اظہارِ معذرت واعلانِ صداقت:ذیشان احمد مصباحی

0
111
اللہ کریم کی بندگی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مشروط اطاعت ایک بندۂ مومن کے لیے فرضِ اولین ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام اہلِ قبلہ -ضروریاتِ دین کے قائلین -کو مسلمان اور مستحقِ نجات سمجھنا اور جادۂ حق وصداقت، طریقِ سوادِ اعظم کو برحق اور درست سمجھنا مسلکِ اہلِ سنت وجماعت ہے، جو صحیح معنوں میں فرقۂ ناجیہ ہے۔ اس سے ذرہ برابر عدول گمراہی اور موجبِ ہلاکت ہے۔
اس کے ساتھ ہی بندۂ پُر تقصیر اس بات کا قائل ہے کہ:
۱۔ جو باتیں ضروریاتِ دین کا حصہ نہیں، ان کا انکار کفرنہیں اور اسی طرح جو باتیں ضرویاتِ اہلِ سنت نہیں، ان کا انکار گمرہی وضلالت نہیں۔ وہ عقائد ومسائل جن میں خود اساطینِ اہلِ سنت مختلف ہوں، ان میں کسی بھی ایک رائے کے حامل ومؤید کی تضلیل نہیں کی جا سکتی، چہ جائیکہ تکفیر کی جائے۔
۲۔ تکفیروتضلیل، مسائلِ تقلیدیہ سے نہیں کہ ایک عالم نے کسی کی تکفیر یا تضلیل کردی تو دوسرے پر بھی اس کی تکفیر وتضلیل واجب ہوجائے۔ دوسرا شخص اگر صاحبِ نظر وتحقیق ہوتو اس کے نزدیک جب تک متعلقہ شخص کا انکارِ ضروریاتِ دین، یا انکارِ ضروریات اہلِ سنت واضح-ناقابل تاویل- طور پرثابت نہ ہوجائے، اس پر تکفیر یا تضلیل واجب نہ ہوگی۔ چنانچہ ہر عالم کو یہ حق ہے کہ اپنی تحقیق کی روشنی میں کسی کی شخصی تکفیر یاتضلیل کرے، لیکن اس تحقیق کو دوسرے پر بھی واجب کرے، یہ حق کسی بھی عالم کو نہیں۔
۳۔ گذشتہ پچاس سالوں میں بطورِ خاص، تکفیر وتضلیل کے معاملے میں اہلِ سنت کےدار الافتاؤں میں ایسی عجلت اور بے احتیاطی پیدا ہوگئی ہےکہ اس وقت اکابرِ بریلی، کچھوچھہ، مارہرہ، مبارک پور، بدایوں، رام پور، حیدرآبادمیں شاید ہی کوئی مقتدر دینی وعلمی شخصیت ہو، جس کی تکفیر یا تضلیل، یا کم از کم صلح کلیت پر چندفتاوے صادرنہ ہو گئے ہوں۔ ایسی صورت میں بندۂ پرتقصیر کے سامنے دو ہی راستے ہیں :
۱-سب پر اعتماد کروں اور نتیجے میں سب کے ساتھ، میں بھی سب کی تکفیر یا تضلیل کروں۔
۲-کسی پر آنکھ بندکرکے اعتماد نہ کروں اور جب تک کسی کی تکفیر یا تضلیل پرہمارا اپنا علمی انشراح نہ ہو،اسے تسلیم نہ کروں۔
بندۂ پر تقصیرعمیق غور و خوض کے بعد دوسرے پہلو کو اپنے لیے ترجیح دیتاہے۔
اس تمہید کے بعد یہ بندہ عرض گذار ہے کہ اس سال ۹؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مخدوم سید اشرف جہاں گیر سمنانی قدس سرہ کے عرس میں اپنے احباب کے ساتھ شریک ہوا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ ایک دن پہلے جامع اشرف کے اسٹیج سے’’ اظہارِ موقف واعلان برات‘‘ کے زیر عنوان ایک اعلامیہ پیش ہوا، جس پر ارباب خانوادۂ اشرفیہ حسنیہ اور فارغین جامع اشرف میں شدید اضطراب نظر آیا۔ جامع اشرف کے چند فارغین نے اپنے طورپر اس پردۂ زنگاری کے پیچھے معشوقان ستم کیش کی بھی نشاندہی کی۔معتمدذرائع سے ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض حضرات جو دستخط کرنے والے ہیں، وہ بھی اپنی سادگی و مجبوری کا اظہار کر رہے ہیں۔
بہر کیف!اس کے بعدبہ نفس نفیس اس اعلامیہ کو دیکھا توبعض باتیں مجھے پسند آئیں،جبکہ بعض باتوں پرشدید حیرت ہوئی۔ ان میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو’’ غیر شرعی اعمال و نظریات کے سبب سخت گمرہی میں مبتلا‘‘ بتایا گیا ہے اور اس حوالے سے’’ ہندو پاک کے ذمہ دارعلماو مفتیان کرام کی تحریروں و تقریروں‘‘ کو عمومی طورپر بلا حوالہ بنیاد بنایاگیا ہے۔
راقم السطور گذشتہ پندرہ سالوں سے اکابر مشائخ اہل سنت کے خلاف ذمہ دار و غیر ذمہ دار علماکے فتاوائے تکفیر و تضلیل پڑھتارہا ہے اور اب اس وقت میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ ان میں کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار؟ تاہم آبروئے خانوادۂ اشرفیہ شیخ طریقت حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں دام ظلہ وعم فضلہ کا میرے دل میں ایک احترام تھا اور ہے کہ ان کا منہج تحقیقی ہے ۔ ٹی وی کے مسئلے میں پوری بریلوی جماعت ان کے خلاف تھی، لیکن وہ اپنی جگہ اٹل رہے،یہاں تک کہ اسی جماعت کے لوگوں نے ان کے دین، مسلک، نسب اور علم پر رکیک حملے کیے، لیکن وہ اپنی جگہ جبل مستقیم بنے رہے۔ اسی لیے میں ان کو تحقیقی مزاج و منہج کا حامل اورعام بریلوی زبان و اسلوب اور انفعالات سے بالاتر سمجھتاہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری گذشتہ ربع صدی سے عالمی تناظر میں اسلام کی پر امن پیش کش اور کتاب وسنت کی روشنی میں اہل سنت کے معتقدات اور معمولات کی عصری اسلوب میں ترجمانی کر رہے ہیں۔ تعلیم، تصنیف، تبلیغ ، تحقیق، دفاعِ اسلام و مسلمین، احقاق حق اور ابطال باطل میں جو ان کی مجموعی خدمات ہیں، ان میں کوئی دوسرا عالم انفرادی طور پر ان کا شریک و سہیم نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے بعض بیانات کے سبب بڑے متنازع رہے ہیں، یہاں تک کہ علماے اہل سنت میں سے ایک طبقے نے ان کی تکفیر کی، دوسرے نے ان کی تضلیل کی، جب کہ ایک تیسرا بڑا طبقہ ان کے ساتھ ہے۔ ہندوپاک کےمتعدد علمی وروحانی مراکزکے سرکردہ علما و مشائخ اس تیسرے طبقے میں شامل ہیں۔ خود خانوادۂ حسنیہ اشرفیہ کچھوچھہ میں بھی ایسے متعدد افراد تلاش کیے جاسکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی کا ایسے فتویٰ پر دستخط کرنا اور عام علما و مفتیان کرام پر اعتماد کرنا مجھے عجیب لگا۔
ہزاروں دیگر علما کی طرح راقم السطور بھی فیس بک پر اپنے خیالات و افکار لکھتا رہتا ہے۔ میری یہ تحریریں عمومی ہوتی ہیں۔ میں کبھی نام زد طور پر کسی پر تبصرہ نہیں کرتا۔ حسب معمول ایک دن میں نے فیس بک پر ایک ایسا جملہ لکھ دیا، جس میں اس بات کا اظہار تھا کہ کسی بھی شخص کو اپنی رائے دلیل سے رکھنی چاہیے، نہ یہ کہ جب اس کی بات ہو تو تحقیق کرے اور دوسروں سے اختلاف کرے اورجب دوسرے کی بات آئے تو اس میں عام علما کی رائے پر تصدیق کر دے۔ میں نے ایسے رویے کے بارے میں یہ لکھا کہ ’’یہ شریعت نہیں، سیاست ہے!‘‘
میری یہ تحریر نام زد طور پر کسی شخصیت کے لیے نہ تھی، ایک عام بات تھی۔ تاہم یاران نکتہ داں نے اسے حضرت سید مدنی میاں پر منطبق کر دیا۔ یاللعجب!
چہ خوش است ہم زبانی، بہ حریف نکتہ دانی
کہ سخن نہ گفتہ باشم، بہ سخن رسیدہ باشد
گو کہ میری بات بطور خاص ان کے لیے نہ تھی، عام تھی، تاہم اس انطباق کے بعد اگر حضرت قبلہ کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی ہے تو میں کھلے دل سے ان سے معذرت خواہ اورمعافی کا طلب گارہوں۔ اسی طرح میں ان تمام محبین و مخلصین سے معافی کا طلبگارہوں، جن کابھی میری بات سے دل دکھا ہو۔
اس کے ساتھ ہی مودبانہ عرض گذار ہوں کہ:
۱- اہل سنت کی ایک نمایاں شخصیت کے خلاف ایسے مجہول و بے بنیاد فتوے پر دستخط کرنا علمی وتحقیقی منہج کے خلاف ہے۔
۲-اگر کسی پر اظہار موقف واجب ہی ہو گیا ہو تو یہ کام اسے تفصیلی دلائل کی روشنی میں کرنا چاہیے، نہ کہ عام اور مجہول علما کے فتوے کی تصدیق کرنی چاہیے۔ کیونکہ ایسی تصدیق ہونے لگے تو اس وقت ایں قدرسے آں قدر تک، علما و مشائخ اہل سنت میں سے کسی ایک کا بھی ایمان و اسلام سلامت نہیں بچے گا۔
۳-ہر شخص کو اپنی تحقیق پیش کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے، لیکن کوئی شخص دوسرے کو اس کے لیے مجبور کرے، یہ حق کسی کو بھی نہیں، جبکہ اس بیان کے اندر یہ بھی ہے کہ اس رائے سے اختلاف کرنے والاخانوادۂ اشرفیہ کا کوئی فرد، خانوادۂ اشرفیہ کا ترجمان نہیں ہو سکتا اور فارغین جامع اشرف میں کوئی عالم اس رائے سے اختلاف کرے تو اس کی سند کالعدم ہو جائے گی۔ مذہب تحقیق میں اس جبر کو شامل نصاب کیے جانے کا جواز کیا ہے؟میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ زوال و ادبار کے اس عہد میں اہل اسلام کی حفاظت کرے، اہل سنت میں اتحاد و اتفاق کی سبیلیں پیدا فرمائے اور فروعات میں اختلافات کو برداشت کرنے اور توسع پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا فرمائے۔
پس نوشت: فیس بک پر میری تحریر خاص میری رائے تھی اور یہ تحریر بھی خالص میری ہی ہے۔ اسے خانقاہ عارفیہ یا کسی دوسرے شخص یا ادارےسے جوڑنا سراسر زیادتی ہے۔ کسی ادارے یا خانقاہ میں ہونے کے یہ قطعی معنی نہیں کہ میری اپنی کوئی رائے ہی نہیں، نہ یہ مطلب ہے کہ میرے کسی بیان کا ذمہ دار کسی دوسرے فرد یا ادارے کو بنادیا جائے۔نہ میں اس ادارے میں ہوں جہاں Gun-Pointپراپنے موقف پر دستخط کرالیاجاتا ہے۔
Previous articleدلوں کا تقویٰ محبت ہے ۔ سید قمر الاسلام
Next articleصوفیانہ کلام
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here