے بعد بھی انہیں اس خبر کے مستفیض ہونے کا یقین شرعی حاصل نہ ہو تو انہیں بھی حق ہے کہ اپنے مطابق ۳۰ شعبان مکمل کریں۔ اور اگر تحقیق کے بعد ۲۹ شعبان کی رویت بطور شہادت یا استفاضہ ان کے نزدیک ثابت ہوجائے تو وہ ایک روزہ کے قضا کا اعلان کریں۔
  •  اس بات کا حق کسی کو نہیں پہنچتا کہ دوسرے پر تبرا کرےیا اپنی تحقیق و رائے پر دوسرے کو مجبور کرے۔ استفاضہ کے باب میں ٹیلی فون اور موبائل کو معتبر سمجھنے والے اور ان ذرائع سے استفاضہ کے تعلق سے اطمینان حاصل کرنے والے علما اور مشائخ پر کسی طرح کا تبرا درست نہیں۔
  •  یہ امت کے زوال و ادبار کا لمحہ ہے۔ اس لمحہ میں ہم کوشش کریں کہ رمضان و عیدین جیسے اجتماعی مواقع پر وحدت امت کا مظاہرہ ہو، لیکن بالفرض اگر دلائل و شواہد کے اختلاف کے سبب یہ وحدت قائم نہ بھی ہو سکے تو کم سے کم یہ تو ضرور کریں کہ ہر شخص اپنی اور اپنے حلقہ کی تحقیق کے مطابق عمل کرے۔ البتہ ایک دوسرے کے خلاف کردار کشی، سب و شتم ، طنز و تعریض اور اس سے آگے بڑھ کر تجہیل، تحمیق، تضلیل اور تکفیر تک نہ پہنچے۔ 
  •  یہ امت پہلے سے ہی زخموں سےچور ہے۔ اگر ہم اس کے زخموں پر کوئی مرہم نہیں رکھ سکتے تو یہ احسان تو ضرور کریں کہ مزید اسے کوئی تازہ زخم نہ دیں۔
  •  علما علمی رویہ اختیار کریں، صلحا صلاح و تقویٰ کے خوگر بنیں اور عوام عمل و اخلاق کی طرف مائل ہوں۔ جہالت و فساد کو اپنا شیوہ بنانا امت محمدیہ کے حق میں جائز ہے نہ مفید ۔
بار الٰہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور باطل کو باطل اور متعصبانہ گروہ بندیوں اور تفرقہ بازیوں سے نجات دے۔ اللہم آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلاۃ واکرم التسلیم !
Previous articleمشترک امور کی بنیادوں پر تمام ہندوستانیوں کا اتحاد ممکن
Next articleطلوع صبح نو
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here