خالق سے بندے کا رشتہ کیسے مضبوط ہو؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

اللہ تعالیٰ کا بڑاکرم ہے کہ اس نے ہمیں عقل وشعور دیا اور اچھے بُرے کے درمیان تمیز کرنے کا سلیقہ عطاکیا تاکہ ہم اللہ کی رضاحاصل کرسکیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اللہ کی ذات پر سچے دل سے ایمان لائیں کہ اللہ کی ذات یکتاہے ،وہی تنہاعبادت کے لائق ہے اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے،ہم اپناسراُسی کے آگے جھکائیں اور ہر حال میں اُسی کی طاعت وعبادت کریں،اس کے علاوہ نہ کسی کی عبادت کریں اور نہ اُس کے حکم کے خلاف کسی کاحکم مانیں، تبھی جاکر اللہ سے ہمارا رشتہ اورتعلق مضبوط ہوسکے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۝۲۸۵ (سورۂ بقرہ)
ترجمہ:رسول اس پر ایمان لائے جو اُن کے رب کی طرف سے نازل ہوا،اورمومن بھی اللہ اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں سب پرایمان لائے۔

اس آیت میں ایمان کے چار درجے بتائے گئے ہیں:
۱۔اللہ تعالیٰ کی ذات ،اس کے اسمااورصفات پر ایمان لانا:یہ اس طورپرہوکہ اللہ ایک ہے، یکتاہے اورذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں،وہ ہر شئے کا جاننے والا ہے اور ہر شئے جس کا وہ ارادہ کرے اس پر قدرت رکھنے والا ہے اور کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور علم سے باہر نہیں ہے۔
۲۔ فرشتوں پر ایمان لانا:یہ اس طورپر ہوکہ فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں،وہ ایک ذرہ بھی اللہ کے حکم کے خلاف نہیں کرتے،بلکہ وہ معصوم ہیں اورہرنافرمانی سے پاک ہیں، نیز اللہ اور انبیاومرسلین کے درمیان احکام وپیام کا ذریعہ ہیں۔

۳۔اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانا:یہ اس طور پر ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں اپنے رسولوںاورنبیوں پر نازل کیں وہ سب بلاشبہ برحق ہیں اور قرآن کریم جیساکہ پہلے دن نازل ہوا تھا ویسا ہی آج بھی ہے اور کسی بھی طرح کے ردّوبدل سے قیامت تک پاک رہے گا۔

۴۔رسولوں پرایمان لانا:یہ اس طورپر ہوکہ وہ اللہ کے بندے اور سچے رسول ہیں اورہر نافرمانی سے پاک اورمعصوم ہیں ،جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف ہدایت کے لیے بھیجاہے، وہ تمام مخلوقات سے افضل ہیں اور ان میں بعض انبیاو رسل بھی بعض سے افضل ہیں۔
ہماری ظاہری اور باطنی زندگی میں ان تمام چیزوں پر ایمان لانا اسی قدرضروری ہے جس قدر زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی ہی زندگی کا اصل مقصدہے ، کیوں کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ایک بندہ اپنے معبودکی معرفت حاصل کرتا ہے اور دنیاوآخرت میں فلاح وکامرانی پاتاہے،چنانچہ دنیا میں جتنے بھی انبیاومرسلین تشریف لائے سبھوں نے اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اس کی عبادت وبندگی پر ہمیشہ زوردیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِی إِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ۝۲۵ (سورۂ انبیا)
ترجمہ:ہم نے تم سے پہلے کسی رسول کو نہ بھیجامگراس وحی کے ساتھ کہ میرے سوا کوئی معبودنہیں پس میری ہی عبادت کرو۔

اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے دلی لگاؤ اور ربط وتعلق کو ایک اللہ کے لیے خاص کردے ، اسی کو اپنا سب کچھ جانے اور اسی کی بارگاہ سے اپنی ہر حاجت پوری ہونے کی امید رکھے اور دل ودماغ میں صرف اسی کی عظمت وبڑائی کا سکہ جمائے رہے،غیر اللہ کا خیال ہر گز ہرگز نہ آنے دے، زندگی کا کوئی بھی لمحہ اللہ تعالیٰ کی یادسے غافل نہ رہے۔ اور یہ کیفیت و حالت ایک مومن کے اندر اُسی وقت پیدا ہوسکتی ہے جب اُس کے دل اوردماغ پر یہ چھاجائے کہ حقیقت میں تمام طرح کی عظمت وکبریائی اور حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کے سوا کوئی شئے توجہ کے قابل نہیں، گویا زندگی کے ہر شعبے میں اللہ ہی اللہ پیش نظر رہے۔

اب اگر کوئی مسلمان چاہتا ہے کہ اس کا تعلق حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ جڑارہے تو وہ اس صفت سے آراستہ ہو جائے جوایک مومن کی شان اورسچے ایمان کی علامت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللّٰہِ أَنْدَادًا یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ۝۱۶۵(سورۂ بقرہ)
ترجمہ:کچھ لوگ اللہ کے سوا دوسرے کو معبودبنالیتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرح محبوب رکھتے ہیں جب کہ مومنوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت سے زیادہ کسی کی محبت نہیں۔

جب انسان کے دل میں اس قدرمحبت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ ساری چیزوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے لگتا ہے تو وہ اپنا سب کچھ بھلادیتاہے ،نہ اُسے اپنے مال کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی اپنی زندگی اور جان کاہوش،کیوں کہ وہ محبوب پر اپناسب کچھ قربان کردینے کو ہی اپنے لیے فخرسمجھتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ سے رشتہ اور تعلق جوڑنا آسان کام تو نہیں ہے لیکن جس پر فضل الٰہی ہوجائے اس کے لیے کوئی مشکل بات بھی نہیں،مگر ہاں!اس کے لیے ایمانی افکاراور اچھے اعمال کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
ایمانی افکارکی صورتیں ہیں:
۱۔ بندہ غوروفکر سے کام لے اور کائنات کے ہر ذرّے اور چیزمیں خواہ پوشیدہ نشانیاں ہوں یا ظاہر ،ان سب کے بارے میں سوچے اور سمجھے،یہاں تک کہ وہ غوروفکرکے سبب اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرلے یا پھر ایک ذمے دار کی حیثیت سے وہ اپنے انجام کے لیے فکرمند ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِی خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار۝۱۹۱(سورۂ آل عمران) ترجمہ:آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غورکرتے ہیں،یا اللہ ! تونے یہ بیکارنہ بنایا،تیری ذات ہر نقص اورہر عیب سے پاک ہے،تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

۲۔بندہ خود اپنی ذات اور وجودکے بارے میں برابر سوچتارہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایک حقیرپانی سے پیداکیا ہے اوراپنی قدرت سے اس کے اندر گوناگوں خوبیاں رکھی ہیں، اس کے جسم کو قیمتی اعضاسے آراستہ اور پیراستہ کیا اور اچھی بری باتوں میں تمیز کرنے کے لیے دل اوردماغ جیسی انمول نعمت عطا کی ہے،اسی پر بس نہیں بلکہ صبح سے لے کر شام تک بندے پروہ طرح طرح کی نعمتوں کی بارش بھی کرتارہتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات بندوں کے عیش وعشرت کے سامان اکٹھا کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں صرف تجارت،مال ودولت، آل اولاد،عالی شان محلات اور زندگی کے ٹھاٹ باٹ کا ہی شمار نہیں بلکہ یہ سب نہ ہوتے ہوئے بھی انسان کے پاس ہاتھ، کان، ناک،آنکھ اورپاؤں جیسی بہترین نعمتیں ہیں ۔جو انسان صرف آدھا پیٹ کھا تاہے یا بھوکا رہتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم نہیں ہے ،کیوں کہ وہ پانی توپیتا ہے جورب کا قیمتی انعام ہے۔

لیکن ان تمام طرح کے انعامات اور نعمتیں دینے کے باوجود اللہ تعالیٰ ہم سے کوئی قیمت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا یہ بات ایک مومن بندے کے پیش نظر ہمیشہ رہنی چاہیے، اس کے برخلاف دنیا کا کوئی حاکم یا بادشاہ اگر کسی پر کوئی انعام کرتا ہے تو اس وقت تک اُسے نہیں چھوڑتا جب تک کہ اس کی طاقت کے مطابق بھرپورکام نہ لے لے ۔
اچھے اعمال کی صورتیں ہیں:
۱۔ عبادات کو خلوص ومحبت کے ساتھ اداکرنا جو ایمان کی پہچان ہیں،مثلاً نماز ، روزہ ،زکوۃ ،حج وغیرہ ،اس لیے کہ توحید و رسالت پر ایمان کے ساتھ اِن کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ نمازکے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں باریابی حاصل کرتا ہے ۔روزے میں بندہ کھانے پر قدرت رکھتے ہوئے صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر بھوکاپیاسا رہتا ہے۔زکاۃ میں بندہ اپنا وہ مال جو دنیا کی نگاہوں سے چھپاتاپھرتاہے اور بڑی حفاظت سے رکھتاہے،لیکن اللہ کی رضا کے لیے اُسے خرچ کرنے میں ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔حج کے لیے بندہ نہ صرف اپنے گھرباراور اہل وعیال سے دورجاتا ہے بلکہ مال ودولت خرچ کرنے کے علاوہ جسمانی دقّت اورپریشانی بھی اٹھاتاہے تو صرف ا سی لیے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوجائے۔

۲۔تلاوت قرآن کرکے بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا سے قریب ہو سکتاہے جس کے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں اور جس کی تلاوت سے دلوں کا زنگ دور ہوتاہے۔

۳۔ذکرو اذکار اور تسبیح وتہلیل کے ذریعے بھی انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے،خود اللہ تعالیٰ نے زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیرًا۝۴۱(سورۂ احزاب)
ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ کوخوب خوب یادکرو۔

ذکرکے کچھ مخصوص کلمات بھی ہیں جیسے:سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِ ہ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ، مَاشَائَ اللّٰہ۔
جنھیں ہمہ وقت ورد زبان رکھاجاسکتاہے۔خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیاکرتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان فرماتی ہیں:کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلیَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ۔ (صحیح مسلم، باب ذکراللہ تعالٰی فی حال الجنابۃ،حدیث:۳۷۳)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔

۴۔اللہ تعالیٰ کے احکام کو تسلیم کرنا یعنی جن چیزوں کے کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے بندہ انھیں بجالائے، اس لیے کہ ان احکام کا بجالانا بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق اورقرب حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے رکنے کا حکم دیا ہے بندہ اُن سے دورہوجائے،کیوں کہ نافرمانی کی صورت میں بندے کے دلوں میں کالا دھبہ پڑجاتا ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوجاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھئے کہ بندے کو خود سے تعلق بنانے اور قریب کرنے کے لیے فرماتاہے: تُوْبُوْااِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصُوْحاً۝۸(سورۂ تحریم)
یعنی اللہ تعالی کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرلو،اللہ معاف فرمادے گا اوراپنی رضا سے قریب بھی کرلے گا،کیوں کہ وہ توبہ کرنے والے کو پسندفرماتاہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کوہمیشہ اپنی رضا سے قریب رکھے اور نیکوں کی صحبت میں اٹھنے بیٹھنے کی توفیق بخشے۔(آمین )

(ماہنامہ خضرراہ، شمارہ: نومبر 2012)

Previous articleBeautiful Pictures of Sultan-ul-Arifeen Khwaja Arif Safi Mohammadi Shrine
Next articleعورتیں قرآن کی نظر میں
ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی
ڈاکٹر محمد جہانگیر حسن مصباحی صوبہ بہار کےضلع چمپارن سے تعلق رکھتے ہیں ۔آپ کی پیدائش ۱۹۸۰ءمیں ضلع سیتامڑھی میں ہوئی ۔آپ کی تعلیم جامعہ اشرفیہ مبارکپورضلع اعظم گڑھ سے ہوئی۔وہاں سے۱۹۹۷ءمیںفراغت کے بعد آپ نے یونیورسٹی کی دنیا میں قدم رکھا اوربی اے اور ایم اے سے فراغت کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز ہوئے۔الہ آباد کے ہی ایک عظیم فکشن نگار اعظم کریوی کی ادبی خدمات پر آپ نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ موصوف دینی وعصری دونوں علو م سے آراستہ ہیں۔ عہد طالب علمی سے ہی تحریر و قلم کا ذوق رکھتے ہیں ۔اس وقت سے اب تک مسلسل لکھ رہے ہیں۔زود نویس بھی ہیں اور خوب نویس بھی ۔ فی الحال جامعہ عارفیہ،سید سراواں، الہ آباد میں درس وتدریس کے فرائض پر مامور ہیں اور ماہنامہ ’’خضر راہ ‘‘کے ایڈیٹر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here