حسنین کریمین کی قربانی اور پیغام استقامت

0
49

آج خانقاہ عالیہ عارفیہ جامعہ عارفیہ سید سراواں الہ آباد میں ذکر حسنین کریمین علیہماالسلام کا انعقاد کیا گیا. محفل کا آغازحافظ نوشاد عالم نے تلاوت کلام پاک سے کیا اس کے بعد مولوی اویس رضاگجراتی نے منقبت کے اشعار سے سامعین کے قلوب کو محظوظ کیا, بعدہ خانقاہ میں آئے ہوئے مہمان حضرت مولانا راشد صاحب نے صبر حسین کے حوالے سے ایک مختصر سا خطاب کیااور اپنے تاثراتی جملے سے بھی نوازا ۔محفل کے خصوصی خطیب حضرت مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمن علیمی نے پیغام حسنین کریمین کے حوالے سے جامع گفتگو کی ۔

حضرت مولانا موصوف نے اولا اس بات پر روشنی ڈالی کہ واقعہ کربلا کی دو کڑی ہے ایک امام حسن کی قربانی دوسرا امام عالی مقام کی قربانی. امام حسن مجتبی نے جگھڑا وفساد سے بچنے کے لیے اور امن وشانتی کے لیے اپنے عہدے کی قربانی پیش کی اور دنیا والوں کو صلح وآشتی کا ایک انمول پیغام دیا اور دین کی حفاظت کی۔ امام عالی مقام امام حسین نے یزیدیت اور باطل فکر کا خاتمہ کر نے کے لیے قربانی پیش کی ،پھر مولانا نے فرما یا کہ اللہ نے آیت تطہیر نازل کر کے اہل بیت کو مزکی ومصفی کر دیا ہے اب اگر ہم اس جنگ کو سیاسی اور دنیاوی جنگ کہیں توگویا آیت پر کلام کرنا ہو گا کیونکہ اللہ جس کام کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ ہو جا تا ہے ۔اگر ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ جنگ دنیا کے لیے تھی تو پھر اہل بیت کے اندر عیب تلاش کرناہو گا اور اللہ نے اہل بیت کو ہر رجس سے پاک کر دیا ہے۔امام عالی مقام نے صرف اور صرف دین کی تحفظ وبقا کی خاطر جنگ لڑی اور قربانی پیش کی۔ اور اگر اس جنگ کو سیاسی جنگ مان بھی لیا جا ئے تو اسے سیاسیت مصطفوی کہا جا ئے کہ واقعی یہ سیاست دنیوی کی بجائے مصطفوی تھی . ہمیں اپنے ذہن کو اس حوالے سے بالکل صاف کر نا ہےاور اس کونسیپٹ کو واضح رکھنا ہے کہ امام عالی مقام کی یہ جنگ صرف اور صرف دین الہی کی خاطر تھی اور اسی کی خاطر آ پ نے معرکہ کیے ،پھر آپ نے فرما یا کہ اللہ کے رسول نے فرما یا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی کسی برائی اور منکر کو دیکھے تو اگراسے طاقت وقوت ہے تو اپنی طاقت وقوت سے روکے اور اگر اس کی استطاعت نہیں ہے توزبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں ہے تو دل سے برا جا نے واقعہ کربلا کو دیکھ لیں ان تینوں حیثیتوں سے صحابہ کرام نے برائی کو روکنے کی کوشش کی بعض نے دل سے برا جانا بعض نے زبان سے برا جانااور روکا اور امام عالی مقام جس کے بارے میں حضور نے جنتی جوانوں کے سردار ہونے کی بشارت دی ہے اور جو سردار ہوتا ہے وہ طاقت وقوت والا ہو تا ہے آپ نے اپنی طاقت سے فسق وفجور اور ظلم تعدی اور باطلیت کا خاتمہ کیا اور باطل کو مٹا یا اور دین حق کا نفاذکیا . آپ نے اول درجے کی بات پر عمل کیا ۔پھر مولانا مو صوف نے بتا یا کہ یزید کی زندگی فسق وفجور اور فحاشی میں مبتلا تھی اگر یزید کو علامتی طور پر دیکھا جا ئے تو یزید کے اندر خواہش نفس ،شیطان کی پیروی ،دنیا کا حصول اور اتباع و ہوا جیسی چیزیں تھیں اگر یہ چیزیں کسی کے اندر ہے تو وہ یزید ہے امام عالی مقام نے اس کو ختم کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ اے حسینیوں تم ان چیزوں کی پیروی نہ کرنا بلکہ مکمل طور سے دین پر قائم رہنا اوراپنےاندر سے اس یزیدیت کو ختم کر نا اور اسلام کو قائم کرنا اور اگر ان چیز وں کو ختم کرنے میں جان جانے کی نوبت آئے مال دینے کی نوبت آئے غرض کہ جس چیز کو بھی دینے کی نوبت آئے دے دینا لیکن دین اسلام پر مکمل طور سے قائم ودائم رہنا اور اللہ کی مرضی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا یہی کربلا سے امام عالی مقام نے ہمیں پیغام دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here