ہندوستانی مسلمانوں کا حشر – ایک بڑا سبب

0
764

اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کا جو حشر ہورہا ہے، اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب فرقہ پرستی اور تکفیریت کو قرار دیا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے اکابر علماے دیوبند کی تحریروں کو کفریہ قرار دیتے ہوئے ان کی تکفیر کی اور اس پر من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کی مہر کردی۔
اب سوال ہے کہ کیا مقام تحقیق میں کسی پر علمائے دیوبند کی تکفیر پر انشراح صدر نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ جس طرح علامہ فضل حق خیرآبادی نے شاہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی تھی اور من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر سے اسے موکد کیا تھا، اس کے باوجود فاضل بریلوی نے شاہ اسماعیل کی تکفیر سے سکوت برتا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ فاضل بریلوی کی اس تکفیر کو شخصی تکفیر کے روپ میں دیکھا جائے یا جماعتی تکفیر کے روپ میں؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ اس تکفیر کو خود فقہی تکفیر سمجھا جائے، جس طرح فاضل بریلوی نے شاہ اسماعیل دہلوی پر فقہی کفر کا قول کیا ہے، یا جس طرح ان کے صاحب زادے مولانا حامد رضا خان بریلوی نے مولانا عبد المقتدر بدایونی کی جو تکفیر کی ہے، اسے دیکھنا چاہیے، یا اسے حقیقی اور کلامی تکفیر سمجھا جائے؟
بریلوی جماعت کا جو عملی رویہ ہے ، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ :
۱-اب جو بھی علمائے دیوبند کی تکفیر سے سکوت کرے گا، اس کی تکفیر کی جائے گی، چاہے تحقیقاً ہی کیوں نہ ہو۔
۲-یہ تکفیر شخصی نہیں، بلکہ جماعتی اور گروہی ہے۔
۳-یہ تکفیر فقہی نہیں، بلکہ کلامی اور حقیقی ہے۔
لیکن جب اس مسئلے پر بریلوی علما سے باتیں کیجیے تو وہ عجیب گو مگو کی کیفیت میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ 
۱-وہ ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ مسئلۂ تکفیر تقلیدی نہیں، دوسری طرف اس تکفیر سے سکوت کرنے والوں کو دین سے باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے بھی انہیں دیر نہیں لگتی۔
۲-ان کے سب سے بڑے مناظر سے بھی آپ کمرے میں آف دی ریکارڈ بات کیجیے تو وہ کہتا ہے کہ میں ان چار کے سوا کسی بھی پانچوے دیوبندی عالم کی تکفیر نہیں کرتا، یہ تکفیر صرف چار افراد کی ہے، نہ کہ عام علمائے دیوبند کی، چہ جائے کہ عوامِ دیوبند کو ہم کافر کہیں، لیکن بر سرعام جب ان کی تحریر وتقریر منظر عام پر آتی ہے، تو اس سے صاف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سارے دیوبندی، عوام و خواص سب کافر ہیں۔ چند حوالے آپ بھی دیکھیں:
الف: اگر واقع میں وہ شخص وہابی ہے، وہابیہ کے کفریہ عقائد رکھتا ہے، یا کبرائے وہابیہ جن کو علماے حرمین شریفین نے باتفاق کافر ومرتد کہا، ان کے اقوال کفریہ پر مطلع ہوکر انھیں اپنا پیشوا یا کم از کم مسلمان جانتا ہے، تو یہ شخص بھی کافر ،مرتد ہے۔ اور مرتد کا نکاح نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔اور اس صورت میں عورت(جو اس شخص کی منکوحہ ہے، اس سے طلاق کے بغیر ہی دوسرے مرد سے)نکاح کرسکتی ہے۔
(فتاویٰ امجدیہ:۲/۵۶)
ب-دیوبندیوں پر علمائے حرمین طیبین نے کفر کا فتویٰ دیا ہے، کیوں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے ہیں، یا توہین کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، اور ایسے لوگوں کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں، بلکہ ان کے کفر پر مطلع ہوکر اگر انہیں مسلمان سمجھ کر ان کی اقتداء کی تو خود بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
(فتاویٰ بحر العلوم، جلد اول، ص: ۴۰۵)
ج-نکاح کے وقت اگر بکر غیر مقلد تھا، تو نکاح منعقد ہی نہ ہوا۔ اور اگر بعد نکاح وہابی ہوا تو اب نکاح باطل ہوگیا۔ لہٰذا زید اپنی لڑکی کا نکاح بلا حصول طلاق دوسرے سے کرسکتا ہے۔وہابیت، غیر مقلدیت ارتداد ہے۔(فتاویٰ فیض الرسول: ۱/۶۰۸)
ج-دیوبندی فرقہ ہو یا کوئی دیگر گمراہ فرقہ، اپنے نظریات(عقائد) تحریرات جوان کتابوں میں ہیں، کی وجہ سے خارج از اسلام ہوجاتے ہیں۔
(دیوبندی امام کے پیچھے نماز کا حکم، صفحہ اول، از مولانافیض احمد اویسی) 
یہ صرف مشتے نمونہ از خروارے ہے، ورنہ یہاں حوالوںکا انبار ہے۔
۳-اس تکفیر کو سب کلامی اور حقیقی تکفیر سمجھتے ہیں، جس سے انسان کلی طور پر اسلام سے خارج اور مرتد ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ اب تک راقم السطور کی نظر سے فاضل بریلوی کی صراحت نہیں گزری کہ وہ اسے تکفیر کلامی سمجھتے تھے، اگرچہ عام طور سے ان کی تحریروں سے اسی کا گمان گزرتا ہے۔
شاید آپ اسے بے وقت کی راگنی کہیں، لیکن درست بات یہ ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر میں بےاحتیاطی نے ہمیں جس موڑ پر کھڑا کردیا ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہمارے سروں پر قیامتیں ٹوٹ رہی ہیں، اس کے باوجود اتحاد ملت کی کوئی راہ اگر ہمیں سجھائی نہیں دیتی، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ان فتووں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا ہے کہ ظالموں کے ہاتھوں پے بہ پے ذلیل و خوار اور مضروب و مقتول ہونے کے بعد بھی مسلمانوں کی حمیت دینی بیدار نہیں ہوتی، ان کا رشتۂ ایمانی قائم نہیں ہوتا، اتحاد ملت کی سبیل نہیں نکلتی۔ ہر کوئی ڈرتا ہے کہ اس طرف قدم بڑھایا تو قدم اٹھنے سے پہلے کہیں ہمارے ایمان کا جنازہ نہ اٹھ جائے۔
یہ ملت اسلامیہ ہند کے نوجوان ذی علم، مخلص اور باشعور علما کے لیے آخری وقت ہے کہ وہ ان تکفیری فتاویٰ پر نظر ثانی کریں، کفرواسلام کی حقیقت کو واضح کریں۔ یہ بتائیں کہ مسلمان انہی باتوں کا کھلم کھلا انکار کرکے کافر ہوتا ہے، جن کو تسلیم کرکے وہ مسلمان ہوا تھا۔ کسی کا فتویٰ، خواہ جتنا بھی اہم ہو،وہ قرآن نہیں، جس کے ماننے نہ ماننے پر اسلام وکفر کی بنیادیں قائم ہوں۔ ہمارے علما اپنی تمام تر عظمتوں کے باوجود انسان ہی ہیں، ان کی خطاؤں کو ڈھونا ، یا ان کے اجتہادات پر اڑے رہنا، خواہ ملت کا ہر عضو ہی کاٹ کر درندوں کا لقمۂ تر بنادیا جائے، غیور نوجوان علما سے متوقع نہیں۔ آج میں قاہرہ کی سرزمین پر الازہر کے احاطے میں ہوں۔ میں یہاں کے محقق طلبہ سے جرأت وپیش قدمی کی خصوصی توقع رکھتا ہوں۔

Previous articleعقل و روح کی کشمکش | بالی ووڈ اداکارہ زائرہ وسیم کی تحریر
Next articleاہل خانقاہ کا اتحاد اور خانقاہی نظام کا احیا وقت کی اہم ضرورت :سید سلمان اشرف جائسی
ذیشان احمد مصباحی
اکیسوں صدی میں جن افراد نے مذہبی صحافت کو زندہ اورتابندہ کیا، مذہبی ادب کے خشک جزیروں کی سیاحی کرتے ہوئے انھیں اپنی وسعتِ نظر، عمیق فکر، اعلیٰ تحقیقی وتنقیدی شعور اور بے باک قلم کے ذریعے دوبارہ آباد کیا ان میں ایک نمایاں نام مولانا ذیشان احمد مصباحی دام ظلہ العالی کا ہے۔ آپ کی پیدائش۵ ۲؍مئی ؍۱۹۸۴ء کو مغربی چمپارن، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۹۹ء میں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کا رخ کیا اور ۲۰۰۴ء میں وہاں سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔ فراغت کے بعد ماہنامہ جامِ نور، دہلی سے وابستہ رہے اور ۲۰۱۲ء تک اس کے منصبِ ادارت پر فائز رہے۔۲۰۱۲ء سے تاحال جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد میں رہ کر اس کی علمی اور فکری فضا کو مزید ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔شعر وشاعری سے بھی شغف ہےاور مقالات ومضامین کی تعداد ڈیڑھ سو سے متجاوز ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here