خلق خداکی مدد کیسے ہو؟

خلق خداکی مددکرنا،حاجت روائی اورمشکل کشائی کرنادین اسلام کی وہ پاکیزہ تعلیم ہےجس پرپیغمبر اسلام ﷺاور آپ کے جاںنثار صحابہ پوری زندگی نہ صرف عمل پیراں رہے بلکہ اپنے متبعین وپیروکار کواس کادرس بھی دیاہے۔باہمی تعاون اورآپسی نصرت واعانت کے ذریعہ انھوں نے محبت وعقیدت کاایسا گلشن آباد کیاجس کی شادابیاںآج بھی محسوس کی جارہی ہیں اسی محبت الفت کانتیجہ تھاکہ بےشمار کفار ومشرکین اسلام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔
مذہب اسلام نےصرف مال ودولت اورروپے پیسے ہی کےذریعے تعاون کاحکم نہیںدیاہےبلکہ علم وفکر، تعلیم وہنر،سیادت وقیادت اورسماجی ورفاہی ہرموڑ پرامداد واعانت کی تلقین کی ہے۔یعنی اسلام میں مدد کامطلوب و مقصود صر ف یہ نہیں ہےکہ کسی کی غربت افلاس دور کردی جائےیاکسی مقروض کوبار قرض سےسبک دوش کردیاجائے بلکہ جاہلوں کوزیور علم سےآراستہ کرنا،فکری اور اعتقادی کجی کوخوش عقیدگی میں تبدیل کردینا، بد اخلاق کو اخلاقی اقدار سے لیس کرنا اورارباب حکومت کی سیادت وقیادت کاپاس ولحاظ رکھنابھی اسلام کےنظریہ تعاون کاایک اٹوٹ حصہ ہے۔ ہم ذیل میں اس اجمال کی تفصیل کررہے ہیں:
مالی مدد : سیرت نبوی کےمطالعے سےمعلوم ہوتاہےکہ نبی اکرم ﷺنے ایسے تمام لوگوں کی ذمہ داری اپنےسرلےرکھی تھی جوقرض کی حالت میں انتقال کرجاتے اوراپنےپیچھے بیوی اوریتیم بچے چھوڑ جاتے ۔جیساکہ حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقاعلیہ التحیۃوالثنانےارشاد فرمایا:فمن توفی من المومنین فترک دَینافعلی قضاءہ ومن ترک مالافلورثتہ
(صحیح بخاری، کتاب النفقات ،باب قول النبی ﷺمن ترک کلا او ضیاعافالی،ص:۱۱۱۱،مکتبہ القدس )
یعنی جوتم میں انتقال کرجائےاور اپنےپیچھے مال چھوڑجائے تووہ اس کےوارث کاہےاورجوقرض ،بیوہ اوریتیم چھوڑے وہ سب میرے ذمے ہے۔یعنی قرض کی ادائیگی اوربیوہ ویتیم کی کفالت کی ذمہ دار ی میںاداکروںگا۔
تعلیمی مدد:
انبیاومرسلین کی بعثت کےجہاں دیگر مقاصد ہیںانھیںمیں ایک اہم مقصدعلمی تعاون بھی شامل ہے۔ جیساکہ قرآن کریم میں ہے: کَمَا أَرْسَلْنَا فِيکُمْ‌ رَسُولاً مِنْکُمْ‌ يَتْلُو عَلَيْکُمْ‌ آيَاتِنَا وَ يُزَکِّيکُمْ‌ وَ يُعَلِّمُکُمُ‌ الْکِتَابَ‌ وَ الْحِکْمَةَ وَ يُعَلِّمُکُمْ‌ مَا لَمْ‌ تَکُونُوا تَعْلَمُونَ‌ (سورہ بقرہ 151)یعنی ہم نے تمھارے درمیان تمہی میںسےاپنارسول بھیجاجوتمھارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اورتمھارے قلب ونفس کوپاک وصاف کرتے ہیں اور تمھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتےہیں اوروہ چیز سکھاتے ہیں جوتمھیں نہیں معلوم ۔
ان آیات کےبغورمطالعے سےپتہ چلتاہےکہ منصب نبوت کےپانچ فرائض ہیں :تلاوت آیات،تزکیہ نفس،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت اورابلاغ علم ۔ ان پانچ میں سےچار براہ راست علم سےمتعلق ہیں رہاتزکیہ نفس تووہ بھی علم ہی کی ایک خاص قسم ہےجسے علم تزکیہ وتصفیہ یااصطلاحاتصوف کہاجاتاہے۔ لہذا معلوم ہواکہ بعثت نبوی کاخاص مقصدبےعلموں کوعالم بنانا،ان پڑھ کوتعلیم دینااورتعلیم یافتہ حضرات کومزید علمی تعاون فراہم کرتےہوئے چشمہ حکمت سےسیراب کرنا ہے۔
رفاہی تعاون : کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت کام آنایامعاشرت کی اجتماعی ضرورتوں اورسہولتوں کوفراہم کرنے کی کوشش کرناچاہے وہ کوشش مال کےذریعے ہویاخدمت ومحنت کےذریعے یہ سب رفاہی تعاون کےزمرے میں آتاہے ۔پیغمبر اسلام ﷺ اورآپ کےاصحاب واقارب کی زندگی رفاہی کاموں سےعبارت ہے۔چناںچہ بہت سی احادیث موجود ہیں جن میںرفاہی کام کرنے کاحکم ملتاہے :حضرت ابوذررضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انھوں نےنبی اکرم ﷺسےدریافت کیا : ای الاعمال افضل ؟کون ساعمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانااوراس کی راہ میں جہاد کرنا۔پھر عرض کیا:کون ساغلام آزاد کرنابہترہے؟آپ نےفرمایا: جومالکوں کےنزدیک زیادہ قیمتی اورعمدہ ہو۔ میں نےکہااگر ایسانہ کرسکوں ؟ توآپ نےفرمایا: کسی کاریگر کی مددکردو یابےہنر کاکام کردو۔(صحیح بخاری ،کتاب العتق ،باب ،ای الرقاق افضل ؟ص:۵۰۵ حدیث نمبر۲۵۱۸،مکتبہ القدس)
دوسر ی روایت حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ہے وہ حضوراکرم ﷺسےروایت کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا:ہرمسلمان پرصدقہ کرنالازم ہےلوگوں نےکہا اگر اس کی طاقت نہ ہوتو؟آپ نےفرمایاکہ : اپنے ہاتھ سےمحنت کرکے دوسروں کوفائدہ پہنچائے اورخیرات بھی کرے۔ عرض کیاگیااگراس کی بھی طاقت نہ ہوتو؟فرمایا:پریشان،مفلوک الحال اورضرورت مندوں کی مددکرے۔(صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ،باب ان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف ،ص:۳۴۶،حدیث نمبر، ۱۰۰۸،مکتبہ القدس )
ان احادیث سے معلوم ہواکہ کسی کی ضرورتیں پوری کردینا،اس کی حاجت روائی کرنا،بے ہنر اوربےکسوں کےکام آناسب سے بہتر عمل ہے۔اسی طرح اپنی ذات سے دوسروں کوفائدہ پہنچاناایساحسن عمل ہے جس پر صدقے کاثواب مرتب ہوتاہے۔
اخلاقی مد د: اخلاق دراصل زندگی کےطریقے ،سلیقےاورقرینے کانام ہےیہی اخلاقیات کاحقیقی موضوع ہےہر انسان زندگی کےنشیب وفرازسےواقف نہیں ہوتا،سلیقہ زندگی اورقرینہ زندگی کاہر کسی کوشعور نہیںہوتا اس لئے ان امور میںدوسروں کی تربیت کرنا،طرز حیات سکھانا،انھیں بااخلاق بنانااو رطریقہ معاشرت سے آگاہ کرنایہ سب اخلاقی تعاون کےانمول جوہر ہیںجس کی سیکڑوں مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں۔ تاہم قرآن کی ایک آیت پر ہی ہم اکتفاکرتے ہیں ۔ اللہ ر ب العز ت نے ہمیں سماجی ،معاشرتی اوراخلاقی زندگی کی بہاریں حاصل کرنے لئے سیرت پیغمبر کوسامنے رکھ دیااورحکم فرمایا:لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ(احزاب21) یعنی رسول اللہ کی سیرت تمھارے لیےنمونہ عمل ہے۔اگر تم آداب زندگی اورقرینہ حیات چاہتے ہوتوانھیں کی سیرت وکردار کوحرز جاں بنالو۔ اس آیت کےذریعے اللہ رب العزت نے پور ی انسانیت کواخلاقی تعاون کی اپیل کی ہے۔
یہ تواسلامی تعلیمات میں موجود مالی ،علمی ،رفاہی اوراخلاقی تعاون کی قدرےوضاحت ہوئی، قرآن کریم نےتوایک مقام پر اس مفہوم میں مزید وسعت دی ہے اورہرفلاحی اورنیکی کےکاموںمیں لوگوں کےساتھ وسیع پیمانےپر تعاون کرنے کی اپیل کی ہے : ارشاد باری تعالی ہے : وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى(سورۃ المائدہ2) نیکی اوربھلائی کےکاموں میں ایک دوسر ےکی مددکرو۔اسی سے مذہب اسلام کےنظریہ تعاون کی اہمیت وافادیت سمجھ میں آتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ مشائخ صوفیاخلق خداکی نصرت واعانت پر خصوصی توجہ دیتے تھےاوراسے معمولات زندگی کاایک اہم حصہ قراردیتے تھے بلکہ اس حوالے سے تومشائخ چشت کایہ نظریہ تھاکہ:
تصوف بہ جزخدمت خلق نیست
یعنی بندگان خداکوحمایت وسہارادینااورہر امور خیر میں ان کی مدد کرناہی دراصل تصوف وطریقت ہے۔لیکن افسوس یہ عنوان جس قدر اہمیت وافادیت کاحامل ہے آج اسی قدر اس سےبے اعتنائی برتی جارہی ہےنہ صرف عدم توجہی ہےبلکہ ایک انسان دوسر ےانسان کےخون کاپیاسانظرآرہاہے خلق خدادرد وکرب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے،انسانوں کی لاشوں پر محل تعمیر کئےجانے کاایک تسلسل ہے۔اس لئےایسے پرآشوب دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے نظریہ تعاون کو اپنائیں اور صوفیاومشائخ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے ہر مخلوق کےساتھ روادار ی کےجذبےکوعام کریں۔

ساجد الرحمن شبر مصباحی
استاد : جامعہ عارفیہ سیدسراواں شریف الہ آباد ،یوپی

Previous articleاگر عقیدہ اچھا ہے تو حسن عمل سے اس کا اظہار بھی ہونا چاہیے: مفتی محمد کتاب الدین رضوی
Next articleدعوت اور عام زندگی
ساجد الرحمٰن شبر مصباحی
صوبہ بہار کےخطہ متھلانچل میں واقع شہرسمستی پور کئی خوبیوں کا حامل ہے اس سر زمین کے افق سے متعدد ارباب علم و دانش کو طلوع ہوئے جن میں ایک جواں سال خطیب ، اسکالر، بےباک قلم کار حضرت مولانا مفتی ساجد الرحمن شبر مصباحی کی ذات بھی ہے۔ آپ ۴ ،فروری ۱۹۹۳ء کوپیداہوئے ۔ اور ابتدائی علوم علاقائی مکاتب و مدارس میں حاصل کرنے کے بعد ۲۰۱۰ء میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں داخل ہوئے اور یہیں آپ نے مولویت، عالمیت، فضیلت، قرات حفص، تخصص فی الحدیث اور مشق افتا کی تکمیل کی ۔۲۰۱۷ء میں آپ نے الدبلوم العالي في الدعوۃ و العلوم الإسلامیہ (جامعہ عارفیہ سید سراواں الہ آباد) کا کورس مکمل کیا۔اس درمیان آ پ عصری علوم کی طرف بھی راغب رہے اور کاشی انٹر کالج اعظم گڑھ سےانٹرEnter کی تعلیم حاصل کی اور شبلی نیشنل کالج سے بی۔ ائےB.A. کی ڈگری حاصل کی۔ اس کےساتھ آپ لکھنؤ بورڈ سے منشی، مولوی، عالم، کامل، فاضل ادب،عربی اور بہار مدرسہ بورڈ سے وسطانیہ فوقانیہ اور مولوی کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے ۔آپ نے دور طالب علمی ہی سے تحریر و تقریر اور تحقیق وتالیف میں قدم جماناشروع کیا اور اس میدان میں ایک کامیاب شہسوار کی طرح جانب منزل رواں دواں ہیں، آپ کے متعدد مضامین و مقالات مختلف رسائل و جرائدمیں شائع ہو چکے ہیں۔ سمستی پور کےتاریخی پس منظر پرآپ کی کتاب بنام ’’تذکرہ اسلاف‘‘ اہل علم سےخراج تحسین حاصل کرچکی ہے۔ آپ حرا فاونڈیشن سمستی پور کےبانی وصدر اور تنظیم علمائےاہل سنت وائمہ مساجد سمستی پور کےترجمان بھی ہیں اورفی الحال جامعہ عارفیہ سید سراواں الہ آباد میں تدریسی فرائض پر مامور ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here