اطاعت و پیرویِ آنحضرت ﷺ

0
45

جو کہ بندہ(۱) ہے رسول اﷲ کا
 خاص بندہ ہے وہی اﷲ کا 
جو ہے جان و مال سے ان پر فدا(۲)
 بس وہی غوث و قطب ہے باخدا 
زندگی بے شک ہے اس کی زندگی 
جو کرے پابندی حکمِ نبی
 جو عمل سے خالی ہو وہ سر بسر 
فاسق و فاجر ہے بے خوف و خطر
 اپنی خواہش(۳) کی کرے جو بندگی
 در حقیقت وہ ہے مردود و شقی
 وہ مریدِ صادق ہے اے خوش صفات 
جو کرے پابندی صوم و صلوٰۃ 
فرض و واجب کو جو چھوڑے برملا 
عین گمراہی میں وہ ہے مبتلا 
دیدہ و دانستہ ترکِ بندگی 
شرع میں یہ ہے علامت کفر کی(۴)
 یک سرِ مو جو شریعت سے ہٹا 
مردِ گم رہ ہے وہ مغضوبِ خدا 
جو شریعت کے مقابل عقل کی
 پیروی کرتا ہے وہ ہے بدعتی(۵)
 جو ہو گستاخِ رسولِ کبریا 
عین کافر ہے وہ مردودِ خدا
 اُس کی باتوں میں کبھی ہرگز نہ آ 
گو دکھائے لاکھ زہد و اتّقا 
روحِ مذہب جانِ ایمان و یقیں 
اتباع و عشقِ ختم المرسلیں
 جملہ عالم پر بلا چون و چرا 
واجب و لازم ہے شرعِ مصطفی 
جو نبی کے حکم سے پھر جائے گا 
گمرہی میں وہ فقط کھو جائے گا 
صدق دل سے اے سعیدِؔ بے نوا 
سنّتِ نبوی پہ قائم رہ سدا 
سنّتِ نبوی(۶) کو جو زندہ کرے 
سو شہیدوں کا ثواب اس کو ملے
 اہل سنت و الجماعت ہے وہی 
جو کرے پابندیِ حکمِ نبی 
صورتِ مجنوں بدل کر اپنا بھیس
 عاشق نادیدہ ہو مثلِ اویس

(۱) فیروزاللغات میں ہے:(بَنْ دَہْ)[ت۔ا۔مذ](ا)غلام (۲)نوکر۔ملازم (۳) نیازمند۔ خاکسار (۴)انسان۔ بشر۔آدمی(۵)عابد۔زاہد۔ سرجھکادینے والا۔حکم ماننے والا۔جمع: بندگان۔ ابتدائی تینوں معنی یہاں درست ہیں۔ اسی طرح ’’حکم ماننے والا‘‘ کے معنی بھی یہاں درست ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّہَ(النساء:۸۰)’’ جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اﷲ کا حکم مانا۔‘‘ 

(۲) اتباع رسول کے بغیر ولایت کاتصور حماقت ہے۔ تمام علماے اسلام کا اس پر اتفاق ہے۔ چوں کہ حق کی رسائی صرف اتباع رسول کے واسطے سے ہی ممکن ہے۔ اب یہ اتباع جس قدر بڑھتا جائے گا،ظاہر و باطن سنورتے جائیں گے اور انسان مسلمان سے مومن، متقی اور پھر مقامات ولایت سے گزرتے ہوئے مقام عبد یت تک پہنچ جائے گا۔

(۳) وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَن ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ أَمْرُہُ فُرُطاً(الکہف:۲۸) اور اس کا اتباع نہ کروجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیاہے،جو اپنی خواہشات کابندہ ہے اوراس کامعاملہ حد سے بڑھاہواہے۔

(۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :العھد الذی بیننا وبینھم الصلوٰۃ،فمن ترکھا فقد کفر (مشکوٰۃ،کتاب الصلوٰۃ،الفصل الثانی،بحوالہ احمد ،ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) ’’ہمارے اورمسلمانوں کے درمیان وجہ امان نماز ہے۔ جس نے نمازچھوڑدی وہ اسلام سے باہرچلاگیا۔‘‘ ایک دوسری حدیث ہے :لا تترک صلوٰۃ مکتوبۃ متعمداً فمن ترکھا متعمداً فقد برئت منہ الذمۃ ’’قصداً فرض نماز مت چھوڑو، جس نے قصداًفرض نماز چھوڑی وہ اللہ کی پناہ سے نکل گیا۔‘‘ (ایضاً بحوالہ ابن ماجہ) 

(۵) حافظ ابن حجرعسقلانی نے لکھاہے:بدعت سے مراد وہ اعتقاد ہے جو اہل سنت وجماعت کے خلاف ہو۔ (فتح الباری:۲/۲۷۹)علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:بدعت محرمہ یاضالہ وہ نیاکام جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف اوراس کا مغیِّرہواوراس کی بنیاد کسی شبہ پرہواوراس کودین قویم اورصراط مستقیم بنالیاجائے۔ (ردالمحتار :۲/۲۵۶،بیروت) ۶؎ من تمسک بسنتی عندفسادامتی فلہ اجر مأۃ شھید(مشکوٰۃ، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی) میری امت میں فساد آجانے کے وقت جس نے میری سنت کو مضبوطی سے تھام لیا اس کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here