مشترک امور کی بنیادوں پر تمام ہندوستانیوں کا اتحاد ممکن

0
56
توحید اور انسانیت تمام مذاہب میں مشترک ہے : خانقاہ عارفیہ میں منعقدقومی یکجہتی کانفرنس میں سوامی اگنی ویش کا اظہار خیال
خانقاہ عارفیہ ، سید سراواں، الٰہ آباد
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب یہاں کےصوفیوں اور سنتوں کی دین ہے ۔ انھوںنے اس سرزمین پر امن ومحبت ، رواداری ومساوات، میل ملاپ اور بین الاقوامی سطح پر قومی یکجہتی کادرس دیا ہے ، جو ملک کی اجتماعی سالمیت وحفاظت ، امن وامان اور ترقی کے لیے ناگزیر تھا۔آج جب کہ غیر امن پسندلوگ دین ومذہب کے نام پر ملک میں فساد وآتنک پھیلانے اور ملک کی امن وشانتی کا گلا گھونٹنے میں سرگرداںہیں ،ایسے حالات میں ضروری ہے کہ قوم ومذہب کے حقیقی نمائندگان ایک بارپھر وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کا نعرہ لگائیں اور ملک کی ترقی واصلاح اور شانتی کے لیے ملکی سطح پر بین المذاہب وبین المسالک اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم کریں ، تاکہ ہمارا ملک اپنی عظمتِ رفتہ اور شوکتِ گم گشتہ کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑا ہو۔ ان خیالات کا اظہار خانقاہ عارفیہ، سید سراواںالٰہ آباد میں جشنِ مولائے کائنات کے موقع پر منعقد قومی یکجہتی کانفرنس میں شریک اربابِ علم ودانش نے کیا۔
پروگرام کے ناظم مولانا عارف اقبال مصباحی نے کہا کہ توحید اور تعلیم انسانیت پر تمام اہل مذاہب متفق ہیں ۔ ہمیں انہیں متفقہ اور مشترکہ مسائل میں اتحاد کی راہ تلاش کر ملک میں امن و امان ، محبت و رواداری اور انسانی جذبات کو فروغ دینا ہوگا ۔ مشترک امور میں سب ایک ساتھ رہیں اور مختلف امور میں ہر شخص اپنی فکر اور مذہب پر عمل کرے ۔ Common Minimum Program اقل ترین منصوبہ بندی کے ذریعہ ہی ملک میں اتحاد و اتفاق کی فضا سازگار کی جا سکتی ہے ۔ معلوم تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اقل ترین منصوبہ بندی کا آغاز کیا ۔ یہود مدینہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے منکر تھے ، ان کو صرف توحید خالص پر جمع ہونے کی دعوت دی جو توحید کے دعوے دار تھے ۔ 
 اس محفل کے چیف گیسٹ سوامی اگنی ویش نے توحید پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا کا مالک ایک ہے ،انھوں نے سارے ویدوں اور اپنشدوں کے حوالے سے یہ واضح کیا کہ کسی بھی وید اور اپنشد میں بت پرستی کی تعلیم نہیں ہے ، بلکہ ویدوں اور اپنشد میں تو توحید کی ترغیب وتعلیم اور بت پرستی کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔شراب کے حوالے سے بھی سوامی جی نےکہا کہ جب ہندوستان آزاد ہواتھا تو اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ تم لوگ مجھے صرف ۴۸ گھنٹے کے لیے حکومت کی باگ ڈور دے دینا ، ان گھنٹوں میں سارےشراب کے اڈوں کومیں نیست ونابود کردوں گا ۔ 
تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے سوامی جی نے کہا کہ ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سارے بچوں کو بلاتفریق دین ومذہب تعلیم دینے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ آخر ہمارے سرکاری اسکول ایسے کیوں ہیں کہ وہاں کسی سرکاری افسر یا ملازم کے بچے تعلیم حاصل نہیں کرتے ؟ حکومت ایک دن میں ان اسکولوں کو درست کر سکتی ہے ، اگر سارے لیڈروں اور افسروں پر یہ واجب کر دے کہ وہ اپنے سارے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں ہی تعلیم دلائیں ۔ 
آخر میں اویس رضانے بارگاہِ نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام میں سلام پیش کیا اور خانقاہِ عارفیہ کے زیبِ سجادہ حضور داعیِ اسلام کے ایما پر ان کے فرزندِ اوسط مولانا حسین سعید صفوی نے دعا کی اور محفل کا اختتام ہوا۔یہ پروگرام شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا ۔ جو ایک مدت سے تعلیمی ، ثقافتی اور رفاہی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہے ۔ 
بعد نمازِ عشامحفلِ سماع منعقد ہوئی۔ شجرہ خوانی کے لیے اویس رضا اپنے ہمنواؤں کے ساتھ آئے اور بڑے ہی دلفریب ودل گداز انداز میں شجرہ خوانی کی ۔ ساری محفل پراخیر تک ایک وجدانی کیفیت رہی اور لوگ خوب محظوظ ہوئے۔ شجرہ خوانی کے بعد خانقاہ کےقوال جناب عبد الحفیظ صاحب نے اپنے نفیس وجاں گداز لب ولہجے میں قوالی پیش کی ۔خانقاہ عارفیہ، سید سراواں کے زیب سجادہ داعی اسلام حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کی دعا پر محفل کا اختتام ہوا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here