Monday, January 30, 2023

جدید مسائل کا حل عقل ونقل کے مطابق ہو نا چاہئے

     آج کا دور نظریاتی اور ڈپلومٹک برتری کا دور ہے ، نئی نسل کسی بھی فکر کو قبول کرنے سے پہلے تحقیق کرتی ہے ـ جو نظریات ،عقل ونقل سے قریب ہوتے ہیں اس کے حاملین خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں آج کے دور میں ہر وہ نظریہ فروغ پارہا ہے جس میں کسی حد تک عقل کو اپیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایسے میں ہم حاملین کتاب و سنت اور دین فطرت کے عامل اور داعی کو چاہیے کہ ہم اپنے دینی و فقہی نظریات کو عقل و نقل کے مطابق پیش کریں۔

 اولا: ہم اپنے دینی و فکری نظریات کو کتاب و سنت سے مدلل کریں۔ 

دوم: دل و دماغ کو قائل کرلینے والے اسلوب میں پیش کریں۔

 یوں ہی فقہی مذاہب کے اختلافات کا بھی گہرا مطالعہ کریں اور امت مسلمہ کو در پیش جدید مسائل کے حل کے وقت کتاب و سنت میں پہلے غور کریں اور پھر اقوال مجتہدین امت پر نظر ڈالیں جوفقہی قول، عقل و نقل سے زیادہ قریب ہو اس کی روشنی میں مسائل کا حل پیش کیا جائے ـ تاکہ امت کے مسائل کم سے کم ہوں اور اغیار کو دین فطرت پر اعتراض کا موقع ہاتھ نہ آئے ۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم قرآن و سنت اور ائمہ مذاہب کے اقوال و اصول کا گہرائی سے خود مطالعہ کریں گے اور اپنی نئی نسل کو اصل مصادر سے علوم و فنون کے حصول کی ترغیب دیں گے۔ 

خضرِ راہ ، جولائی ۲۰۱۶ء

Share

Latest Updates

Frequently Asked Questions

Related Articles

اہل عقیدہ کے پانچ طبقات

حضور داعی اسلام دام ظلہ العالی کی خدمت میں علما کی ایک جماعت کے...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد

عارف باللہ مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں...

اللہ جیسے چاہے اپنا دیدار کرائے

۲۷؍اگست ۲۰۱۶ء بعد نمازِ مغرب حضرت داعی اسلام دام ظلہ کی ہفتہ واری عرفانی...

عوام اور خواص کے عمل میں فرق

سلطان العارفین حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۷؍ویں عرس کے موقع پر...