جان ہے بےتاب

0
176

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب
کب بھلا ! ناچیز کو ،مقصود ہوگا دستیاب

بارِ خاطر جو نہ گزرے تو مری فریادسن
اب عطا کردے مرے دل کے سوالوں کا جواب

صدقے جاؤں تیرے ،ساقی!ظرف کو میرےسمجھ
ہوش میں آؤں نہ ایسا کر عطا مجھ کو شراب

دل کو لے ڈوبا غمِ ہجر و فراق، اور کر دیا
اشیاقِ یار کے سیلاب نے جاں کو خراب

سوزشِ عشق و محبت نے تپایا اس قدر
آتشی رنگ آگیا دل ہو گیا سیخِ کباب

کوئی آمیزش نہ ہو، خالص رہوں تیرے لئے
ہو عطا مجھکو ،تری دیوانگی کا ہی خطاب

کب تلک میں انتظارِ دید میں مرتا رہوں
اب خدارا چہرہ محجوب کر دے بے حجاب

موجِ دریائے گنہ میں ہوں پھنساچشمِ کرم
عرض حالت کیا کروں، ہے آپ پر ظاہر غیاب

لمحہ بھر میں دل سحرؔ کا نور سے معمور ہو
اک مکمِل کی جو  پڑ جائے  نگاہِ انتخاب

از:محمد شبیرقادری  سحرؔ اورنگ آبادی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here