اس دن جلد ہی سورج روشن ہوگیا تھا۔ اس صبح بالکل ہی کہرا نہیں تھا۔ ۳۰:۱۱ بجے ہم لوگ خیرآبادکے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ حضرت شیخ نے اپنی دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ ہمیں رخصت کیا تھا۔وہ بظاہر سنجیدہ مگر اندر سے کافی جذباتی تھے۔ ہم لوگ کل نو افراد تھے، ۲؍ڈرائیوروں کے ساتھ گیارہ ہوگئے تھے۔ آج پہلی مرتبہ نو دو گیارہ کا محاورہ دیکھنے کو ملا تھا۔ قافلے کی قیادت مخدومِ گرامی حضرت مولانا حسن سعید صفوی کررہے تھے۔ ان کے ساتھ محبوب میاں، مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی، مولانا مدبر اور راقم السطور تھے۔ دوسری گاڑی میں مولانا غلام مصطفیٰ ازہری، مولانا مجیب الرحمٰن علیمی، مولانا تابش اختر سعیدی اور اختر رضا تیواری تھے۔ خانقاہِ عارفیہ سے کسی بھی عرس میں شرکت کے لیے اس طرح کا بااہتمام قافلہ پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ حضرت شیخ یوں بھی اعراس میں کم ہی شرکت کرتے ہیں۔ اپنے مشائخ کے اعراس میں شرکت کے لیے ضرور جاتے ہیں، دو تین لوگوں کو ساتھ لیا، عرس کی محفل میں کچھ دیر بیٹھے اور واپس ہوگئے۔ ان کا معمول یہی ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا جب شیخ کی طرف سے ایسا اہتمام دیکھنے کو ملا اور یہ بلا وجہ نہیں تھا۔
لودی عہد کے عظیم صوفی، فقیہ، نحوی علامہ شیخ سعد الدین خیرآبادی ۱۵۱۶ء میں واصل بحق ہوئے تھے۔اس اعتبار سے ۱۶؍دسمبر ۲۰۱۶ء کو خیرآبادمیں ان کا پانچ سو سالہ عرس تھا، اگرچہ عربی تاریخ کے مطابق یہ ۵۱۶واں عرس تھا۔ حسن اتفاق کہ اسی موقع پر ان کی معرکہ آرا کتاب ’’مجمع السلوک‘‘ کی رونمائی یانذر کشائی ان کی بارگاہ میں ہونی تھی۔گذشتہ ۵۰۰ سال کے بعد اس کے مخطوطوں کی تلاش، سلیس اور سہل ترجمہ ، جدید انداز میں تحقیق، تخریج، تحشیہ اور انڈیکس کے ساتھ اس کی پہلی اشاعت باسعادت خانقاہِ عالیہ عارفیہ کے نصیبے میں آئی تھی۔ابوحنیفۂ وقت مولانا اعظم لکھنوی کے ممتاز شاگرد، قطب اودھ شاہ مینا کے مرید وخلیفہ، مولانا شاہ عبدالصمد عرف مخدوم شاہ صفی صفی پوری کے پیر ومرشد شیخ سعد کی عظمتِ واقعی کیا ہے، اس کا اعتراف عہد وسطیٰ کے مؤرخین کو ہے، البتہ ان کی کتاب مستطاب مجمع السلوک کی اشاعت سے متعلق مخدوم گرامی شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہٗ کے جذبات، تمنائیں، آرزوئیں کیا کچھ تھیں، اس سے خانقاہِ عارفیہ کے وابستگان ہی واقف ہیں۔ مدت سے شیخ اس کے عاشق نادیدہ تھے، گو فوائد سعدیہ (تلخیص مجمع السلوک، از قاضی ارتضا علی خان گوپاموی(۱۸۵۴ء) کے توسط سے مجمع السلوک سے سیراب ہوچکے تھے، تاہم اس سیرابی نے آسودگی کے بجائے شیخ کی تشنگی کو فزوں ترکردیا تھا۔ صفی پور، خیرآباد، لکھنؤ اور دیگر مقامات میں برسوں سے اس کی تلاش جاری تھی۔ بالآخر ۲۰۱۰ء میںرضا لائبریری رام پور اور تکیہ کاظمیہ کاکوری سے اس کے دو قلمی نسخے دست یاب ہوئے اور مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی کو ترجمے کے لیے سپرد کردیے گئے۔ مولانا کی دیگر مصروفیات اور موانع کے باوصف کل ایک سال کی قلیل مدت میں اس کا ترجمہ مکمل ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی کمپوزنگ، ایڈیٹنگ، مراجعت، تحقیق، تخریج، تحشیہ، تزئین، تدوین،انڈیکس سازی، پیراگرافنگ، ابواب بندی، عنوان سازی، تسہیلِ زبان اور تنویرِ بیان میں پانچ سال صرف ہوگئے۔ پانچ سالہ ٹیم ورک کے بعد ۱۴۴۰؍ صفحات پر مشتمل دو جلدیں پریس کے حوالے ہیں۔ آج ۱۵؍ دسمبر تک اسے چھپ کر آجانا چاہیے تھا، لیکن سمیر نے آخر میں بتایا کہ وہ بنفس نفیس کتابیں لے کر آج شام تک خیرآباد ہی پہنچے گا۔ ’’مجمع السلوک‘‘ ایک کتاب نہیں، شیخ ابوسعید کے خوابوں کی تعبیر ہے، جسے جاگتی آنکھوں سے انھوں نے مدتوں پہلے دیکھا تھا۔ وہی خواب جس کی تعبیر سے وابستگانِ سلسلہ صفویہ مینائیہ بڑی حد تک ناامید سےہوچکے تھے۔
ہماری کارجانب لکھنؤ شاہراہ عام پر پوری رفتار کے ساتھ دوڑ رہی تھی۔ ۲؍ بجے کے قریب ہم رائے بریلی میں تھے۔ وہیں لذت کام ودہن سے لطف اندوز ہوئے۔ پورے سفر میں مختلف موضوعات زیرِ بحث رہے۔ دہلی سلطنت کے زوال کے بعداودھ اور دیگر خطوں میں مسلمانوں کی مقامی حکومتوں کا قیام، ان خطوں میں اولیائے کرام کے غیر حکومتی اصلاحی اداروں کی تشکیل وتنظیم، شہر لکھنؤ میں حضرت شاہ مینا کی روحانی حکومت کا قیام، اس کی وزارت عظمیٰ پر شیخ سعد کی تقرری، شیخ سعد کی علمی، فکری، فقہی، روحانی عظمتوں کا چرچا، ان کی فقاہت واصول دانی کا ذکر، مجمع السلوک کی جامعیت، عصر حاضر میں اس کی اہمیت وضرورت وافادیت، اصلاحِ تصوف کے حوالے سے مجمع السلوک کے گراں مایہ نکات، ا ن علماکی تردید جو ہدایہ اور بزدوی کو تصوف سے بے نیاز کرنے والی کتابیں سمجھتے ہیں، ان مستصوفین کا رد جو خود کو شریعت سے ماورا سمجھتے ہیں، ان جاہل عقیدت مندوں پر تبصرہ جو اپنے پیر وں کے حضور نذر گزار کر فرائض وواجبات سے خود کو سبک دوش باور کرلیتے ہیں۔
ہماری کار میں محبوب میاں بقائی بھی تھے۔ آپ کا تعلق صفی پور سے ہے۔ حضرت بقاء اللہ شاہ کے پوتے ہیں اور ان دنوں اپنے ننہال مہوبا میں مقیم ہیں۔ حضرت شیخ ابوسعید دام ظلہٗ سے ان کی شناسائی ڈھائی عشروں پر محیط ہے۔ شیخ سے ملاقات کے بعد شیخ سے ان کا تعلق، رفاقت، محبت، عقیدت، ارادت اور پھر فنائیت میں تبدیل ہوگیا۔ اس سفر میں مخدوم زادے مولاناحسن سعید صفوی دام فضلہ کے ساتھ ان کی تواضع اور انکسار دیکھ کر حیرت اور خوشی ہوئی۔ حیرت اس لیے کہ اس زمانے میں ایسی تواضع دیکھنے کو نہیں ملتی اور خوشی اس لیے کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صارفیت کے اس دور نے اگرچہ اخلاق وروحانیت کی ڈور کو کم زور کردیا ہے، لیکن یہ ریشمی ڈور اب بھی ٹوٹی نہیں ہے۔ یہ شمع جل رہی ہے، بلکہ ع

جو ہوں پینے والے تو آج بھی وہی بادہ ہے وہی جام ہے

محبوب میاں نے بتایا کہ حضرت شیخ ۱۹۹۴ء میں ’’مجمع السلوک‘‘ کے حوالے سے پریشان تھے۔ صفی پور، خیرآباد اور لکھنؤ میں اس کی تلاش کراچکے تھے۔ بڑے اشتیاق سے اس کا ذکر کرتے۔ ان کے لہجے میں آرزو، مایوسی، امید، کرب اور یقین کی ایک لہر آتی اور ایک جاتی۔ غالباًاسی زمانے میں انھوں نے شیخ سعد خیرآبادی کی شان میں وہ معروف منقبت لکھی تھی جس میں مجمع السلوک کو انتہائی فنکاریت اور ذومعنویت کے ساتھ برتا تھا۔

اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوک
تو بس فقط ابوسعید شیخ سعد شیخ سعد

یادش بخیر! دہلی کی ایک شام، مرشدِ گرامی ذاکر نگر سے نئی دہلی اسٹیشن کے لیے جارہے تھے۔ میںکار کی پیچھے والی سیٹ پر تھا۔ اس وقت مجمع السلوک کا مخطوطہ دستیاب ہوچکا تھا۔ غالباً ۲۰۱۰ء کا سال رہا ہوگا۔ شیخ ہر ملنے والے سے مجمع السلوک کی بازیابی کی خوشیاں شیئر کرتے۔ شیخ کا مزاج یہ ہے کہ وہ احوال کی باتیں کم کرتے ہیں، مگر اس دن جوش بیان حاوی تھا۔کہنے لگے:’’ میں نے رب سے جو کچھ مانگا کبھی مایوس ومحروم نہیں ہوا۔ آج سے چند سالوں قبل شیخ سعد اور مجمع السلوک کی یاد میں یہ شعر ہوا تھا:

اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوک
تو بس فقط ابوسعید شیخ سعد شیخ سعد

کئی سال گزر گئے اس کی تعبیر سامنے نہیں آئی۔ دل پریشان تھا، مگر الحمد للہ! مجمع السلوک کے دو مخطوطے حاصل ہوگئے۔ ‘‘
محبوب میاں نے کہا کہ آج مدبر صاحب کی شامت آئی تھی، مگر بچ گئے۔ صبح صبح سج دھج کر پہنچ گئے۔ میاں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ عرض کیا: حضور! خیرآباد میں بھی جاؤں گا۔ فرمایا: اجازت لی؟ عرض گذار ہوئے کہ اجازت ہی کے لیے آیا ہوں۔ میاں نے کہا کہ تم تو دولہا بنے پھر رہے ہو، پوری تیاری کے بعد اجازت لینے آئے ہو، یہ کون سی اجازت ہے؟ لوٹ جاؤ۔
مولانا مدبر نے کہا کہ میں فوراً ہی گھر کی طرف چل دیا۔ میں نے پوچھا: پھر کیا ہوا؟ پھر کیا ہوتا، مجھے پتہ تھا کہ میاں مجھ کو دوبارہ بلوائیں گے۔ چند منٹ بھی نہیں گزرے کہ ایک طالب علم نے مجھ سے بتایا کہ میاں حضورنے کہا ہے کہ آپ کو بھی خیرآباد چلنا ہے۔
حسن میاں صاحب جو ڈرائیور کی بازو والی سیٹ پر بیٹھے تھے، فرمانے لگے کہ خانقاہ میں مولانا مدبر صاحب اس معاملے میں سب سے بڑے سعادت مند ہیں کہ سب سے زیادہ میاں کی ڈانٹ کھاتے ہیں۔ میں عرض گذار ہوا کہ حضور! ان کا جو اندازِ تسلیم ہے، اِن کے غائبانے میں میاں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مولانا مدبر کی یہ خوبی ہے کہ فوراً سرینڈر ہوجاتے ہیں۔مشائخ کے ساتھ قیل وقال اور بحث وکٹھ حجتی نہیں کرتے۔
’’سمیر دہلی سے نکلا یا نہیں؟ ‘‘حسن میاں نے دریافت کیا۔
میں نے کہا: ’’حضور! اس نے دس بجے نکلنے کو کہا ہے۔ جب اس کو رات میں پریس سے کتابیں نہیں ملیں تو صبح دس بجے کہاں سے مل جائیں گی! دس گیارہ بجے تو دہلی میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد جو کتابوں پر کام باقی ہوگا وہ کام ہوگا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ شام سے پہلے دہلی سے نکل سکے گا۔ یہ تو اچھا ہے کہ اس کے ساتھ ڈاکٹرشوکت علی بھی ہیں، ورنہ کتاب کی رونمائی خطرے میں ہی تھی۔‘‘
تقریباً ۳؍بجے شوکت بھائی کا یہ تبصرہ آیا کہ کتاب بہت اچھی چھپی ہے۔ اس کے بالمقا بل Dummy کچھ بھی نہیں تھی۔ میں نے کہا: شوکت بھائی کسی کی تحسین کردیں تو اس میں یقیناً خوبیاں ہوں گی؛ کیوں کہ آسانی سے وہ لب نہیں کھولتے۔
’’میاں حضور نکلے یا نہیں؟‘‘ میں نے مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب سے پوچھا۔ آپ ڈرائیور کے پیچھے اور میرے آگے والی سیٹ پر تھے۔
’’نہیں ابھی نہیں نکلے ہیں۔ میاں حضور کا پروگرام رات میں لکھنؤ میں قیام کرنے کا ہے۔‘‘
’’تب تو اس وقت تک ان کو نکل جانا چاہیے تھا؟‘‘ میں نے کہا۔
’’ دیکھیے! میاں حضور کا اپنا خاص مزاج ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ آج نکل ہی جائیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کل فجر بعد نکلیں۔‘‘ حسن میاں نے میرے تجسس پر وضاحت کی۔
’’میاں کے ساتھ کون ہوگا؟‘‘
’’ مفتی آفتاب ، مفتی شاہدوغیرہ۔‘‘ حسن میاں نے اضافہ کیا۔
دوسرے دن پتہ چلا کہ حسن میاں کا اندازہ درست تھا۔
حسن میاں نے خیرآباد کی علمی وروحانی زرخیزی وشادابی کے سیاق میںمولانا فضلِ امام خیرآبادی اور مولانا فضلِ حق خیرآبادی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضلِ امام خیرآبادی نے اپنی آخری عمر میں مخدوم صاحب کے سجادگان سے گزارش کی تھی کہ مخدوم صاحب کے احاطے میں ان کو بھی دفن ہونے کا شرف بخشا جائے۔ سجادگان نے ان کی گذارش قبول کی، چناں چہ وہ بھی مخدوم صاحب کے احاطے میں ہی دفن ہیں۔
حسن میاں نے کسی مولوی صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب مجھ سے کہنے لگے کہ میں خیرآباد گیا تھا اور مولانا فضل امام کی بارگاہ میں حاضری دی۔ میں نے دریافت کیا کہ مخدوم شیخ سعد کے یہاں حاضر ہوئے یا نہیں؟ تو موصوف نے لاعلمی کا اظہار کیااور کہنے لگے کہ میں تو مولانا فضلِ امام کی زیارت کے لیے گیا تھا۔
حسن میاں نے کہا کہ یہ حال ہے آج کے مولویوں کا۔ یہ ایسے عاشقِ خسرو ہیں جو پیر نظام کو بھی فراموش کرجاتے ہیں۔ مولانا فضلِ امام صاحب کی زیارت کررہے ہیں اور فضلِ امام صاحب جس کے احاطے میں تمنائوں کے ساتھ دفن ہیں، اسی احاطے میں جاکر اس احاطے کے قطب سے آنکھیں پھیر رہے ہیں۔ یہ بھی کیا دیوانگی ہے جو شمع کو چھوڑ کر پروانوں پر نثار ہورہی ہے؟
میں نے عرض کی: حضور! مولانا فضلِ امام صاحب تو ایک فلسفی اور معقولی آدمی تھے۔ آج جب کہ علم کی دیگر شاخوں کے ساتھ فلسفہ اور کلام کو بھی زندہ در گور کردیا گیا ہے، ایسے میں مولانا سے عقیدت کی وجہ ان کی فلسفہ دانی نہیں ہوسکتی۔ یہ عقیدت مولانا فضلِ حق کے فتوی تکفیر کے توسط سےہم تک پہنچتی ہے۔ حالات اتنے ابتر ہیں کہ علم وروحانیت سے ہمارا سلسلہ ٹوٹ سا گیا ہے۔ بطورِ خاص گذشتہ ساٹھ سترسالوں میں ہماری مولویت تکفیر وتفریق پسندی میں اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس لیے آج کا مولوی اگر مخدوم شیخ سعد کے احاطے میں مدفون مولانا فضلِ امام کی قبرپر فاتحہ پڑھ کر لوٹ جاتا ہے اور مرکزِاحاطہ میں بڑے گنبد کے زیرِ سایہ حضرت مخدوم کے چشمۂ فیض سے محروم رہتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔
سورج اپنے اجالوں کے ساتھ ہم سے روپوش ہوچکا تھا۔ ہماری کار شاہِ راہ عام کو چھوڑ کر مولانا فضلِ حق خیرآبادی روڈ پر چلنے لگی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی حضرت مخدوم کے مزار اقدس کے اجالوں نے ہمیں اپنے ہالے میں لے لیا۔ نماز کے بعد حضرت مخدوم کی بارگاہ میں حاضری ہوئی۔ حضرت کے احاطۂ نور سے ہی خیرآباد کی آبادی شروع ہوتی ہے۔ یہ ٹیلہ نماوسیع احاطہ ہے۔ اس کے بیچوں بیچ حضرت مخدوم کا بڑا سفیدگنبد ہے، جس کی سادگی اور دل کشی اہل نظر کو دعوت نظارہ دیتی ہےاور اہل دل کو جذب وشوق سے بے چین کرتی ہے ۔ علم کا جلال اور روحانیت کا جمال تسلسل کے ساتھ برس رہا ہے۔ اس کا لطف کچھ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں، جن کے دل لذت آشنائی سے سرشار ہیں۔ ہم مولوی کیا جانیں، ہماری نظریں تو پاجامے کے نیچےٹخنے تلاش کرنے اور نماز میں انگوٹھے کی حرکت کا مشاہدہ کرنے ہی میں محو رہتی ہیں۔ اس سے آگے بڑھے تو ماضی و مستقبل کا تجزیہ اورحال کا ادھیڑبن۔ عقل کوتاہ اندیش کبھی اپنی فکر کرنے ہی نہیں دیتی۔
شیخ کے روضے کے بازو میں مغرب کی سمت چھوٹی سی مسجد ہے۔ مسجد کی بائیں طرف حضرت مخدوم شاہ صفی کا حجرہ ہے، جس میںمخدوم شیخ سعد کی وفات کے بعدمخدوم شاہ صفی ٹھہرا کرتے تھے۔ مولانا مجیب نے تاریخ کے اس دریچے کی طرف جھانکنے کے لیے کہا۔ میں نےاس طرف ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک جواں سال، مدرسے کا نو فارغ مین گیٹ پر کھڑا ہے۔ پیشانی پر علم کی تمکنت ہے۔ آنکھیں لوگوں کے ہجوم میں پتھرائی ہوئی ہیں۔ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ وہ جاننا چاہتا ہے، لیکن پہلے وہ اپنے مخدوم سےملنا چاہتا ہے۔
’’مخدوم صاحب کہاں ہیں؟‘‘
جوان نے ایک بوڑھے شخص سے دریافت کیا۔ وہ بوڑھا شخص نم آنکھوں سے پہلے جوان کو دیکھتا ہے، پھرآہ سرد بھرتا ہوا آسمان کو تکنے لگتا ہے۔ جوان پر سراسیمگی چھاجاتی ہے۔ بڑے میاں بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوتے ہیں:
’’ میاں! تم کوئی نووارد لگتے ہو، آپ کون ہو اور کہاں سے آنا ہوا؟‘‘
’’ میرا نام نظام الدین ہے۔ سالوں قبل حضرت مخدوم کی قدم بوسی سے شرف یاب ہوا تھا،بیعت کی تھی، پھر مخدوم کے ارشاد پر ملک پنجاب تحصیلِ علم کے لیے چلا گیا تھا۔ تحصیلِ علم کے بعد قلب پر جو حجاب آگیا تھا اس کی صفائی کے لیے شیخ کی صحبت ضروری تھی، لیکن یہ کیا کہ اب تو محرومی ہی محرومی ہے!! میں تحصیلِ علم کے لیے پنجاب کیوں گیا ، جو اس بحرِ عرفان کی فیاضیوں سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا۔‘‘ جوان رونے لگاتھا۔
بوڑھے نے از راہ شفقت جوان کو گلے لگالیا۔ ’’میاں! یہ فقرا خود بھوکے رہتے ہیں، مگر دوسروں کو بھوکا نہیں رکھتے، اور صرف پیٹ ہی نہیں بھرتے روح کو بھی مکمل غذائیت بخشتے ہیں۔ بڑے مخدوم نے تمہاری روح کا حصہ مخدوم صفی سائیں پوری کے حوالے کردیا ہے۔ مخدوم صاحب کا یہ پہلا عرس ہے۔ سائیں پور ({ FR 57 })سے مخدوم صفی بھی آئے ہوئے ہیں۔ مسجد کی بائیں طرف چلے جائو، تمہارا حصہ انھی کے پاس ہے۔ جائو اور شرفِ قدم بوسی سے خود کو مشرف کرو۔‘‘
مخدوم عبدالصمد عرف شاہ صفی سائیں پوری خندہ پیشانی کے ساتھ نوجوان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ بڑے مخدوم صاحب کا ذکر شروع ہوتا ہے اور محفل دراز ہوجاتی ہے۔ کچھ دیر بعد دہل وطنبور کی آواز سن کر شاہ صفی اپنی گفتگو روک دیتے ہیں اور حاضرین کو محفلِ سماع میں جانے کا اشارہ کرتے ہیں۔
’’ مولانا نظام الدین! آپ بھی پہنچیں، میں تھوڑی دیر میں آیا۔‘‘
’’ حضور! وہاں طنبور ورباب بجائے جارہے ہیں، میں خلاف شرع محفلوں میں نہیں جاتا۔‘‘
شیخ نے نوجوان کو دیکھا، مسکرائے اور پھر چہرے پر ایک مصنوعی خفگی اور حیرت کے ساتھ گویا ہوئے:
’’طنبور و رباب؟ کون بجا رہا ہے؟ چلیے میں چل کر دیکھتا ہوں۔ ان لوگوں کو پتہ نہیں کہ مولانا نظام الدین آئے ہوئے ہیں۔‘‘
شاہ صفی اپنے حجرے سے باہر نکلے، پیچھے پیچھے مولانا نظام الدین اور چند دوسرے لوگ ہیں۔ چند قدم پورب کی طرف بڑھنے کے بعد بائیں طرف مڑ گئے اور صحن مسجد کراس کرتے ہوئے مخدوم صاحب کی قبر کے سامنے پہنچ گئے جہاں محفلِ سماع گرم تھی۔
’’ارے بند کرو یہ چنگ ورباب اور دہل وطبل، تمھیں پتہ نہیں کہ مولانا نظام الدین آئے ہوئے ہیں۔‘‘
قوال پریشان ہوگئے اورمزامیر کو یک لخت بند کردیا۔چند ثانیے تک خاموشی رہی، پھر اچانک مزامیر از خود بجنے لگے۔ مولانا نظام الدین کو پہلے حیرت ہوئی، پھر مستی چھائی، فرطِ مستی میں کھڑے ہوکر رقص کرنے لگے، کچھ دیر تک رقصاں رہے اور پھر چکرا کر جو گرے تو بے ہوش ہوگئے۔ آنکھ کھلی تو محفلِ سماع ختم ہوچکی تھی۔ اب مرشدِ تربیت شاہ صفی کی تلاش شروع ہوئی۔ سائیں پور، مجھگواں، لکھنؤ ہوتے ہوئے جب دوبارہ خیرآباد پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ شاہ صفی بڑے مخدوم صاحب کے مزار کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ طالبِ صادق کو سرگرداں دیکھ کر مسکرانے لگے۔ فرمایا: ع
اب ملتے ہیں کچھ پختگی عشق کے آثار
مولانا مجیب نے میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے حسن میاں کی طرف متوجہ کیا۔ حسن میاں احاطے کے زینے سے اتر رہے تھے۔ پیچھے پیچھے میں بھی دوڑا۔ احاطے سے باہر نکلتے ہی راستے کی دوسری طرف پورب کی جانب مخدوم صاحب کے حالیہ متولی شیخ نجم الحسن عثمانی عرف شعیب میاں صاحب کا گھر ہے۔ اس کے بازو میں محترم ضیاءعلوی صاحب کا گھر ہے، جو زندہ دلان خیرآباد کی یادگار ہیں۔ وہ اپنے گھر کے باہر ہی جلوہ افروز تھے۔ حسن میاں کو دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے سلام ومصافحہ اور معانقہ سے گزرتے ہوئے جب مولانا ضیاء الرحمٰن تک پہنچے تو فرطِ محبت میں ان کی پیشانی چوم لی۔ کہا:’’مولانا! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، میں آج آپ کا ہاتھ چوموں گا۔ آپ نے مجمع السلوک کا ترجمہ کرکے وہ احسان کیا ہے جس کا بوجھ اتارنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔ ‘‘
مولانا ضیاء الرحمٰن اپنا ہاتھ بڑھانے کے بجائے ضیاء میاں کی قدم بوسی کے لیے نیچے کی طرف جھک گئے۔ ضیاء میاں نے روکنا چاہا اور بالآخر بیٹھ کر ضیاء الرحمٰن صاحب کے دونوں بازئووں کو زور سے تھام لیا۔ میں نے دیکھا کہ لاکھ چاہنے کے بعد بھی ضیاء میاں نے ان کواپنی قدم بوسی کرنے نہیں دیا۔ لیکن یہ تو عالم ظاہر کا منظر تھا، کوئی نگاہ باطن کا حامل ہوتا تو وہ دیکھتا کہ مولانا کی روح شیخ سعد کے قدموں پر لوٹ رہی ہے اور احسان وتشکر میں لبریز عرض گذار ہے :’’ حضور! ترجمہ میں نے نہیں کیا ہے، آپ نے کرایا ہے۔ خدمت سلطانی میرا احسان نہیں، یہ مجھ پر احسان ہے کہ آپ نے مجھےاپنی خدمت میں رکھا ہےاور میں اسی طرح ہمیشہ خدمت گذار اوراحسان مند رہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

منت منہ کہ خدمت سلطان ہمی کنی
منت شناس ازو کہ بخدمت بداشتت

ضیاء میاں نے ہم آشفتہ سروں کے لیے قیام وطعام کا خصوصی اہتمام فرمایا تھا۔ ناشتے اور کھانے کے علاوہ وہ مسلسل اپنی سخن ہائے دل نواز سے ہماری ضیافت فرمارہے تھے۔
’’اب آپ مستقل خیرآباد میں سکونت پذیر ہوجائیں۔‘‘حسن میاں نے ان سے گذارش کی۔
’’جی! میرا دل بھی یہی چاہتا ہے، بس آپ دعا فرمائیں کہ اللہ کریم یہاں اکلِ حلال کا کوئی بند وبست فرمادے۔ ‘‘
’’آپ یہاں مدرسہ بھی قائم فرمالیں اور۔۔۔ !‘‘
’’میاں! مجھے اس سے معاف رکھیے، مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا۔ مدرسہ تو صرف ابو میاں صاحب کو زیب دیتا ہے اور اس کے لیے صرف ایک ہی خانقاہ ہے خانقاہِ عارفیہ۔ جس نے اپنے بچوں کو کنوینٹ اسکولوں میں پڑھایا ہو وہ دوسروں سے کس منھ سے کہے گا کہ آپ اپنے بچوں کو مدرسے میں پڑھائیے۔ میاں! مجھ سے نفاق اور دو رخا پن نہیں ہوسکتا۔ اپنے پورے سلسلے میں بس ایک ہی خانقاہ ہے۔ ایمان واحسان اور علم وعمل کے حوالے سے جو کچھ ہونا ہے وہیں سے ہونا ہے۔ اب اس سے زیادہ مجھ سے نہ بلوائیے۔ شکیب جلالی کا شعر یاد آتا ہے:

ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر‘‘

ضیامیاں شعروسخن کا اچھاذوق رکھتے ہیں۔ دوران گفتگو اس طرح کےبرجستہ اشعار سنائے جاتے ہیں۔ خود بھی شعر کہتے ہیں۔ محفل میں ان کی موجودگی بتاتی ہے کہ ہم مضطر ، ریاض ، وسیم اور کوثر خیرآبادی کے دیارمیں بیٹھے ہوئے ہیں۔
میں کمرے سے باہر نکلا۔ میرے سامنے مخدوم صاحب کا نورانی گنبد تھا۔ آنکھیں بند کیں تو دیکھا کہ ایک معمر نورانی بزرگ سفید چادر پر دو زانو بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کسی عربی کتاب کا قلمی نسخہ ہے۔ اس سے بعض جملے پڑھ رہے ہیں اور اس پر عرفانی نکات آفرینی فرمارہے ہیں۔ سامنے اربابِ علم ونظر اور طالبانِ حقیقت ومعرفت کی ایک جماعت گوش برآواز ہے۔ کسی نے تعارف کرایا، یہ شیخ محمد مبارک بجنوری ہیں، یہ قاضی محمد من اللہ کاکوروی ہیں، وہ بیچ والے شیخ چاند بڈھن ہیں اور ان کے بازو میں قاضی راجا خیرآبادی ہیں۔ یہ درس کیا ہے، ایک بحرِ عرفان سے درجنوں نہروں کی سیرابی ہے۔ شیخ دورانِ درس ہر بات کوشاہ مینا کے ملفوظات سے مزین ومبرہن کررہے ہیں۔
درس ختم ہوا اور شیخ نے کتاب کا قلمی نسخہ ایک طرف رکھا اور آہ سرد بھرتے ہوئے گویا ہوئے:
’’اب طالبین کہاں رہے؟ نہ پیروں میں پیری کی خو ہے اورنہ مریدوں میں مریدی کی بو۔

مجالس خلق زو رفتہ، مدارس مندرس گشتہ
مساجد جملہ بشکستہ، منابر ہم چناں خالی
ملائک می کند نوحہ کہ یارب ایں چہ روز آمد
کہ تاپیش از قیامت شد زمردم ایں جہاں خالی‘‘

تھوڑی دیر تک محفل پر خاموشی چھائی رہی۔ قاضی راجا خیرآبادی ہمت جٹاتے ہوئے عرض گذار ہوئے:’’ حضور! کیا اچھا ہوتا رسالہ کی شرح لکھ دی جاتی اور یہ آب دار موتی جو ہوائووں میں تحلیل ہوتے جارہے ہیں، تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوجاتے۔‘‘ درس میں بیٹھے دیگر اہلِ علم کی آنکھیں چمک اٹھیں اور سب نے ہی اشاروں اشاروں میں قاضی راجا کی تائید کی، مگر شیخ خاموش رہے۔
سامنے ایک سید زادہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ چہرے پر نور وعرفان کی لکیریں برابر برابرتھیں۔ عمر کوئی چالیس پچاس کے درمیان ہوگی۔ محفل میں آتے ہی شیخ کی قدم بوسی کرنی چاہی۔ شیخ بہ مشکل تمام کھڑے ہوئے اور آنے والے کی پیشانی چوم لی۔ کسی نے بتایا کہ یہ شیخ کے پرانے شاگرد حضرت سید جلال الدین بن سید ابو طاہر تاج ہیں۔ چند رسمی باتوں کے بعد مدعا بیان کیا۔’’ حضور! خبر ملی ہے کہ خواجہ تاشوں نے شرحِ رسالہ کی گذارش کی ہے۔ حضور! ان فریادیوں میں میرا نام بھی شامل فرمالیں۔ حضور! سالکین راہِ سلوک پر یہ آپ کا بڑا احسان ہوگا اور آپ کے بعد بھی یہ دائرۃ المعارف احسان وسلوک کی پر خطر راہوں کو روشن رکھے گا۔ ‘‘
’’مولانا! آپ جناب سیدہ کے لختِ جگر ہیں، قرآن نے آپ کی محبت کو مجھ پر واجب کیا ہے اور یہ محبت پل صراط پر میری کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس لیے اب میں عزمِ مصمم کرتا ہوں۔ ارادہ میرا بھی تھا، مگر پس وپیش میں مبتلا تھا۔ اب آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ ‘‘
میں نے گھڑی کو دیکھا کہ وہ بہت تیزی سے گردش کناں ہے۔ اس کی سوئیاں لمحوں سے نہیں، صدیوں سے گزررہی تھیں۔ سامنے دیکھا کہ ایک بزرگ مخدوم صاحب کی چوکھٹ چوم کر واپس ہورہے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک بارعب عالمِ دین ہیں۔ ان کے پیچھے علما اور طلبہ کی قطار ہے۔ پیچھے کچھ فاصلے پر اونٹوں اور ہاتھیوں کا ایک ہجوم ہے۔ یہ شاہی قافلہ میرے قریب آگیا۔ سجادے صاحب کے دروازے پر دستک دی گئی۔ اندر سے ایک نورانی بزرگ نمودار ہوئے۔ آنے والے بزرگ فوراً ًقدم بوس ہوگئے۔ کہنے لگے: ’’حضور! دنیا کی ساری نعمتیں حاصل ہوچکی ہیں۔ منطق وفلسفہ میں ارسطو اور ابن سینا کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں۔ اب دین ودنیا کی کوئی تمنا ادھوری نہ رہی۔ بس ایک ہی آرزو رہ گئی ہے جس کی تکمیل آپ کی کرم نوازیوں پر منحصر ہے۔ میاں! اس بوڑھے نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا ، بن مانگے خدا نے سب کچھ دیا، لیکن آج جب کہ عمر کے آخری پڑاؤ میں ہوں، آپ سے ایک بھیک مانگنے حاضر آگیا ہوں۔‘‘ بزرگ نے ایک منگتےکی طرح اپنی چادر پھیلادی۔
’’ مولانا ! پریشان کیوں ہوتے ہو! فقیروں کی زنبیل کبھی خالی نہیں ہوتی۔ مخدوم صاحب کی درگاہ میں مسجد کے اتر جانب آپ کی جگہ متعین ہے۔ اپنے وابستگان کو بتادیں کہ وہ وفات کے بعد بلا جھجھک مخدوم صاحب کے جوار میں آپ کو سپردِ خاک کردیں۔ ‘‘
مولانا کا چہرہ خوشیوں سے دمک اٹھا۔ جھک کر سلامی دی اور واپس ہوگئے۔ میرے بازو میں ایک نیزہ بردار کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’یہ کون صاحب ہیں؟‘‘ اس نے میرے کان میں سرگوشی کی: ’’دہلی کے صدرالصدورعلامہ فضلِ امام خیرآبادی اور ان کے پیچھے ان کے بیٹے۔۔۔!‘‘
مولانا مجیب نے بائیں جانب بچوں کے جھولوں اور تماشوں کی طر ف متوجہ کیا۔ میں نے کہا : ’’چلیے جھولیے۔ اب تو یہی رہ گیا ہے۔ علم وعرفان کا شہر اجڑ چکا ہے۔ اب انہی کھلونوں سے دل کو بہلایا جاسکتا ہے۔ حالات اور حکومتوں نے مسلمانوں کو کہیں کا تو نہیں چھوڑا ۔ آج کا مسلمان دیر تلک سوتا ہے، محنت سے جی چراتا ہے، تعصبات کا رونا روتا ہے،تقدیر کا شکوہ کرتا ہے اور مہدی موعود کے خوش گوار تصور سے جھوم اٹھتا ہے۔ جھولیے اور دل ناشاد کو شاد کیجیے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس آپشن ہی کیا ہے۔‘‘
حسن میاں کا حکم آیا کہ اب چھوٹے مخدوم صاحب کے یہاں چلنا ہے۔ ہمارا چند نفری قافلہ اہلِ خیرآباد سے راستہ پوچھتا ہوا تھوڑی دیر میں چھوٹے مخدوم صاحب کے آستانے پر تھا۔ یہ وہی مولانا سید نظام الدین عرف اللہ دیا ہیں، جو بڑے مخدوم صاحب سے بیعت کے بعد تحصیلِ علم کے لیے ملک پنجاب چلے گئے تھےاور جب واپس ہوئے تو مخدوم صاحب کا پہلا عرس ہورہا تھا۔ حسن میاں کے ساتھ ہم لوگوں نے بہت ہی اطمینان سے فاتحہ پڑھی۔ اس وقت پوری درگاہ خالی تھی اور چاروں طرف نورانیت وطمانینت کی فضا تھی۔ ضیابھائی نے کہا کہ فقیہ صوفیہ کے یہاں ایک عجیب سادگی اور پرکیفی ہوتی ہے۔ یہی لطف ہمیں شیخ محقق کے یہاں دہلی میں ملتا ہے۔
’’حضور! یہ برابروالی قبر کس کی ہے؟‘‘ میں نے حسن میاں سے پوچھا۔
’’ یہ مخدوم اللہ دیا کے صاحب زادے مولانا سید ابوالفتح قدس سرہٗ کی قبر ہے۔ جب مخدوم صاحب اکبر کے دربار میں گئے تھے اس وقت مولانا ابوالفتح بھی ساتھ تھے۔ مخدوم صاحب ضعیفی کی وجہ سے اونچا سنتے تھے۔ اکبر کا درباری فیضی منکر صوفیہ تھا۔ اس نے مخدوم صاحب سے بحث شروع کردی۔ مولانا ابوالفتح مخدوم صاحب کی طرف سے جوا ب دیتے۔ مخدوم صاحب مولانا ابوالفتح سے پوچھتے کہ اس نے کیا کہا، پھر پوچھتے تم نے کیا جواب دیا؟ جب مولانا کا جواب سنتے تو خوش ہوکر فرماتے: ’’خوب پاپوش زدید‘‘ (خوب چپل لگائے) اس کے بعد سے ہی فیضی مخدوم صاحب کا معتقد ہوگیا تھا۔ جب حضرت کا وصال ہوا تو اس نے ہی حضرت کے مزار کی تعمیر کرائی۔ اس کے علاوہ اس نے مخدوم شیخ سعد کی شان میں بھی یہ تاریخی رباعی لکھی:

حیف آں شاہِ ولایت شیخ سعد
گشت در فردوس اعلیٰ جائے گیر
بُد چوں مخدوم کبیر او را لقب
لا جرم شد سالِ مخدومِ کبیر (۹۲۲ھ)

ہماری یہ گفتگو جاری ہی تھی کہ قمقموں، جھومروں اور جھنڈیوں والا ایک جگمگاتا کارواں آن پہنچا۔ معلوم ہوا کہ یہ جلوس گاگر ہے۔ بڑے مخدوم صاحب کا جلوس گاگر چھوٹے مخدوم صاحب کے آستانے سے شروع ہوتا ہے اور چھوٹے مخدوم صاحب کی گاگر بڑے مخدوم صاحب کے یہاں سے اٹھتی ہے۔ حسن میاں نے بتایا کہ گاگر کی روایت اپنے سلسلے میں نہیں تھی۔ اس کی ابتدا مجدد سلسلہ حضرت شاہ خادم صفی محمدی قدس سرہٗ(۱۲۸۷ھ/ ۱۸۷۰ء) سے ہوئی۔ میں نے عرض کی کہ اس روایت میں موجودین نے یہ اضافہ کیا ہےکہ اب گاگر برقی قمقموں سے آراستہ ہوگئی ہے۔
میں نے مولانا غلام مصطفیٰ ازہری صاحب سے کہا کہ ہندوستان میں صوفی روایت اور بھکتی روایت کا عہد شباب تقریباً ایک ہی ہے۔ آج جب کہ یہ دونوں روایتیں کمزور ہوگئی ہیں، ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بھکتی روایت کے وابستگان نے اپنے آپ کو زمانی اعتبار سےUp-to-date کرلیا، لیکن ہماری تجدید صرف یہی رہ گئی ہے کہ گاگروں میں قمقمے لگالیں۔ صوفی اور بھکتی روایتوں میں قدر مشترک محبت اور خدمت تھی۔ اس عہد زوال میں دیکھیے کہ بہت سے مٹھ جدید تعلیم، طبی سہولیات اور غربا پروری کے حوالے سے کتنے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں۔ ہزاروں ہزار لوگوں کے مفت علاج اور مفت تعلیم کا بندوبست ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے متولی موجودہ سنتوں نے دنیا بھی خوب کمائی، لیکن ہماری صوفی روایت میں اب روحانیت مفقود ہے اور رسم ہی رسم باقی رہ گئی ہے۔پیر زادوں کی سج دھج ہے اور چند نفری قافلہ۔ یہ زمانہ نئے انقلاب کا زمانہ ہے، علم کے حوالے سے، عرفان کے حوالے سے، دین کے حوالے سے اور دنیا کے حوالے سے۔ شرابِ کہن کو ساغر نو میں پیش کرنا مرتی انسانیت کی ضرورت ہے۔ رسموں سے اغماض اور حقائق پر ارتکاز اہلِ تصوف کا فرض ہے۔ یہ مٹی آج بھی سرسبزی وشادابی پیدا کرسکتی ہے، کاش ذرا نم ہو۔ علم دین کے نظام میں تبدیلی آئے، خانقاہی روح کی بازیابی ہو، فروعات کو چھوڑ کر محبتِ الٰہی اور تعلق باللہ پر زور ہو اور خدمتِ خلق کا نیا انداز ہو، جس میں عرس کی روایتی دال کے اہتمام سے کہیں زیادہ مسلمانوں اور انسانوں کی تعلیم اور صحت کے سامان مہیا کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر یہی ہوگا کہ پیرزادگان اور مولوی زادگان کنوینٹ اسکولوں میں پڑھیں گے، امرا نذر ونیاز پیش کرکے اپنی دینی ذمہ داریوں کی تکمیل کرلیں گے اور مفلس مسلمانوں کو ہاتھ باندھ کر کھڑا رہنے، ہاتھ پیر چومنے اور اپنے نادار بچوں کو اسلامی یتیم خانوں میں داخل کرکے دین کی حفاظت کرنےکی تلقین کی جاتی رہےگی۔
کسی نے بتایا کہ قوالوں کی۱۴؍پارٹیاں آئی ہوئی ہیں اور رات بھر محفلِ سماع گرم رہے گی۔ خانقاہیں جو کبھی علم وعرفان، محبت وخدمت اور تربیت وتزکیہ کی مراکز تھیں، اب ان کی ساری روحانیت انہی شبانہ محفلوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ان مشائخ کے اعراس کی تقریبات اس سلیقے سے مرتب کی جاتیں کہ دنیا کے تعلیم یافتہ حضرات بھی اس میں اپنے لیے سامانِ کشش پاتے۔ لیکن ہم یہ باتیں کس سے کہیں؟تقلید وروایت میں الجھے ہوئے اذہان سے بھلا یہ کب توقع رکھی جائے کہ وہ قصۂ ماضی سننے سنانے کی جگہ تعمیر امروز کے لیے بھی فکر کرسکیںگے۔ میری نظر میں یہ تفرد اور استثنا مرشدِ گرامی شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہٗ جیسے درویشوں کا ہی ہے ،جن کی فطرت میں شاہینی پرواز ہے اور جو ایک پرندے کی طرح محفوظ آشیانے کی تعمیر کے لیے ایک ایک تنکا چنتے ہیں، لیکن ہمت نہیں ہارتے۔جن کا شب وروز قولاً وعملاً یہ اعلان کرتا رہتا ہے:

شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
مری خاک جگنو بناکر اڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
پرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں پیر و ملا سے بیزار ہے
گیا دَورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کےلشکر، یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہوں مَیں امیر

یا پھر یہ کہ:

شیشہ پرست کی نظر پیرِ مغاں کچھ اور ہے
رنگ شراب بھی بدل، رنگ جہاں کچھ اور ہے

’’عبدالحفیظ بھائی! آپ کی باری کب ہے؟ ہم لوگ آپ کو سننے آئیں گے۔‘‘
’’میاں! میں یہاںسنانےنہیں آیا ہوں، پیر ومرشد کا حکم ہوا، آگیا، اصل مقصود مخدوم صاحب کی بارگاہ میں حاضری ہے۔ حکم ہوگا پڑھ دیں گے، ورنہ اصل مقصود تو حاصل ہے۔‘‘
میں نے عبدالحفیظ کو حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ دل نے کہا: ’’یہ شیخ ابوسعید کے عبدالحفیظ ہیں، ورنہ دوسرے قوالوں کےکیا کہنے ، وہ تومکمل الامان والحفیظ ہیں۔ ‘‘
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ضیاء میاں تشریف لے آئے۔
’’حسن میاں! محفل میں کب چلیں گے؟ ‘‘
’’جی! جب حکم ہو‘‘
’’ نہیں! یہ آپ پر ہے۔ آپ جب چلنا چاہیں؟‘‘
’’ نہیں! میں خود آپ کے سپردہوں، آپ جب کہیں گے، آپ کا دل جب کرے۔ بتائیں کب چلاجائے، ابھی چلیں؟‘‘
’’حسن میاں! آپ کے لیے میرے دل میں کیا جذبات ہیں، میں بتا نہیں سکتا۔ آپ آگئے، اس کی کتنی خوشی ہے، میرے دل میں آپ کے لیے کتنا احترام ہے، شاید آپ کو بھی اس کا اندازہ نہیں ہے۔ ‘‘
۱۲؍ بجے حسن میاں نے محفل میں چلنے کا عندیہ ظاہر کیا۔ ہم سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد شعیب میاں نے عبدالحفیظ کے نام کا اعلان کیا۔ عبدالحفیظ نے آتے ہی محفل کا رنگ بدل دیا۔ پہلے امام بوصیری کا معروف قصیدہ بردہ پیش کیا۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبے ہوئے امام بوصیری کے اشعار نے محفل میں عشق کے جادو جگادیے۔ دوسرے یا تیسرے شعر پر محبوب میاں پر کیفیت طاری ہوئی اور وہ رقصیدہ کھڑے ہوگئے۔ دیر تک کیفیت رہی۔ مجھ سنگ دل کا باطن بھی پگھلنے لگا تھا، لیکن: ع– عقل عیار ہے سو بھیس بنالیتی ہے! لاکھ کوشش کے باوجود بھی میرا ذہن خیرآباد کے پانچ سو سالہ سفر کی پرپیچ راہوں سے باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔ میں اسی کی پگڈنڈیوں میں سرگرداں تھا۔ کبھی ماضی کے طرب انگیزمناظر پر دل بلیوں اچھلنے لگتا تو کبھی حال کی ویرانیوں پر کلیجہ منہ کو آتا۔ دل عقل کو سنبھلنے کی تلقین کرتا تو عقل دل کو تڑپنے کی دعوت دیتی۔
دل ونگاہ کی جنگ جاری تھی کہ یکایک عبدالحفیظ نے مخدوم صاحب کی غزل چھیڑدی۔

نشاں بر تختۂ ہستی نبود از عالم وآدم
کہ دل در مکتب عشق از تمنائے تو می بردم

مطلع نے یکایک قلب ونظر کی جنگ کو روک دیا اور ماضی وحال سے بیگانہ کردیا۔ نظر اوپر اٹھائی تو دیکھا کہ حسن میاں مرغِ بسمل کی طرح اضطراب شدید کے ساتھ اٹھے اور قوال کے پاس پہنچ گئے۔ ان کی کیفیت بہت شدید تھی، ان کا رقص کیا تھا، جیسے کسی نے کلیجہ نچوڑ دیا ہو، یا عشق کی آگ نے جگرکو سوختہ کردیا ہو۔ خمیدہ اٹھے اور تیزی کے ساتھ آٹھ دس چکر لگایا، پھر سوزش میں کچھ کمی آئی اور اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
عبدالحفیظ نے دوسرا شعر پڑھا:

برواے عقل نامحرم کہ ایں شب با خیالے او
چناں خوش خلوتے دارم کہ من ہم نیستم محرم

اس پر مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی میدان میں آگئے۔ گریاں وبریاں، عجیب کیف، عجیب مستی، پورا مجمع کھڑا تھا، یہ سنگ دل بھی نم دیدہ تھا، میری عقل اب مغلوب ہورہی تھی، دل کی جانب سے اس پر ملامتوں کی بارش ہورہی تھی، اس محفل نور میں عقل عیار کے پیچ وخم میں الجھے رہنا اپنے آپ کو سعادتوں سے محروم رکھنا ہے۔ اشکوں کی موسلادھار بارش، آہ وفغاں اور جذب وجنون کے اس منظر نے سرگوشی کی کہ ان صوفیہ کی چوکھٹ اپنے تمام تر زوال واِدبار کے باجود خوشبو ئے جامِ وحدت سے یکسر خالی نہیں ہے۔ بہر کیف! عبدالحفیظ نے صرف یہی دو کلام پیش کیے اور اس نے محفل اپنے نام کرلی۔ محسوس ہوا کہ گویا ہم خانقاہِ عارفیہ کی ہی محفلِ سماع میں ہیں۔ شروع سے آخر تک مستی وسرشاری چھائی رہی۔ مقطع نےبھی خوب حظ دیا۔ اہلِ دل چیخ اٹھے جب عبدالحفیظ نے یہ شعر پڑھا:

اگر پرسند سعد از عشق او حاصل چہاد اری
ملامت ہائے گوناگوں، جراحت ہائےبے مرہم

تین بجے کے قریب ہم محفل سے واپس قیام گاہ پر آگئےتھے۔ اس شب کے کون سے لمحات حاصلِ شب تھے، یہ بات قطعی طور پر میں اس لیے بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں پوری محفل میں نہیں تھا، لیکن دوسرے قوالوں کو تھوڑا بہت سن کر اندازہ یہی ہوا کہ وہی لمحات اس محفل کے حاصل تھے جن میں عبدالحفیظ ترنم ریز رہے۔
تھوڑی دیر کے بعد مولانا ناصر رام پوری بھی آگئے۔ عجیب مرد قلندر ہے، شام میں مولانا مجیب نے بذریعۂ فون انہیں بتایا کہ ہم لوگ بڑے مخدوم صاحب کےعرس اور مجمع السلوک کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لیے خیرآباد پہنچنے والے ہیں اور میاں آپ کو یاد کررہے تھے۔ اتنا سنتے ہی اس مردِ قلندر نے رختِ سفر باندھ لیا۔ کڑاکے کی سردی میں تمام تر کلفتیں جھیلتا ہوا خیرآباد آپہنچا۔ مولانا مجیب نے ان سے کہا تھا کہ آپ صبح کو نکلیں، دوپہر تک پہنچ جائیں گے اور جمعہ بعد کی تقریبِ رونمائی میں شرکت ہوجائے گی، مگر وہ دیوانہ ہی کیا جو دل کی نہ سنے۔
’’جی! اس صورت میں تقریبِ رونمائی میں شرکت تو ہوجائے گی، لیکن میاں سے ملاقات اور گفتگو کا موقع نہیں مل سکے گا۔‘‘
حضرت عمر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر غالبا ًرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عمر! تمہاری حق گوئی نے سب کو تمہارا مخالف بنادیا ہے۔ مولانا ناصر کی حق گوئی اور جرأت وبے باکی دیکھ کر بے ساختہ یہ روایت یاد آتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ خود راقم کو بھی ان کے بعض جملوں اور تعبیرات سے بعض اوقات اتفاق نہیں ہوپاتا۔
حسن میاں کے حکم پر تھوڑی دیر آرام کیا گیا۔ فجر کی نماز کے بعد مخدوم صاحب کی بارگاہ میں حاضری ہوئی اور دو زانو بیٹھ کر بہت اطمینان سے فاتحہ پڑھی گئی۔ مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی، مولانا غلام مصطفیٰ ازہری، مولانا ناصر رام پوری اور مولانا فہد سعیدی ساتھ تھے۔
فاتحہ کے بعد موبائل میں چند یادگاریں محفوظ کی گئیں۔ مولانا فہد نے مولانا فضلِ امام خیرآبادی اور ان کے پوتے مولانا عبدالحق خیرآبادی کی قبروں کی زیارت کرائی جو مسجد کی دائیں طرف دیگر چھوٹی چھوٹی قبروں کے بیچ میں تھیں۔ مخدوم صاحب کے مزار اقدس کے چاروں طرف بہت سی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ ان کے بیچ مخدوم صاحب کا روضہ گویا ستاروں کی جھرمٹ میں ماہ کامل ہو۔
وہاں سے باہر نکلے تو چائے پی گئی اور پھر فیصلہ یہ ہوا کہ وقت سہانا اور پر کیف ہے، آرام کرنے کے بجائے خیرآباد کے خاص مقامات کی زیارت کرلی جائے۔ مخدوم صاحب کے خلیفہ شیخ راجا خیرآبادی کی زیارت ہوئی،صفیہ غارپر گئے، ماضی قریب کے بزرگ مجھگواںشریف کے عارف میاں(۲۰۰۸ء) کے تعمیرکردہ قلعے کی زیارت ہوئی۔ عارف میاں ایک ملامتی قسم کے درویش تھے جن کی اعلیٰ جمالیاتی حس ہر گوشے سے جھلکتی نظر آتی ہے۔ ان کے تعلق سے مرشد گرامی کا ارشاد یاد آتا ہے: ’’عارف میاں تنہا انجمن تھے اور ان کے ساتھ ہی وہ انجمن بھی اٹھ گئی۔‘‘کہتے ہیں کہ اسی جگہ بڑے مخدوم صاحب کا مدرسہ یا مطبخ تھا۔ یہ کچھ ٹیلہ نما جگہ ہے جو مخدوم صاحب کے احاطے کی جانب شمال سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ قلعے کی تعمیر کے وقت کھدائی میں ایسی چیزیں نکلی تھیں جن سے یہاں مطبخ ہونے کی توثیق ہوتی ہے۔
عارف میاں کے اس چھوٹےخوب صورت قلعے کے تہ میں مخدوم صاحب کے مدرسہ و مطبخ کی بات چل ہی رہی تھی کہ یکایک سطح ذہن پر۱۲؍ ۱۳؍ سال کا ایک طالب علم نمودار ہوا۔صفائی روح کا پیکر، سعادت دارین سے سرشار۔سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال لگائےطلبہ کے شورو شغب سے الگ کسی کتاب کے مطالعے میں غرق ہے۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بزرگ جو تھوڑی دیر پہلے ایک عربی کتاب کا درس دے رہے تھے، اس طالب علم کے پاس سے گزر رہے ہیں۔مطالعے میں اس کے انہماک کو دیکھ کر رک جاتے ہیں۔
’’ یہ کون بچہ ہے؟‘‘
شیخ نے سامنے کھڑے ایک عالم دین سے دریافت کیا۔ لیکن قبل اس کے کہ مولانا کوئی جواب دیتے، شیخ نے طالب علم کی طرف متوجہ ہوکر براہ راست استفسار فرمایا:
’’ صاحب زادے! کیا نام ہے؟‘‘
’’ میرا نام عبدالصمد ہے اور یوں لوگ مجھے صفی کہہ کر پکارتے ہیں۔‘‘
’’ کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘
’’ سائیں پور کا۔‘‘
’’ تمھارے والد کا کیا نام ہے؟‘‘
’’مولانا علم الدین !‘‘
’’اچھا ! تو میاں مولانا علم الدین کے صاحب زادے ہیں، جبھی تو!!بیٹا آپ کو اب کسی اور کے پاس پڑھنے کی ضرورت نہیں،آج سے آپ صرف مجھ سے پڑھا کریں گے۔‘‘
’’ بیٹے!کھانا آپ مطبخ سے کھاتے ہو؟‘‘
’’ جی حضور! کھانا مطبخ سے ہی کھاتا ہوں ۔‘‘
’’اب آپ آج سے جو کچھ کھائیں گے، میری صحبت میں کھائیں گے۔‘‘
طالب علم کی جیسے زندگی کی سب سے بڑی آرزو برآئی ہو۔شیخ کی خصوصی شاگردی اور صحبت جیسے اس کی زندگی کا سب سے بڑا انعام ہو۔کچھ دنوں بعد شیخ نے اس طالب علم کو چلہ کشی کے لیے بٹھادیا۔ علم وعرفان کے نئے جہان اس پر کھلتے گئے۔ اسے اجازت وخلافت سے بھی نواز دیاگیا۔ شیخ کی توجہات سے اس نوجوان کی ایسی مقبولیت ہوئی کہ لوگ اس سے بھی بیعت واستفاضے کے لیےآنے لگے۔ دوسری طرف نوجوان کی ہر دل عزیزی بعض یاران طریقت کی چشم معاصرت کا شکار ہوگئی۔یہاں تک کہ شیخ کی خدمت میں شکایت پہنچی۔لیکن اس وقت شیخ کا دریاے کرم جوش میں تھا۔ ارشاد ہوا:
’’ تم لوگ میرے صفی کی باتیں کیا کرتے ہو۔عالم معاملہ میں میں انھیں اپنے پیرومرشد کے ساتھ پاتا ہوں۔‘‘
عارف میاں کے قلعے کی زیارت کے بعدہم لوگ خیرآباد قصبے کے اندر درگاہ حافظیہ پہنچے۔ حافظ محمد علی خیرآبادی کی یہ درگاہ خیرآباد میں مخدوم صاحب کے بعد سلسلہ چشتیہ نظامیہ کی دوسری شاخ کا دوسرا مرکز ہے۔حافظ صاحب، خواجہ سلیمان تونسوی کے خلیفہ ہیں، جن کا سلسلہ حضرت کمال الدین علامہ اورخواجہ چراغ دہلی سے ہوتا ہوا سلطان جی تک پہنچتا ہے۔ یہ درگاہ بہت ہی عالی شان ہے۔ کہتے ہیں کہ مولانا فضلِ حق خیرآبادی نے جب وحدۃ الوجود پر اپنا رسالہ لکھا تھاتو اسے حافظ صاحب کی خدمت میں پیش کرنے گئے تھےاور حافظ صاحب کی عرفانی گفتگو سن کر انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ سچ یہ ہے کہ ان مسائل پر گفتگو کا حق صرف آپ لوگوں کو ہی ہے۔ میں نے تو فقط فلسفیانہ نقطۂ نظر سے جو کچھ سمجھ میں آیا، لکھ دیاہے۔
دہلی سے کتابوں کا کارواں دوسرے دن ساڑھے پانچ بجے صبح خیرآباد پہنچا۔ سب لوگ خدشات واضطرابات کا شکار تھے اور دل ہی دل میں سلامتی سفر کی دعائیں کررہے تھے۔مجمع السلوک کو دیکھ کر جان میں جان آئی ۔ سب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہ قافلہ کہرے کی رات میں بصحت وسلامت اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ خوب صورت، دیدہ زیب، اعلیٰ طباعت، عمدہ کاغذ، ہارڈ بائنڈنگ اور شان دار فلیپ دیکھ کر طبیعت باغ باغ ہواٹھی۔ صبح ۹؍بجے ضیاء میاں تشریف لائے۔ ان کو دکھا یا گیا۔ اشک بار ہو گئے۔ انھوں نے ناشتہ لگوایا۔ محبوب میاں، جن پر رات کا خمار اب بھی طاری تھا، کہنے لگے کہ آج غریب اللہ کی یاد آرہی ہے۔ غریب اللہ خانقاہِ عارفیہ کے ایک مست دیوانے ہیں جو اللہ ورسول کا ذکر سن کر بے ساختہ اللہ اللہ کی بلند ضرب لگادیتے ہیں۔
ناشتے سے فارغ ہوئے کہ صاحبِ سجادہ حضرت شعیب میاں تشریف لے آئے۔ فرمانے لگے کہ میں صرف یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ آج جمعہ کی نماز حسن میاں پڑھائیں۔ حسن میاں نے ٹالنے کی کوشش کی تو فرمایا کہ یہ میری خواہش اور گذارش ہے اور اگر آپ اس پر بھی قائل نہیں ہوتے تو اسے میرا حکم سمجھیں، لیکن نماز آپ ہی کوپڑھانی ہوگی۔ ضیاء میاں نے کہا کہ یہ میرے دل کی بات تھی۔ میں نے رات بھی حسن میاں سے اس کا اظہار کیا تھا اور خدا گواہ ہے کہ اس پر شعیب میاں سے ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ان کے دل میں بھی یہ بات آئی۔لہٰذا حسن میاں! آپ کو نماز پڑھانی ہی پڑے گی۔ خطاب مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی فرمادیں گے۔ ازہری صاحب نے کہا کہ جمعہ بعد ضیاصاحب کو مجمع السلوک کے حوالے سے خطاب کرنا ہے، اس لیے جمعہ کا خطاب بھی حسن میاںہی فرمائیں۔ حسن میاں نے میرا نام لیا اورگاڑی آپ آپ پر آکر رک گئی۔ اسی دوران کسی نے شعیب میاں کو مجمع السلوک کی زیارت کرائی۔ آنکھوں میں اشک خوشی تیرنے لگے۔ کتاب کو چوما اور سر پر رکھ لیا۔ اس منظر کو دیکھتے ہی محبوب میاں کی زبان سے اللہ اللہ کی وہ چیخ نکل پڑی جو خانقاہِ عارفیہ کے صحن میں عام طور پر غریب اللہ شاہ سے سنی جاتی ہے۔ محبوب میاں کی اس ضرب نے دلوں کو تہ وبالا کردیا اور تمام حاضرین رقت وکیف میں ڈوب گئے۔
رات میں الہ آباد شہر سے اشفاق اور اس کے چند احباب آگئے تھے۔ صبح سات بجے بہار سے چل کر ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی (مدیر ماہ نامہ خضر راہ الہ آباد) اور مولانا طارق رضاقادری (چیف انچارج الاحسان میڈیا ، خانقاہ عارفیہ) بھی تشریف لے آئے۔ اس کے بعد لکھنؤ سے مولانافیض العزیز مرادآبادی کا گروپ آگیا۔ اس طرح خانقاہ عارفیہ کے وابستگان کی ایک اچھی تعداد جمع ہوگئی۔
تقریباً ۱۱؍بجے حضرت داعیِ اسلام تشریف لے آئے۔ آپ نمازِ فجر کے بعد خانقاہ سے چلے تھے۔ خواص مجمع السلوک دیکھ چکے تھے، حسن میاں اور ان کی ٹیم سے ملاقاتیں ہوچکی تھیں، مترجمِ مجمع السلوک مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی سے لوگ نیاز حاصل کرچکے تھے۔ اب صرف خانقاہِ عارفیہ کے دولہا حضرت داعیِ اسلام کا انتظار رہ گیا تھا۔ ان کی آمد نے رونق وبہجت میں چار چاند لگا دیے۔ ضیاء میاں کا دمکتا چہرہ دیدنی تھا۔’’ ابومیاں آپ نے مجمع السلوک کی اشاعت سے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کے اظہار واعتراف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔‘‘ شعیب میاں کی محبت اور احسان شناسی کی کیفیت بھی کم نہ تھی۔ حضرت داعیِ اسلام بھی بہت خوش تھے۔ بہت پہلے انھوں نے کہا تھا کہ مجمع السلوک کی پہلی رونمائی مخدوم شیخ سعد قدس سرہٗ کے عرس میں کرنی ہے۔ آج ان کی یہ آرزو بر آئی تھی۔ ان کے دل کا جو عالم تھا اس کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنھیں حضرت مخدوم اور مجمع السلوک سے ان کے تعلقِ خاطر کا کچھ اندازہ ہے۔
ساڑھے بارہ بجے جمعہ کی اذان ہوئی۔ ایک بجے خطبہ تھا اور ۴۵:۱۲ پر خطاب کے لیے کھڑ ا ہونا تھا۔ جب بارہ پچاس ہوگئے تو ضیاء میاں نے خطاب کے لیے مجھے حکم دیا۔ میں نے اولیا کی عظمت کے حوالے سے ایک آیتِ کریمہ کی تلاوت کی اور کہا کہ اولیا قرآن کی زبان میں اللہ کے متقی بندے ہیں۔ شیخ سعد قدس سرہٗ جن کے عرس میں آپ اور ہم حاضر ہیں انھی متقی بندوں میں سے ایک تھے۔ دریں اثنا حسن میاں تشریف لے آئے۔ میں نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے بعد حضرت شیخ سعد خیرآبادی کی کتاب ’’مجمع السلوک‘‘ کی رونمائی ہونی ہے۔ یہ کتاب داعیِ اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی عرف ابو میاں سجادہ نشین خانقاہِ عالیہ عارفیہ، سید سراواں کے زیر سرپرستی اہلِ علم کی ایک ٹیم کے ذریعے تیار ہوئی ہے، جس ٹیم کی قیادت خانقاہ کے ولی عہد حضرت علامہ حسن سعید صفوی دام ظلہٗ نے کی ہے۔ میں حضرت سے گذارش کروں گا کہ اپنے نورانی بیان سے ہم اہلِ عقیدت کو فیض یاب کریں۔
حسن میاں نے مختصر وقت میں اہلِ بیت اور عترتِ رسول کی وضاحت کرتےہوئے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق جو شخص بھی قرآن اور عترتِ رسول سے وابستہ ہوگا وہ کبھی گم راہ نہ ہوگا۔ عترتِ رسول اہلِ بیت رسول بھی ہیں اور وہ وارثینِ رسول بھی ہیں، جن کی زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر قائم ہو۔یقیناً وارث الانبیاء والمرسلین شیخ سعد خیرآبادی بھی اسی مقدس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
نمازِ جمعہ کے بعد تقریبِ رونمائی کی مجلس مسجد کے بیرونی حصے میں منعقد ہوئی۔پیچھے رونمائی کا بینر لگادیا گیا۔ سامنے علما ومشائخ بیٹھ گئے اور ان کے چاروں طرف پروانوں کی جھرمٹ لگ گئی۔ ضیاء علوی صاحب نے نظامت سنبھالی اور تعارفی کلمات کے بعد مجمع السلوک کے مترجم مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی کو دعوتِ سخن دی تاکہ وہ مجمع السلوک پر روشنی ڈالیں۔پانچ سو سالہ اس تقریب میں مولانا ضیا بے حد جذباتی ہوگئے تھے۔ جذبات سے جی بھر آیا تھا۔تاب گویائی نہ تھی۔ وہ اٹھے اور حسن میاں کے پاس جاکر ان کے کان میں کچھ کہا۔ حسن میاں مسکرائے اور کھڑے ہوگئے۔ حضرت شیخ سعد کے علم وفضل اور مجمع السلوک کی عظمت کے حوالے سے مختصر گفتگو کی۔ اب رونمائی ہونی تھی۔ آسمانِ علم وروحانیت کے چندے آفتاب اور چندے ماہ تاب اس بزم میں موجود تھے، جن میں داعیِ اسلام کے علاوہ شعیب میاںصاحب سجادہ نشین بڑے مخدوم صاحب، حضرت شاہ مینا لکھنوی کی درگاہ کے متولی راشد مینائی صاحب، پروفیسر مسعود انور علوی کاکوروی اور حضرت عین الحیدر عرف ضیاء علوی کاکوروی، مولانا شبیہ انور علوی اور ڈاکٹر حافظ شبیب انور علوی بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔
حسن میاں کی نگاہیں کسی کو تلاش کررہی تھیں۔ پتہ چلا کہ مخدوم شاہ صفی صفی پوری کے موجودہ سجادہ نشین صمدی میاں اور ان کے برادرِ گرامی افضال میاں ہنوز نہیں پہنچے ہیں۔ حسن میاں نے انہیں فون لگایا اور اتنے میں وہ حضرات بھی تشریف لے آئے۔ اب مجمع السلوک کی رونمائی ہوئی۔ مشائخ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ مجمع بھی کھڑا ہوگیا۔ عجیب خروش تھا۔ خوشیوں کا عجب عالم تھا۔ کیف وسرشاری اپنے شباب پر تھی۔ تقریبِ رونمائی کے معاً بعد بڑے مخدوم صاحب کے روضے کے سامنے محفلِ سماع شروع ہونی تھی۔ وہاںسارے مشائخ پہنچ گئے۔ شعیب میاں نے قمر وارث کے نام کا تین بار اعلان کیا، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس حسین موقع پر جب کہ شیخ سعد کا ایک دیوانہ، عاشق صادق،شیخ کی کتاب کو تحقیق واشاعت کے صبرآزما مرحلوں سے گزار کر ان کی بارگاہ میںنذر کرنے کے لیے حاضر تھا، مناسب یہی تھا کہ نیازمندی کے اس حسین اور تاریخی موقع پر نغمۂ تبریک اسی عاشق صادق کا قوال پیش کرے، جسے صحیح معنوں میں صوفیہ کا قوال کہاجاسکتاہے۔ قمر وارث کی اتفاقیہ غیر حاضری پر شعیب میاں نے چوتھی بار عبدالحفیظ کا نام لیا اور وہ اپنے ہم نوائوں کے ساتھ فوراً حاضر ہوگئے۔ اس تاریخی موقع پر حسبِ حال انہوں نے مخدوم صاحب کی شان میں حضرت داعیِ اسلام کی معروف منقبت شروع کردی، جس کے مطلع اور مقطع حسبِ ذیل ہیں:

مرادِ قلبِ ہر مرید شیخ سعد شیخ سعد
سکون وراحتِ مزید شیخ سعد شیخ سعد
اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوک
تو بس فقط ابوسعید شیخ سعد شیخ سعد

بڑی پر کیف، نشاط افروز اور حیات بخش محفل تھی۔ ہر ہر شعر عاشقوں کو مست وبے خود کیے جارہا تھا۔ وجد ورقص اور آہ وزاری کا ایسا دل نواز منظر چشم سر نے کم دیکھا ہوگا۔ صاحبِ سجادہ حضرت شعیب میاں صاحب بھی زار وقطار رو رہے تھے۔ انھوں نے حضرت داعیِ اسلام کو گلے لگالیا اور دونوں بزرگ دیر تک روتے رہے۔ عجب اُتساہ،عجیب رقت،روحانیت اور اضطراب وطمانینت کا سماں تھا۔ آج ۵۰۰؍ سال بعد حضرت شیخ کی کتاب پہلی بار شائع ہوکر ان کی بارگاہ میں پیش ہو ئی تھی، آج ان کی روح کس قدر جھوم رہی ہوگی۔ ہاتفِ غیبی نے ندا دی، دیکھو وہ سامنے وہی بزرگ بیٹھے ہوئے ہیں جو اس مقام پر آج سے پانچ سو سال قبل ’’الرسالۃ المکیۃ‘‘ کا درس دے رہے تھے۔ ان کی چہرے کی تابانی تو دیکھو جس پر آفتاب نیم روز کی کرنیں بھی شرمندہ ہیں۔ آج شیخ بہت خوش ہیں اور اپنے غلاموں کی اس احسان شناسی پر ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دے رہے ہیں۔ شاید انھوں نے ہی عالمِ معاملہ میں شعیب میاں کو اشارہ کیا ہوگا۔ شعیب میاں نے فوراً مزارِ اقدس کی ایک خوب صورت چادر منگوائی اور حضرت داعیِ اسلام کے گلے میں ڈال کر ایک بار اور لپٹ گئے اور رونے لگے۔ ذرا جوشِ سینہ تھما تو مولانا ضیاء الرحمٰن کو طلب کیا اور ایک دوسری چادر ان کے گلے میں ڈال دی۔ یہ بندۂ خدا بھی عجیب قلندر ہے، رو رو کر بے حال ہورہا تھا۔ اس وقت پھر مجھے خیال آیا کہ اگر مجھ جیسا پتھر دل اس محفل میں کچھ نرم سا ہورہا ہے تو یقیناً اس محفلِ ذکر کو ملائکۂ رحمت نے اپنے پروں سے ڈھانپ لیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگہِ التفات اور اولیائے صالحین کی روحانیت متوجہ ہے اور بطورِ خاص حضرت مخدوم صاحب کی دعائیں اور مسرتیں شاملِ حال ہیں۔
محفلِ سماع کا تسلسل وقفۂ عصر کے علاوہ جاری رہا۔ دھیرے دھیرے پورا احاطہ عاشقوں کے ہجوم سے بھرتا چلا گیا۔ میں اس وقت شاہ صفی اکیڈمی کے اسٹال پر بیٹھا ہوا تھا۔صفی پور کے نیاز میاں بھی آگئے۔ اسٹال پر لگے مجمع السلوک کے تازہ نسخوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔ اس وقت ان کی زبان سے ایک تاریخی جملہ نکلا:
’’اپنے سلسلے میں ایک کتاب تھی فوائدالفواد۔ اب دوکتابیں ہوگئیں۔‘‘
عرس کے دوران میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اب زائرین نمازوں کی بھی پابندی کرنے لگے ہیں۔ لیکن نمازیوں کی تعداد کے پیشِ نظر جگہ تنگ ہے اور طہارت خانے کم ہیں۔ متولیان کو اس پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اب عالی شان مسجد کی تعمیر بھی ضروری ہوگئی ہے۔ عصر ومغرب کے مابین قل کی محفل ہوئی اور نمازِ مغرب کے بعد ہم لوگ خیرآباد سے الہ آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔ کاش ان آبادیوں کی برکت سے کبھی دل اللہ آباد ہوجائے!
راستے بھر اس تاریخی تقریب کی حسن آرائیوں کا چرچا رہا۔ آج ۱۸؍ دسمبر ہے۔ سوچتا ہوں تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ مولانا فہد نے واپسی پر بتایا کہ شعیب میاں کہا کرتے ہیں کہ ابو میاں سلسلۂ صفویہ کے مجدد ہیں اور انھوں نے پیروں کو پیر بنادیا ہے۔ مگر سوال ہے کہ کیا ماضی لوٹ پائے گا؟ لوٹنا مشکل ہے، بہت مشکل،شاید ناممکن ۔ کیا داعی اسلام اپنے پیران عظام کے مشن کو زندہ کرپائیں گے؟ کیا حالات انھیں کچھ کرنے کا موقع دیں گے؟ جو انقلاب انھوں نے اپنے سلسلے کی حد تک برپا کیا ہے، کیا اس انقلاب میں وسعت وآفاقیت پیدا ہوگی؟؟؟ یہ اور اس طرح کے وہ سوالات ہیں جو دل ودماغ کو پریشان کیے ہوئے ہیں۔ امید وبیم کی کشاکش ہے اور میں ہوں۔ خوش فہمیوں کی جنت کی سیر کرنا اور ناامیدیوں کے صحرا میں بھٹکنا، اہل نظر کا شیوہ نہیں، البتہ مومن اللہ کی رحمتوں سے مایوس کب ہوتے ہیں!
رہے نام اللہ کا!!

ذیشان احمد مصباحی

Previous articleخیرآباد کا ایک یادگار سفر
Next articleایک نورانی سفر
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here